عقل و شعور …. انسان کا طرہ امتیاز

                         

 افادات :شیخ سعود بن ابراہیم الشریم

رب العالمین نے اولاد آدم کو اپنی تمام مخلوقات پر فضیلت دی اور اسے لامتناہی نعمتوں سے مالامال کیا۔ان تمام نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت عقل ہے جس کے ذریعہ انسان خیرو شر ، نیکی و بدی اور نفع و نقصان میں فرق کر سکتا ہے۔ دانا عقل کو انہی اغراض کے لیے استعمال کرتے ہیں جن کے لیے وہ عطا کی گئی ہے، اگر انسان عقل کھو دے تو وہ حیوانات جیسا تصرف کرنے لگتا ہے ،اس میں اور حیوانات میں کوئی فرق نہیں رہتا،بلکہ حیوانات بسا اوقات انسان سے بہتر نظر آتے ہیں ۔

 لیکن صدحیف مسلم معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی عقل سے صحیح کام نہیں لیتے، چنانچہ نفس پرستی اور شہوت پرستی ان پر غالب آجاتی ہے۔ یہی رویہ دیگر لوگوں میں اس طرح دیکھا جاتا ہے کہ وہ شراب پیتے ہیں یا کئی قسم کی منشیات کا استعمال کرتے ہیں، ایسی نشہ آور چیزیں استعمال کرتے ہیں جن سے عقل پر پردہ پڑجاتاہے ،نشے میں انسان کو خود اپنے نفس پر بھی قابو نہیں رہتا ، وہ اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے، اس کے زندہ رہتے ہوئے اس کے بچے یتیم ہو جاتے ہیں اور اس کی زندگی ہی میں اس کی بیوی بیوہ ہو جاتی ہے۔ وہ نشے میں اپنے گرد و نواح میں بد امنی اور بدعنوانیاں پھیلاتا ہے اور کنبے پر بوجھ بن جاتا ہے۔

 جو قوم اپنے فرزندوں کی عقل و دانش کا دفاع نہ کر سکے وہ با لآخر تباہ ہو جاتی ہے، واقعہ اسراءکے متعلق اللہ کے رسول ا نے فرمایا کہ ”مجھے د و برتن دئیے گئے ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی ،مجھ سے کہا گیا کہ تم جو چاہو لے لو ، میں نے دودھ والا برتن لے لیا اور پیا ،پھر مجھ سے کہا گیا کہ تم نے فطرت کی ہدایت پا لی، اگر تم نے شراب والا برتن لیا ہوتا تو تمہاری امت گمراہ ہو جاتی“۔

ابن جریر رحمه الله کی ایک روایت ہے کہ حضرت جبرائیل عليه السلام  نے فرمایا:”یہ تمہاری امت پر حرام کی جائے گی۔اگر تم نے اس میں سے پی لیا ہوتا تو تمہاری امت میں بہت کم لوگ داخل ہوتے“۔ حضرت جبرائیل عليه السلام کے قول کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی امت اسلامیہ شراب نوشی نہیں کرے گی اور نہ شرابی کا اتباع کرے گی، نہ اس کی اطاعت کرے گی چاہے وہ شراب پینے والا نبی ہی کیوں نہ ہوں۔ ایک امت میں دودھ اور شراب ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے کیونکہ فطرت اور خمر ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ صحیح فطرت  بلا شراب ہی ظاہر ہوتی ہے۔ شراب جاہلیت میں فخر کی بات شمار کی جاتی تھی لیکن اسلام نے اسے قطعی طور پر حرام کر دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

” اے ایمان والو ! شراب ، جوا ، آستانے ( جہاں پر غیراللہ کی نذر و نیاز دی جاتی ہو ) اور فال گیری یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ان سے بچو تا کہ تم فلاح پا سکو۔ “

 شراب کو دشمنان اسلام نے تمام انسانی معاشروں میں پھیلا دی ہیں تاکہ وہ مسلم افراد کے اعضا کو مفلوج کر دیں اور لوگ اپنے دین سے غافل ہو جائیں۔ ہماری قوم کی ایک اچھی خاصی تعداد شراب اور منشیات کی رسیا بن کر اپنی جانیں ضائع کر رہی ہے، وہ اس خبیث عادت کے نتیجے میںاپنی قبریں اپنے ہاتھوں کھود رہے ہیں، وہ اپنی زندگی ہی میں مردہ ہو گئے ہیں کیونکہ جس بدن میں عقل باقی نہ رہی ہو وہ مردہ ہی ہوتا ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*