غیرمسلموں کے شبہات اور ان کے جوابات

 پروفیسر عمر حیات خاں غوری

 عورت اور مردکی وراثت میں فرق

سوال : اسلام میں عورت کو مرد کے برابر وراثت میں حصہ نہیں ملتا کیا یہ ظلم نہیں ہے ؟

جواب : یہ اعتراض صدیوں سے یورپ کے عیسائی کرتے رہے ہیں اور یورپی لٹریچر پڑھنے والے غیرمسلم بھائی بھی اس اعتراض کو دہرایا کرتے ہیں کہ اسلام ترکہ میں سے بھی عورت اور مرد کو مساوی حصہ نہیں دلاتا ۔ یہ لوگ اعتراض اس اسلام پر کرتے ہیں جو عورت کو دس مختلف حیثیتوں سے وراثت میں حصہ دیتا ہے ۔ اسلام کے قانون وراثت میں عورت بیوی، ماں، دادی، بیٹی ،پوتی ،بہن،باپ شریک بہن،ماں شریک بہن، خالہ اور پھوپھی کی مختلف حیثیتوں وراثت میں حصہ پاتی ہے ۔ اس کے علاوہ وہ مہر کی کلی طور پر مالک ہوتی ہے اور ہر اس رقم کی جو اسے باپ ،بھائی اور شوہر کی جانب سے دی جائے ۔ پھر اگر وہ اسلامی حدود کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوئی ذریعہ معاش اختیار کرے تو اس آمدنی کی بھی مالک ہوتی ہے ۔ وہ اگر اس سرمایہ کو کاروبار میں لگائے تو اس کے نفع کی بھی مستحق ہوتی ہے ۔ اس کی اس دولت میں سے شوہر تک کو تصرف کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔

اسلام نے عورت کو اتنے سارے آمدنی کے وسائل کا اہتمام کرکے اس کے اوپر اخراجات کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں کی وہ خاندان کے اخراجات کی پوری ذمے داری شوہر پر ڈالتا ہے ، یہاں تک کہ اگرعورت کسی وجہ سے والدین کے یہاں چلی جائے اور شوہر لینے نہ جائے تو وہاں کے اخراجات بھی شوہر کو ادا کرنا پڑتے ہیں ۔ طلاق کی صورت میں بھی عدت کے ایام میں عورت کے اخراجات کی ذمے داری اسلام شوہرپر ڈالتا ہے اور عدت ختم ہوتے ہی عورت کو دوسری شادی کی اجازت دیتا ہے ۔

دنیا میں اس ڈھٹائی کا کوئی جواب ہے کہ جو اسلام عورت پر مالی ذمہ داریاں ڈالے بغیر اس کے لیے آمدنی کے اتنے راستے کھول دیتا ہے ، اس پر اعتراض کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی اور یہ تو غضب بالائے غضب ہے کہ اس پر اعتراض ایسے لوگ کریں جن کے ہاں بیوہ کو شوہر تک کے ترکے میں سے کوئی حصہ نہیں دیا جاتا ۔

مسلمان اور بنیاد پرستی

سوال :مسلمان بنیاد پرست ہوتے ہیں اس لیے وہ ترقی کے مخالف ہوتے ہیں ؟

جواب :اس سوال کا جواب دینے سے پہلے بنیاد پرستی کو سمجھنا ضروری ہے ۔ یہ ایک مغربی اصطلاح ہے جسے یورپ میں ان لوگوں کے خلاف استعمال کرنے کے لیے وضع کیا گیا تھا جو انجیل کو بنیادی اہمیت دیتے تھے اس لیے آزاد فکروں اور بادشاہ کی اصلاحات کی حمایت کرنے سے گریز کرتے تھے، عیسائیوں کے لیے اظہارنفرت کی غرض سے سائنس پرستوں اور خواہش پرستوں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ ان کو فنڈامنٹلسٹ (بنیادپرست) کہنے لگے اور ان کے بارے میں یہ تاثر پیدا کرنے لگے کہ وہ ترقی کی طرف بڑھتی ہوئی زندگی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں ۔ بعد میں یہ اصطلاح ہر اس مذہبی گروہ کے لیے استعمال کی جانے لگی جو اپنے مذہب کی کوئی بنیادی کتاب رکھتاتھا ۔اسلام چونکہ آج بھی اپنی آسمانی شکل میں موجود ہے اس کے بالمقابل یورپ کے دونوں آسمانی مذاہب یعنی عیسائیت اور یہودیت تاریخ کے مختلف عوامل کی وجہ سے اپنی اصلی حیثیت کھو چکی ہیں اس لیے انہوں نے اپنے مذہبی نقص کا اعتراف کرنے کی بجائے اسلام کی اس بنیادی خوبی ہی کو عیب بناڈالا اور عوام کی نظریں اسلام کی جانب سے ہٹانے کے لیے اس اصطلاح کو ان کے لیے استعمال کرڈالا ۔

جہاں تک ترقی کا تعلق ہے مسلمان سب سے زیادہ ترقی پسند ہیں ۔ یہ وہی مسلمان ہیں جنہوں نے دنیا کو ترقی کی راہ سجھائی ہے ۔ مگر آج مشکل یہ ہے کہ انہیں وہ وسائل اور مواقع میسر نہیں ہیں ورنہ آج بھی ان میں اتنی توانائی ہے کہ ملک کو کئی کئی عبدالکلام اور عبدالقدیر دے سکتے ہیں ۔

دادا کے ترکہ سے پوتا محروم کیوں ؟

سوال: باپ کے ہوتے ہوئے اگر بیٹا مرجائے تو اس کے بچوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیاجاتا ، کیا یہ ظلم نہیں ہے ؟

جواب : اسلام اللہ تعالی کا بھیجا ہوا دین ہے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہے ۔اس لیے اسلام نے وراثت کی تقسیم کے معاملے میں صاف اور واضح احکامات دے کر ہر رشتے دار کا حق مقرر کردیا ہے تاکہ اس سلسلے کے سارے معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوجائیں اور عزیزوں میں باہمی رقابت پیدا نہ ہو ۔

 اللہ تعالی نے اولاد میں وراثت کی تقسیم کے لیے جو حصے مقرر کیے ہیں اس میں واقعی پوتے اور پوتیاںشامل نہیں ہیں اس میں جو بنیادی اصول پیش نظر رکھے گئے ہیں وہ اس طرح ہیں :

(1) ہرشحص اپنی کمائی اورزمین وجائداد کا پوری طرح مالک ہوتا ہے ۔ اس کی دولت اور ملکیت میں کسی دوسرے شخص کو اس کی اجازت کے بغیر تصرف کا کوئی حق نہیں ہوتا خواہ وہ اس کا کتنے ہی قریب کا رشتے دار ہو ۔

(2) کوئی شخص جب تک زندہ رہتا ہے اس کی جائداد میں کسی شخص کا کوئی حصہ نہیں ہوتا بلکہ وہ بالکلیہ اس کی اپنی ملکیت ہوتی ہے ۔

(3) ورثاءکا حقِ وراثت کسی شخص کے انتقال کے بعد ہی پیدا ہوتا ہے اس سے پہلے نہیں ۔

(4)  اس شخص کے انتقال کے وقت وراثت کے مستحق جو لوگ زندہ ہوتے ہیں حقِ وراثت انہیں کا پیدا ہوتا ہے اور جولوگ اس سے قبل مرچکے ہیں ان کا کوئی حصہ وراثت میں باقی نہیں رہتا ۔ خواہ وہ بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔

(5) مرنے والے کو حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنی جائداد میں سے اگر چاہے تو اپنے کسی رشتے دار کے حق میں وصیت کرکے جاسکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ یہ وصیت کل ترکہ کے تہائی حصہ سے زیادہ کے بارے میں نہ ہو ورنہ خاندان کے بزرگ یا قاضی کو اس وصیت کو شرعی حدود میں لانے کا مجاز ہوگا ۔

(6) اللہ تعالی نے ان احکام میں اتنی حکمت برتی ہے کہ جو رشتہ دار جتنے حصے کا مستحق ہے اسے اتنا ہی حصہ حاصل ہو ، تو ساتھ ہی مرنے والے بیٹے کا حق بھی مقررنہیں کیا گیا ۔اگر ایسا کیا گیا ہوتا تو ان سارے فوت شدہ رشتے داروں کا حق بھی مقرر کرنا پڑتا جو اگر زندہ ہوتے تو وراثت کے مستحق قرار پاتے ۔ اس لیے اللہ تعالی نے عدل وانصاف سے کام لے کر ان سارے فوت شدگان کو نظر انداز کردیا ہے جن کا حق زندہ رہنے کی صورت میں ادا کیا جاتا تو ساتھ ہی ترکہ چھوڑ کرمرنے والے کا یہ حق بھی تسلیم کرلیا ہے کہ اگر وہ محسوس کرے کہ وراثت کے ان احکام میں مستحق قرار دئے ہوئے لوگوں کے علاوہ بھی اس کے بعض عزیز ایسے ہیں جو مدد کے مستحق ہیں تو وہ اپنی وصیت میں ان کو شامل کرکے حصہ دلواسکتا ہے ۔ان عزیزوںمیں پوتا پوتی بھی شامل ہیں اور دوسرے غریب رشتے دار بھی ۔

اس طرح اسلام نے اپنے احکام میں اس بات کی گنجائش رکھی ہے کہ اگر کوئی شخص محسوس کرے کہ اس کے پوتا پوتی بھی مدد کے مستحق ہیں تو وہ جائداد کے تہائی حصہ کے لیے ان کے حق میں وصیت کرسکتا ہے ۔ پھر یہ پوتا پوتی اپنے باپ کی جائداد میں سے بھی حصہ پاتے ہیں ،اس طرح ان کی معاش کا انتظام ہوجاتا ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*