ہر بار اِک نیا چہرہ لگا لیا….!

اعجازالدین عمری (کویت )

amagz@ymail.com

حالات کی زلفیں ایسی پریشاں ہیں کہ لگتا نہیںکہ کسی بھی تدبیر سے سنور جائے گی۔یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا کوئی بتا نہیں سکتا ۔فضا میں ہر سو ایک تاریک سناٹا چھایا ہوا ہے ۔ہر کسی کے دل میں ہزاروں سوالات نے گھر کر رکھے ہیں ۔ مگر کہیں سے انہیں کوئی جواب نہیں مل پاتا ۔ ہر کوئی آنکھ سمندر کی گہرائی لیے ہوے ہے ۔ان میں حیرت بھی ہے ، اندیشے بھی ہیں !وحشت بھی ہے ، دہشت بھی ہے !

ملت کا ایک بڑا طبقہ سادہ لوحوں کا ہے ،وہ اسلام کے تئیں محبت رکھتے ہیں ، اللہ اور رسول کے گن گاتے ہیں ،انفرادی طور پر اسلامی احکام کی پابندی کرتے ہیں ۔ نماز روزے کے پابند ہوتے ہیں۔ ملی واقعات کو پھٹی نگاہوں سے دیکھتے ہیں ۔ جو دیکھتے ہیں وہی زبان پر لاتے ہیں ۔قومی زندگی میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ کسی بھی حادثہ کو دل پر لیتے ہیں اور بھڑاس نکالنے کے لیے سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور جان پر کھیل جاتے ہیں ۔کسی ملی ، سیاسی یا دینی جماعت سے انکا رشتہ بالواسطہ ہوتا ہے ۔بسا اوقات کسی تنظیم ، کسی جماعت اور کسی مخصوص فکر کے ساتھ وابستگی کے باوجود ہر کسی کے لیے ان کے دلوں میں جذبہ احترام ہوتا ہے ۔ ان کا کوئی رہبر و رہنما نہیں ہوتا ہے ، بلکہ جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے وہیںبیٹھ جاتے ہیں ۔ جو ان کا ہاتھ تھام کر چلتے ہیں یہ ان کے ساتھ ہوجاتے ہیں ۔مجموعی طور پر قومی اور ملی دھارے میں ان کی حیثیت ” ذرا نم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی“ کی ہوتی ہے ۔یہ معذور ہیں اور ان کا عذر بھی قابلِ قبول ہے ۔اس لیے ان سے کسی انقلابی اقدام کی امید رکھنا ٹھیک نہیں لگتا۔

 دوسرا طبقہ ملت میں موجود ملی ، سیاسی اور دینی جماعتوں، تنظیموں اور تحریکوںکاہے۔ ملت کی رہنمائی کا بوجھ انہوں نے خود ہی اپنے سر لے رکھا ہے ۔ ان سے ملت کوجو جزئی اور ہنگامی فائدے پہنچے ہیں انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ مگر پوری ملت کی نمائندگی کا دعوی ان میں سے کوئی بھی نہیں کر سکتا کہ یہ سب اپنے ہی خول میں بند ہیں ۔ ناقابل شکن حصار ہیں جن میں یہ گھرے ہوے ہیں ۔ان کے اندر صرف انہیں کی خلافت قائم ہے ۔ جب یہ فرد کی حیثیت سے سماج کا حصہ بنتے ہیںتوحسد اور کینہ پروری کو ایمان کا دشمن بتاتے ہیں ۔ مگر جب اپنے اپنے خول میں چھپتے ہیں توحسد اور کینہ پروری کے زہریلے کیڑے اپنے دل سے لگائے پھرتے ہیں۔ یہ سب زمینی حقائق کی بات کرتے ہیں مگر وقت آنے پر حقائق سے صاف کنی کاٹ لیتے ہیں۔ان کے اخلاص میں بھی کہیں نہ کہیں مفاد پرستی اورخود غرضی کی بو آتی ہے ۔یہ آپس میں کبھی کبھار ہی ملتے ہیں جب اس کے بغیر کوئی چارہ ہی نہ ہو ! اب ان سے کسی بڑی تبدیلی کی آس لگانا بیکار ہے ۔ کیونکہ اپنے کوتاہ فکر و عمل اور ناقص علم و نظر کی وجہ سے عام قیادت کے حق سے وہ یکسر محروم ہوچکے ہیں۔ ان کے اطراف تنگ نظریوں کا چست دائرہ بنا ہوا ہے ۔ بقولِ علامہ اقبال

”یہ خاکباز ہیں رکھتے ہیں خاک سے پیوند

 ہمیشہ مور و مگس پر نگاہ ہے ان کی

 جہاں میں ہے صفتِ عنکبوت ان کی کمند“

ملت کے علماء،حق پرستی و غیر جانبداری جن کا مسلک ہونا چاہیے تھا وہ بھی ان چہار دیواریوں میں بند ہیں ۔دین سے بڑھ کر مسلک اور جماعت ہی ان کی ترجیحات میں ہیں ۔”حق گوئی و بیباکی“ کا سبق بھولے انہیں زمانے گزر چکے ہیں

”تو اِدھر اُدھر کی نہ بات کر ، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا؟

مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے“

ملت کا تیسرا طبقہ ان لوگوں کا ہے جنہیں ”سیکولر مسلمان“ کہا جاتا ہے ۔ دین سے انکی وابستگی ایک” سماجی ضرورت“ کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔یہ قدرے” پڑھا لکھا “طبقہ ہے ۔ اپنی مادری زبان سے زیادہ انگریزی کا رسیا ہے ۔ماں کی چھاتی کے دودھ سے ’ڈبّے‘ کا دودھ انہیں زیادہ مرغوب ہے ۔دین اور شریعت سے بڑھ کر مغرب اور اس کی تہذیب کے دلدادہ ہیں ۔شریعت کا ہر وہ حکم ان کی نظر میں قابلِ اعتراض ہے جسے ان کے مغربی آقا ترچھی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔رہن سہن اور وضع قطع میں یہ عام مسلمانوں سے دوری بنائے رکھنے کو باعثِ فخر سمجھتے ہیں ۔اللہ اور رسول سے ان کا رشتہ تاجرانہ ہوتا ہے ۔ ”جہاد“ سے انہیں اللہ واسطے کا بیر ہے ۔اس لفظ سے وہ اتنا ہی دور بھاگتے ہیں جتنا وہ اپنی موت سے بھاگتے ہیں۔خواتین کا ’پردہ ‘ ان کے لیے ایک ’دردِ سر‘ ہے ۔’اسلامی حجاب‘ اور ’نقاب پوشی‘ پر جب ان کے مغربی رہنما چیں بہ جبیں ہوتے ہیں تو شرم کے مارے ان کی گردنیں جھک جاتی ہیں۔ان روشن خیالوں کو یہ ”دقیانوسی کلچر“ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ وہ اسے ملت کی حالیہ درماندگی و پسماندگی کا اہم سبب مانتے ہیں ۔ نظریاتی طور پر یہ بڑا مفلس طبقہ ہے ۔ان کا اپنا کوئی وژن نہیں ہوتا ، ان کی اپنی کوئی رائے نہیں ہوتی ۔ ان کے گھروں کے سارے چراغ روغنِ مغرب سے جلتے ہیں ۔ ان کا اپنا کوئی چہرہ بھی نہیں ہوتا بلکہ وقت اور حالات کے لحاظ سے اسلامی شریعت کے تئیںمغرب جیسے ہی اپنی رائے بدلتا ہے یہ بھی اپنا مکھڑا بدلتے جاتے ہیں اور ” ہر بار اِک نیا چہرہ لگا لیا “ کے مصداق بن جاتے ہیں۔

یہ تین طبقے ہیں جو بدیہہ النظر میں ملت کے منظر پر آتے ہیں ۔ ان میں کون ہے جو انقلاب کے رُخ پر چل کر گرتی ہوی ملت کو سنبھالے ؟ میری بھی وہی شکایت ہے جو اقبال کی ہے

وہ مردِ مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو

ہو جس کی رگ و پے میں فقط مستی کردار

 جب سے حالات میں گرمی آئی ہے میرے ذہن میںایک ہی آیت کی باز گشت سنائی دیتی ہے:

 وَاِن تَتَوَلَّوا یَستَبدِل قَوماً غَیرَکُم ثُمَّ لَا یَکُونُوا اَمثَالَکُم  (محمد : 38)

”اگر تم منہ موڑوگے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کولے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے“

4 Comments

  1. السلام علیکم و رحمۃ اللہ،
    اچھا مضمون ہے۔ پڑھ کر ذہن کو جلا ملی۔ مگر چند غلطیاں بھی نظر آئیں، تحریر کئے دیتا ہوں۔
    سنور جائے گی۔ زلفیں سنور جائیں گی۔
    گھر کر رکھے ہیں ۔ کر رکھا ہے۔
    ہر کوئی آنکھ۔ ہر آنکھ
    ناقابل شکن حصار۔ ناقابل شکست
    ماں کی چھاتی ۔ میرے خیال سے صرف ماں کہنا کافی ہوتا۔
    آپ مراجعہ کرلیں مجھ سے کچھ سہو ہوگیا ہو تو ضرور مطلع فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔
    دعاگوِ، ابن عبدالحق

  2. محترم ابن الحق صاحب

    السلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ

    مكرمى ! ”غلطیوں “کی نشاندہی کے لیے شکر گذار ہوں ۔ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر دے ، آمین

    “………….سنور جائے گی” اور ” نا قابل شکن ………….”

    ان دو مقامات میں واقعی غلطی ہوی ہے ۔ یہ سہو نادانستہ ہے ، جلدبازی اور بے توجہی بھی اس کا سبب بن سکتی ہے .

    مگر میرے محدود علم کے مطابق شاید “گھر کر رکھے ہیں” ۔ “کر رکھا ہے” دونوں کی گنجائش ہے واللہ اعلم

    البتہ ”ماں کی چھاتی “ اور “ہر کوئی آنکھ ” یہ میرا اپنا استعمال ہے جو مجھے اچھا لگا اور شاید ان کا شمار ”غلطیوں “ میں نہ ہو………ویسے آپ کی رائے بھی مناسب ہے وجزاکم اللہ خیرا

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*