اصلاحِ عقیدہ

 تالیف:فضیلة الشیخ محمدبن جمیل زینو رحمه الله

 ترجمہ: مولانا عبدالستار حماد (پاکستان )

بندوں پر اللہ کے حقوق

سوال: اللہ نے ہمیں کیوں پیدا کیا ؟

جواب: اللہ تعالی نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے ۔ بایں طور کہ ہم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔

فرمانِ الٰہی : وَمَا خَلَقتُ الجِنَّ وَالاِنسَ الا لِیَعبُدُونِ  (سورة الذاریات52)

”میں نے جن اور انسانوں کو اس کے سواکسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں “۔

حدیثِ نبوی : حَقُّ اللّٰہِ عَلیٰ العبادِ ان یعبدوہ ولایشرکوا بہ شیئاً (متفق علیہ )

 ”اللہ تعالی کا حق بندوں پریہ ہے کہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں “۔

سوال:عبادت کی تعریف کیا ہے ؟

جواب: عبادت ہر اس گفتار وکردار کا نام ہے جسے اللہ تعالی پسند فرمائیں مثلاً دعا ،نماز اور ذبح وغیرہ ۔

فرمانِ الٰہی: قُل اِنَّ صَلاَتِی  وَنُسُکِی  وَمَحیَایَ وَمَمَاتِی لِلّہِ رَبِّ العَالَمِین(سورة الانعام163 )

 ”کہہ دیجئے کہ بیشک میری نماز ،میری قربانی ،میری موت اور میری زندگی سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے ۔ “

حدیث قدسی: وما تقرب الیّ عبدی بشیئٍ احب الی مما افترضتُہ علیہ (بخاری )

 ”میرا قرب حاصل کرنے کے لیے بندہ جوکام کرتا ہے وہ اس کی فرضی عبادت سے مجھے زیادہ محبوب ہے “۔

سوال:ہم اللہ کی عبادت کیسے بجالائیں ؟

جواب:جیساکہ ہمیں اللہ اور اسکے رسول مقبول صلى الله عليه وسلم نے حکم دیا ہے ۔

فرمانِ الہٰہی: یَا اَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا ا َطِیعُوا اللَّہَ وَا َطِیعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبطِلُوا ا َعمَالَکُم  (سورہ محمد33)

 ”ایمان والو! تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کا کہا مانواور اپنے اعمال کو برباد نہ کرلو“۔

حدیثِ نبوی:من عمل عملاً لیس علیہ أمرنا فھو رد (مسلم) ”ہمارے حکم بغیر کسی نے جوکام بھی کیا وہ مردود اور غیر مقبول ہے ۔“

 سوال:کیا ہمیں رحمتِ الٰہی کی امید اوراس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے عبادت کرنا چاہیے ؟ ۔

جواب: ہاں!عبادت کے وقت ہماری یہی کیفیت ہونی چاہیے کیونکہ اللہ تعالی اپنے بندوں کی یوں تعریف فرماتے ہیں :

فرمانِ الہٰی:یَدعُونَ رَبَّہُم  خَو فاً وَطَمَعاً(سورة السجدة16) ”اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں “ ۔

 حدیثِ نبوی: اسال اللہ الجنة وا عوذ بہ من النار (ابوداؤد) ”میں اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے اس کی پناہ مانگتا ہو ں“۔

 سوال:عبادت میں احسان کا کیا مفہوم ہے ؟

جواب: عبادت میں اللہ تعالی کی مراقبت ونگہداشت کو احسان سے تعبیر کیا گیا ہے ۔

فرمانِ الہٰی: الَّذِی یَرَاکَ حِینَ تَقُومُ وَتَقَلُّبَکَ فِی السَّاجِدِینَ (سورہ شعراء218-219)

 ”وہ تمہیں اس وقت دیکھ رہاہوتا ہے جب تم اٹھتے ہواور سجدہ گزارلوگوںمیں تمہاری نقل وحرکت پر نگاہ رکھتا ہے “۔

حدیثِ نبوی: الاحسان ان تعبداللہ کأنک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک (مسلم)

 ”عبادت اس انداز پرہو گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو،اگر یہ تصور نہیں تو پھر اللہ تمہیں دیکھ رہے ہیں ‘ یہ احسان ہے “۔

تو حيد کی اقسام اور اس کے فوائد

سوال:اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام کو کيوں مبعوث فرمایا ؟

جواب:انبیائے کرام کو اس لیے مبعوث فرمایا کہ لوگوں کو عبادت باری تعالیٰ کی دعوت دےں اوراس کی ذات بابرکات سے شرک کی نفی کرےں۔

فرمانِ الہٰی: وَلَقَد بَعَثنَا فِی کُلِّ ا ُمَّةٍ رَّسُولاً اَنِ اعبُدُواللّٰہَ وَاجتَنِبُواالطَّاغُوتَ (سورةالنحل:36)

 ”اور ہم نے ہر امت مےں اےک رسول بھےجاکہ اللہ کی بندگی کرواور طاغوت کی بندگی سے بچو“۔

حدیثِ نبوی: والانبياءاِخوة……..ودينھم واحد (بخاری و مسلم) ”تمام انبےاءآپس ميں بھائی بھائی ہيں ا ور ان کا ايک ہی دين ہے“۔

 سوال: توحيد ربوبيت کياہے؟

جواب: اللہ تعالیٰ کو اس کے افعال ميں يکتا ماننا توحيد ربويت ہے جيسے خلق اور تدبير وغيرہ۔

فرمانِ الہٰی: اَلحَمدُ لِلّٰہِ رَبِّ العٰٰلَمِينَ (سورة الفاتحہ1) ”تعریف اللہ ہی کے ليے ہيں جو تمام کائنات کا رب ہے“

 حدیثِ نبوی: انتَ ربّ السّمٰوٰت والارض (بخاری ومسلم) ”تو ہی آسمانوں اورزمین کارب ہے۔“

 سوال: توحيد الوہيت کسے کہتے ہيں؟

جواب: جملہ عبادات میں اللہ کواکیلا ماننا ،اوراس کے ساتھ شرک نہ کرنا توحید الوہیت ہے ۔جیسے دعا،ذبح اورنذر وغیرہ سب اللہ تعالی ہی کے لیے ہے ۔

فرمانِ الٰہی:وَاِلٰھُکُم اِلَہ وَاحِد  لَّا ٓ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَالرَّحمٰنُ الرَّحِيمُ (سورة بقرہ ۳۶۱)”اور تمہارا معبودايک ہی معبود ہے اس رحمن اور رحيم کے سوا کوئی معبود نہيں ہے“۔

 حدیثِ نبوی:فليکن أول ماتدعوھم البہ شھادة أن لا الہ الاّ اللّہ (متفق علیہ )  

”لوگوں کو پہلی پہلی یہ دعوت دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی مستحق عبادت نہےں۔“(بخاری ومسلم) بخاری کی ایک روایت میں یوں ہے” الی ان یوحدوا اللہ” یعنی اللہ کے ایک ہونے کی دعوت دی جائے ۔

 سوال: توحيد اسماءوصفات سے کيا مراد ہے ؟

جواب:اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب ميں اپنے لیے یا اس کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم نے اللہ تعالی کے جو اوصاف بيان فرمائے ہيں انہيں اس کی شايان شان بلاتاویل وتفویض اور بلاتمثیل وتعطیل تسلیم کرنا توحيد اسماءو صفات کہلاتا ہے، جيسا کہ استواء علی العرش، اس کا نزول اور اس کا ہاتھ وغيرہ۔

فرمانِ الٰہی: لَيسَ کَمِثلِہ شَی  ء وَ ھُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ      (سورہ شوری 11)

”کائنات کی کوئی چيز اس کے مشابہ نہيں وہ سب کچھ ديکھنے اور سننے والا ہے ۔“

حدیثِ نبوی: ينزل اللّٰہ فی کل ليلة الی السماءالدنيا (مسلم) ”اللہ تعالیٰ ہر رات آسمان دنيا کی طرف اپنی شايان شان نزول فرماتے ہیں۔“ (اس کا يہ نزول مخلوق کے ہرگز مشابہ نہيں ہے )۔ (جاری ) 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*