آپ کے سوالات اور ان کا حل

صفات عالم محمد زبير تيمي

سوال: آجکل ٹیکسی کمپنیاں کرایہ پرٹیکسی فراہم کرتی ہیں اس میں ہوتا یہ ہے کہ فائدہ میں توکمپنیاںشریک رہتی ہیں لیکن نقصان کی صورت میںڈرائیور ہی ذمے دار ٹھہرتا ہے کیااس طرح کا معاملہ کرکے روزانہ کے حساب سے کمپنی کو مخصوص رقم دینا جائزہے۔ ؟ (وحیدالزماں۔کویت )

 جواب : اس سلسلے میں کون سی صورت جائز ہے اور کونسی صورت جائز نہیں ہے ‘ذیل میں ہم اس کی تفصیل بیان کررہے ہیں:

(1)  اگر کمپنی آپ کی طلب پرٹیکسی خریدتی ہے اوراسے اپنے قبضے میں کرلیتی ہے ،اب آپ کمپنی سے وہی ٹیکسی اس کی حالیہ قیمت سے زیادہ دے کر ادھار لے لیتے ہیں ،اس معاہدے کے ساتھ کہ آپ قیمت قسط پر ادا کریںگے تویہ شکل جائزہے۔اس صورت کو قسطوںکی بیع یا انسٹالمنٹ کانام دیتے ہیں بشرطیکہ قسط پر قیمت کی ادائیگی کی پوری تفصیل درج کردی گئی ہو کہ کتنے دنوںمیں اورکتنی رقم اد ا کرنی ہے ۔ اسی طرح اگر قسطوںکی ادائیگی میں سستی کرے تو اُس پر سود یا اضافہ نہ ڈالا جائے ۔ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ معاملہ فسخ کردیاجائے اور مکمل قیمت کی ادائیگی کا اُسے مکلف کیا جائے ۔

(2) دوسری شکل یہ ہے کہ کمپنی ٹیکسی خریدکرڈرائیور کو اجرت پر دے دیتی ہے اور اسے مکلف کرتی ہے کہ روزانہ کے حساب سے متعین مبلغ کمپنی کو جمع کرتار ہے ۔حسب اتفاق چار سال یاپانچ سال کے بعد جب پوری رقم ادا ہوجائے گی تو گاڑی کا وہ مالک بن جاے گا ۔ اس معاملہ کو عربی میں التاجیرالمنتھی بالتملیککہتے ہیں ۔اِس کی صحت کے لیے دو شرطیں ہیں:

پہلی شرط یہ کہ معاملے میں یہ طے ہوکہ ٹیکسی کی قیمت کی ادائیگی قسط پر ہوگی اور قیمت مکمل ہونے کے بعد ڈرائیور اس کا مالک بن جائے گا ۔

دوسری شرط یہ کہ ٹیکسی کا ضامن کمپنی ہو ۔یعنی پہلے ہی دن معاملے میںیہ بات طے ہو کہ ٹیکسی میں کسی طرح کی خرابی پیدا ہونے پرصحیح کرانے کی ذمہ داری کمپنی کی ہوگی ۔ اجرت پر لینے والے کی نہیں ۔ کیونکہ ابھی ڈرائیور اس کا مالک نہیں بناہے ۔

اگرمعاملہ کرتے وقت ان دو شرطوںکو ملحوظ رکھاگیا ہے تب تو اس شکل میںٹیکسی چلانا جائز ہے اور اگریہ دو شرطیں نہیں پائی جاتیں تو جائز نہیں ۔ اور صورت مسﺅلہ میں بیک وقت دونوں شرطیں مفقود ہیںلہذا یہ شکل جائز نہیں ہوگی ۔

سوال: میں جمعہ کے دن مالیہ کی مسجد میں گیا وہاں مولانا خطبہ میں فرمارہے تھے کہ جو مانگنا ہے اللہ سے براہ راست مانگو نہ کہ کسی درگاہ پر جاکر۔ کیونکہ قبرمیں مدفون مردے بے جان ہیں ۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ درگاہ پر کوئی جاکر ان سے مانگتا نہیں ہے بلکہ اُن کو سفارشی بناتاہے کیونکہ وہ اللہ کے ولی ہیں ۔ آپ بتائیے کہ انہوں نے صحیح کہا یا غلط ؟ (ایقان احمد ۔کویت)

جواب :امام صاحب کی بات بالکل صحیح ہے اور آپ غلط فہمی کے شکار ہوگئے ہیں۔جہاں تک اولیائے کرام کی بات ہے تو اللہ پاک نے ان کی شان میں خود فرمایاہے ﴾اَلا انَّ ا َو لِیَاء اللّہِ لاَ خَو ف  عَلَیہِم وَلاَ ہُم  یَحزَنُونَ، الَّذِینَ آمَنُوا وَکَانُوا یَتَّقُونَ ﴿ (سورة یونس 62-63)

 ”یاد رکھواللہ کے اولیاءپر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ ‘ وہ ہیں جو ایمان لائے اور برائیوں سے پرہیز کرتے رہتے ہیں۔“ گویا اولیائے کرام وہ ہیں جو ایمان اور تقوی کی صفت سے متصف ہوں۔

لہذا اگرآپ اللہ تعالیٰ کے اسماءوصفات کے ذریعہ یا نیک عمل کا واسطہ دے کراللہ سے مانگیں یاکسی زندہ و نیک صفت بزرگ کے پاس جاکران سے دعاکی درخواست کریں تو اللہ پاک سنتے ہیں،لیکن جب وہی فوت پاگئے تو اُن کے اندرسے سننے کی صلاحیت جاتی رہی، اللہ پاک نے قرآن کریم میں دوجگہ صراحت کے ساتھ کہہ دی ہے سورہ فاطر آیت نمبر22  وَمَا اَنتَ بِمُسمِعٍ مَّن فِی القُبُورِ﴿” (اے نبی  صلى الله عليه وسلم) آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں مدفون ہیں“۔

 اسی طرح اللہ پاک نے سورہ نمل آیت نمبر80میں فرمایا:   إِنَّکَ لَا تُسمِعُ المَوتَی﴿ ”(اے محمد صلى الله عليه وسلم ) آپ مردوں کوسنا نہیں سکتے“ ۔

 یہ خطاب پیارے نبی صلى الله عليه وسلم  سے ہے ، اگر ہمارے آقا مردوں کو نہیں سنا سکتے تو ہم کس کھیت کی مولی ہوتے ہیں کیونکہ اگر سنیں گے تو بولیں گے اورجواب بھی دیں گے۔                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                          

پھر آپ نے سفارشی بنانے کی جو بات کہی ہے کہ ہم مردے سے مانگتے نہیں بلکہ ان کومحض سفارشی بناتے ہیں کیوں کہ وہ اللہ کے ولی ہیں تواب آپ خود سوچیں کہ جوسن نہ سکتا ہو اس کو سنانے سے کیا فائدہ ؟ دوسری بات یہ کہ اللہ تک پہنچنے کے لیے کسی واسطے کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔ وہ توخود کہتا ہے :﴾ وَلَقَد خَلَقنَا الاِنسَانَ وَنَعلَمُ مَا تُوَسوِسُ بِہِ نَفسُہُ وَنَحنُ اَقرَبُ اِلَیہِ مِن حَبلِ الوَرِیدِ﴿(سورة قٓ16) ”ہم نے انسان کوپیدا کیاہے اوراس کے دل میں جوخیالات اٹھتے ہیں ان سے ہم واقف ہیں اورہم اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں“ ۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ اِذَا سَا َلَکَ عِبَادِی  عَنِّی  فَاِنِّی قَرِیب اُجِیبُ دَعوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ  (سورة بقرة 186)

 ”جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وہ مجھے پکارے ‘قبول کرتا ہوں“۔

اس لیے ہم اللہ کی ذات کو بادشاہوں اور رعایا کے جیسے قیاس نہیں کرسکتے کہ جس طرح بادشاہ کے پاس پہنچنے کے لیے واسطے کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح اللہ تک پہنچنے کے لیے واسطے کی ضرورت ہوگی۔چونکہ بادشاہ کو آپ کے بارے میں معلومات نہیں ہوتی اس لیے آپ واسطہ سے اُس تک پہنچتے ہیں لیکن اللہ تعالی تو آپ کو پوری طرح جان رہا ہے ۔ وہ آپ کو دیکھ بھی رہا ہے اور ایسا بھی نہیں ہے کہ اسے کسی کی توجہ دلانے کی ضرورت ہو ،تب ہی وہ کسی کے معاملے پر غور کرے گا۔

 کل قیامت کے دن بھی اللہ کے پاس سفارش دو شرطوں کے ساتھ ہی چل سکتی ہے۔ (1) سفارش کرنے والے کو سفارش کرنے کی اجازت۔(2)جس کے لیے سفارش کی جارہی ہے اُس سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی۔ (سورہ طہ 109)

پھر آپ نے سفارشی بنانے کا جو ذکر کیاہے بعینہ یہی عقیدہ کفارمکہ کا تھا، وہ بھی مانتے تھے کہ خالق ومالک اللہ تعالی ہی ہے ،وہی روزی دیتا ہے، وہی ہمارے کانوں اور آنکھوں کا مالک ہے ، وہی مردے کو زندہ اور زندے کو مردہ کرتا ہے اوروہی کائنات کی تدبیربھی کررہاہے (سورہ یونس 31) پھر اُن کی اصل غلطی کیا تھی ؟ وہ کہتے تھے﴾ مَا نَعبُدُہُم الا لِیُقَرِّبُونَا اِلَی اللَّہِ زُلفَی  (سورة الزمر3)”ہم اُن کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ(بزرگ) اللہ تک ہماری رسائی کرادیں“ ۔ دوسری جگہ اللہ پاک نے فرمایا:  وَیَقُولُونَ ہَؤُلاء شُفَعَا ُنَا عِندَ اللّہِ  (سورہ یونس آیت نمبر18) ” اور کہتے ہیں کہ یہ (بزرگ)اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں“۔ خانہ کعبہ میں کتنے انبیائے کرام کی مورتیاںبھی رکھی گئی تھیں جن کے تعلق سے کفارمکہ کا خیال تھا کہ وہ اللہ کے پاس ان کے سفارشی ہیں۔ 

اب آپ خود سوچئے کہ اسی عقیدے کی بنیاد پر اللہ پاک نے کفارمکہ کے عمل پر نکیر فرمائی اور ان کواپنے حبیب کا حریف ٹھہرایا تو آج اگرہم وہی عقیدہ رکھ کر مریں تواپنے آقا کے رفیق کیوں کر بن سکتے ہیںجن کی نبوت کی23 سالہ زندگی اسی عقیدے کی تردید میں گذری یہاںتک کہ حیات طیبہ کے آخری ایام میں فرمارہے تھے: ” یہود ونصاری پر اللہ کی لعنت ہو کہ انہوں نے انبیائے کرام کی قبروںکوسجدہ گاہ بنالیا “ (بخاری ومسلم ) اگر ہمارے آقانے انبیائے کرام کی قبروں کو عبادت گاہ بنانے والوں پرلعنت بھیجی تو کیا اولیائے کرام کی قبروں کو عبادت گاہ بنانے والے ملعون نہ ٹھہریں گے ….؟ 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*