بسیارخوری کی مذمت

مولاناصفی الرحمن مبارکپورى رحمه الله

عَنِ المِقدَامِ بنِ مَعدِیُکَرِبَ  رضى الله عنه  قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وسلم :مَامَلَا  ابنُ آدَمَ وعَا ءً شَرًّا مِن بَطنٍ (اَخرَجَہ التِّرمِذِیُّ وَحَسَّنَہ )

ترجمہ : حضرت مقدام بن معدیکرب صسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”وہ بدترین برتن جو انسان بھرتا ہے وہ اس کا پیٹ ہے ۔“(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اوراسے حسن قرار دیا ہے )

تشریح : اس حدیث میں بسیارخوری کو بدترین خصلت قرار دیاگیا ہے ۔ بسیارخوری بہت سے دینی اوردنیاوی مفاسد اور خرابیوں کی جڑہے ۔ ایسا آدمی صرف کھانے پینے کی فکر میں رہتا ہے اور بسا اوقات وہ یہ بھی تمیز نہیں کرتا کہ جس کھانے سے پیٹ بھر رہاہے ‘وہ حلال ہے یا نہیں ۔ بسیارخوری امراضِ معدہ کاباعث بھی ہے اور دل ودماغ پر بھی اس کے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ مسند بزارمیں ہے کہ” بسیارخور قیامت کے دن بھوکا ہوگا“ ۔ اس لیے یہ عادت دنیا وآخرت دونوں کی خرابی کا باعث ہے ۔ امام غزالى رحمه الله  نے احیاء علوم الدین میں بسیارخوری کے دس نقصانات کا اوربقدرِ کفایت کھانے کے دس فوائد کا تذکرہ کیا ہے جو قابلِ ملاحظہ ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*