ہربچہ عقیقہ کے عوض گروی ہوتا ہے

مولانا صفى الرحمن مبارك پورى رحمه الله

عَن سَمُرَةَ  انَّ رَسُولَ اللّٰہ صلى الله عليه وسلم  قَالَ: کُلُّ غُلَامٍ مُرتَھَن بِعَقِیقَتِہ،تُذبَحُ عَنہُ یَومَ سَابِعِہ،وَیُحلَقُ وَیُسَمَّی ( رَوَاہُ احمَدُ وَالاَربَعَةُ وَصَحَّحَہ التِّرمِذِیُّ )

ترجمہ :حضرت سمرہ صسے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا: ”ہربچہ اپنے عقیقہ کے عوض رہن ہوتا ہے ۔پیدائش کے ساتویں روز اس کا عقیقہ کیا جائے ،سرکے بال منڈائے جائیں اور اس کانام رکھاجائے ۔“(اسے امام احمد اور چاروںنے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہاہے)

تشریح :مُرتَھَن اسم مفعول ہے ۔ رہن رکھاہوا۔خطابی رحمه الله کا قول ہے کہ مُرتَھَن کے مفہوم میں اختلاف ہے اورسب سے عمدہ بات وہ ہے جو امام احمدبن حنبل رحمه الله  نے فرمائی ہے کہ یہ شفاعت کے متعلق ہے ۔یعنی جب بچہ کا عقیقہ نہ کیاگیا ہو اور وہ بچہ فوت ہوجائے تو وہ اپنے والدین کے حق میں سفارش نہیں کرے گا اوریہ بھی قول ہے کہ عقیقہ ناگزیر اور لازمی ہے ،اس کے کیے بغیر کوئی چارہ کارنہیں اور بچے کو رہن سے تشبیہ دی گئی ہے جس طرح رہن مرتھن کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور اس کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے ‘اسی طرح بچے کی طرف سے عقیقہ بھی ضروری ہے ۔توجیہ سے ان حضرات کی تائید ہوتی ہے جو عقیقہ کو واجب قرار دیتے ہیں اور یہ بھی کہاگیاہے کہ وہ اپنے بالوں کی گندگی وناپاکی میں مرھون ہے ۔اس لیے حدیث میں ہے کہ ”اس سے گندگی کو دور کرو۔“

 (یَومَ سَابِعِہ ) یعنی ساتویں روز عقیقہ کرواور یہ بھی کہاگیا ہے کہ اگر ساتویں روز گزرجائے توپھر چودہویں روز، وہ بھی گزرجائے تو پھر اکیسویں دن عقیقہ کیا جائے ۔ اس بارے میں ایک حدیث بھی مروی ہے مگر وہ ضعیف ہے ۔

 حاصل کلام :اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچے کی پیدائش کے ساتویں روز بچے کے سرکی پیدائشی آلائش صاف کرکے یعنی اس کے سر کے بال اترواکر بچے کو نہلایاجائے ۔ اس کی طرف سے عقیقہ کیاجائے اوراس کا نام بھی رکھاجائے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*