واقعہ اسراء و معراج

افادات : مولانا سید ابوالاعلی مودودی رحمه الله

سُبحَانَ الَّذِی ا َسرَی بِعَبدِہِ لَیلاً مِّنَ المَسجِدِ الحَرَامِ اِلَی المَسجِدِ الاَقصَی الَّذِی  بَارَکنَا حَو لَہُ لِنُرِیَہُ مِن آیَاتِنَا اِنَّہُ ہُوَ السَّمِیعُ البَصِیر (سورة الاسراء1)  

ترجمہ: ”پاک ہے وہ اللہ تعالی جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجدحرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیاجس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے تاکہ ہم اُسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں،یقیناً اللہ تعالی ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے۔“

تشریح: آیتِ مذکورہ میں ”اسراءومعراج “کے واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ،جو ہجرت مدینہ سے تقریباً ایک سال پہلے پیش آیا ،حدیث اورسیرت کی کتابوں میں اس واقعہ کی تفصیلات بکثرت صحابہ کرام سے مروی ہے جن کی تعداد 25تک پہنچتی ہے ۔

قرآن مجید یہاں صرف مسجد حرام (یعنی بیت اللہ ) سے مسجد اقصیٰ(یعنی بیت المقدس) تک حضور کے جانے کی تصریح کرتاہے اوراس سفر کا مقصد یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندے کواپنی کچھ نشانیاں دکھانا چاہتا تھا ۔ اِس سے زیادہ کوئی تفصیل قرآن میں نہیں بتائی گئی ۔حدیث میں جوتفصیلات آئی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ رات کے وقت جبریل علیہ السلام آپ کو اٹھاکر مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک بُراق پر لے گئے ۔ وہاں آپ نے انبیاءعلیہم السلام کے ساتھ نماز ادا کی ۔پھر وہ آپ کو عالمِ بالا کی طرف لے چلے اوروہاں مختلف طبقاتِ سماوی میں مختلف جلیل القدر انبیاءسے آپ کی ملاقات ہوئی ۔

آخرکار آپ انتہائی بلندیوں پر پہنچ کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوئے اوراس حضوری کے موقع پر دوسری اہم ہدایات کے علاوہ آپ کو پنج وقتہ نماز کی فرضیت کا حکم ہوا ۔ اس کے بعد آپ بیت المَقدِس کی طرف پلٹے اور وہاں سے مسجد حرام واپس تشریف لائے ۔ اس سلسلے میں بکثرت روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو جنت اور دوزخ کا بھی مشاہدہ کرایا گیا گیا ۔ نیز معتبر روایات یہ بھی بتاتی ہیں کہ دوسرے روز جب آپ نے اس واقعہ کا ذکر کیا تو کفارِ مکہ نے اس کا بہت مذاق اڑایا اورمسلمانوں میں سے بھی بعض کے ایمان متزلزل ہوگئے ۔

 اس سفرکی کیفیت کیاتھی ؟یہ عالمِ خواب میں پیش آیا یا بیداری میں؟ اورآیا حضورا بذات خود تشریف لے گئے تھے یا اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے محض روحانی طور پر ہی آپ کو یہ مشاہدہ کرادیاگیا ؟ ان سوالات کا جواب قرآن مجید کے الفاظ خود دے رہے ہیں ۔ سُبحَانَ الَّذِی اَسرَی سے بیان کی ابتداءکرنا خود بتارہا ہے کہ یہ کوئی بہت بڑا خارقِ عادت واقعہ تھا جو اللہ تعالیٰ کی غیرمحدود قدرت سے رونما ہوا ۔ ظاہر ہے کہ خواب میں کسی شخص کا اس طرح کی چیزیں دیکھ لینا یہ اہمیت نہیں رکھتا کہ اسے بیان کرنے کے لیے اس تمہید کی ضرورت ہو کہ تمام کمزوریوں اور نقائص سے پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو یہ خواب دکھایا ۔ پھر یہ الفاظ بھی کہ ”ایک رات اپنے بندے کولے گیا“ جسمانی سفرپر صریحاً دلالت کرتے ہیں ۔خواب کے سفر کے لیے یہ الفاظ کسی طرح موزوں نہیں ہوسکتے ۔لہذا ہمارے لیے یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ یہ محض ایک روحانی تجربہ نہ تھا بلکہ ایک جسمانی سفر اور عینی مشاہدہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے نبی ا کو کرایا ۔

 معراج کے موقع پر بہت سے مشاہدات جو نبی صلى الله عليه وسلم کو کرائے گئے تھے ان میں بعض حقیقتوں کو ممثَّل کرکے دکھایاگیاتھا ۔مثلاً زناکاروں کی یہ تمثیل کہ ان کے پاس تازہ نفیس گوشت موجود ہے مگر وہ اسے چھوڑ کر سڑا ہوا گوشت کھا رہے ہیں ۔اسی طرح بُرے اعمال کی جو سزائیں آپ کو دکھائی گئیں وہ بھی تمثیلی رنگ میں عالمِ آخرت کی سزاؤں کا پیشگی مشاہدہ تھیں۔

أضف تعليقك