اصلاحِ معاشرہ : کیوں اورکیسے ؟

اسلام ایک آفاقی مذہب ہے اورمسلمان اس کی آفاقیت کے علمبردار ہیں ،ہردور میں اسلام کے ماننے والوں نے دنیا والوں کے سامنے اسلام کا نمونہ پیش کیا چنانچہ انسانیت نے ان کے عمل اورکردار سے متاثر ہوکر اسلام کو گلے لگایا ۔

لیکن صدحیف آج اسلام کے سپوت اسلامی تعلیمات سے دور ہوتے جارہے ہیں، اسلامی تعلیمات ایک طرف تو ہماری اکثریت دوسری طرف ہے ،زندگی کے ہرشعبے میں ہم نے اسلامی تعلیمات کو نظرانداز کررکھا ہے،عقائد،عبادات، معاملات، اخلاقیات، معاشرت ومعیشت غرضیکہ زندگی کا ہرشعبہ اسلامی تعلیمات سے خالی دکھائی دیتا ہے۔

 وہ دین جس کی بنیاد توحید پرتھی، جس کے پیغمبر نے اپنی 23سالہ زندگی توحید کے اثبات اورشرک کی تردید میں صرف کردی، جس نے اپنی حیات طیبہ کے آخری ایام میں انبیاء کی قبروں کوعبادت گاہ بنا لینے پر یہودونصاری کو مطعون کرتے ہوئے دعا کی تھی کہ’ بارالٰہا میری قبرکوعبادتگاہ نہ بنانا‘ آج اسی دین کے ماننے والے اوراسی پیغمبر کی اطاعت کا دم بھرنے والے مسلمان دن رات قبروں پر نذریں چڑھاتے، مردوں کومشکل کشا، حاجت روا اور غوث اعظم تصور کرتے ہیں۔

وہ دین جس نے نماز، زکاة، روزہ اور حج کو اپنی بنیاد قرار دیاتھا، کلمہ شہادت کے اقرار کے بعد پہلا فریضہ نماز بتایا تھا، جسے عطا کرنے کے لیے خالقِ کائنات نے اپنے حبیب کو اپنے پاس بلایا تھا صدحیف آج ہماری اکثریت اسے پامال کرکے اپنی پہچان کھوچکی ہے ۔

وہ دین جس نے اخلاقیات کو مرکزی حیثیت دی تھی اور جس کی تکمیل کے لیے پیغمبر اسلام مبعوث کیے گئے تھے،وہ دین جس نے معاملات کو اصل دین قرار دیا تھا، آج اسی دین کے نام لیوا اخلاقیات اور معاملات کی ایسی پستی میں گرچکے ہیں کہ الاماں والحفیظ ۔

منشیا ت کے بازارہم نے لگارکھے ہیں، ہوس کے اڈے ہم نے قائم کررکھے ہیں، قماربازی، چوری، ڈاکہ زنی، قتل وغارت گری،رشوت خوری، دھوکہ دہی، بددیانتی، جھوٹ، سامان میں ملاوٹ، ناپ تول میں کمی آخر وہ کو ن سی اخلاقی بیماری ہے جو ہم میں نہیں پائی جاتی؟ معاشرتی زندگی میں جہیز کی لعنت، لڑکیوں کی وراثت کا مسئلہ، طلاق کا غلط استعمال اوربعض ہندوانہ رسم ورواج میں ہم بُری طرح پھنس چکے ہیں۔ ذات پات کے مسئلہ اورمسلکی تعصب کے عفریت نے ہمارا کچومر نکال رکھاہے ۔ غرضیکہ

تن ہمہ داغ داغ شد     پنبہ کجا کجا نہم

”پورا جسم زخم آلود ہے، مرہم کہاں کہاں لگائیں“

نتیجہ ظاہر ہے کہ آج اسلام کی اشاعت محدود ہوکر رہ گئی ہے ، غیروں نے اسلام پر انگشت نمائی شروع کردی ہے اوراسلامی تعلیمات کو مشکوک نگاہوں سے دیکھاجارہاہے ۔

ایک طرف تو مسلم معاشرے کی یہ حالت ہے تو دوسری طرف دشمنان اسلام نے امت کے نونہالوں کے ساتھ فکری جنگ چھیڑرکھی ہے جس کی پشتیبانی خارجی سطح پرعیسائی مشنریز اورداخلی سطح پر قادیانیت کررہی ہے ۔ جس کا نتیجہ ہے کہ آج امت مسلمہ میں بڑی تیزی سے ارتداد کی وبا پھیلتی جارہی ہے۔ ایسے ناگفتہ بہ حالات میں اصلاح معاشرہ کی کس قدر ضرورت ہے اس کا اندازہ ہم اور آپ بخوبی لگا سکتے ہیں ۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ معاشرے کی اصلاح کا بیڑا اٹھانے والے خود اصلاحِ معاشرہ سے عاجز وقاصرنظر آرہے ہیں۔

اصلاح کی کوششیں ضرورہورہی ہیں، اجتماعات ہورہے ہیں،کانفرنسیں ہورہی ہیں، جلسے اورسیمینارزہورہے ہیں تاہم یہ ساری کوششیں صد حیف نتیجہ خیز ثابت نہیں ہورہی ہیں۔ میری سمجھ سے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ جلسے ہماری جماعت اورتنظیم کی نمائندگی کرتے ہیں، ہماری کوششوں کا محورجماعت کی خدمت ہوتاہے، اورہمارے کام  روحِ اخلاص سے خالی ہوتے ہیں ۔ ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ ہمارے علماء ترجیحاتِ دین کو نظر انداز کرکے فروعی مسائل میں مناظروں اور مباحثوں میں مشغول ہیں جس کی وجہ سے علم کا استحصال ہورہا ہے اورادھرمعاشرہ آئے دن پستی کا شکارہوتا جارہا ہے۔

 اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کوئی لائحہ عمل نہیں جواس جمود کو توڑ سکے اور معاشرہ اسلامی تعلیمات کا گہوارہ بن سکے؟ جی ہاں! ہمارے پاس ایسا نظام حیات ہے جومردہ انسانوں کے اندر زندگی کی روح پھونکنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس آفاقی نظام کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی مصلح ، مفکراورفلسفی کی قطعاً احتیاج نہیں البتہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اصلاح امت کے لیے اسی نسخہ  کیمیا کو اپنائیں جسے اپناکر اگلے کامیاب ہوئے تھے ۔ اس کے لیے ذیل میں ہم چند گذارشات پیش کررہے ہیں امید کہ ان پر دھیان دیاجائے گا :

علماء وخطباء اورداعیانِ دین فروعی مسائل پر بحث وتحقیق کرنے اور مناظروں ومباحثوں میں وقت لگانے کی بجائے ترجیحاتِ دین پر توجہ دیں کہ کرنے کے کام ابھی بہت ہیں ورنہ یہی حالت رہی تو ہماری شناخت بھی مٹ جائے گی ۔   

 اصلاحِ معاشرہ میں خطبہ جمعہ کا کلیدی رول ہے،اس کی فعالیت کو بحال کرنے کے لیے بستی اور شہر کے سارے مرکزی مساجد میںحاضرین کی زبان میں خطبہ جمعہ کا اہتمام کیاجائے اورامام وخطیب کی تعیین میں روایتی ذہنیت کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسے ائمہ وخطباءکا انتخاب کیاجائے جو نیک اورصالح ہونے کے ساتھ باصلاحیت ہوں تاکہ عوام کی صحیح رہنمائی کرسکیں ۔

 ناظرہ قرآن اور قرآن فہمی کے لیے ہر محلہ کی مسجد میں حلقے قائم کیے جائیں،عوامی دروس کا بکثرت اہتمام کیا جائے اور ناخواندہ حضرات کو ضروریاتِ دین سے واقف کرانے کے لیے کلاسیز منعقد کیے جائیں ۔

اصلاح معاشرہ میں خواتین کے بنیادی کردار کوبحال کرنے کے لیے علیٰحدہ خواتین کے لیے دینی اجتماعات کا نظم کیاجائے،گھر کے اندر ماں کے کردار کوفعال کیاجائے ، گھرمیں بچوں کو دینی ماحول فراہم کیاجائے، دینیات پرمشتمل کتابوںکی چھوٹی لائبریری بنائی جائے ،عیسائی مشینریزکے زیراہتمام چلنے والی درسگاہوںمیںبچوںکو تعلیم دلانے کی بجائے ایسے سکولز کے انتظامات کیے جائیں جہاں دینی ماحول ہو۔

 اورہرشخص کودوسروں کی اصلاح کے لیے فکرمند ہونے سے پہلے اپنا احتساب کر نا ہو گا، خود کو بدلنا ہو گا۔کیونکہ افراد سے ہی معاشرہ بنتا ہے ۔ فرد کی جب تک اصلاح نہ ہوگی معاشرے کی اصلاح کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ۔ رہے نام اللہ کا

                                      صفات عالم محمدزبیرتیمی

safatalam12@yahoo.co.in        

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*