اسراءومعراج کے واقعات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا

رپور ٹ :محمد خالد اعظمی

”اسراءومعراج کا واقعہ ایک ایسا واقعہ ہے جسے انسانیت کبھی فراموش نہیں کرسکتی ، ابوبکرصدیقرضي الله عنه  اس واقعہ کی تصدیق کرنے کی وجہ سے صدیق جیسے عظیم الشان لقب سے ملقب ہوئے “

 یہ بات برادر محمد اسلم صدر انڈین مسلم ایسوسی ایشن نے آئی ایم اے کی جانب سے 30جون بروز جمعرات بعد نماز عشاءبمقام مسجد یوسف العدسانی میں اسراءومعراج کی مناسبت سے ایک جلسہ عام میں کہی ۔

پروگرام کے دوسرے مقرر برادر محمد نثار نے’ نماز معراج کا نایاب تحفہ ‘کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ نماز تمام انبیائے کرام کی امت پر فرض تھی ، اورنماز امت محمدیہ پر معراج جیسے عظیم الشان مناسبت پر فرض کی گئی ۔ نماز اللہ کی یاد کے لیے بہت اچھا ذریعہ ہے، نماز کے ذریعہ دل ودماغ دونوں اللہ کی طرف مائل ہوتے ہیں ۔ نماز کے ذریعہ بندے اللہ کے احسانات کا شکریہ اداکرتے ہیں ۔ اور اللہ تعالی نے یہ بھی فرمادیا کہ اگر نماز صرف خانہ پوری کے لیے ہو تووہ منافقوں کی نماز ہے۔ برادر نثار نے اپنی گفتگوجاری رکھتے ہوئے فرمایاکہ نماز فحش باتوں اور گناہوں سے بچانے کا بہت بڑاہتھیارہے۔ لہذا ہمیں ہروقت اپنی نمازوں کا احتساب کرتے رہناچاہیے ۔

پروگرام کے آخری مقرر حافظ حفیظ الرحمن نے ”معراج کا پیغام“ کے موضوع پر روشنی ڈالتے  ہوئے کہا کہ واقعہ معراج سیرت نبوی کانہایت اہم واقعہ ہے ۔ آپ صلى الله عليه وسلم  کو نبوت ملے ہوئے 13سال گزرچکے تھے، عمرمبارک52سال کی تھی، رات میں سورہے تھے کہ جبریل علیہ السلام آئے اورآپ ا کوجگایا، آپ صلى الله عليه وسلم  کا سینہ چاک کیا،زمزم سے اس کو دھویا، پھر اسے علم ، بردباری ، دانائی اور ایمان ویقین سے بھردیا ۔ اس کے بعد براق سواری سے اسراء کا عظیم الشان سفر مکہ سے بیت المقدس تک شروع ہوا، بیت المقدس میں تمام انبیاءکی امامت کی اور دو رکعت نماز پڑھائی ، امامت کا مقصد بالخصوص یہ تھا کہ پہلے کی تمام شریعتیں منسوخ ہوچکیں اوراب شریعت محمدی ہی جاری وساری ہوگی، اس کے بعد سمائے دنیا سے سدرة المنتہی تک کا سفر شروع ہوا۔ اس دوران اللہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائیں۔ یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال پہلے پیش آیا۔

آپ نے صراحت فرمائی کہ: اس واقعہ کی تفصیلات  28ہمعصر راویوں کے ذریعہ ہم تک پہونچی ہیں ۔ 7 راوی وہ ہیں جو خود معراج کے زمانہ میں موجود تھے اور21 راوی وہ ہیں جنہوں نے بعد میں آپ صلى الله عليه وسلم  کی اپنی زبان سے اس کو سناہے۔اسی مناسبت سے پنج وقتہ نمازیں فرض ہوئیں ۔

پروگرام کا آغازحافظ مہتاب الدین کی تلاوت قرآن سے ہوا ، جب کہ نظامت کے فرائض برادر ابو الاعلی شاہین نے انجام دئے ، عشائیہ پر پروگرام کا اختتام ہوا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*