عالمی خبریں

محمدخالداعظمی (کویت) taleem95@hotmail.com

مسلم قبرستان کی یہ بے حرمتی

یروشلم : فلسطین میں مسجد اقصی کی تعمیر ومرمت اور وقف املاک کے تحفظ کے لیے قائم تنظیم( اقصی فاونڈیشن وٹرسٹ) نے انکشاف کیاہے کہ صہیونی حکام نے مقبوضہ فلسطینی شہر یافا میں ایک تاریخی قبرستان کو صفحہ ہستی سے مٹادیاہے ۔ فاونڈیشن کے مطابق یافا شہر میں (الفشلہ) نامی صدیوں پرانا قبرستان بلڈوزروں کے ذریعے مکمل طور پر کھود ڈالا ہے ۔ قابض اسرائیلی انتظامیہ نے قبرستان میں مردوں کی بے حرمتی کرتے ہوئے ان کی ہڈیوں کو ڈبوں میں ڈال کر ویران علاقوں میں پھینک دیا۔

اب اسرائیلیوں کوزندے مجاہدین کے علاوہ شہداءسے بھی ڈر لگنے لگا ہے کہ کہیںوہ اپنی قبروں سے نکل کر قابض اسرائیلیوں کوموت کے گھاٹ نہ سلادیں۔

 اخوان المسلمون کی سیاسی پارٹی

قاہرہ: مصر میں اپنے قیام کے 8 دہائی بعد اخوان المسلمون پہلی بار قانونی طورپر سیاسی پارٹی کے طور پر سامنے آکر ملک میں منعقد ہونے والے پہلے عام انتخابات میں حصہ لے گی۔ 1928ءمیں شروع ہونے والی اس تحریک پر1950ءمیں پابندی لگادی گئی تھی۔اخوان المسلمون نے مصر میں اب تک کی سب سے منظم سیاسی تحریک کے طور پر گزشتہ دنوں (غیر مذہبی ) پارٹی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کی تشکیل کااعلان کیا جو ستمبر میں منعقد ہونے والے انتخابات میں آدھی پارلیمانی سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرے گی۔

مطاف میں توسیع کا منصوبہ

مکہ مکرمہ:مکہ مکرمہ میں حج ریسرچ فورم میں شرکت کرنے والے تین سعودی انجینیروںنے خانہ کعبہ کے اطراف میں توسیع کی تجویز پیش کی ہے تاکہ ہرسال بڑھتی ہوئی حاجیوں کی تعداد کوطواف کعبہ میں سہولت ہو۔ تجویز پیش کرنے والے انجینئرس نے کہا کہ اگر مطاف کی موجودہ حدود میں160 اضافہ کیا جائے تو اس کے نتیجہ میں فی گھنٹہ ایک لاکھ 28 ہزار افراد کو طواف کرنے کی سہولت ہوگی۔

 ریالٹی شوخواتین مبلغین کا انتخاب

کوالالمپور: ملیشیا میں اسلامی ریالٹی ٹیلی ویژن شوکیا جارہاہے ،جس کا مقصد بہترین خواتین مبلغین کی تلاش ہے۔ 13 قسطوں پر مشتمل اس پرائم ٹائم ( صالحہ) کی پیشکشی اکتوبر میں شروع ہوجائے گی جس میں نوجوان مسلم خواتین حصہ لیں گی اور وہ بھی ایسی،جنہیں زیادہ مذہبی معلومات سے واقفیت، فن تقریر میں مہارت حاصل، اور جن کی شخصیت پرکشش ہو گی۔ ایسی خواتین کوعلمائے دین کی جانب سے مبلغین کے طور پر منتخب کیا جائے گا ۔ لگتاہے کہ اب ملیشیا میں اس کے علاوہ مبلغ خواتین تلاش کرنے کا اور کوئی ذریعہ باقی نہیں رہ گیا ہے۔

قرآن مجید کتاب ہدایت ہے

لندن:برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر مذہب کی اہمیت کے تعلق سے کشادہ ذہن ہوتے جارہے ہیں اوران دنوں وہ مبنی برعقیدہ آگہی کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے یومیہ تلاوت قرآن مجید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاہے کہ گا ں میں تبدیل ہوتی دنیا میں عقیدت مند ہونا اہم ہے اس لیے میں یومیہ قرآن پڑھتاہوں جس کا جزوی مقصد یہ ہے کہ عالمی واقعات سمجھ سکوں لیکن بنیادی طور پر روزانہ قرآن اس لیے پڑھتاہوں کہ یہ کتاب واقعی کتاب ہدایت ہے ۔ مسٹربلیئرنے مسلمانوں کے عقیدے کو خوبصورت قراردے کراس کی ستائش کرتے ہوئے کہا تھا کہ محمد صلى الله عليه وسلم  انتہائی مہذب قوت کے حامل تھے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قرآن کریم ایک جامع اصلاحی کتاب ہے جو توہم پرستی سے روکتی ہے اور سائنس اور علم کی طرف مائل ہونے کی تحریک دیتی ہے ۔ مزید کہتے ہیں کہ قرآن صحیفہ عمل ہے اور شادی بیاہ ، خواتین اور حکمرانی کے معاملے میں اس کی فکر اپنے عہد سے میلوں آگے ہے ۔

 غزہ سب سے زیادہ بے روزگارخطہ

غزہ: اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2010کے اواخر میں دنیا میں سب سے زیادہ بے روزگاری کی شرح فلسطینی علاقے میں تھی ۔ اقوام متحدہ ہی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال یہ شرح 2،45فیصد رہی جو عالمی سطح پر بے روزگاری کی سب سے بلند شرح ہے۔کیوں نہ ہو جبکہ دنیا کی طاقتیں اس کے خلاف محاذ بنالیا ہے او روہاں سے درآمدوبرآمد سب پر پابندی لگادی ہے۔ اور اسرائیل ہر طرح سے چاہتاہے کہ غزہ کے لوگ محصور رہیں۔

 مسجد میں نماز پڑھنے پر پابندی

تاجکستان:تاجکستان میں اندیشہ ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کے مسجد جانے پر پابندی لگادی جائے گی۔ مسلم رہنما ں نے مذہبی آزادی چھینے جانے پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ایوان زیریں نے اس ضمن میں ایک بل منظور کیاہے اس کے تحت بچوں اور نوجوانوں کے مسجد میں جاکر نماز پڑھنے پر پابندی لگادی جائے گی اور اسی طرح عیسائی نوجوان چرچ میں جاکر عبادت نہیں کرسکیں گے۔ حکام کا کہناہے کہ یہ اقدام اس لیے کیا جارہا ہے تاکہ اس شورش زدہ جمہوریہ میں مذہبی بنیادپرستی کو پھیلنے سے روکاجاسکے۔ حکمراں طبقہ مذہبی بنیادپرستی کاسوشہ چھوڑ کر اپنے دنیاوی الہ اکبر کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔

طیب اردوگان تیسری مرتبہ کامیاب

استنبول: ترکی کی حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی نے پارلیمانی انتخاب میں تیسری میعاد کے لیے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنااقتدار برقرار رکھا۔اور طیب اردوگان کی کامیابی نے ملک میں نئے دستور کے لیے ریفرنڈم کی راہ ہموار کردی ہے ۔اردوگان نے الیکشن کے نتائج آنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں وعدہ کیاکہ وہ دستور میں تبدلی کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے پیداکرنے کی کوشش کریں گے ۔انہوںنے مشرق وسطی کے علاقہ اور مسلمانوں کےلئے مغرب میں ایک آواز بننے کی ترکی کی خوا ہش کا اظہار کیااورکہاکہ ان کی فتح سے بوسنیائی ، لبنانی، شامی اور فلسطینی شہریوں کو فائدہ پہونچے گا۔ طیب اردوگان کی ولولہ انگیز قیادت نے گزشتہ آٹھ سالوں میں بے مثال اقتصادی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کامیابیوں کے پیش نظر ترک عوام نے بھاری اکثریت سے اس مرتبہ بھی ملک کا وزیر اعظم منتخب کرلیا ہے۔ حالات وواقعات کے تناظر میں دیکھاجائے تو اردوگان کی تیسری کامیابی کوئی حادثہ یااتفاق نہیں ہے ۔ بلکہ قومی سطح پر کی گئی بے شمارسیاسی، اقتصادی،سماجی ،ثقافتی اور فوجی اصلاحات کا ثمرہ ہے۔اس کے علاوہ عالمی ایوانوں نے فلسطین اور کشمیر کے سلسلے میں جواصولی موقف اختیار کیاہے اس کو مسلم ممالک نے بے حد سراہاہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*