اصلاحِ عقیدہ

تالیف : فضیلة الشیخ محمدبن جمیل زینو       ترجمہ : مولانا عبدالستار حماد

اسلام میں عقیدہ کو وہی حیثیت حاصل ہے جواعضاء انسانی میں سرکواور درخت میں تنے کوحاصل ہے ،جس طرح سرکے بغیر انسان کا اورتنے کے بغیر درخت کا تصورناممکن ہے ٹھیک اسی طرح عقیدہ کے بغیر ایمان کا تصورمحال ہے ۔ عقیدہ کی اِسی اہمیت کے پیش نظر عالمِ عرب کی مشہورکتاب’خذ عقیدتک من الکتاب والسنة‘ کا اردو ترجمہ قسط وار پیش کررہے ہیں جس کی دوسری قسط حاضرِخدمت ہے :

سوال: توحيد ربوبيت کياہے؟

جواب: اللہ تعالیٰ کو اس کے افعال ميں يکتا ماننا توحيد ربوبيت ہے جيسے خلق اور تدبيروغيرہ۔

فرمانِ الہٰی:﴾الحَمدُ لِلّٰہِ رَبِّ العٰٰالمِينَ ﴿ (سورة الفاتحہ 1) ”تعریف اللہ ہی کے ليے ہيں جو تمام کائنات کا رب ہے“۔

حدیثِ نبوی: ا نتَ ربّ السّمٰوٰت والا رض (بخاری ومسلم) ”تو ہی آسمانوں اورزمین کارب ہے۔“

سوال: توحيد الوہيت کسے کہتے ہيں؟

جواب: جملہ عبادات میں اللہ کواکیلا ماننا ،اوراس کے ساتھ شرک نہ کرنا توحید الوہیت ہے ۔ جیسے دعا، ذبح اورنذر وغیرہ سب اللہ تعالی ہی کے لیے ہے ۔

فرمانِ الٰہی:وَاِلٰھُکُم  اِلٰہ  وَاحِد  لَّا ٓ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَالرَّحمٰنُ الرَّحِيمُ (سورة بقرہ 163)”اور تمہارا معبود ايک ہی معبود ہے اس رحمن اور رحيم کے سوا کوئی معبود نہيں ہے“۔

حدیثِ نبوی: فليکن ا ول ماتدعوھم اليہ شھادة ا ن لا الہ الاّا للّہ (متفق علیہ )

”لوگوں کو پہلے یہ دعوت دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی مستحق عبادت نہيں۔“(بخاری ومسلم) بخاری کی ایک روایت میں یوں ہے   الی ا ن یوحدوا اللہ  یعنی اللہ کے ایک ہونے کی دعوت دی جائے ۔

سوال: توحيد اسماء وصفات سے کيا مراد ہے ؟

جواب: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب ميں اپنے لیے یا اس کے رسول صلى الله عليه وسلم نے اللہ تعالی کے جو اوصاف بيان فرمائے ہيں انہيں اس کی شايان شان بلاتاویل وتفویض اور بلا تمثیل وتعطیل تسلیم کرنا توحيد اسماء و صفات کہلاتا ہے، جيسا کہ استواء علی العرش، اس کا نزول اور اس کا ہاتھ وغيرہ۔

فرمانِ الٰہی:  لَيسَ کَمِث لِہ شَی ء  وَ ھُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ (سورہ شوری 11) ”کائنات کی کوئی چيز اس کے مشابہ نہيں وہ سب کچھ ديکھنے اور سننے والا ہے ۔“

حدیثِ نبوی: ينزل اللّٰہ فی کل ليلة الی السماءالدنيا (مسلم) ”اللہ تعالیٰ ہر رات آسمان دنيا کی طرف (اپنی شايان شان) نزول فرماتے ہیں“۔ (اس کا يہ نزول مخلوق کے ہرگز مشابہ نہيں ہے)۔

سوال:اللہ تعالی کہاں ہے ؟

جواب: اللہ تعالی آسمان پر عرش کے اوپر ہے ۔ فرمانِ الٰہی: الرَّحمَنُ عَلَی العَرشِ استَوَی (سورہ طہٰ 5)

”رحمن جس نے عرش پر قرار پکڑا “۔ بخاری شریف میں اس کی تفسیریُوں ہے ”وہ چڑھا اور بلند ہوا “۔

حدیثِ نبوی: ان اللہ کتب کتابا….فھوعندہ فوق العرش (متفق علیہ ) ”بیشک اللہ تعالی نے ایک دستاویز لکھی جو عرش پر اس کے پاس محفوظ ہے “ ۔

سوال:کیا اللہ تعالی ہمارے ساتھ ہے ؟

جواب: اللہ تعالی اپنے سننے ،دیکھنے اورعلم کی صفات کے ساتھ ہمارے ساتھ ہے یعنی ہماری جملہ حرکات وسکنات اس کے سامنے ہیں۔

فرمانِ الٰہی: قَالَ لَا تَخَافَا ِنَّنِی  مَعَکُمَا ا َسمَعُ وَاَرَی(طٰہٰ:46)” ڈرومت، میں تمہارے ساتھ ہوں، سب کچھ سن رہاہوں اور دیکھ رہاہوں“۔

حدیثِ نبوی:انکم تدعون سمیعا قریباًوھو معکم (مسلم)

”تم ایک ایسی ہستی کو پکارتے ہو جو سننے والا اورقریب ہے اور(علم کے لحاظ سے) تمہارے ساتھ ہے “۔

سوال: عقيدہ  توحيد کے فوائد کیا ہيں ؟

جواب: اس کا فائدہ يہ ہے کہ :

1۔ انسان دنيا ميں راہ راست پرآجاتا ہے۔

2۔ اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔

3۔ آخرت میں جہنم کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے۔

فرمانِ الٰہی: الَّذِی نَ آمَنُوا  وَلَم یَل بِسُوا ِیمَانَہُم بِظُلمٍ ا ُو لَئِکَ لَہُمُ الا َمنُ وَہُم مُّہتَدُون(سورہ انعام:82)

”حقيقت ميں توامن انہيں کے ليے ہے اور راہ راست پر وہی ہيںجو ايمان لائے اور جنہوں نے اپنے ايمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہيں کيا“ ۔    ( ظلم سے مراد شرک ہے)۔

حدیثِ نبوی: حق العباد علی اللّٰہ ا ن لا يعذب من لا يشرک بہ شيئاً (بخاری و مسلم)

”بندوں کا حق اللہ کے ذمہ يہ ہے کہ جب وہ اس کے ساتھ کسی کو شريک نہ کريں تواللہ تعالی انہیں سزانہ دے “ ۔(بخاری و مسلم)

          قبولیت عمل کی شروط

سوال: قبولیت عمل کے لیے کیا شرائط ہیں ؟

جواب: قبولیت عمل کی تین شرائط ہیں

(1) اللہ پر ایمان اور اس کی توحید کا اقرار

فرمانِ الٰہی:﴾ فَمَن کَانَ یَر جُو لِقَاء رَبِّہِ فَلیَعمَل عَمَلاً صَالِحاً وَلَا یُشرِک بِعِبَادَةِ رَبِّہِ ا َحَدا        (سورہ الکھف 110) ”البتہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ان کی میزبانی کے لیے فردوس کے باغات ہوں گے “ ۔

حدیثِ نبوی: قل آمنت باللہ ثم استقم (مسلم)

(آپ نے ایک صحابی کو فرمایاتھا) ”کہہ دو میں اللہ پر ایمان لایا ،پھر اس پر ثابت قدم رہنا “۔

(2) اخلاص: یعنی ریاکاری اور نمائش کے بغیر صرف اللہ کے لیے عمل کیا جائے ۔

فرمانِ الٰہی: فَاعبُدِ اللَّہَ مُخلِصاً لَّہُ الدِّینَ (سورہ زمر : 2)

”تم اللہ ہی کی بندگی کرو،دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے ۔“

(3) وہ عمل سنتِ نبوی کے عین مطابق ہو۔

فرمانِ الٰہی: وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُم  عَنہُ فَانتَہُوا (سورہ حشر 7)

”اور جوکچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رُک جاو “۔

حدیثِ نبوی:من عمل عملاً لیس علیہ امرنا فھو رد (مسلم)

”ہمارے حکم کے بغیر جس نے کوئی کام کیا وہ مردود اور نامقبول ہے “ ۔ (جاری )

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*