دیکھو مجھے جو دیدئہ عبرت نگاہ ہو

مولانانسیم غازی فلاحی

 یوپی کے ایک شہر کے تعلیم یافتہ ہندو خاندان کی ایک لڑکی کالج میں اپنی مسلم سہیلیوں کے رابطے میں آکر اسلام سے متعارف ہوئی اور آخر ایک دن اس نے قبول اسلام کا ارادہ کرلیا۔ اپنے اس ارادے کا تذکرہ اس لڑکی نے اپنے باپ سے کیا۔ باپ کو اس خبر سے دلی شاک لگا مگر اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور اپنی ا ندرونی کیفیت کے بر عکس اپنی بیٹی کی قابلیت کی تعریف کرتے ہوئے اس سے کہا کہ بیٹی! مجھے تمہاری عقل و دانش پر بھروسہ ہے۔ میں نے تمہیں تعلیم اسی لےے دلائی ہے کہ تم جو فیصلہ کروگی سوچ سمجھ کر صحیح فیصلہ کروگی۔ اگر تم نے اسلام قبول کرنے کا ارداہ کیا ہے تو مجھے یقین ہے کہ تم نے یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر ہی کیاہوگا۔ ہماری خوشی تمہاری خوشی میں ہے اور ہم تمہاری خواہش اور خو شی کی تکمیل میں مزاحم نہیں بن سکتے۔ ہمیں تم سے دلی محبت ہے ، تم ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو اس ليے ہم تمہارے ہر فیصلہ میں تمہارے ساتھ ہیں۔

  لڑکی نے باپ کی زبان سے اپنے بارے میں یہ کلمات سن کر اطمینان کی سانس لی اور وہ خوش ہوگئی کہ وہ اپنے ارادے کی تکمیل اب بآسانی کر سکے گی ۔

 اس لڑکی کے باپ نے دکھانے کے ليے تو یہ حوصلہ افزا باتیں اپنی بیٹی سے کہہ دیں مگر وہ اندر ہی اندر بے چین اور فکر مند ہوگیا۔ اس نے بیٹی کے مستقبل کے ليے جو حسین خواب دیکھے تھے اسے وہ سب چکنا چور ہوتے نظر آرہے تھے۔ نیز سماج اور خاندان میں رسوائی کا اندیشہ   لگا تھا۔ اس ليے اس کے دن کا چین اور رات کی نیند جاتی رہی۔ مگر بیٹی کے سامنے اپنی اس بے چینی اور اضطراب کو بالکل ظاہر نہ ہونے دیا۔ البتہ بیٹی کو اس ” گمراہی“ سے بچانے کی تدبیر برابر سوچتا رہا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ اسے زور زبردستی سے اس فعل سے باز نہیں رکھ سکتا۔ اس کے ليے تو کوئی نفسیاتی اور حکیمانہ تدبیر ہی کار گر ہوسکتی ہے ۔

 ایک روز اس نے اپنی بیٹی سے کہا کہ جب وہ کالج سے واپس آئے تو فلاں مارکیٹ سے پانچ کلو آم لیتی آئے۔ بیٹی بائک سے کالج آتی جاتی تھی،چنانچہ باپ کے کہنے کے مطابق شام کو وہ آم لے کر گھر آئی۔اس کے باپ گھر پر موجود تھے،انہوں نے بیٹی سے کہاکہ ان آموں کو پانی کی بالٹی میں ڈال دو تا کہ وہ ٹھنڈے ہوجائیں۔بیٹی نے فوراًآم کی تھیلی پانی کی بالٹی میں الٹ دی۔ اس نے جیسے ہی آم بالٹی میں ڈالے وہ چونک پڑی اور باپ سے مخاطب ہوکر کہنے لگی کہ میںنے تو یہ آم چھانٹ کر تھیلی میں ڈالے تھے مگر کیا دیکھتی ہوں کہ اس میں آدھے سے زیادہ آم خراب ہیں۔ یہ تو بڑا دھوکہ ہوگیا۔ یہ کہہ کر بیٹی خاموش ہوگئی۔ یہ سن کر اس کے باپ نے اس سے دریافت کیا کہ اس نے یہ آم کہاں سے خریدے ہیں ؟بیٹی نے بتایا کہ آپ کی بتائی ہوئی مارکیٹ سے ایک میاں جی کے دکان سے خریدے ہیں۔ یہ سن کر باپ نے اس سے کہا کہ بیٹی !یہ آم لے کر فورا ًبائک سے چلی جاﺅ اور انہیں واپس کر کے دوسرے آم لے آﺅ، لڑکی وہ آم لے کر اسی دوکاندار کے پاس گئی جس سے اس نے آم خریدے تھے اور اس سے آم خراب ہونے کی بات کہی ۔ دوکاندرا نے اس پر حیرت اور ناراضگی ظاہر کرتے ہوے اس بات کا سرے سے انکار ہی کردیا کہ اس نے یہ آم اس دکان سے خریدے ہیں۔ وہ لڑکی اس جواب سے ہکا بکا رہ گئی اور مایوس ہوکر گھر واپس آگئی ۔ گھر پہنچ کر اس نے اپنے باپ کو بتائی اور اداس ہوکر ایک طرف بیٹھ گئی جیسے اس سے کوئی جرم سرزد ہوگیا ہو۔ اس کے باپ نے اسے اپنے پاس بلایا اور تسلی دیتے ہوے کہا کہ وہ اس کے ليے بالکل دلبرداشتہ نہ ہواور اس بات کو اپنے ذہن سے بالکل نکال دے ۔ اس طرح کے چھوٹے موٹے نقصانات تو ہوتے ہی رہتے ہیں اس ليے اسے اس پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بات آئی گئی ہوگئی اور سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے۔ ایک دن رات کو حسب معمول اس لڑکی کے باپ سونے کے ليے اپنے کمرے میں چلے گئے ۔ اسی کمرہ میں قریب ہی وہ لڑکی سونے کے اپنے بستر پر لیٹ گئی۔ کچھ رات گزر نے کے بعد ا س لڑکی نے محسوس کیا کہ اس کے باپ کروٹیں بدل رہے ہیں اور کبھی کبھار ان کی زبان سے بے چینی کے ساتھ کچھ الفاظ نکل رہے ہیں ۔ لڑکی نے سمجھا کہ شاید ان کی طبیعت خراب ہے ،اس ليے وہ بے چینی محسوس کر رہے ہیں۔ اس نے اپنے باپ سے ان کی طبیعت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کی طبیعت بالکل ٹھیک ہے البتہ نیند نہیں آرہی ہے ۔انہوں نے لڑکی سے یہ بھی کہا کہ وہ آرام سے سوجائے اور ان کی فکر نہ کرے۔ جب نیند آئے گی تو وہ سو جائیں گے ۔ لڑکی اپنے بستر پر واپس چلے گئی ۔ اس کے باپ کی بے چینی اور بے قراری اور زیادہ بڑھنے لگی اور وہ پہلے سے زیادہ کراہنے کی آواز نکالنے لگے اور کروٹیں بدلنے لگے۔ لڑکی آواز سن کر پھر ان کے پاس آگئی اور ان سے ان کی تکلیف معلوم کی۔  باپ نے پھر وہی جواب دیا جو پہلے دیا تھا اور لڑکی پھر اپنے بستر پر آگئی ۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر وہی کراہنے اور بے چینی کے ساتھ کروٹیں بدلنے کی آواز آئی تو لڑکی پھر اپنے باپ کے پاس گئی اور ان سے باصرار اپنی پریشانی بیان کرنے کی درخواست کی تا کہ اگر ضرورت ہوتو کسی ڈاکٹر سے رابطہ کیا جا سکے۔ اب اس کے باپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور اسے اپنے ساتھ ڈرائنگ روم میں لے گئے ۔ اسے اپنے پاس بٹھایا اور بڑے ہی درد بھرے انداز میں اپنی بیٹی سے اپنی بے چینی اور بے قراری کی وجہ بتاتے ہوے کہا ۔ بیٹی! مجھے تم سے بے حد محبت ہے تم آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون ہو ،تمہیں میں نے بڑے لاڈ و پیار سے پالا ہے ۔ اسی ليے میں تمہاری ہر خواہش پوری کرنا چاہتا ہوں ۔ چنانچہ جب چند روز قبل تم نے مجھ سے کہا تھا کہ تم مسلمان ہوناچاہتی ہو تو میں نے تمہاری خواہش کو مد نظر رکھتے ہوے تمہیں اس کی بخوشی اجازت دے دی تھی۔ مگر آم والا جو واقعہ تمہارے ساتھ پیش آیا تو اس نے مجھے بے چین کردیا اور میری راتوں کی نیند اڑادی۔ بیٹی نے فوراً کہا کہ پاپا وہ تو چند روپیوں کا نقصان تھا اس پر آپ اتنے پریشان کیوں ہورہے ہیں ۔ اس پر اس کے والد نے آہ بھرتے ہوے جواب دیا بیٹی !چند روپیوں کے نقصان پر میں پریشان نہیں ہو ں بلکہ میری پریشانی کی وجہ کچھ اور ہے ۔ یہ کہہ کر لڑکی کے والد رونے لگے، لڑکی نے انہیں چپ کرایا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اپنی پریشانی اسے بلا تکلف بیان کریں ۔ باپ نے بڑے ہی درد بھرے انداز میں آہیں بھرتے ہوے کہا کہ یہ بات مجھے پریشان کر رہی ہے کہ صرف کچھ آموں کے ليے ایک مسلمان نے تمہیں دھوکہ دیا اور اس نے جھوٹ بول کر صاف انکار کردیا کہ وہ آم تم نے اس سے نہیں خریدے ہیں ۔ اس واقعہ سے مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں مسلمان بن جانے کے بعد مسلمان تمہارے ساتھ دھوکہ نہ کردیں ۔ تمہارااستحصال کرکے تمہیں مکھی کی طرح دودھ سے نکال کر پھینک دیں مسلمان بھروسے کے قابل نہیں ہيں۔ اس کا نمونہ تم نے خود دیکھ لیا ۔ میری پیاری بیٹی! چند کیلو آم کانقصان میرے ليے کوئی نقصان نہیں ہے البتہ اگر تمہارے ساتھ کوئی دھوکہ ہوگیا تو اسے میں برداشت نہیں کر پاﺅں گا۔ بس انہیں باتوں کوسوچ سوچ کر میں پریشان ہو رہاہوں اور اسی بات نے میری نیند اڑادی ہے ۔ یہ کہتے کہتے اس لڑکی کے والد پھر آبدیدہ ہوگئے اور ماحول کافی جذباتی ہوگیا ۔

 اس لڑکی کا اسلام اور مسلم سماج کے بارے میں کوئی وسیع مطالعہ نہ تھا ، وہ باپ کی گفتگو سے متاثر ہوگئی، ا سے باپ کی بات میں وزن نظر آنے لگا، وہ اس اندیشے کا شکار ہوگئی جس طرف اس کے باپ نے بڑے ہی جذباتی اور ڈرامائی انداز میں اس کی توجہ دلائی تھی اور پھر اس نے اسلام قبول کرنے کا اپنا ارادہ ترک کردیا۔

  یہ عبرت ناک واقعہ میرے ایک دوست نے مجھے سنایا تھا۔ یہ بات کسی شک و شبہ کے بغیر کہی جاسکتی ہے کہ انسان کا اچھا یا برا عمل اپنے مثبت یا منفی اثرات رکھتا ہے ۔ جہاں کسی مسلمان کے ایک اچھے عمل سے متاثر ہوکر کسی کی زندگی کی گاڑی صحیح راستے پر آسکتی ہے وہیں دوسری طرف کسی کے برے عمل کے اثرات سے کوئی راہ حق پر آتے آتے اس سے بر گشتہ ہو سکتا ہے اسی ليے نبی صلى الله عليه وسلم کی حکیمانہ تعلیم یہ ہے کہ کسی برائی کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ جو مسلمان اپنا سامان فروخت کرتے وقت دکھاتے اچھا ہیں اور دیتے گھٹیا یا خراب ہیں، ان کے بارے میں پیارے نبی صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا ہے کہ ان کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایسے لوگوں سے نبی کی بیزاری کی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس طرح کی بد عملی اور بد کرداری سے وہ کچھ فائدہ تو ضرور حاصل کر لیتے ہیں مگر در اصل وہ اسلام کو نقصان پہنچانے اور بندگان خدا کو دین حق سے باز رکھنے کے مجرم ہیں ۔ قرآن مجید میں بھی اللہ کے راستے سے روکنے والوں کے ليے بڑی وعید آئی ہے۔ لوگوں کو ان کے مال میں گھاٹا دینا،ڈنڈی مارنا اور دھوکا اور فریب دینا وغیرہ غلط کاموں کو دنیا و آخرت میں خسارے کا سودا قرار دیاگیاہے۔ کیا مسلمان قرآن و حدیث کی ان ہدایات پر توجہ کرے گا ؟

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*