غصہ پر قابو پانے والے

سید عبد السلام عمری (کویت)

اسلام ایک ہمہ گیراور آفاقی دین ہے، یہ ایک مکمل نظام حیات ہے ، اس کی تعلیمات تمام شعبہ ہائے زندگی پر محیط ہیں، یہ ہر حالت ،ہر کیفیت اور ہر مرحلہ میں انسان کی مکمل رہنمائی کرتاہے، خواہ خوشی اور مسرت کا پر لطف موقعہ ہو یا غم و رنج کا صبر آزما لمحہ ، یا پھر غیظ و غضب کی نازک گھڑی ، غرضیکہ اسلام انسانیت کے حق میں سراپا رحمت ہے ، تمام حالات و کوائف میں اللہ کی بندگی کرنے والوں کے ليے مشعل راہ ہے، اللہ کا عطا کردہ انمول تحفہ و نعمت عظمی ہے۔

 اسلامی تعلیمات اس بات پر زو ر دیتی ہیں کہ حتی الامکان اپنے آپ کو غیظ و غضب سے بچایا جائے، دین اسلام میں غیظ و غضب کی بابت بڑی واضح ہدایات موجود ہیں جن سے اسلام کے محاسن، اوصاف اور خوبیاں مزید نکھرتی اور عیاں ہوتی ہیں ۔

 نبی رحمت صلى الله عليه وسلم  کی وصیت ” غصہ میں مت آ “ پر غور وفکر کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ غصہ سرا پا شر ہے۔ غصہ سراپا شر اس ليے ہے کہ انسان حالتِ غصہ میں اکثر و بیشتربرُائی اور معصیت کا ارتکاب کرتاہے، دشنام طرازی، سب وشتم، ظلم وزیادتی، زور زبردستی، قتل و غارت گری، تذلیل و تحقیر، قطع تعلق، قطع رحمی جیسی تمام برائیاں آدمی غصہ کی حالت میں کرتاہے ، چنانچہ اگر کوئی شخص کسی وجہ سے غصہ میں آہی جاتاہے تو اسلام اسے غصہ کو قابو میں کرنے اور عفو درگذر سے کام لینے کا حکم دیتا ہے :﴾خُذِ العَفوَ وَا مُر  بِالعُر فِ وَا َعرِض عَنِ الجَاہِلِین﴿ ( الاعراف 199 ) ”درگذر کو اختیار کریں،نیک کام کی تعلیم دیں اور جاہلوں سے ایک کنارہ ہوجائیں“۔

  امام بخاری رحمه الله نے اس آیت کی تفسیر میں حضرت عمر رضي الله عنه  کا ايک واقعہ نقل کیا ہے کہ عیینہ بن حصن حضرت عمر رضي الله عنه  کی خدمت میں حاضر ہوے اور ان پر تنقید کرنے لگے کہ آپ ہمیں نہ پوری عطا دیتے ہیں اور نہ ہی ہمارے درمیان انصاف کرتے ہیں ،جس پر حضرت عمر رضي الله عنه  غضبناک ہوگئے، یہ صورت حال دیکھ کر حضرت عمر رضي الله عنه  کے مشیر حر بن قیس نے ( جو عیینہ کے بھتیجے تھے) حضرت عمر رضي الله عنه  سے کہا : اللہ تعالی نے اپنے نبی کو حکم فرمایا تھا ﴾خُذِ العَفوَ وَا مُر     بِالعُر فِ وَا َعرِض عَنِ الجَاہِلِین﴿”در گزر کو اختیار کیجيے اور نیکی کا حکم دیجيے اور جاہلوں سے اعراض کیجيے۔ “اور یہ بھی جاہلوں میں سے ہے جس پر حضرت عمر رضي الله عنه  نے درگزر فرمادیا۔ وکان عمر وقّافاً عند کتاب اللہ ”اور حضرت عمررضي الله عنه  اللہ کی کتا ب کا حکم سن کر فورا گردن خم کردینے والے تھے “ ۔

 ظلم کے مقابلہ میں معاف کردینا، قطع رحمی کے عو ض میں صلہ رحمی اور برائی کے بدلے احسان کرنا اسلامی تعلیمات کی اعلی مثال ہے ۔ اور قرآن نے اہل ایمان کا وصف محمود اسی کو بتایا ہے، فرمایا : ﴾وَالکَاظِمِینَ الغَیظَ وَالعَافِینَ عَنِ النَّاسِ وَاللّہُ یُحِبُّ المُحسِنِین ﴿( آل عمران 134) ”(جو لوگ آسانی میں ، سختی کے موقعہ پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ) غصہ کو پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں ، اللہ تعالی ان نیک کاروں کو دوست رکھتاہے۔“ آگے فرمایاگیا ”انہیں کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور جنتیں ہيں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔        (آل عمران 136)

 غصہ کوضبط کرتے ہوے اسے پی جانا اور غصہ کو نافذ نہ کرنا باوجودیکہ اس کے نافذ کرنے پر قادر ہوں بڑی فضیلت کا باعث ہے ۔ چنانچہ پیارے نبی صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا :

ما تجرع عبد من جرعة افضل اجراً من جرعة غیظ کظمھا ابتغاء وجہ اللہ (عمدة التفسیر، وصححہ احمد شاکر) ” جو بندہ غصہ کا گھونٹ اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کے ليے پیتا ہے ‘یہ سب گھونٹوں سے افضل اورنہایت اجروثواب کاباعث ہے ۔“

ایک دوسری روایت میں ہے :

من کظم غیضا وھو قادر علی ان ینفذہ دعاہ اللہ علی ر ووس الخلائق حتی یخیرہ من الحور العین ما شاء (ا بوداو د ، ترمذی ، وحسنہ الالبانی)

”جو اپنا غصہ پی جائے باوجود یکہ وہ اسے نافذ کرنے کی قدرت رکھتا ہو‘ اللہ تعالی اسے تمام مخلوقات کے سامنے بلاکر اس بات کا اختیار دیں گے کہ وہ حوروں میں سے جسے چاہے اپنے ليے منتخب کرلے۔ “

 لہذا حالت غصہ میں احترام انسانیت کا نہ رہنا اور تعلق داری کا پاس ختم ہوجانا شیوہ انسانی کے خلاف ہے اور اگر خوف خدا بھی جاتا رہاتو بہیمیت کی انتہا ہے 

 ظفر آدمی نہ اس کو جانئے گا خواہ ہوکیسا ہی صاحب فہم و ذکا  –  جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا

  ایک آدمی نے کہا :یا رسول اللہ ! سب سے خطر ناک (اور مہلک ) چیز کون سی ہے ؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا :  ” اللہ کا غضب “ ( سب سے زیادہ خطر ناک ہے ) اس آدمی نے کہا : کون سی چیز اللہ کے غضب سے نجات دے سکتی ہے ؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :انسان کا غصہ میں نہ آنا ۔

  ہاں ! طاقتوراور پہلوان وہ نہیں جو اپنے مد مقابل کو پچھاڑدے بلکہ طاقتور وہ ہے جو بوقت غصہ اپنے نفس پر قابو رکھے اور دامن عقل و ہوش نہ چھوڑے۔ چھوٹوں پر شفقت، بڑوں کا احترام ، والدین کا ادب، بھائی کا حق ، بہن کے حقوق، انسانیت کے تقاضے، اعزہ واقارب کے تعلقات، یتیم کی خدمت، ہمسایہ کی ہمسایگی، محسن کا احسان ، استاذ کا احترام ،رسول صلى الله عليه وسلم  کی اتباع اوراللہ تعالی کی حاکمیت کو نہ بھولے، کیونکہ حالت غصہ میں سارے اخلاقیات ، اقدار اورکردار کا قلع قمع ہوجاتاہے جس کے نتیجہ میں رشتہ داروں کے درمیان دراڑ پڑجاتی ہے، میاں بیوں کے تعلقات خراب ہوجاتے ہیں یہاںتک کہ معاملہ طلاق تک پہنچ جاتا ہے۔ قطع تعلق ، قطع رحمی جیسے گناہ کبیرہ کا ارتکاب ہوتاہے۔ قتل و غارت گری،لوٹ گھسوٹ عام ہوجاتی ہے ، آج ہمارے معاشرے میں یہ سب کچھ دن کے اجالے میں ہورہاہے، ہمیں چاہيے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم  کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں،ان اسباب کو اختیار کریں جو غصہ کو زائل کر سکتے ہیں مثلاً وضو کرنا، کھڑے ہوں تو بیٹھ جانا، بیٹھے ہوں تو لیٹ جانا وغیرہ۔

 اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں نبی اکرم صلى الله عليه وسلم  کی وصیت ” غصہ میںمت آ “پرعمل کرتے ہوے غیظ و غضب کے فتن اور مفاسد سے محفوظ رکھے ۔ آمین

abdussalamsyed@ymail.com

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*