ہم اس کی زمین پر رہتے ہیں ‘وہ ہماری زمین پر نہیں رہتا

محمد آصف ریاض (دہلی )

 آپ ایک لکژری گاڑی پر سوار ہیں۔ آپ کی گاڑی نہایت سرعت کے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ تبھی اچانک آپ کو یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ کی گاڑی ایک طرف جھک چکی ہے اور وہ کبھی بھی پلٹ سکتی ہے، تو آپ کیا کریں گے؟

کیا اب بھی آپ کھیل تماشے میں مصروف رہیں گے؟ کیا اب بھی آپ لکژری میں پڑے رہیں گے ؟ کیا اب بھی آپ گاڑی پر بیٹھ کر دنیا کے معاملات طے کرنے میں لگے رہیں گے؟ نہیں ! آپ الرٹ ہوجائیں گے !آپ کا فوکس بدل جائے گا !

آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ آپ جس زمین پر چلتے پھرتے ہیں وہ زمین اپنے محور پر بڑی سرعت کے ساتھ چکر کاٹ رہی ہے ! وہ اپنے محور پر ایک طرف جھکی ہوئی ہے ۔وہ کبھی بھی ٹوٹ پھوٹ کر بکھر سکتی ہے۔ لیکن کیاکوئی ڈرنے کے لیے تیار ہے ؟ کیا کوئی الرٹ ہونے کے لیے تیار ہے ؟ کیا کوئی لکژری چھوڑ نے کے لیے تیار ہے؟ کیاکوئی کھیل تماشا سے اوپر اٹھ کر سوچنے کے لیے تیار ہے ؟ نہیں!

 کیوں ؟اس لیے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ زمین کا جھکا ﺅ ہمارے حق میں ہے۔ اس جھکاﺅ کی وجہ سے موسم میں تبدیلیاں ہوتی ہیں اور زندگی میں رنگا رنگی پیدا ہوتی ہے۔ بلا شبہ زمین کے جھکاﺅ کی وجہ سے موسم میں تبدیلی ہوتی اور اس کے بے پناہ فائدے بھی ہیں۔ لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ فائدے ہمیں یوں ہی پہنچائے جارہے ہیں؟ کیا یہ چاند ،سورج، زمین، آسمان جو ہماری خدمت میں لگے ہوئے ہیں کیا انھیں یوں ہی ہماری خدمت پر مامور کر دیا گیا ہے ؟ کیا ان نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا نہ جائے گا ؟کیا اس کے لیے ہمیں کسی کے آگے جواب دہ نہیں ہونا پڑے گا؟کیا ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ ہماری خدمت میں لگا ہوا ہے؟ اگر ہم ایسا سمجھتے ہیں تو ہم نادانی پر ہیں۔

آپ کے باس نے بیٹھنے کے لیے ایک چیمبر دیا ہے ،چلنے کے لیے ایک گاڑی دی ہے ،کمیونی کیٹ کر نے کے لیے جدید قسم کے آلات دئے ہیں،آپ کے رہنے اور کھانے پینے کا انتظام کیا ہے تو کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب آپ کو یوں ہی حاصل ہوگیا ہے اور آپ کو اس کے لیے کوئی قیمت نہیںچکانی پڑے گی؟ اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو آپ نادانی پر ہیں۔ باس آپ کی خدمت میں نہیں لگا ہوا ہے بلکہ اس نے آپ کو ایک منصوبہ کے تحت تمام سہولیات دے رکھی ہیں ۔اگرآپ اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہے تو آپ سے تمام سہولتیں چھین لی جائیں گی اور اس کے ساتھ ہی آپ کو اپنے باس کے سامنے جواب دہ بھی ہو نا پڑے گا۔ جس طرح دنیا کاہر ملازم اپنے باس کے سامنے جواب دہ ہے اسی طرح دنیا کا ہرشخص اللہ کے آگے جواب دہ ہے اور اللہ کسی کے آگے جواب دہ نہیں ہے ۔

کیوں ؟ اس لیے کہ وہ ہماری زمین پر نہیں رہتا اور ہم اس کی زمین پر رہتے ہیں ۔ وہ ہمارا پانی نہیں پیتا اور ہم اس کا پانی پیتے ہیں ۔ وہ ہمارے سورج کی روشنی نہیں لیتا اور ہم اس کے سورج کی روشنی لیتے ہیں۔ وہ ہمارا آکسیجن نہیں لیتا اور ہم اس کا آکسیجن لیتے ہیں،وہ ہمارا نہیں کھا تا اور ہم اس کا کھاتے ہیں۔ ہم اسے زندہ نہیں رکھتے اور وہ ہمیں زندہ رکھتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”وہ اپنے کاموں کے لیے کسی کے آگے جواب دہ نہیں ہے اور سب اس کے آگے جواب دہ ہیں“(سورہ الانبیاء )

 ایک دن آئے گا جب انسان کواللہ کے آگے اپنی  جواب دہی کے لیے حاضر ہونا پڑے گا ۔اس دن اس سے وہ تمام سہولتیں چھین لی جائیں گی ،جو اسے بطور امتحان دنیا میں دی گئی تھیں۔اور اگر غور کیجئے تو پتہ چلے گا کہ یہ کام توزمین پر ہر روز ہورہا ہے ۔ ایک انسان بیمار پڑتا  ہے ، یہاں تک کہ وہ موت کے منھ میں چلا جا تا ہے ،اس کے پاس آنکھیں ہوتی ہیں ،لیکن وہ دیکھ نہیں پاتا۔ اس کے پاس پاﺅں ہوتے ہیں ،لیکن وہ چل نہیں پاتا۔ اس کے پاس دماغ ہوتا ہے لیکن وہ سوچ نہیں پاتا۔ اس کے پاس ہاتھ ہوتے ہیں لیکن وہ پکڑ نہیں پاتا۔اس کے پاس زبان ہوتی ہے لیکن وہ بول نہیں پاتا۔ یہ کیا ہے ؟ یہ نعمتوں کا چھن جا نا ہے۔ یہ واقعہ زمین پر ہر روز ہورہا ہے ۔ ہر روز کسی نہ کسی سے وہ سہولتیں چھینی جا رہی ہیں جو اسے ایک مخصوص مدت کے لیے دی گئی تھی لیکن کوئی اس سے سبق حاصل کر نے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ کیوں ؟ اس لیے کہ ہر شخص پر انفرادی طور پر یہ واقعہ گزر رہا ہے۔ آدمی چاہتا ہے کہ یہ واقعہ مجموعی طور پر پیش آئے۔ یعنی ایک ہی دن سب کی آنکھیں اندھی ہوجائیں ، ایک ہی دن سب کے پاﺅں ٹوٹ جائیں ،ایک ہی دن سب کی موت ہوجائے ۔ایک ہی دن پوری کائنات تباہ ہوجائے ! ہر انسان ایک بڑے دن کے انتظار میں ہے!

ایک بڑے دن کا انتظار

 بلا شبہ عنقریب وہ بڑا دن بھی آئے گا جس کا لوگوں کو انتظار ہے، لیکن جب وہ دن آئے گا توکسی کو اتنا موقع نہیں ملے گا کہ وہ اپنے معاملات کو ٹھیک کر لے۔ وہ تو اچانک انسان کے سر پر آپڑے گا۔ وہ تو ایک چنگھاڑ ہو گی جو سب کو بجھا کر رکھ دے گی ۔وہ دن بہت ہی کسمپرسی کا دن ہوگا ۔اس دن ہر شخص جان لے گا جو کچھ کہ وہ اپنے ساتھ لے کر آیا ہوگا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

 ”جب سورج لپیٹ لیا جائے گا،اور جب ستارے بے نور ہوجائیں گے ،اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے ،اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی ،اور جب وحشی جانور اکھٹے کئے جائیں گے ،اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے اور جب جا نیں جسموں سے ملا دی جائیں گی، اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکیوں سے پوچھا جائے گا کہ تمہیں کس جرم میں قتل کیا گیا،اور جب نامہ اعمال کھول دئے جائیں گے ،اور جب آسمان کی کھال اتار لی جائے گی، اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی اور جب جنت نزدیک کر دی جائے گی تو اس دن ہر شخص جان لے گا جو کچھ کہ وہ اپنے ساتھ لے کر آیا ہوگا“۔(سورة التکویر)

 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*