مولانا قاری نجم الحسن فیضی سے ایک ملاقات

محمدخالد اعظمی (کویت)

  64سالہ مولانا قاری نجم الحسن فیضی اترپردیش کے ضلع پرتاب گڈھ کے ایک چھوٹے سے گاؤ ں کے رہنے والے ہیں، ابتدائی تعلیم گاؤں کے ایک مکتب میں ہوئی ، اعلی تعلیم کی غرض سے جامعہ فیض عام مـﺅناتھ بھنجن گئے، وہاں سے1972ءمیں فراغت ہوئی۔ فراغت کے فوراً بعد عملی میدان میں آگئے۔ جناب ڈاکٹرسید عبد الحفیظ سلفی  کے اصرار پر درس وتدریس کے لیے مدرسہ احمدیہ سلفیہ دربھنگہ چلے گئے ،وہاں ان کا قیام دوماہ تک رہا ۔ وہاںسے جامع مسجد اہلحدث مومن پورہ مومبائی میں امامت وخطابت کے لیے آگئے اور22سال تک امامت وخطابت جیسے عظیم فرائض انجام دیتے رہے۔

آپ نے 1984ءمیں جامعہ رحمانیہ کی بنیاد مومبائی کے ایک علاقہ کاندیولی میں رکھی جس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباءوطالبات کی تعدادتقریباً چارہزار ہے۔آپ نے لڑکیوں کی اعلی تعلیم کے لیے الگ سے مدرسہ خدیجة الکبری کے نام سے مومبائی کے کاندیولی میں قائم کیاہے ، جس میں فضیلت تک تعلیم ہوتی ہے۔آپ آزاد ہائی اسکول مومن پورہ مومبائی کے صدر ، جامعہ رحمانیہ کے صدر، صوبائی جمعیت اہلحدیث مومبائی اور مرکزی جمعیت اہلحدیث ہندکی مجلس شوری کے رکن ہیں۔آپ سے میری پہلی ملاقات کویت کے ایک دینی پروگرام میں ہوئی ، آپ کی گفتگوکا انوکھاانداز ہے ۔ ہرشخص سے مسکرا کر ملنا،حال واحوال معلوم کرنا، احباب واقارب کی خیریت دریافت کرناوغیرہ۔ مولانا کی سب سے اہم اور بڑی خوبی حق بات کہنا اور سچ بات کا برملا اظہار کرناہے ، یہ خصوصیت بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے ، ایک مجلس میںمولانا سے دعوت کے موضوع پرکی گئی یہ گفتگو افادہ  عامہ کی خاطرپیش خدمت ہے ۔

سوال: دعوتی کام کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، کیا آج کے پرفتن دور میں دعوت وتبلیغ کے کام کاکوئی خاص انداز ہونا چاہئے ؟

جواب: سچی بات یہ ہے کہ دعوتی کا م کی ضرورت ہمیشہ رہی ہے اور رہے گی اورآج کے زمانے میں جس طرح سے دعوتی کام ہورہاہے میں اس کے طریقہ  کار سے متفق نہیں ہوں ، کیونکہ آج دعوتی کام ایک رسمی چیز بن گئی ہے، دعوت قرآن پاک کی اس آیت کی روشنی میں ہونی چاہئے یایہا الذین آمنوا قوا انفسکم واہلیکم ناراً ”اے وہ لوگو جوایمان لائے ہوتم اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ“۔

ہمیں سب سے پہلے خوداپنے آپ کوان برائیوں سے دور رکھناچاہئے جس کی تبلیغ کررہے ہیں ، اور ان بھلائیوں پرعمل کرنا چاہئے جسکی طرف دعوت دے رہے ہیں۔

سوال:آپ نے 22سال تک امامت وخطابت کافریضہ سر انجام دیا ،اس مدت میں آپ نے امامت وخطابت کو کیسا محسوس کیا؟

جواب: امامت وخطابت سے بڑھ کرکوئی عظیم پیشہ ہو ہی نہیں سکتا لیکن افسوس کا مقام ہے کہ آج لوگوں نے اس عظیم منصب کو بھی خراب کرڈالا ہے ۔

سوال:دعوتی کام میں بھی بعض لوگ مصلحت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں ا س کی وجہ کیا ہوسکتی ہے ؟

جواب: آج مصلحت ہر چیز میں ظاہر ہونے لگی ہے ، یہاں تک کہ دعوت وتبلیغ پر بھی لوگوں نے مصلحت کا ملمع چڑھا دیا ہے۔ صحیح بات پیش کریں اور پیار ومحبت کے ساتھ پیش کریں تو عوام وخواص پر اس کا اچھا اثر پڑے گا۔

سوال:غیر مسلموں میں دعوت کا کیا طریقہ ہونا چاہئے ؟۔

جواب: اگرہم خود کوصحیح اسلامی سانچے میں ڈھال لیں پھر غیروں کے سامنے جائیں تو اس سے وہ بہت جلد متاثر ہونگے۔ پھرقرآن جہاں مسلمانوں کو خطاب کرتا ہے وہیں غیرمسلموں کو بھی خطاب کرتاہے،اللہ تعالی فرماتا ہے: قل یایہا الناس”کہہ دیجئے کہ اے لوگو!…. اللہ تعالی تمام لوگوں سے مخاطب ہے ایسا نہیں کہ وہ صرف مسلمانوں ہی سے مخاطب ہے۔ لیکن افسوس که آج ہم خود اسلامی طریقہ  کار سے دورہیں۔

سوال:آج داعیان دین دعوت دیتے ہیں لیکن ان کی دعوت متاثر نہیں ہوتی اس کے کیا اسباب ہوسکتے ہیں؟۔

جواب:آج کے زمانہ میں دعوت ایک بزنس بن چکی ہے ، جس کی وجہ سے ہماری دعوت مو ثر نہیں ہوتی، دعوت اسی وقت کامیاب اور موثر ہوگی جب ہم اچھا اورسچامسلمان بن کرمخاطب کے سامنے آئیں، ہم اخلاق کے اعلی نمونہ ہوں، ہماری زبان میں مٹھاس ہو ، معاملات اورلین دین میںصفائی ہو۔ اگریہ صفات ہمارے اندر پیدا ہوجائیں تو ان شاءاللہ ہماری دعوت مو ثر ہوگی۔

سوال: ہم پرغیرمسلموں کے کیاحقوق ہیں؟

جواب: غیر مسلموں کے حقوق تو بہت ہیں لیکن چند بنیادی حقوق یہ ہیں کہ اگر وہ بھوکے ہوں تو انہیں کھانا کھلایا جائے ، اگر وہ مریض ہوں تو ان کی عیادت کی جائے ، اوران کے سامنے اسلام کی تعلیمات پیش کی جائیں۔

سوال: مسلمانوں میں اتفاق واتحاد کیسے پیداہو؟

جواب: یہ بہت اہم مسئلہ ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ واعتصموا بحبل اللہ جمیعاو لاتفرقوا والی آیت ہمارے مد نظر ہو۔ پہلے مشہورتھا کہ لوگ جہالت اور کم علمی کی وجہ سے آپس میں لڑتے ہیں ،لیکن افسوس کا مقام ہے آج کے مسلمان دین کی وجہ سے لڑتے ہیں ۔ دنیا کہتی ہے کہ مسلمانوں کوایک پلیٹ فارم پر متفق ہونا چاہئے لیکن آخروہ کونسا پلیٹ فارم ہے جس پر سارے مسلمان اکٹھا ہوجائیں آج برصغیر ہندوپاک میں سب سے بڑا مسئلہ مسلکی اختلافات کا ہے ، اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں کہ کرناٹک کے ایک علاقہ میں ایک مسلک والے نے دوسرے مسلک والے کی مسجد جلادی ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ غیروں کو ہم پر ہنسنے کا موقع مل گیا۔

میری گزارش ہے کہ سب سے پہلے مسلکی اختلافات ختم کرکے اللہ اوراس کی تعلیمات کی روشنی میں ایک مشترکہ پلیٹ فارم متعین کریں ۔اسی طرح ہم اللہ اور اس کے رسول کے حقوق پہچانیں ،ائمہ کرام کا احترام کریں ، علمائے کرام کی باتوں کوغور سے سنیں، ایک دوسرے کا احترام کریں اور ایک دوسروں پر پھبتیاں کسنا بند کردیں ۔

سوال: کویت میں رہنے والے اردوداں طبقہ کو کیا نصیحت کریں گے۔

جواب:کویت میں رہنے والے بڑے ہی خوش نصیب ہیں کہ اللہ نے انھیں اتنا اچھا موقع عنایت فرمایا ، یہ تو محض اللہ کا کرم ہے ورنہ ان سے زیادہ علم رکھنے والے ، ان کے ملک میں ہیں لیکن انھیں یہ موقع نصیب نہیں ہوسکا ۔ میری ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنے اوقات میں سے چند گھنٹے دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے نکالیں، اسلام کو جانیں ، سیکھیں، بالخصوص عربی زبان اور قرآن۔ یہاں بہت سارے ایسے ادارے ہیں جہاں انھیں سیکھنے کے پورے مواقع میسرہیں مثلاً دار القرآن ، لجنة التعریف بالاسلام ، احیاءالتراث الاسلامی وغیرہ ۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*