وصیت نامہ

مولانا عبدالخالق محمدصادق مدنی (کویت)

 جن امور سے متعلق مسلمانوں کو یاد دہانی کرواتے رہنا ضروری ہے ان میں سے ایک اہم مسئلہ ” وصیت تحریر “ کرنا بھی ہے اور ایسا کرنا ” وصیت نویسی “ دینی اور دنیاوی مصالح اور لوگوں کے اس اہم مسئلہ میں تساہل اور غفلت کی بنا پر لازمی ہے ۔ (صورت حال یہ ہے کہ ) اگر آپ کسی سے دریافت کریں کہ بھائی ! کیا آپ نے اپنا وصیت نامہ تحریر کر رکھا ہے ؟ تو وہ حیرت اور استعجاب کے ساتھ آپ کی طرف دیکھے گا۔ اور کہے گا کہ کیا وہ بستر مرگ پر پڑا ہوا ہے کہ اسے وصیت نامہ تحریر کرنا چاہئے تھا ؟ اور وہ ہر روز واقع ہونے والی اچانک اموات کے مشاہدے اور ایسی افسوس ناک اموات کی خبریں اور اطلاعات سن کر بھی عبرت حاصل نہیں کرتا۔ حالانکہ اللہ تعالی نے متنبہ اور خبردار کر رکھا ہے کہ اس گرفت کا ایک طریقہ اچانک موت بھی ہے کہ جس سے انسان کو اپنے ارادے اور خواہش کے مطابق وصیت کرنے کا موقع بھی میسر نہیں آتا ۔ ارشاد باری تعالی ہے :﴾وَیَقُولُونَ مَتَی ہَذَا الوَعدُ إن کُنتُم  صَادِقِینَ ، مَا یَنظُرُونَ  اِلَّا صَیحَةً وَاحِدَةً تَا خُذُہُم  وَہُم  یَخِصِّمُونَ ، فَلَا یَستَطِیعُونَ تَو صِیَةً وَلَا  ا ِلَی ا َہلِہِم  یَرجِعُونَ ﴿( یس : 48،50)

” یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہوگی ؟ بتاﺅ اگر سچے ہوتو ، در اصل یہ کس چیز کے منتظر ہیں وہ ایک دھماکہ ہے جو یکا یک انہیں اس حالت میں دھر لے گا، جب یہ ( اپنے دنیاوی معمولات میں ) جھگڑ رہے ہوں گے ،اور اس وقت یہ وصیت تک نہ کر سکیں گے اور نہ ہی اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے “

  چنانچہ کتنے ہی ایسے فوت شد گان ہیں جو قرض کے عوض گرفتاراور پھنسے ہوے ہیں ، اور کتنے ہی مالدار ایسے ہیںجو پس مرگ اپنے مال سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکے ، کتنے ایسے حقوق ہیں جو ضائع ہوگئے، اور کتنی ہی ایسی امانتیں ہیں جو اپنے مالکان کو واپس نہیں مل سکیں۔ ان تمام امور کا سبب ” وصیت نویسی “ میں تساہل برتنا اور اسے اہمیت نہ دینا ہے ۔

 حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه سے روایت ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا : ”مومن کی جان اس کے ذمہ قرض کے عوض معلق رہتی ہے حتی کہ وہ قرض اس کی طرف سے ادا کردیا جائے “ ۔ ( ترمذی ، صححہ الالبانی)

 وصیت کرنا ہمارے پیارے نبی صلى الله عليه وسلم  اور آپ سے پہلے تمام انبیاءکرام علیہم السلام کی سنت ہے ۔ لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ ان برگزیدہ شخصیات کی اقتداءاور پیروی کرتے ہوے اپنی اولاد اور اعزاء و اقرباء کو وصیت کرکے دنیا سے رخصت ہو کہ وہ اس کے بعد تقوی اختیار کریں اور دین اسلام پر کار بند رہیں اور انہیں اسی بات کی وصیت کریں جس کی حضرت ابراہیم   اور حضرت یعقوب  عليهما السلام  نے اپنی اولاد کو وصیت کی تھی ۔

 ارشاد باری تعالی ہے : ” اور ملت ابراہیمی سے سوائے اس شخص کے جس نے خود کو حماقت اور جہالت میں مبتلا کر رکھا ہے کون اعراض کر سکتا ہے ؟( ابراہیم تو وہ بر گزیدہ شخص ہیں ) جن کو ہم نے دنیا میں چن لیا تھا اور آخرت میں ان کا شمار صالحین میں سے ہوگا ۔( اس کا حال تویہ ہے ) کہ جب اس کے رب نے اس سے کہا کہ ” اپنے رب کا مطیع ہوجا“ تو اس نے کہا ” میں رب العالمین کا مطیع و فرمانبردار ہوں“ اسی طریقے پر چلنے کی وصیت اس نے اپنی اولاد کو کی تھی اور یہی وصیت یعقوب   نے اپنی اولادکو کی کہ اے میرے بیٹو ! اللہ تعالی نے تمہارے ليے دین اسلام کو پسند کیا ہے لہذا مرتے دم تک اسلام ہی پر قائم رہنا “ ۔ ( البقرة : 130۔ 132)

وصیت کا حکم

وصیت کی مختلف صورتیں ہیں، بعض حالات میں وصیت کرنا واجب،اور بعض اوقات مستحب اور بعض صورتوں میں وصیت کرنا حرام اور ممنوع ہوتاہے ۔

1 ۔ وصیت واجبہ : جب کسی مسلمان کے ذمے اللہ تعالی کا حق واجب ہو مثلاً اس نے کوئی نذر مانی ہو اور پوری کرنے کا موقعہ نہ مل سکاہو، یا اس کے ذمے زکاة فرض ہو ، یا اس پر حج فرض ہو اور وہ ادا نہ کر سکا ہو وغیرہ یا پھر اس کے ذمے لوگوں کا قرض واجب الاداء ہو خواہ وہ مال کی صورت میں ہو یا کسی او رپراپرٹی اور جائیداد کی صورت میں ہو، یا اسے لوگوں سے قرض لینا ہو اور نہ وہ ملا ہو اور نہ ہی اس نے ابھی تک ان کو معاف کیا ہو، تو ان تمام صورتوں میں وصیت کرنا واجب ہے ۔

 چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا : ما حق امرءمسلم لہ شیء یرید   ا ن یوصی فیہ یبیت لیلتین الا ووصیتہ مکتوبة عندہ” کسی مسلمان کے ليے جائز نہیں ہے کہ جس کے پاس وصیت کے لائق کوئی چیزہو کہ وہ دو راتیں بھی وصیت تحریر کئے بغیر بسر کرے “ ۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  سے حدیث سنی ہے تب سے میں نے کوئی ایک رات بھی ایسی بسر نہیں کی کہ جس میں میری تحریر شدہ وصیت میرے پاس موجود نہ ہو۔      (بخاری 2286 حدیث نمبر2738)

  2۔ وصیت مستحبہ : جس شخص کو اللہ تعالی نے مال میں فراوانی عطا کی ہو‘اس کے ليے مستحب ہے کہ وہ نیکی کے کاموں میں مال خرچ کرنے کی وصیت کرے جو کہ اس کے مرنے کے بعد اس کے ليے صدقہ  جاریہ بنے ، لیکن ایسی وصیت کے ليے دو شرطوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

 وصیت مستحبہ کی شرطیں :

 وصیت مستحبہ کی دو شرطیں ہیں۔

(1) وہ وصیت ایک تہائی مال یا اس سے کم کے بارے میں ہو (یعنی ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو ) جیسا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم  نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضي الله عنه  کو فرمایا تھا جب کہ انہوں نے اپنا پورا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی وصیت کرنے کا ارادہ کیا تھا،آپ صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا: الثلث، والثلث کثیر”ایک تہائی مال کی وصیت کر سکتے ہواور یہ بھی بہت زیادہ ہے ۔“( بخاری، مسلم )

  (2) وہ وصیت غیر وارث کے ليے ہو ( یعنی جو شخص میت کا وارث ہے اس کے ليے اضافی جائیداد کی وصیت کرنا جائز نہیں ہے ) چنانچہ حضرت ابو امامہ رضي الله عنه سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا : ان اللہ ا عطی کل ذی حق حقہ فلا وصیة لواوث ( ترمذی ) ”اللہ تعالی نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے لہذا کسی وارث کے ليے مال کی وصیت کرنا جائز نہیں ہے ۔“

 3۔ وصیت محرمہ : کسی بھی خلاف شرع کام کرنے کی وصیت کرنا حرام ہے ۔ مثلاًکوئی شخص اپنےاہل خانہ کو نوحہ خوانی کرنے یا قطع رحمی کرنے، یا مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کی وصیت کرے، تو ایسی وصیت کرنا حرام ہے اور اگر کسی نے ایسی وصیت کی تو وہ باطل شمار ہوگی اور اسے نافذ نہیں کیا جائے گا۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

 فَمَن  خَافَ مِن مُّوصٍ جَنَفاً ا َو ا ِثماً فَا َصلَحَ بَینَہُم  فَلاَ  ا ِثمَ عَلَیہِ   ِنَّ اللّہَ غَفُور رَّحِیم  ( البقرة :182)

”ہاں اگر کسی وصیت کرنے والے کی طرف سے جانبداری یا گناہ کا ڈر ہو تو کوئی شخص اس معاملے سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان صلح کرا دے تو اس پر کچھ گناہ نہیں بے شک اللہ تعالی بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔“

 حافظ ابن کثیر  نے مفسر قرآن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور دیگر اہل علم کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ’ الجنف‘ کا معنی خطا( یعنی غلطی اور زیادتی )ہے۔ اس کلمہ    ’الجنف‘ کا اطلاق ہر قسم کی غلطی پر ہوتاہے۔ یعنی کسی وارث کو حیلے اور بہانے سے زیادہ جائیداد دینا مثلاً کوئی وصیت کرے کہ فلاں چیز فلاں وارث یا کسی اور شخص کو علامتی(معمولی) قیمت پر فروخت کردی جائے، یا کسی بیٹی کو زیادہ حصہ دینے کی نیت سے اس کے بیٹے(یعنی نواسے) کے نام وصیت کرنا اور اسی طرح دیگر نا جائز ذرائع اور وسائل اختیار کرتے ہوے وصیت کرنا حرام ہے ۔ ( تفسیر ابن کثیر1212،213 )

 وصیت نویسی کے فوائد

 مذکورہ فوائد کے علاوہ وصیت نویسی کے اور بھی بہت سے فوائد اور منافع ہیں مثلاً :

 1۔ اجر عظیم: وصیت تحریر کرنے والے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم  کے حکم کی تعمیل کرنے پر اجر عظیم کا مستحق قرار پاتے ہیں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : ” اور جو شخص اللہ تعالی اور اس کے رسول کی اطاعت کرے وہ یقینا بہت بڑی کامیابی حاصل کرلے گا“( الاحزاب :71)

 2۔ صدقہ جاریہ : نیک کاموں کی وصیت کرنے کی وجہ سے اسے برابر ثواب ملتا رہتا ہے۔

 3۔ بری الذمہ ہونا : وصیت لکھنے والا شخص شریعت کی مخالفت اور لوگوں کے حقوق سے بری الذمہ اور سبکدوش ہوجاتا ہے ۔

 4۔ اختلافات کا خاتمہ : وصیت کی وجہ سے ورثاء وغیرہ میں پیدا ہونے والے ممکنہ اختلافات کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔                             

   تحریری وصیت کا نمونہ :

 الحمد للہ رب العالمین والصلاة والسلام علی رسولہ الکریم و علی آلہ و صحبہ ا جمعین ومن تبعھم باحسان الی یوم الدین وبعد !

یہ فلاں بن فلاں (وصیت کرنے والے کا نام ) کی وصیت ہے جو کہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے وہ اکیلا ہے کوئی اس کا شریک و ہمسر نہیں ہے اور بے شک حضرت محمد صلى الله عليه وسلم  اللہ تعالی کے بندے اور رسول ہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام بھی اللہ کے بندے اور رسول اور وہ کلمہ  پاکیزہ ہیں جنہیں اللہ تعالی نے مریم صدیقہ کی طرف القاءکیا تھا، اور بے شک جنت کا وجود بر حق ہے اور جہنم کا وجود بھی بر حق ہے ، اور قیامت ضرور آئے گی اس میں کوئی شک نہیں ہے، اور یقینا اللہ تعالی قبروں میں مدفون لوگوں کو زندہ کرکے اٹھائیں گے۔

میں اپنی تمام اولاد، اہل خانہ، اور دیگر رشتہ داروں اور تمام مسلمانوں کو اللہ عزو جل سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتاہوں اور انہیں وہی وصیت کرتا ہوں جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت دعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو کی تھی ﴾وَوَصَّی بِہَا ا ِبرَاہِیمُ بَنِیہِ      وَیَعقُوبُ یَا بَنِیَّ  ِنَّ اللّہَ اصطَفَی لَکُمُ الدِّینَ فَلاَ تَمُوتُنَّ  اَلاَّ وَا َنتُم مُّسلِمُونَ﴿ ( البقرة : 132)

( اور اگر اس کے ذمہ قر ض ہو تو وہ یہ لکھے ) میں اپنے ذمہ قرض کی ادائیگی کی وصیت کرتاہوں۔ اور ( اگر وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے یا کسی اور کو مال دینے کی وصیت کرنا چاہتا ہو تو لکھے ) میرے مال کا ایک ثلث فلاں شخص کو دے دیا جائے یا صدقہ جاریہ کے لےے خرچ کردیا جائے، اور میرے چھوٹے (نا بالغ) بچوں کا سرپرست فلاں ( اس کا نام لکھے ) شخص ہوگا، جو کہ بالغ ہونے تک ان کے حقوق کی حفاظت کرے گا۔

پھر اس کے بعد دینی اور اجتماعی لحاظ سے جو وصیت مفید سمجھے کرے اور یہ بھی لکھے کہ اس کا غسل اور تجہیز و تکفین نبی اکرم اصلى الله عليه وسلم کی سنت کے مطابق ہو۔

پھر ( آخر میں ) اپنے ليے مغفرت، رحمت اور جنت میں داخلہ کی دعاء کے ساتھ وصیت کو ختم کرے ۔

 اس وصیت پر دو گواہوں کی تصدیق کروائے :

   گواہ نمبر1

  نام: فلاں بن فلاں

  دستخط: 

  ایڈریس : 

  تاریخ  : 

 گواہ نمبر2

  نام: فلاں بن فلاں

  دستخط: 

  ایڈریس : 

  تاریخ  : 

 والحمد للہ رب العالمین و صلی اللہ علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین ۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*