”آوازوں کو قتل کرے گی کتنی بار یہ دنیا“

اعجازالدین عمری (کویت)

 محمد بوعزیزی،26سالہ تعلیم یافتہ نوجوان، انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ڈگری یافتہ ، کام ، ہاتھ گاڑی میں میوہ فروشی بے روزگاری کی دنیا میں اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالنے کے لیے اس کے پاس یہی ایک راستہ بچا تھا، یہ تونس کا رہنے والا تھا تونس ، وہ عرب ملک جس نے اپنے مغربی آقاو ں سے اس بات کے لیے پیٹھ ٹھکوائی تھی کہ پوری عرب دنیا کی بینکنگ سسٹم میں اس کا ملک نمبر ون پوزیشن میں ہے ۔ محمد کو اپنے پیشہ سے شکایت نہیں تھی۔ وہ اپنی محنت کی کمائی سے مطمئن بھی تھا اور خوش بھی ، پیٹ بھر جاتا تھا اورایک حد تک دیگرضرورتیں بھی پوری ہوجایا کرتی تھیں اس چارپہیوں والی گاڑی سے زندگی کی گاڑی بھی جوں توں رواں تھی 25جنوری 2011ءتک سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا ۔مگر 25جنوری کی شام اس کے لیے قیامت سے کم نہیں تھی ۔ دیکھتے ہی دیکھتے حکومتی اہلکار کچھ پولیس والوں کے ساتھ آدھمکے اور اس کی خوب پٹائی کردی ، وہ حیران تھا ! اور اپنی انگلی دانتوں میں چبائے حالات کو سمجھنے کی کو شش ہی کر رہا تھاکہ ان درندوں نے اس کی گاڑی تہس نہس کردی تھی بیش قیمت پھل قیمت کھوچکے تھے یہ سب کچھ اس کی نگاہوں کے سامنے ہورہاتھا ۔گاڑی کیا ٹوٹی اس کے خواب چکناچور ہوگئے،اس کی آنکھوں میں اندھیارا چھاگیا اور اس سے پہلے کہ کوئی کچھ سمجھ پاتا اس نے بیچ سڑک میں کھڑا ہوکر اپنے اوپر پٹرول چھڑکا اور آگ لگاکر خود کشی کرلی بے بسی کی اس موت سے ہر کسی کی آنکھ شبنمی ہوگئی اور ہر ایک کا دل تڑپ کررہ گیا پھر ایک آندھی اُٹھی اور اس نے غفلت کی نیند سونے والے ہر شخص کی آنکھ کھول کر رکھ دی۔ طلباءاور اساتذہ، بے یقینی کے شکار مزدور اور تاجر، منصف اوروکلاء، کارکنان برائے انسانی حقوق سب سڑکوں پر اُتر آئے۔ صبر کا پیمانہ ٹوٹا تو تاناشاہی کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا ، جس آمریت کے زور پر عوامی آواز پر قدغن لگائی گئی تھی وہی آواز آمریت کے خلاف ببانگِ دہل دہائی دینے لگی ۔ احتجاج کی لہر بھونچال بن کر سڑکوں سے شہر او رپھر پورے ملک کو نگل بیٹھی ۔لوگوں کا غصہ عوامی تحریک کا روپ پاچکا تھا، جس آگ کے ’جُھلسا‘نے ایک بدن کوخاکستر کردیا اس کی چنگاریوں نے پورے وطن کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔اس نے آمریت کی جڑیں بری طرح جلا کر رکھ دیا اور تین دہائیوں سے جو طاقت کے بَل پربولتے تھے سر چھپانے کے لیے بِل تلاشنے لگے ۔ جو سیاہ و سفید کے مالک تھے وہ روسیاہ ہوکر بھاگ کھڑے ہوے ۔ جو ستاروں پر کمند ڈالا کرتے تھے انہیں ثریا سے زمیں پر آسماںنے دے مارا (خبروں کے مطابق تیونس کے سابق صدر زین العابدین بن علی نے رات بھر آسمان کی بلندیوں پر چمکنے والا ستارہ ’عذرائ‘کی ملکیت حاصل کرنے کے بعد اسے اپنی طرف منسوب کرتے ہوے ’ زین العابدین‘ قرار دیا تھا۔)

کہا جاتا ہے کہ ”شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے “۔ کہنے والے نے یہ بھی کہا ہے کہ ”خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا“ ۔ جن حالات سے مجبور ہوکر ’بوعزیزی ‘ کی موت ہوی ہے یہ ”شہادت“ ہے یا ”خود کشی “ اس پر بحث کرنے کا کام علمائے ملت کا ہے ۔ اللہ تعالی اس کی لاش کو کس زمرے میں رکھے گا اس کا تعلق ”علمِ غیب “ سے ہے ۔ مگر اس حقیقت سے انکار کسی کو نہیں ہوگا کہ کسمپرسی کی اس موت سے پشتوں کی نیند لمحوں میں غائب ہوی ہے ، صدیوں کا جمود ٹوٹا ہے ۔ بڑی مدت بعد تاریخ نے تاریخ کو بنتے دیکھا ہے ۔ زمانہ پہلے شیخ سعدی   کی کتاب”گلستاں“ میں ہم نے ایک شعر پڑھا تھا

 اِذَا یَئِسَ الاِنسَانُ طَالَ لِسَانُہ     کَسِنَّو´رٍ مَّغلُو´بٍِ یَصُو´لُ عَلی الکَلبِ

”جب انسان مایوسی کا شکار ہوتا ہے تو اس کی زبان دراز ہوجاتی ہے اور وہ (کتا اور بلی کی جنگ میں ) مغلوب بلی کی طرح (آخری وار کے لیے ) کتے پر جھپٹ پڑتا ہے“۔

یاس و قنوطیت کی مدت دراز ہوی تو اس ملت کے جیالوں نے بھی آخری وار کے لیے کمر کس لیا اور ظالم کتوں کی بوٹیاں نوچ ڈالیں ۔ آخر ”آوازوں کو قتل کرے گی کتنی بار یہ دنیا“

وقت کے افق پر جیسے ہی انقلاب کے آثار دکھائی دینے لگے تھے ہم نے اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ ” مسلم دنیا سے اُٹھنے والی تبدیلی کی لہروں میں ’ اسلامی انقلاب ‘ کا جوش مفقود ہے “ ہم نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا تھا کہ ”مضبوط و منظّم قیادتوں سے محروم اس عوامی یکجہتی میں ’حاکمِ وقت ‘ کا تختہ اُلٹ دینے ہی کو ’انقلاب‘ مانا جارہا ہے“ ۔ اور ان انقلابات کے تئیں مغرب اور اس کے حواریوں کی بے چینی کا بھی ہم نے تذکرہ کیا تھا ۔ اب ہمیں لگتا ہے کہ اسلامی دنیا کی بیداری کو ”بڑی حکمت “ کے ساتھ ’ہائی جاک ‘ کیا جا رہا ہے ۔ انقلاب کی رفتار مدھم ہونے لگی ہے ۔ پُر امن احتجاج کو خون کا رنگ دیا جارہا ہے ۔ زندگی کی جیت کے لیے جو حادثوں میں کود پڑے تھے وہ حادثوں کا شکار ہونے لگے ہیں ۔اس سے پہلے کہ ”خونِ شہیداں “ رنگ لائے لڑائی کا رُخ موڑنے کے لیے باطل پوری طرح میدان میں اُتر آیا ہے ۔ یہ اندیشہ تو ہے ہی کہ کہیں یہ حکمراں اپنی ساحری سے نیند سے بیدار اس ملت کو ابدی نیند سلانہ دیں۔

بندہ  مومن نہایت عقلمند ہوتاہے ۔ زندگی کے سفر میںحکمت ودانائی اسکی رفیق ہوتی ہیں ۔ ایسا ممکن نہیں ہے کہ کوئی مومن ہو اور کسی بل سے دو بار وہ ڈسا جائے ۔سادگی و پرکاری ، بیخودی و ہشیاری اس کی فطرت ہوتی ہے ۔ تاریخ میں ایسا کئی بار ہوا ہے کہ کسی مقصد کے حصول کے لیے اس ملت کے رہنماو ں نے باطل کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا اور جب منزل قریب ہوی تو یہ سفر سے بے دخل کیے گئے۔

کسی خواب کی تعبیر کو حاصل کرنے کے لیے

 وہ شخص منزل کے قریب راہ سے مڑ جاتا ہے

مگر ہم نے بار بار اسی غلطی کو دہرایا ہے ۔میری سمجھ میں یہ بات کبھی نہیں سما سکتی کہ ہم باطل کے ساتھ سازباز کرکے کبھی اپنا ہدف بھی حاصل کر سکیں گے۔ کیا خدائی قانون کے علاوہ بھی ” عدل و مساوات “ اور ”سماجی انصاف“ کا قیام ممکن ہے ؟ عالمی سیاسی منظر پر جب ہم’اسلامی انقلاب ‘ کے کارکنان کو ”ڈیماکریسی“ کے ترجمان بنتے ہوے دیکھتے ہیں تونگاہیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں آخر ہم کفر کے ہاتھ میں کیسے اپنا ہاتھ تھما سکتے ہیں ۔ ہم موحد ہیں ، ایک خدا کے بندے ہیں ، اس کی حکومت کے قائل ہیں تو پھر یہ کہاں کی دانائی ہے کہ اپنی شکست کی ہم خود ہی تدبیر بنائیں اس ”قومِ رسولِ ہاشمیا“ سے کسی کا موازنہ ہی کیا؟ سورة بنی اسرائیل کی ان آیتوں کو ذرا بصیرت کی آنکھوں سے دیکھیے شاید اس سلسلے میں ہمیں ا ن سے کوئی نصیحت مل جائے:

” اے محمد ، ان لوگوں نے اس کوشش میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی کہ تمہیں فتنے میں ڈال کر اُس وحی سے پھیر دیں جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے تاکہ تم ہمارے نام پر اپنی طرف سے کوئی بات گھڑو۔اگر تم ایسا کرتے تو وہ ضرور تمہیں اپنا دوست  بنا لیتے ۔ اور بعید نہ تھا کہ اگر ہم تمہیں مضبوط نہ رکھتے تو تم ان کی طرف کچھ نہ کچھ جھک جاتے ۔ لیکن اگر تم ایسا کرتے تو ہم تمہیں دنیا میں بھی دوہرے عذاب کا مزہ چکھاتے اور آخرت میں بھی دوہرے عذاب کا، پھر ہمارے مقابلے میں تم کوئی مددگار نہ پاتے ۔ اور یہ لوگ اس بات پر بھی تُلے رہے ہیں کہ تمہارے قدم اس سر زمین سے اُکھاڑدیں اور تمہیں یہاں سے نکال باہر کریں ۔ لیکن اگریہ ایسا کریں گے تو تمہارے بعد یہ خود یہاں کچھ زیادہ دیر نہ ٹھیر سکیں گے“ ۔               (بنی اسرائیل : 73۔76 ترجمہ از سید ابوالاعلی مودودی )

 amagz@ymail.com

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*