ہم کو بخشا گیا قرآن سا شہکارِعظیم

طاہرہ بیگم سید کریم (کویت )

 دنیا کا ہرملک جس نے غلامی کے بعد آزادی پائی ہو ، ہرسال اپنی آزادی کا جشن مناتا ہے اور جنکی قربانیوں نے اس ملک کو غلامی کی طوق سے نجات دلوائی اس دن ان کا شکر ادا کرتا ہے۔ پھر اس دن بھی جشن چراغاں کرتا ہے جس دن ملک کی فلاح و بہبودی کے لیے کوئی قانون بنایا اور لاگو کیا جاتاہے۔ آزادی و قانون دونوں ہی حیات انسانی کے لیے لازم وملزوم ہیں ۔ آزادی کے بغیر انسان سانس بھی گھٹ گھٹ کر لیتا ہے اورلا قانونیت سے اسکی زندگی بے ربط و ضبط ہوجاتی ہے۔

 ان دونوں ہی موقعوں پر انسان شکرو سپاس کے جذبات سے معمور، دل میں قوم و وطن کے قدموں پر ایثارکرنے ا ور قربانی دینے کا دم بھرتا ہے۔ تن من دھن کی بازی لگانے کا عزم کرتا ہے۔ اور وہ یہ سب اس آزادی کے حصول پر کرتا ہے جو چھن جانے کے خطرے سے خالی نہیں ہوتی اور اس قانون کو پانے پر کرتا ہے جو خامیوں سے خالی نہیں ہوتا۔ ایک آزادی انسان کو اس کے رحمان و رحیم رب نے بھی دی ہے۔ نوعِ انسا ن کو ہرنوع کی غلامی سے آزادی، مخلوق کو خالقِ حقیقی کی بندگی کے سوا ہر ایک کی بندگی سے آزادی، ہر در پہ جھکنے والی انسانی گردن کو اس نے نجات دی اور اسے وحدہ لا شریک کی چوکھٹ پر خم کرنے کی تعلیم دی۔ اس افلاس سے آزادی دی جس میں انسان کے معبود و مسجود پتھر کے صنم ہوتے ہیں۔

                       وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے  

                     ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

 اس نے انسانی سماج کو رسم و رو اج کے ان سارے بندھنوں سے خلاصی دلائی جن کی آڑ میں آدمی کو آدمی کے آگے جھکنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور پوری نوع انسانی کے لیے زیست کا ایسا زبردست اور ابدی قانون عطا فرمایا جس میں خامی تو دور کوئی جھول تک نہیں  اس نعمت آزادی کے لیے انسان کو اپنے پرور دگار کا کتنا مشکور ہوناچاہیے،اس کااندازہ ہم اورآپ خود کرسکتے ہیں۔

اسی لیے اللہ تبارک و تعالی نے قرآن میں فرمایا ﴾شَہرُ رَمَضَانَ الَّذِیَ اُنزِلَ فِیہِ القُرآنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الہُدَی وَالفُرقَانِ ﴿ (البقرة 185)

”رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے ۔“

 رمضان وہ مہینہ ہے جسمیں قرآن نازل ہوا جو پورے نوعِ انسانی کی آزادی کا علمبردار ہے۔ یہ اس قانون پر مشتمل دستاویز ہے جو بشر کو پر امن زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔ اس لیے بطور شکر لازما ً اس ماہ مبارک میں روزے رکھو۔

قرآنِ مجید کی حقیقت پر غور کرنے سے اس حکمت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کیوں اس کتاب کے نزول پر بھوک ،پیاس اور پرہیزگاری کی مشقتوں کو ہم پر فرض کیا ہے؟

قرآن قراءة سے ہے ۔ جس کا مطلب ہوتاہے ’پڑھنا‘ ، قرآن کا مطلب ہے بار بار پڑھی جانے والی کتاب،بلحاظ معنی یہ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی اور حفظ کی جانے والی کتاب ہے۔

یہ کتاب…. کائنات کے رب کی جانب سے اپنے بندوں کے لیے ایک نادر و نایاب عطیہ ہے۔   یہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ قانون و شریعت ہے، اللہ تعالی نے فرمایا:

’ ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کی محافظ ہے، اس لیے آپ ان کے آپس کے معاملات میں اسی اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کے ساتھ فیصلہ کیجیے ۔“         ( المائدہ 48)

اس کتاب میں توحید و رسالت کی تلقین بھی ہے،  طریقہ  بندگی کے ا طوار بھی ۔ طہارت و پاکیزگی کے دروس بھی ہیں، انبیاءعلیہم السلام کی پاکیزہ زندگیاں بھی ، مغرور و متکبر اقوام کے قصے بھی ہیں اور ان کے عروج وزوال کی تاریخ بھی، حکومت و اقتدار کے داو پیچ بھی ہیں، اور سیاست کی تعلیم بھی۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ والدین اور اولاد کے درمیا ن کس قسم کا تعلق مطلوب ہے ۔ تعلق زن وشوهر کے دوامی اصول بھی سکھائے گئے ہیں، رشتہ داروں اور قرابت داروں کے حقوق کے متعلق احکامات بھی ہیں ،  نافرمانی کرنے والوں کے لیے تہدید و وعید بھی ہے، شیطان مردود کی چالوں سے محفوظ رہنے کی تدبیریں بھی بتا ئی گئی ہیں۔ یہ خلاف قانون عمل کرنے والوں کو سزائیں تجویز کرنے والی کتاب بھی ہے۔ زندگی بعدِ موت میں آدمی کی کامیابیوں کی ضمانت کا زرین نسخہ بھی ہے ۔

یہ وہ کتاب ہے جو اپنی طرف رجوع ہونے والوں کے لیے جسم وروح کی بیماریوں کے لیے علاج ہی نہیں بلکہ  ذ ہن و دل کی پراگندگی اور اخلاق و کردارکی کمزوری کے ليے اکسیر بھی ہے۔ یہ انسان کو ایک عظیم الشان شخصیت کی حامل بنانے والی کتاب ہے، قرآن انصاف و نا انصافی ، اچھائی اور برائی میں فرق کرنے والا فرقان ہے۔

غرضیکہ یہ کتاب موجودہ زندگی کے مسائل کا حل بھی پیش کرتی ہے اور اگلی زندگی کی کامیابیوں کی ضامن بھی  ہے ۔ لا قانونیت کے شکارلوگوں کے لیے رہنما اور صحیح راستے کی طرف نشاندہی کرنے والی ہے، اندھیروں میں بھٹکتے ہوئے مسافروں کے لیے مشعل راہ بھی ہے ۔

   اے نبی صلى الله عليه وسلم  ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ جو راہ راست اللہ نے تمہیں دکھائی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو﴿ (نسائي 105)

  تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن اور ہدایت اور رحمت آگئی ہے، اب اس سے بڑھکر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑے﴿(انعام157)

  یہ پاک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بڑی خیر وبرکت والی ہے۔ اس لیے نازل کی گئی کہ اس کے ذریعے سے تم بستیوں کے اس مرکز یعنی مکہ اور اس کے اطراف کے رہنے والوں کو متنبہ کرو﴿( انعام92)

 تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آگئی ہے اور ایک ایسی حق نما کتاب جس کے ذریعہ سے اللہ تعالی ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کے طریقے بتاتا ہے اور اپنے اذن سے انکو اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لاتا ہے اور راہ راست کی طرف انکی رہنمائی کرتا ہے﴿ (مائدہ۔16)

یہ کتا ب …. رحمت ہے، اس لیے کہ گناہوں کے بوجھ تلے دبے مایوس و شکستہ دلوں کے لیے معافی کا در وا کرتی ہے ۔

یہ کتاب….بشریٰ ہے،اس لیے کہ نیکی پر چلنے والے راستباز لوگوں کے لیے دنیا اور آخرت میں خوش آئند مستقبل کی خوشخبری سناتی ہے۔

یہ کتاب….ذکریٰ ہے، اس لیے کہ بھلائی کو چھوڑ کر برائی کی طر ف راغب ہونے والے مسلمانوں کو یہ بھلائی کی یاد دہانی کراتی ہے:

اے محمد صلى الله عليه وسلم  اسی طرح ہم نے اسے قرآنِ عربی بنا کر نازل کیا ہے اور اس میں طرح طر ح سے تنبیہات کی ہیں شاید کہ یہ لوگ کج روی سے بچیں یا ان میں کچھ ہوش کے آثار اس کی بدولت پیدا ہوں﴿(طہ113)

یہ کتاب….معاشی بحران و معاشرتی دباﺅ کے تحت شدید ذہنی خلفشار میں مبتلا لوگوں کے لیے شفاء ہے۔

یہ کتاب…. اللہ اور بندوں کے درمیان رابطے کی رسی ہے جسے اللہ تبارک و تعالی نے مضبوطی سے تھامنے کو کہا ہے۔

یہ کتاب…. انسان کی ہر بیماری کو دور کرنے والی، ہر مسئلہ کو حل کرنے والی ہے ،اس عظیم الشان کتاب کی عنایت پر اللہ تعالی نے بطور شکر ماہ رمضان میں پورے مہینے کے روزے رکھنے کو فرض قرار دیا۔

بحیثیت مسلم ہم کتنے خوش نصیب ہیں جو اس نعمت عظمی کے حامل ہوے، اگر اللہ سبحانہ و تعالی کی رحمت نہ ہوتی اور ہمیں یہ قرآن عطا نہ کیا گیا ہوتا تو ہم کیسے اندھیروں میں بھٹک رہے ہوتے اور کیسی ذلت کی پستیوں میں ہوتے ، ذرا تصور کریں وہ بت پرستی کی گندگی، وہ خون ،وہ مرے ہوے جانور جنہیں بصد شوق کھایا جاتاہے۔ پانی کی جگہ شراب نوشی، اور شراب کے نشے میں دھت لوگوں کے وہ آئے دن سر بازار سرزد ہونے والے ناٹک، مہینہ بھر کی محنت کی پونجی جوے میں ہارکر خالی ہاتھ لوٹنے والے تہی دست و تہی دامن مرد ، پانسے اور کنڈلیوں میں اپنی قسمتوں کا حال تلاش کرتی عورتیں!

تھوڑا اور غور کریں !دنیا کی جن بڑی حکومتوں نے سود کے جو خوبصورت خاکے پیش کیے تھے ،انہوں نے،سود کی خود ساختہ لعنتوں میں ڈوب کر اپنی لٹیا تو ڈبو ہی لی، دنیا کو بھی اپنے ساتھ غرق کیا،مسلمان بھی اگر انکا چلن اختیار کرتے تو کیا ہوتا انکا حال ڈوب نہ جاتا انکا سفینہ حیات بھی ؟….خنزیر کے گوشت کے عادی ہو کر ٹینا سولیم او ر سوائن فلوجیسی متعدی امراض کا شکار ہوتے، محبت ، فیشن ،    اعلی تہذیب و ترقی کے نام پر ایڈز جیسی جان لیوا بیماریوں کو گلے لگاتے ۔ اللہ تعالی نے فرمایا:

 اے لوگو جو ایمان لائے ہو شراب اور جوا اور آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو ، امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی ﴿( المائدہ :90)

 تو پھر اس عظیم الشان تحفہ  الہی پر ہمیں کتنا نازاں ہونا چاہیے ، کتنا شکر ادا کرنا چاہیے اور قرآن کے ساتھ ہما را کیسا برتاﺅ ہونا چاہیے؟ ….کیاقرآن کوطوطا مینا کی طرح رٹنے، اس کو خوبصورت،جاذب نظر جزدانوں میں لپیٹ کر طاقوں میں سجائے رکھنے، پھر ماہِ رمضان کی آمد پر اسکی گرد جھاڑ کر اسے آنکھوں سے لگالینے اور سینے سے چمٹا لینے اور سال میں ایک بار ایک سے 6 دورے کرلینے سے اس کا حق ادا ہو جائے گا؟….

 بے شک قرآن کا احترا م کرنااور اسکا پڑھنا باعث اجر و ثواب ہے لیکن کیا اس نادر و نایاب کتاب کی بس اتنی اہمیت کہ ہم اسکو صرف پڑھنے کی حد تک محدود رکھیں ؟ جبکہ فرمان باری تعالی ہے:﴾یقینا یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھاہے اور ایمان والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے﴿ (الاسراء: 9)

قرآن ہمیں اس لیے عطا کیا گیاہے کہ ہم اللہ کی رضا کا راستہ جان کر خود اس پر چلیں اور دنیا کو اس پر چلائیں ۔ ورنہ اگر یہ عام کتابوں کی طرح ایک رسمی کتاب ہوتی تو اللہ تعالی اسکی شان نزول میں ہمیں بطور شکر روزے جیسے فعل پر نہ ابھارتے اور نہ اس ماہ کو ہی وہ اہمیت حاصل ہوتی۔ لہذااس ماہ میں صرف عبادات اور اخلاقی تربیت ہی نہیں بلکہ اس نعمت قرآن کی بھی صحیح اور موزوں شکر گزاری ہے۔

سیدناعلی بن ابی طا لب رضي الله عنه  کہتے ہیں :میں نے نبی صلى الله عليه وسلم  کو فرماتے ہوئے سنا:

 ” خبردار عنقریب آزمائشیں ہوں گی(فتنے اٹھیں گے)،میں نے سوال کیا:اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے اے اللہ کے رسول؟ کہا : ”( اس سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے) کتاب اللہ(کو مضبوطی سے تھامے رہنا)،اس میں تم سے اگلوں کے واقعات ہیں اور بعدمیں آنے والوں کی خبریں ہیں،وہ تمہارے درمیان حَکَم ہے اور اس کی بات قولِ فیصل ہے، مذاق نہیں ہے، جس کسی متکبرنے اسکو چھوڑا ‘اللہ اسکی کمر توڑ کر رکھ دے گا ،جو اس کتاب سے ہٹ کر دوسرا راستہ تلاش کرے گا اللہ اسے گمراہ کردے گا۔ یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے ۔ یہ ایک مکمل پر حکمت نصیحت ہے ۔ یہی سیدھا راستہ ہے اسکو مان کر چلنے سے خواہشیں نہیں بھٹکتیں، زبانیں نہیں بہکتیں (شک و شبہ والی باتیں نہیں آتیں) اس سے علماءکی تشنگی نہیں بجھتی، باربارکی تلاوت سے یہ کبھی پرانا نہیں ہوسکتا۔ اسکے عجائب کبھی ختم نہیں ہوتے۔ یہ وہ کتاب ہے جسے جنوں نے سنا تو انہیں کہتے ہی بنا” ہم نے ایک بڑا ہی عجیب قرآ ن سنا ہے جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے، اس لیے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں“۔ جس نے اسکی بات کی وہ سچ بات کی اور جس نے اس پر عمل کیا اجر پاگیا،جس نے اسکی رو سے فیصلہ سنایا اس نے انصاف کیا اور جس نے اسکی طرف دعوت دی اس نے راہ راست کی طرف رہنمائی کی اور ہاں جنہیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا کیے ہوے ہے انہیں اس قرآن کو سناکرنصیحت اورتنبیہ کرتے رہوکہ کہیں کوئی شخص اپنے کئے کرتوتوں کے وبال میں گرفتار نہ ہوجاے“۔

  

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*