رمضان کا استقبال کیسے کریں ؟

صفات عالم تیمی (کویت)

 چند دنوں کے بعد ہمارے سروں پرنہایت عظیم الشان مہینہ سایہ فگن ہونے والاہے ، جس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں،جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں،سرکش شیاطین جکڑدئیے جاتے ہیں، نیکیوں کا اجروثواب بڑھادیاجاتاہے، جس کی ہررات اعلان ہوتا ہے”اے خیر کے متلاشی !آگے بڑھ اور اے شرکے طلبگار ! پیچھے ہٹ“۔ جس کی ایک رات ہزار مہینوں سے افضل ہے ، جواس کے خیرسے محروم رہا وہ واقعی محروم ہے ۔ روزہ ، تلاوت ِقرآن، صدقات وخیرات ، قیام اوردعا واستغفار پرمشتمل نیکیوں کے اس موسم بہار کی آمد آمد ہے۔

جب ہمارے گھروںمیں کسی ہردلعزیز مہمان کی آمد ہوتی ہے تواپنے گھروں کوسجاتے ہیں،اس کی زینت وزیبائش کرتے ہیں،چہرے پر خوشیاں مچل رہی ہوتی ہیں،دل باغ باغ ہوتاہے اورمہمان کے لیے اپنی آنکھیں فرش راہ کیے ہوتے ہیں۔ کیارمضان کی آمد پر ہم اپنے دل میں یہ کیفیت پارہے ہیں؟….

اللہ والے رمضان المبارک کاچھ مہینہ پہلے سے انتظار کرتے تھے ، مشہور تابعی معلی بن فضل  رمضان المبارک کے بارے میں صحابہ کرام کے اشتیاق کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ چھ ماہ پہلے سے یہ دعا کرتے تھے کہ ”اے اللہ ! ہمیں ماہِ رمضان کی سعادت نصیب فرما“ ۔ پھر جب رمضان کا مہینہ گذرجاتا تو بقیہ چھ ماہ دعا کرتے ”اے اللہ!جن اعمال کی تونے توفیق دی وہ قبول بھی فرمالے “۔

کتنے لوگ جو گذشتہ سال ہمارے ساتھ روزے میں شریک تھے آج قبرمیں مدفون ہیں،کتنے چہرے جنہیں ہم نے گذشتہ سال رمضان میں صحیح سلامت دیکھاتھا‘آج بسترِ مرگ پر پڑے موت وحیات کے بیچ ہچکولے کھارہے ہیں ۔ کیاخبرکہ آنے والا رمضان ہماری زندگی کا آخری رمضان ہو ، اس لیے آنے والے مہینے کا خیروخوبی سے استقبال کریں،ہمارے اوپر طلوع ہونے والارمضان کا چاند خیروبرکت کاچاند ہو،اسے دیکھ کر ہمارا دل جذبہ اشتیاق سے امڈ آئے، ہماری زبان گویاہو: اللھم ا ھلہ علینا بالا من والایمان والسلامة والاسلام ربی وربک اللہ ”اے اللہ! تو یہ چاند ہم پر امن وایمان اورسلامتی واسلام کے ساتھ طلوع کرنا،اے چاند میرا اورتیرا رب اللہ ہے “۔

٭ماہ مبارک کی آمد سے پہلے اس کے مقام ،اس کی عظمت، اس کی فضیلت،اس کے مقصد اوراس کے پیغام کو اپنے ذہن میں تازہ کریں تاکہ اس کی برکات سے بھرپور فائدہ اٹھاسکیں اوراس بات کا پختہ ارادہ کریں کہ ہم اس ماہ مبارک میں اپنے اندر تقوی کی صفت پیدا کرنے کی کوشش کریں گے جو روزہ کا ماحصل ہے ۔

٭ان معمولات کی تحدید کرلیںجو حقوق اللہ سے متعلق ہیں ،ان معمولات کی بھی تحدید کرلیں جو حقوق العباد سے متعلق ہیں،پھر ان معمولات کی بھی فہرست بنالیں جنہیں رمضان المبارک میں ادا کرنے ہیں، اگرآپ کے ساتھ ڈیوٹی کے تقاضے ہیںاورعبادت کے لیے خودکوبالکلیہ فارغ نہیں کرسکتے تو پھر یہ دیکھیں کہ کن کن کاموں کورمضان کی خاطر چھوڑ سکتے ہیں اور کن کن مصروفیات کو مو خرکر سکتے ہیں۔

 ٭اس ماہ مبارک میں ہم اپنی زندگی ،صحت اورجوانی میں فرصت کو غنیمت جانیں،اپنے سارے گناہوں سے سچی توبہ کریں،واجبات ومستحبات کی ادائیگی اورمنہیات ومکروہات سے اجتناب کرنے کا خود کو عادی بنائیں۔

٭ پنجوقتہ نمازوںبالخصوص نمازِفجر کی باجماعت ادائیگی کو اپنے اوپر لازم کرلیں۔جن پر زکاة اورحج فرض ہے اور اس کی ادائیگی میں غفلت برت رہے ہیں،وہ یہ فیصلہ کریں کہ پہلی فرصت میںحج اداکریں گے اور اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے غریبوں اورمسکینوں کا حق ادا کریں گے ۔

٭جولوگ محرمات کا ارتکاب کرکے اللہ کی غیرت کو چیلنج کررہے ہیں،بدکاری،شراب نوشی،ناجائزکاروبار،سودی لین دین جیسے جرائم میں ملوث ہیں وہ توبہ کرکے عزم کریں کہ وہ ان جرائم سے بالکل دورہوجائیں گے اورپھر عمربھر ان کے قریب نہ ہوں گے ۔

٭قرآن کریم کی تلاوت کا ایک چارٹ بنائیں،ہرفرض نماز کے بعد چند آیات کی تلاوت مع ترجمہ کا معمول بنالیں کہ آنے والا مہینہ قرآن کا مہینہ ہے جس کے لیے ابھی سے تیاری کرنی ہے ۔

٭معتبرکتابوں اورکیسٹس کی مدد سے روزہ کے احکام ومسائل کی جانکاری حاصل کرلیں ۔

٭معاشرتی روابط اورحقوق پر خاص طورسے دھیان دیں ،کسی کا کوئی قرض یا دعوی ہے تو اسے فوراً چکادیں اور معاملے کا تصفیہ کرلیں،بروزقیامت وہ شخص بڑا بدنصیب اور مفلس ہوگا جو نماز روزے اور زکاة کے ساتھ آئے گا لیکن اس کے اوپر لوگوں کی طرف سے دعوو ں کا ایک انبار ہوگا ،کسی کو مارا ہوگا، کسی کو گالی دی ہوگی،کسی کی بے عزتی کی ہوگی،لہذا اس کی ایک ایک نیکیاں لے لے کر دعویداروں کو دے دی جائیں گی ،جب اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی اوردعویدار باقی رہ جائیں گے تو دعویداروں کے گناہ ان کے سروں پر تھوپ دئیے جائیں گے پھر انہیں جہنم رسید کردیاجائے گا ۔

اس لیے رمضان کی آمد سے قبل معاشرتی روابط کو مستحکم کرلیں،اوریہ عزم مصمم کرلیں کہ آپ اپنی زبان کی حفاظت کریں گے ،گالي گلوچ ،بدکلامی اورچغل خوری سے دور رہیں گے ،نیکی اور بھلائی کے کاموں میں پیش پیش رہیں گے اورکسی انسان کو ایذا نہ پہنچائیں گے ۔

٭رات کے سہہ پہر میں قیام اللیل کی عادت ڈالیں، کیونکہ یہ رات کا وہ حصہ ہے جس میں اللہ تعالی سمائے دنیا پر (اپنے شایانِ شان) نزول فرماکر اعلان کرتے ہیں: ”ہے کوئی دعا کرنے والا کہ ہم اس کی دعا قبول کریں ،ہے کوئی سوال کرنے والا کہ ہم اس کے سوال کو پورا کریں، ہے کوئی اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرنے والا کہ ہم اس کے گناہوں کو معاف کردیں ۔ “ (بخاری ومسلم)۔

 واقعہ یہ ہے کہ شب دیجورمیں اللہ کے خوف سے آنسوو ں کا ٹپکنااوربدن پر لرزہ طاری ہوجاناایک طرف خوشنودی رب کا بہترین ذریعہ ہے تو دوسری طرف کمال شخصیت کا راز بھی ہے ،آہ سحرگاہی کے بغیر نہ کبھی شخصیتیں بنی ہیںنہ بنیں گی، علامہ اقبال نے کہاتھا 

عطار ہو،رومی ہو،رازی ہو،غزالی ہو     

کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحرگاہی

٭اس ماہ مبارک میں اپنے سلوک او رکردار پر دھیان دیں،اپنے آپ کو حسن اخلاق کا پیکر بنائیں، رذائل اخلاق سے دوری اختیار کریں،اخلاق وآداب پر مشتمل کتابوں کا مطالعہ کریں اوراچھے اخلاق کے حامل لوگوں کے پاس بیٹھ کر ان کی خوبیاں اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں۔

٭اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا عادی بنائیں کہ رمضان مواسات وغم خواری کا مہینہ ہے ،ہمارے حبیب صلى الله عليه وسلم  یوںبھی سخی تھے تاہم رمضان المبارک میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ا ورفیاض بن جاتے تھے۔ اس لیے اللہ پاک نے جس قدربھی دے رکھا ہے اس میں سے غرباءومساکین کے لیے ضرور نکالیں، اورحسب استطاعت  روزہ داروں کو افطار بھی کرائیں کہ اس کا اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا خود روزہ رکھنے کا (ترمذی ) ۔

٭اس ماہ مبارک میں دعوت الی اللہ کے لیے خود کو تیار کریں،اس مقصد کے لیے ممکنہ وسائل کو کام میں لائیں،کیونکہ اس ماہ مبارک میں انسانی طبیعت میں فطری طور پر قبول حق کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے ،جن غیرمسلموں سے آپ متعارف ہیں کم ازکم ان تک اسلام کا پیغام ضرورپہنچائیں،انہیں تعارف اسلام پر مبنی دعوتی لٹریچرز لاکر دیں،اوراپنے بھائیوں اور نیزاہل خانہ کی اصلاح اور ان کی روحانی تربیت کی طرف پوری توجہ مبذول کریں ۔

اوریہ جذبہ پیدا کرنے کے لیے بہت مفیدہوگا کہ رمضان کی آمد سے پہلے ایک دن تنہائی میں یکسوئی کے ساتھ بیٹھ کر اپنے نفس کا محاسبہ کریں،کہ ہم نے سال بھر کیا کھویا اور کیاپایا،اس دن کو یاد کریں جس دن اچانک موت کا فرشتہ بے دردی کے ساتھ روح نکال لے گا،لوگ غسل دیں گے ، کفن پہنائیں گے، تنگ وتاریک گھروندے میں اتار دیں گے،منوں مٹی تلے دبادیں گے، وہاں دردناک اژدہے نکلیں گے،وہاں جہنم کی دہکتی ہوئی آگ ہوگی ، لاکھ چلائیں،آہیں بھریں، رحمت کے طلبگار ہوں لیکن کوئی سننے والا نہ ہوگا۔ یہ احساس خود میں پیدا کرکے روئیں، گڑگڑائیں ، پھرنئے عزم وحوصلہ کے ساتھ اپنے رب کی مرضیات کے لیے کمرکس لیں اور اللہ تعالی سے دعا بھی کریں کہ وہ ہمیں برکات رمضان کو سمیٹنے کی توفیق دے۔

٭ رمضان کے فیوض وبرکات سے خاطرخواہ مستفید ہونے کے لیے چوبیس گھنٹے کے اوقات کا ایک چارٹ بنالیں تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت اللہ کی عبادت میں صرف ہو اور اسے پورے نظم وضبط اور پابندی سے بجالانے کی کوشش کریں۔ ذیل کے سطورمیں ایک مختصر چارٹ پیش خدمت ہے :

 تکبیرات احرام کی محافظت ۔(150بار)

دلیل : ”جس نے تکبیراولی کے ساتھ چالیس دن تک باجماعت نماز ادا کی اس کے لیے دو براءت لکھ دی جاتی ہے،جہنم سے براءت اور نفاق سے براءت“ (ترمذی)

  ختم قرآن کریم (کم ازکم دو مرتبہ)

دلیل :”قرآن پڑھاکرو کہ یہ اپنے پڑھنے والے کے لیے بروزقیامت سفارش بن کرآئے گا “۔ (مسلم)

  نمازتراویح کی محافظت (29دن )

دلیل :”جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے گذشتہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں “ ۔(بخاری ومسلم)

  صلہ رحمی کا اہتمام ،رشتے داروں کی زیارت اور ان سے رابطہ(کم ازکم ہفتہ میں ایک دن )

دلیل : ”رحم عرش سے لٹکاہواہے ،اورکہتا ہے : جس نے مجھے ملایااللہ اسے ملائے اور جس نے مجھے کاٹا اللہ اسے کاٹے “ ۔(مسلم)

 صدقات وخیرات (کم ازکم ہفتہ میں ایک بار)

دلیل :”اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم  نہایت سخی اور فیاض تھے اور رمضان میں آپ کی سخاوت وفیاضی مزید بڑھ جاتی تھی “         (بخاری)

 روزے دار کو افطار کرانا (روزانہ )

دلیل :”جس نے روزے دار کو افطار کرایا اسے روزے دار کے برابر ثواب ملتا ہے اورروزے دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جاتی “۔ (ترمذی )

 جنازے کی نماز میں شرکت (کم ازکم ایک بار)

دلیل :“ جوشخص کسی جنازے پر نماز پڑھے اسکو ایک قیراط ملے گا ،اور جو اس کے پیچھے جائے، یہاں تک کہ اس کی تدفین مکمل ہوجائے تو اسکو دو قیراط ملیں گے جن میں سے ایک قیراط ا  حد پہاڑ کے برابر ہو گا “( ترمذی)

 عمرہ کی ادائیگی (ایک بار)

دلیل :”رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے یا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے “(بخاری )

  ہفتہ میں ایک اسلامی کیسٹ سننا (4 کیسٹس )

 دینی کتابوں کا مطالعہ (روزانہ آدھا گھنٹہ )

  دعوت کے کام میں شرکت اورکم ازکم ایک شخص کی ہدایت کی فکرمند ی۔

دلیل :”اگر اللہ تعالی تیرے ذریعہ ایک شخص کو  راہِ راست پر لادے تو تمہارے لیے (عرب کے ) سرخ اونٹ سے بہتر ہے “۔(مسلم)

 نمازفجرکے بعد مسجدمیں اعتکاف اور طلوع آفتاب کے بعد دو رکعت کی ادائیگی ( کم ازکم چار بار )

دلیل : ”جس شخص نے نماز فجر باجماعت ادا کی،پھر اپنی جگہ بیٹھا ذکر میں لگارہا،یہاںتک کہ آفتاب طلوع ہوگیا ، پھر دو رکعت نماز پڑھی تو اسے ایک حج اور ایک عمرہ کا مکمل ثواب ملتا ہے “۔(ترمذی)

  نماز وتر کی محافظت (30بار)

دلیل : ابوہریرہ رضي الله عنه  کہتے ہیں : نبی صلى الله عليه وسلم  نے مجھے سونے سے قبل وترپڑھ لینے کی وصیت کی “(ترمذی )

 پنجوقتہ نمازوں کے بعد ذکر کا اہتمام (150بار)

دلیل : اللہ تعالی نے فرمایا: ”بکثرت اللہ کا ذکرکرنے والے اورذکر کرنے والیاں ا ن(سب )کے لیے اللہ تعالی نے (وسیع) مغفرت اوربڑا ثواب تیار کررکھاہے “۔        (احزاب 35)

 روزانہ دعا کا اہتمام ( 30بار)

دلیل :اللہ تعالی نے فرمایا: ”مجھ سے دعاکرو،میں تمہاری دعاوں کو قبول کروں گا“ (سورہ المو من 60)

 زکاة کی ادائیگی (ایک بار)

دلیل :”اورنمازکو قائم کرو، اورزکاة دو اوررکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو“۔(سورہ البقرة 43)

 شب بیداری (9 راتیں )

دلیل :”جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے گذشتہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں “(بخاری ومسلم)

 عشرہ  اواخرمیں اعتکاف (10دن )

دلیل :”اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم  رمضان کے عشرہ  اواخر کا اعتکاف کیا کرتے تھے“ ۔(بخاری)

 شب قدرکی تلاش (5 راتیں )

دلیل :”رمضان کے عشرہ اواخرکی طاق راتوںمیں شب قدر  تلاش کرو“۔(بخاری)

  زکاة الفطرکی ادائیگی (ایک بار)

دلیل : ابن عمر کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم  نے زکاة الفطر فر ض کیا….(بخاری ومسلم)

(مذکورہ چارٹ ماہنامہ مصباح کے نگراں خالد عبداللہ السبع کے پمفلٹ خطتی فی رمضان کی ترجمانی ہے )

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*