رمضان المبارک کے فضائل اور مسائل

مولانا محمدانور محمد قاسم سلفی(کویت )

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ،اس ماہ مبارک کے فیوض وبرکات سے کماحقہ استفادہ کرنے کے لیے رمضان المبارک کے فضائل ومسائل کی جانکاری نہایت ناگزیرہے،اسی اہمیت کے پیش نظر رمضان اورروزے کے متعلقہ احکام ومسائل پرمشتمل یہ مضمون پیش خدمت ہے :

 فضائل رمضان المبارک

 رمضان المبارک کے بے شمار فضائل ہیں :

 اسی ماہ مبارک میں قرآن مجید لوح محفوظ سے آسمانِ دنیا پر نازل کیا گیا ۔ رب العالمین کا فرمان ہے :

 ”رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ، جو لوگوں کے لیے باعث ہدایت اور حق وباطل میں فرق کرنے والا ہے“ ۔ (البقرة :185)

 اسی ماہ مبارک میں جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ رسول اکرم صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے :

”جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اسی وقت سے ہی شےطانوں اور سرکش جنات کو زنجیروں میں جکڑ ديا جاتا ہے اور جہنم کے تمام دروازے بند کردئے جاتے ہيں ،ان میں سے کوئی بھی دروازہ کھولا نہيں جاتا اور جنت کے تمام دروازے کھول دئے جاتے ہيں جو پورا مہےنہ بند نہيں کئے جاتے ۔ ہر رات ايک پکارنے والا پکارتا ہے :اے نيکی کرنے والے آگے بڑھ،اور اے برائی کرنے والے باز آجا ۔ اور اﷲ تعالیٰ رمضان المبارک کی ہررات مےں لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتے ہےں“ ۔ ( ترمذی )

 رمضان المبارک کے لیے ہی اﷲ تعالیٰ جنت کو سال بھر سنوارتے ہیں۔

 اسی مہینے میں لیلة القدر ہے جس کی عبادت ہزار مہینوں( 83سال اور چار ماہ ) کی عبادت سے افضل ہے ۔ ارشاد ربانی ہے :

 ” لیلة القدر ہزار مہینے سے بہتر ہے ، اس میں فرشتے روح القدس کی معیت میں بحکم الٰہی اترتے ہیں ، یہ رات طلوعِ فجر تک سلامتی سے بھر پور ہوتی ہے “۔ ( قدر :3۔5)

اس ماہ مبارک مےں عمرہ کرنے سے حج کا ثواب ملتا ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس صسے مروی ہے کہ نبی  صلى الله عليه وسلم نے فرمايا:”رمضان ميں عمرہ کرنے کا ثواب حج کے برابر ہے “۔ (متفق علےہ)

ایک اور روایت میں ہے کہ رمضان المبارک میں عمرہ کرنے سے اﷲ تعالیٰ رسول اکرم اکے ساتھ حج کرنے کا ثواب عطا کرتے ہیں۔ ( بخاری )

اس ماہ مبارک میں ایمان اور اخلاص ( اﷲ کی رضا اور خوشنودی کےلئے )روزہ رکھنے ، اس ماہ میں رات میں عبادت کرنے اور لیلة القدر کی عبادت سے اﷲ تعالیٰ تمام گذشتہ گناہوں کی مغفرت فرمادیتے ہیں ( بخاری )

اس ماہ مبارک میں رسول اکرم اکی عطا وبخشش اور صدقہ وخیرات سال کے دیگر مہینوں کے مقابلے میں کئی درجہ بڑھ جاتی ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ا فرماتے ہیں :

” رسول اکرم ا تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مخیر تھے ، لیکن آپ ا کا جذبہ سخاوت اس وقت اور بڑھ جاتا جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا ، اور آپ ا سے حضرت جبریل ںملاقات کرتے اور آپ اکے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتے، جس وقت حضرت جبریل ںرسول اکرم اسے ملتے تو آپ اچلنے والی ہواؤں سے کہیں زیادہ فیاض ہوجاتے “۔ (متفق علیہ )

 فرضیت روزہ

 اس ماہ مبارک کے روزے اﷲ تعالیٰ نے امت محمدیہ  پر شعبان  ۲ ھ میں فرض کئے ہیں ۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے : ” اے اےمان والو !تم پر بھی روزے اسی طرح فرض کئے گئے ہےں جےسا کہ تم سے اگلی امتوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقوی حاصل کرسکو“۔(البقرة :183)

حضرت عبداﷲبن عمرص سے رواےت ہے کہ رسول اﷲ ا نے فرماےا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔  ۱۔ گواہی دینا کہ اﷲ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور بے شک حضرت محمد ا اﷲ کے رسول ہیں ۔ ۲۔ نماز قائم کرنا ۳۔زکاة ادا کرنا ۔ ۴۔ رمضان المبارک کے روزے رکھنا ۔ ۵۔ بیت اﷲ کا حج کرنا۔“( متفق علیہ )

اور ساری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ روزے کی فرضیت کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔

روزہ کن پر فرض ہے ؟

روزہ کی فرضیت کے لیے پانچ شرائط ہیں ، اگر ان میں کوئی ایک نہ پائی جائے تو روزہ فرض نہیں ہے ۔

 اسلام : مسلمان پر روزہ فرض ہے غیر مسلم پر فرض نہیں ، اگر کوئی غیر مسلم روزہ بھی رکھ لے ، جیسا کہ بر صغیر ہند وپاک میں کچھ غیر مسلم بھی ماہ رمضان کے احترام میں روزہ رکھتے ہیں ، انہیں روزے کا ثواب نہیں ملے گا ۔

عقل: عاقل اور صاحب ہوش وحواس شخص پر روزہ فرض ہے ، مجنون ، دیوانہ ، پاگل ، بے ہوش وحواس شخص پر روزہ فرض نہیں ہے ۔

بلوغت : لڑکا ہو یا لڑکی، بالغ ہونے سے پہلے اس پر روزہ فرض نہیں ہے ۔ لیکن بچوں کو عادت ڈالنے کے لیے روزہ رکھوانا چاہئے ۔

حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں :

 ”ہم خود روزہ رکھتیں اور اپنے چھوٹے بچوں تک کو روزہ رکھواتی تھیں ۔“ ( بخاری ) جب وہ بھوک سے رونے لگتے تو ان کا دل بہلانے کے لیے ان کے سامنے روئی سے بنے ہوئے کھلونے ڈال دیتیں ، یہاں تک کہ افطار کا وقت ہوجاتا ( مسلم ) حضرت عمر ص کے زمانے میں ایک ایسا شخص لایا گیا جس نے رمضان المبارک میں  شراب نوشی کی تھی ، آپ نے اس پر حد جاری کی اور فرمایا : تجھ پر افسوس ! تو نے اس مقدس و مبارک مہینے کے دن میں شراب پی رکھی ہے جب کہ میرے گھر کا ایک ایک بچہ بچہ روزہ رکھے ہوئے ہے ۔

اس لیے والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کو ترغیب دلائیں تاکہ وہ روزہ کے عادی بن جائیں ۔ بچوں کے روزوں کا ثواب والدین کوملے گا ۔

صحت اور قدرت : انسان کے جسم میں اس قدر قوت ہوکہ وہ بھوک وپیاس کو برداشت کرے ۔ اگر کوئی شخص بیمار ، یا کمزور ہونے کی وجہ سے اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ روزہ رکھے ، تو ایسے شخص پر روزہ فرض نہیں ہے ۔

اقامت :آدمی مقیم ہو ، مقیم پر روزے فرض ہیں ،  حالت سفر میں روزہ فرض نہیں ہے ، اگر کوئی شخص رکھنا چاہے تو جائز ہے ۔

جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے

جان بوجھ کر کھانے پینے سے : اگر کوئی شخص بھول کر کھالے یا پی لے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔ رسول اکرم ا کا فرمان ہے : ” جس نے حالت روزہ میں بھول کر کچھ کھا پی لیا تو اسے چاہئے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرے ، کیونکہ اسے اﷲ تعالیٰ نے ہی کھلایا اور پلایا ہے ۔“         ( متفق علیہ )

عمداً قئے کرنے سے : اگر کسی شخص کو خود بخود قئے آگئی تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔ فرمان رسول اہے : ”جس نے قئے کی اسے اس روزہ کی قضا دینی ہوگی ، جسے خود بخود قئے آگئی اس پر کوئی قضا نہیں ہے ۔“( ترمذی )

عورت کے لیے حیض یا نفاس کا آجانا : چاہے غروب آفتاب سے چند لمحوں پہلے ہی کیوں نہ ہو ۔

دن میں بیوی سے ہم بستری کرلینا: بیوی سے  ہم بستری کرنے سے نہ صرف روزہ ٹوٹ جاتا ہے بلکہ کفارہ بھی لازم آجاتا ہے اور وہ یہ ہے:

 ۱) غلام آزاد کرنا ۔ ( یہ دور تو گذر چکا ہے )

 ۲) ساٹھ دن کے مسلسل روزے رکھنا ، اس طرح کہ اگر درمیان میں ایک بھی رہ جائے تو پھر شروع سے ساٹھ روزے رکھے جائیں ۔اگر کوئی شخص اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا تو پھر وہ اﷲ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کرے ۔

اس طرح کا ایک واقعہ رسول اکرم ا کے زمانہ مبارک میں پیش آیا کہ ایک شخص خدمت نبوی میں حاضر کرکہنے لگا : اے اﷲ کے رسول ا! میں تو برباد ہوگیا ۔ آپ انے اس سے پوچھا کہ تمہیں کس چیز نے برباد کیا ؟ اس نے کہا : میں نے حالت رمضان میں حالت روزہ میں اپنی بیوی سے قربت کرلی ۔ آپ ا نے اس سے پوچھا : کیا تم ایک غلام آزاد کرسکتے ہو ؟ اس نے کہا نہیں ۔ پھر سوال کیا : کیا مسلسل چھ ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو ؟ اس نے کہا :یہ بھی نہیں ہوسکتا ۔ پھر فرمایا : کیا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانے کی استطاعت ہے ؟ اس نے کہا : اس کی بھی استطاعت نہیں ہے ۔آپ انے فرمایا :تم کچھ دیر بیٹھو ۔ اتنے میں ایک صحابی کھجوروں سے بھری ہوئی ٹوکری لے کر آئے ، آپ ا نے اس شخص کو یاد فرمایا ، جب وہ حاضر ہوا تو آپ ا نے وہ کھجور سے بھری ہوئی ٹوکری اسے دیتے ہوئے فرمایا : جاؤ تم ان کھجوروں کو اپنی جانب سے صدقہ کردو ۔ اس شخص نے کہا : ” یا رسول اﷲا ! مدینے کے ان دونوں ٹیلوں کے درمیان مجھ سے بڑا محتاج اور کوئی نہیں ہے“۔ آپ ا ہنس پڑے اور فرمایا : ” جاؤ ، انہیں خود کھاؤ اور بچوں کو کھلاؤ ، یہی تمہاری جانب سے صدقہ ہے “۔ ( بخاری )

 حالت بیداری میں اپنے قصد وارادے اور شہوت سے مادہ منویہ خارج کرنے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔ اگر کسی شخص سے اس کے قصد وارادے اور شہوت کے بغیر منی خارج ہوجاتی ہے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔

 بے ہوشی طاری ہونے سے ۔

 روزہ کی نیت ختم کردینے سے ،اس لیے کہ تمام اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے ( بخاری )

جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا

مسواک ، ٹوتھ پیسٹ اور برش کا استعمال ۔ فرمان نبوی ہے :” مسواک کرنے سے منہ صاف ہوتا ہے اور رب خوش ہوتا ہے“۔ ( نسائی )

جنبی ہوکر سحری کھانا ۔ بحالت جنابت اگر کسی شخص کی آنکھ دیر سے کھلی ، اگر وہ غسل کرنے لگا تو خدشہ ہے کہ سحری کا وقت نکل جائے گا تو وضو کرکے سحری کھالے اور پھر غسل کرے ۔

بحالت روزہ احتلام ہوجانا ۔ اگر اس طرح کے حالات واقع ہوجائیں تو فورًا غسل کرلیا جائے ۔

غسل کرنا ، نہانا ۔

خوشبو لگانا

سر میں تیل ڈالنا ۔

آنکھ میں سرمہ لگانا ۔

آنکھ یا ناک میں دوا ڈالنا ۔

بعض علماءکے نزدیک منہ میں بخاخ ( سپرے ) کا استعمال کرنا ۔

 دوا کا انجکشن لگانا ۔ یاد رہے کہ غذائیت کے انجکشن ، یا گلوکوز وغیرہ کا استعمال بحالت روزہ ناجائز ہیں ، اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔

بلڈ ٹیسٹ کے لیے خون دینا ۔

دانت اکھاڑنا   ( بشرطیکہ خون منہ کے اندر نہ جائے )

ہانڈی چکھنا  ( بشرطیکہ اس کے ذرات حلق کے اندر نہ جائیں )

ناک منہ یا دانت وغیرہ سے خون کا نکلنا ۔

جن امور سے احتیاط کرنا چاہئے

جھوٹ۔ و  غیبت ۔و  فحش لٹریچر کا مطالعہ ۔ و  ٹی وی پر فحش پروگرام دیکھنا ۔ و فلمی گانے گانا اور سننا و بیوی کے ساتھ لیٹنا۔ و تاش اورشطرنج وغیرہ کھیلنا۔و ملازمین پر سختی کرنا ۔ وغیرہ ۔  

 ان سے روزہ تو نہیں ٹوٹتا لیکن روزے کے اجر وثواب میں کمی ضرور واقع ہوجاتی ہے ۔

جن لوگوں کے لیے رخصت ہے

بیمار ۔و مسافر ۔و  حاملہ ۔و مرضعہ ( دودھ پلانے والی ) یہ تمام آئندہ سال رمضان تک اپنے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاءکریں گے ۔ 

شیخ فانی ۔ بوڑھے شخص اور بیمار کے شفا یاب ہونے کی امید نہیں تو ان کی جانب سے فدیہ دیناپڑے گا اور وہ یہ کہ ایک ساتھ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے ، یا ہرروزے کے بدلے کسی مسکین کو صبح اور شام دو وقت کاکھانا کھلایا جائے ۔

 فضائل روزہ

حضرت ابوہریرہ ص سے روایت ہے کہ نبی اکرم انے فرماےا: “آدمی کے ہر نیک عمل کا ثواب کئی گنا زیادہ کردیا جاتا ہے ، ایک نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھادی جاتی ہے سوائے روزے کے ۔ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ خالص میرے لیے ہے اور مجھے ہی معلوم ہے کہ اس کا کتنا اجر وثواب عطا کروں گا “۔ ( متفق علیہ )

حضرت سہل بن سعد رضى الله عنه سے مروی ہے کہ نبی اکرم  صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :”جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے ایک دروازے کا نام ریان ہے جس سے صرف روزے دار ہی داخل ہوں گے ۔“( متفق علیہ )

 روزہ گناہوں سے بچنے کےلئے ڈھال ہے ، اس سے انسان شہوانی خیالات اور گناہوں کے ارتکاب سے محفوظ ہوجاتا ہے ۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضى الله عنه  سے روا یت ہے کہ رسول اﷲ انے ارشاد فرمایا :

”اے نوجوانوں کی جماعت : جو شخص شادی کرنے کی استطاعت رکھتا ہے اسے چاہیے کہ شادی کرلے کیونکہ شادی سے نگاہ نیچی رہتی ہے اور شرم گاہ محفوظ ہوجاتی ہے۔ اور جس میں شادی کرنے کی استطاعت نہ ہو اسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھے ۔ روزے اس کےلئے گناہوں کے مقابلے میں ڈھال ہیں۔“  ( متفق علیہ )

روزہ قیامت کے دن روزہ دار کے حق میں اﷲ تعالیٰ سے سفارش کرے گا ۔ حضرت عبد اﷲ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :”روزہ اور قرآن قیامت کے دن انسان کی شفاعت کریں گے ۔ روزہ کہے گا :اے میرے رب ! میں نے اسے دن کے وقت کھانے پےنے اور نفسانی خواہشات سے روکے رکھا ، لہٰذا اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما ۔ اور قرآن کہے گا : اے میرے رب ! میں نے اسے رات بھر بیدار رکھا ، لہٰذا اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما ۔پھر ان دونوں کی شفاعت قبول کرلی جائے گی“ ۔( احمد ، حاکم ، بیہقی )

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*