آئينه رسالت

مولاناصفی الرحمن مبارکپوری رحمه الله

محبوب جہاں بننے کا گر

عن سھل بن سعد رضي الله عنه  قال: جاء رجل الی النبی صلى الله عليه وسلم  فقال: یارسول اللہ دُلنی علی عمل اذا عملتہ ا حبنی اللہ ، وا حبنی الناس ؛فقال: ازھد فی الدنیا ، یحبک اللہ ، وازھد فیماعندالناس، یحبک الناس (رواہ ابن ماجہ :حسن )

ترجمہ: حضرت سہل بن سعدرضي الله عنه سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلى الله عليه وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کیا :اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جب میںوہ عمل کروں تو اللہ مجھے اپنا محبوب بنالے اورلوگ بھی مجھ سے محبت کریں۔ آپ صلى الله عليه وسلم  نے اس کے جواب میں فرمایا:”دنیاسے بے نیاز وبے رغبت ہوجا اللہ تجھے محبوب رکھے گا اورلوگوں کے پاس جوکچھ ہے اس سے بھی بے نیاز ہوجا لوگ بھی تجھے محبوب رکھیں گے اورپسند کریں گے ۔“

حاصل کلام: اس حدیث میں محبوب جہاں بننے کا گر بتلایا گیا ہے کہ انسان دنیا اوراہل دنیا سے بے نیاز ہوکر بس اللہ تعالی ہی کا ہوجائے اوردنیاکی طمع اورلالچ میں نہ پڑے ۔

ساتھی کونظرانداز کرکے سرگوشی ممنوع ہے

 عن ابن مسعودرضي الله عنه  قال: قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم :اذا کنتم ثلاثة فلایتناج اثنان دون الآخر،حتی تختلطوا بالناس، من أجل أن ذلک یحزنہ (متفق علیہ )

ترجمہ: حضرت ابن مسعود رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  نے فرمایاکہ : ”جب تم تین ہوتو دو آدمی تیسرے کو الگ کرکے سرگوشی نہ کریں،تاوقتیکہ وہ لوگوں کے ساتھ مل جل نہ جائیں کیونکہ اس طرح یہ چیز اسے غمگین اور رنجیدہ خاطر کرتی ہے “۔ (بخاری ومسلم )

حاصل کلام:اس حدیث میں ساتھی کو نظر انداز کرکے کاناپھوسی اورسرگوشی کو ممنوع قرار دیاگیا ہے جس سے انسانی جذبات واحساسات کااحترام ملحوظ رکھنے کاسبق ملتا ہے کہ ایسا کام انجام نہ دیاجائے جس سے دوسرے کوتکلیف ہوتی ہو اوراسے یہ خیال گزرے کہ یہ مجھے اپنانہیں بلکہ غیرتصور کرتے ہیں یا اسے کھٹکا اوراندیشہ پیدا ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں میرے خلاف ساز باز کررہے ہیں۔ اس سے دوسرے کے جذبات واحساسات کوٹھیس پہنچتی ہے ۔ اس لیے جماعتی زندگی میں کاناپھوسی اورسرگوشی کرنا منع فرمایاگیا ہے ۔

لایعنی سے پرہیز

عن ابی ھریرة رضي الله عنه  قال:قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  :من حسن اسلام المرءترکہ مالایعنیہ (رواہ الترمذی وقال:حسن)

ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا‘لایعنی چیزوں کوچھوڑ دینااس کے اسلام کے اچھا ہونے کی دلیل ہے ۔“(ترمذی )

حاصل کلام:اس حدیث کو نبی صلى الله عليه وسلم کے ارشادات میں جوامع الکلم کی حیثیت حاصل ہے ۔ دنیامیں انسان کا مقصدِ حیات اللہ تعالی کی عبادت ہے ۔ایک مومن صادق کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ بے مقصد اوربے فائدہ کا کام سرانجام نہ دے ۔وہ یہاں وقت کاٹنے کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی عبادت اوررضا جوئی حاصل کرنے کے لیے آیاہے۔ اس لیے جواعمال مقصدحیات کے منافی ‘اصلاحِ دین کے مخالف ہیں وہ سب بیکار اورلایعنی ہیں ۔ مالک کا سچا غلام ان کاموں میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتا جومالک کو ناپسند اور اس کی رضاکے منافی ہوں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*