گھروں میں داخل ہونے کے آداب

حافظ صلاح الدین یوسف

  یَا ا َیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَد خُلُوا بُیُوتاً غَیرَ بُیُوتِکُم  حَتَّی تَستَا نِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَی ا َہلِہَا ذَلِکُم  خَیر  لَّکُم  لَعَلَّکُم  تَذَکَّرُونَ ، فَاِن لَّم  تَجِدُوا فِیہَا ا َحَداً فَلَا   تَد خُلُوہَا حَتَّی یُؤذَنَ لَکُم  وَ  اِن قِیلَ لَکُمُ ار جِعُوا فَار جِعُوا ہُوَ ا َز کَی لَکُم  وَاللَّہُ بِمَا تَعمَلُونَ عَلِیم َ ﴿(سورة النور27۔29)

ترجمہ:”اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروںمیں نہ جاو جب تک کہ اجازت نہ لے لو اوروہاں کے رہنے والوں کو سلام کرلو، یہی تمہارے لیے سراسر بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ اگروہاں تمہیں کوئی بھی نہ مل سکے توپھر اجازت ملے بغیر اندر نہ جاو ۔اوراگرتم سے لوٹ جانے کوکہاجائے تو تم لوٹ ہی جاو ، یہی بات تمہارے لیے پاکیزہ ہے ‘ جوکچھ تم کررہے ہو اللہ خوب جانتا ہے۔ “

تشریح :ان آیات میں اللہ تعالی گھروںمیں داخل ہونے کے آداب بیان فرمارہاہے تاکہ مردوعورت کے درمیان اختلاط نہ ہو جو عام طور پر زنا یا قذف کا سبب بنتا ہے ۔ ’استیناس ‘کے معنی ہیں ‘ معلوم کرنا‘یعنی جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہوجائے کہ اندر کون ہے اور اس نے تمہیں اندر داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے ‘اس وقت تک داخل نہ ہو۔ بعض نے ﴾ تَستَانِسُوا﴿ کے معنی ’تستا ذنوا‘ کے کیے ہیں جیساکہ ترجمے سے واضح ہے۔ آیت میں داخل ہونے کی اجازت طلب کرنے کا ذکر پہلے اور سلام کرنے کا ذکر بعدمیں ہے ۔ لیکن حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم  پہلے سلام کرتے اورپھر داخل ہونے کی اجازت طلب کرتے ۔اسی طرح آپ صلى الله عليه وسلم  کا یہ معمول بھی تھا کہ تین مرتبہ آپ اجازت طلب فرماتے ۔اگر کوئی جواب نہیں آتا تو آپ واپس لوٹ جاتے ۔ اور یہ بھی آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ اجازت طلبی کے وقت آپ دروازے کے دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے تاکہ ایک دم سامنا نہ ہو جس میں بے پردگی کا امکان رہتا ہے ( صحیح البخاری،کتاب الاستیذان ، باب التسلیم والاستیذان ثلاثا ۔ مسند احمد3/138،ابوداود کتاب الادب ، باب کم مرة یسلم الرجل فی الاستیذان )

اسی طرح آپ صلى الله عليه وسلم  نے دروازے پر کھڑے ہوکر اندر جھانکنے سے بھی نہایت سختی کے ساتھ منع فرمایاہے حتی کہ اگر کسی شخص نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دی تو آپ صلى الله عليه وسلم  نے فرمایاکہ اس پر کوئی گناہ نہیں (البخاری ،کتاب الدیات ،باب من اطلع فی بیت قوم ففقؤا عینہ فلادیة لہ ۔ مسلم کتاب الآداب، باب تحریم النظر فی بیت غیرہ )

آپ صلى الله عليه وسلم  نے اس بات کو بھی ناپسند فرمایاکہ جب اندر سے صاحبِ بیت پوچھے :کون ہے؟ تو اس کے جواب میں ”میں میں “ کہاجائے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ نام لے کر اپنا تعارف کرائے ۔(صحیح بخاری ،کتاب الاستیذان باب اذا قال من ذا؟  قال : ا نا ۔ ومسلم کتاب الآداب، باب کراھة قول المستاذن :ا نا ،اذا قیل من ھذا؟  وا بوداو د ، کتاب الا دب )

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*