غیرمسلموں میں اسلام کی دعوت کیوں؟

اسلام ایک عالمگیر اور آفاقی مذہب ہے جس کے مخاطب سارے انس وجن ہیں ، اورپیارے نبی صلى الله عليه وسلم  کی بعثت سارے عالم کے لیے ہوئی،آپ کے بعدگذشتہ تمام شریعتوں کو منسوخ کردیا گیا،اب شریعت محمدیہ کے علاوہ اورکوئی شریعت مقبول نہیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہی ہے “۔(آل عمران 19) دوسری جگہ ارشاد فرمایا:”جو اسلام کے سوا کسی اور دین کا متلاشی ہوگا وہ ہرگز مقبول نہیں ہوگا اوروہ آخرت میںخسارہ اٹھانے والوںمیں سے ہوگا“۔ (سورہ آل عمران85 )“۔ اوررحمت عالم صلى الله عليه وسلم  کی بابت فرمایا: ”آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میںتم سب کی طرف اللہ کا رسول بناکر بھیجا گیا ہوں“۔ (سورہ اعراف 158) خود پیارے نبی صلى الله عليه وسلم  نے بیان فرمایا : ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری امت میں جو شخص بھی میری بات سن لے ،وہ یہودی ہو یا عیسائی، پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو وہ جہنم میں جائے گا “۔ (صحیح مسلم )

  الحمدللہ کہ ہم مسلمان ہیں اور اسلام کی گرانقدر نعمت میںپل رہے ہیں ،اس نعمت کا صحیح اندازہ وہی کرسکتا ہے جس نے کبھی گمراہی کی تاریکی میں کچھ وقت بتایاہو،آج دنیا کی اکثریت اس نعمت سے محروم ہوکر خسارے کا سودا کررہی ہے ۔ ڈاکٹرز ہیں، انجینیرز ہیں ، فلاسفہ اوراعلی افسران ہیں،ستاروں پر کمندیں ڈالنے والے اور شمس وقمر کے فاصلوں کو سمیٹنے والے سائنسداں ہیں، لیکن صدحیف انہیں خالقِ کائنات کا عرفان حاصل نہ ہوسکا ہے ۔ کیوں کہ انہوں نے ایسے گھرانے میں آنکھیں کھولی ہیں جہاںاسلام کی روشنی نہ پہنچ سکی ہے ۔

ایسے گم کردہ راہوں کے تئیں بحیثیت مسلمان ہماری کیا ذمہ داری ہونی چاہیے اسے ایک مثال سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے فرض کیجئے کہ ایک نابیناراستے سے گزررہا ہے، بیچ راستے میں ایک گڑھا ہے جس میں اس کے گرجانے کا قوی اندیشہ ہے، یا ایک شیرخوار بچہ سامنے میں رکھے ہوئے شعلے کی طرف ہاتھ بڑھا رہا ہے اور اتفاق سے آپ وہاں موجود ہیں،ذرا دل کوٹٹولیں اورمن سے پوچھیں کہ ان دونوںحالات میں آپ کی دلی کیفیت کیسی ہوگی ؟ یہی نا کہ آپ فوراً اندھے کی طرف بڑھیں گے اور ہاتھ پکڑ کر اسے راستہ پار کرائیں گے اورشیرخوار بچے کو گودمیں اٹھالیں گے کہ مبادا شعلے کو ہاتھ میں پکڑ لے ۔ بالکل یہی مثال دوسری قوموں کے مقابلہ میں ایک مسلمان کی ہے، ان کی گمراہی کے سامنے ہمارے دل میں دردمندی اور محبت کے وہی جذبات پیدا ہونے چاہئیں جوکنویں میں گررہے اندھے اورشعلے کی طرف لپکنے والے شیرخواربچے کودیکھ کر ہمارے دل میں پیداہوتے ہیں۔

 کیاآپ دیکھتے نہیں کہ اسی فکر اور لگن میں ہمارے حبیب نے  اپنی 23سالہ زندگی گزاری،انسانیت کے غم میں راتوں کی نیند اور دن کے آرام کو خیربادکیا ،ہروقت ،ہرلمحہ اورہرجگہ یہی فکر ستاتی رہی کہ انسانیت اس پیغام حق کو قبول کرلے ، آخر اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم  نے کوہ صفا پر چڑھ کر کس کو پیغام حق سنایاتھا؟ منڈیوں،میلوں اورحج کے ایام میں گھوم گھوم کر کس کو دعوت دیا کرتے تھے ؟ آپ صلى الله عليه وسلم  نے کسے دعوت دینے کے لیے طائف کا سفر کیا تھا ؟ آپ صلى الله عليه وسلم  نے مصعب بن عمیررضي الله عنه  کو یثرب کیوں بھیجا تھا ؟ آپ صلى الله عليه وسلم  نے مختلف مذاہب اورمختلف ممالک کے بادشاہوں کے پاس اپنے سفراءوفرامین کیوں بھیجے تھے ؟ ان سارے سوالات کا جواب ایک ہے کہ آپ نے اپنی دعوت کا ہدف ان گم کردہ راہوں کو بنایاتھا جودین فطرت سے منحرف ہوگئے تھے۔ آج بھی مسلمانوں کی اصلاح کے مقابل اسلام کی دعوت غیروں تک پہنچانے کی اتنی ہی ضرورت ہے جس قدراس وقت تھی ۔ فرض کیجئے کہ آپ ڈاکٹر ہیں،آپ کے پاس دو مریض لائے جاتےہیں ،ایک کو سردی اور کھانسی کی شکایت ہے جبکہ دوسرے کا گلہ کٹ چکا ہے ایسے نازک مرحلہ میں بحیثیت ڈاکٹر آپ سب سے پہلے کس مریض کو ہاتھ لگائیں گے ؟ ظاہر ہے ایسے ہی مریض کوجس کا گلہ کٹ چکا ہے کہ اسے فوری سنبھالنے کی ضرورت ہے ۔

اگرآپ یہ سوچیں کہ پہلے مسلمانوں کو پورے طورپر دیندار بنادیں گے تب غیرمسلموں کو اسلام کی دعوت دیں گے توایسا کبھی ہوگا ہی نہیں ، اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم  کے زمانے میں بھی مسلمان اصلاح کے محتاج تھے لیکن آپ نے پوری توجہ مسلمانوں کی اصلاح کی طرف مبذول نہ کی بلکہ اصلاح اور دعوت دونوں کوساتھ ساتھ لے کر چلتے رہے جوہمارے لیے کھلا پیغام ہے کہ ہردورمیں اصلاح کے ساتھ تعارف اسلام کا کام جاری رہناچاہیے۔

 برصغیرپاک وہند کی تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو پتہ چلے گا کہ بعد کے ادوارمیں مسلم بادشاہوں اورامراء نے اپنی سلطنت کومستحکم کرنے کی طرف پورازور دیا اور دین سے بے توجہی برتی جس کی بنیاد پر مسلم معاشرے میں ہندوانہ رسم ورواج اوربدعملی کے بیشمار مظاہر سامنے آنے لگے،اس وقت دینی غیرت رکھنے والے علماء اور داعیان دین نے مسلمانوں کی اصلاح کی طرف پوری توجہ مبذول کیںجن کی کوششیں واقعی قابلِ ستائش تھیں تاہم اس کا منفی پہلو یہ سامنے آیا کہ مسلمانوں کی اکثریت کے ذہن ودماغ سے اسلام کی ہمہ گیریت کا احساس نکلتا گیا، وہ اس نکتے کوبھول گئے کہ برادران وطن بھی اسلام کے مخاطب ہیں،یہ بہت بڑی غلط فہمی تھی جومعاشرے میں عام ہوئی حالانکہ اصلاح کے ساتھ ساتھ دعوت بھی ہونی چاہیے تھی ، تاہم ایسا نہ ہوسکا پھراس کا حتمی نتیجہ یہ ہوا کہ ہم داعی بننے کی بجائے رفتہ رفتہ مدعو بننے لگے ۔غیرقوموں نے مسلم معاشرے میں اپنے باطل عقائد کا پرچار شروع کردیا ،اگربرصغیرمیں دینی مدارس کی قابل قدرخدمات نہ ہوتیں تو اس مذہبی یلغار نے ہماری شناخت بھی مٹا دی ہوتی ۔

آج دورجدید کاچیلنج ہم سے اس بات کا تقاضا کرتاہے کہ ہم اپنے مخاطب کو پہچانیں ، اپنے منصب کاعرفان حاصل کریں کہ ہمیں انسانیت کی خاطر وجود میں لایا گیاہے۔ ہم انسانیت کے لیے رہبر اورقائد کی حیثیت رکھتے ہیں ،ہم داعی ہیں اوردوسری قومیں مدعواورمخاطب ۔ لہذا ضروری ہے کہ ہم اسلام کی جس عظیم اوربیش بہا نعمت میں پل رہے ہیں اس سے دوسروں کو بھی آگاہ کریں ،یہ ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔اسے انجام دے کر ہی ہم کل قیامت کے دن کی پرشش سے بچ سکتے ہیں ۔

 توآئیے ہم عہدکرتے ہیں کہ اسلام کا پیغام گھر گھرپہنچائیں گے اوراسلام کی آفاقیت سے انسانوں کومتعارف کرائیں گے۔ رہے نام اللہ کا ۔

صفات عالم محمدزبیرتیمی

safatalam12@yahoo.co.in

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*