لوگ ریت پر گھر بنا کر فخر کرتے ہیں!

محمد آصف ریاض

 ایک آدمی زمین پر نیکی اور بھلائی کا کام شروع کرتا ہے ۔ وہ ایک عرصہ تک اس کام میں لگا رہتا ہے لیکن اسے کوئی دنیوی فائدہ نہیں ملتا ۔ نہ ہی سماج میں وہ پہچا نا جا تا ہے اور نہ ہی اسے کوئی مقام حاصل ہوتا ہے ۔ وہ گمنامی کی زندگی گزارتا رہتا ہے ،یہاں تک کہ گھر اور سماج والے اسے نااہل قرار دے کر مسترد کر دیتے ہیں ۔

اسی کے ساتھ ایک دوسرا آدمی اپنا دنیوی کاروبار شروع کرتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے زمین پر پھیل جا تا ہے ۔ وہ دنیا کما کر سماج اور قبیلہ میںاونچا مقام حاصل کر لیتا ہے ۔ وہ ہر مقام پر آگے آگے دکھائی دیتا ہے۔ اس کا اپنا ایک حلقہ بن جاتا ہے ۔ اس کے ارد گرد لوگ اس طرح ناچتے ہیں جس طرح روشنی کے گرد پتنگے ۔ وہ حکیم نہیں ہوتا لیکن لوگ اسے حکیم کہتے ہیں۔ وہ دانشور نہیں ہوتا لیکن لوگ اس سے متاع دین و دانش حاصل کر نے کے لیے آتے ہیں ۔وہ بہادر نہیں ہوتا لیکن لوگ اسے ’بہادر شاہ‘ کہہ کر پکارتے ہیں ۔

یہی وہ مقام ہے جہاں اس شخص کا عزم متزلزل ہو جا تا ہے جس نے نہایت نیک نیتی کے ساتھ اللہکی زمین پر اللہ کاکام شروع کیا تھا ۔ اسے لگتا ہے کہ وہ پچھڑ گیا۔ اس کے ساتھ جس شخص نے دنیوی کام شروع کیا تھا وہ دیکھتے دیکھتے زمین پر چھا گیا لیکن اسے کیا ملا؟ گمنامی،رسوائی ،غربت اور حقارت!

یہیں سے وہ اپنا راستہ بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔یہاں وہ آزمائش میں ڈالا جا تا ہے ۔شیطان اس کے سامنے یہ سوال کھڑا کرتا ہے کہ اللہ کے یہاں نیکی کی جزا کیا ہے؟ شیطان اس مرد مجاہد پر زبردست حملہ کرتا ہے اور اسے پوری طرح ہلا دیتا ہے، یہاں تک کہ اس کا عزم ٹوٹ جاتا ہے ،اس کا ایمان متزلزل ہو جاتا ہے، اس کے حوصلے پست ہوجاتے ہیں ،اور وہ بھی دنیا کی دوڑ میں شامل ہونے کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ تبھی اللہ کی طرف سے اس کی خاص رہنمائی ہوتی ہے اور اسے قرآن کے ذریعہ یہ پیغام دیا جا تا ہے۔

”نہیں! تم لوگ جلد حاصل ہونے وا لی( دنیا) کی محبت میں پڑے ہواور آخرت کو بھول بیٹھے ہو“۔(القیامہ) ”لیکن تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت بہت بہتر اور بقا والی ہے۔ یہ باتیں پہلی کتابوں میں بھی ہیں یعنی ابراہیم اور موسیٰ کی کتابوں میں“ )الاعلیٰ (16-19

پہلا شخص جس نے صبر سے کام لیا اور گمنامی میں رہ کر اللہ کا کام کرتا رہا ،جس نے دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر کی اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے اپنا گھر چٹان پر بنا یا جسے کوئی سیلاب نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

 اور دوسرے شخص کی مثال اس نادان کی سی ہے جس نے اپنا گھر ریت پر بنا یا جسے سیلاب کا ایک چھوٹا سا جھٹکا بھی بہالے جائے گا۔

دنیوی زندگی میں کامیابی کی مثال ایسی ہے، جیسے کوئی نادان ریت پر مکان بنا کر فخر کرے ،حالانکہ فخر کرنے کے لائق اگر کوئی کامیابی ہے تو وہ آخرت کی کامیابی ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*