ہم کہاں کھڑے ہیں ؟

 محمد آصف رياض

میری پیدائش پٹنہ کے ایک گاﺅں حضرت سائیں میں ہوئی۔میرے والد کا نام ریاض الحق تھا۔لیکن لوگ انھیں ’چاند‘ کہہ کر بلاتے تھے۔ وہ ایک کسان آدمی تھے۔میں نے شروع سے آخر تک انہیں کھیتی کرتے ہوئے دیکھا۔

جیسا کہ مجھے یاد آتا ہے ،آج سے تقریباً دس سال قبل میرے والد کا انتقال ہوگیا۔ اس وقت میں پٹنہ یونیورسٹی سے گریجویشن کر رہا تھا۔ غالباً میں فرسٹ یا سیکنڈ ایئر میں تھا۔ان کی دونوں کڈنی فیل ہوچکی تھی ایسی حالت میں وہ چھہ ماہ تک بستر مرگ پر رہے اور پھر ہمیشہ کے لیے ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ۔

چونکہ میرے والد ایک کسان آدمی تھے ،اس لیے میرے گھر میں دوبیل اور ایک دو گائیں ہمیشہ رہتی تھیں ۔ مجھے یاد آتا ہے کہ جب میرے والد کاانتقال ہوا تو اس وقت میرے یہاں دو سفید بیل تھے اور ایک سرخ رنگ کی گائے۔جانوروں کی پر ورش ابّاکی ذمہ داری تھی۔وہ انہیں صبح ناند ھ پر باندھتے تھے اور کھانا کھلاتے تھے ،اور رات کو انہیں گھر میں باندھتے تھے۔جانوروں کو باہر نکالنا اور پھر گھر میں باندھنا انہیں کی ڈیو ٹی تھی۔لیکن جب وہ بستر مرگ پر پڑ گئے تو یہ ذمہ داری میں نے سنبھال لی۔ یعنی میں خود اپنے ہاتھوں سے گائے اور بیل کو کھانا کھلانے لگا۔

لیکن وہ میرے ہاتھوں سے کھانا نہیں چاہتے تھے ۔وہ اپنے مالک کے ہاتھوں سے ہی کھانا چاہتے تھے ، حالانکہ ان کا مالک اس حالت میں نہیں تھا کہ وہ انہیں کھلائے۔ وہ اپنے مالک کی یاد میںہمیشہ روتے رہتے تھے۔ ان کی بڑی بڑی آنکھیں اپنے مالک کی یاد میں ہمیشہ آنسو ؤں میں ڈوبی رہتی تھیں۔ وہ مستقل روتے رہتے تھے ۔جب بھی میں انہیں کھانا کھلانے جا تا تو انہیں روتا ہواپاکر میں بھی رونے لگتا تھا۔اپنے مالک کی یاد میں انھوں نے کھانا پینا سب چھوڑ دیا تھا۔ان کی یہ حالت ابّاکے انتقال کے بعد بھی باقی رہی،جس کی وجہ سے وہ بہت لاغر ہو چکے تھے ۔ آخر کار ہم لو گوں نے انہیں بیچ دینے کا فیصلہ کیا ،اور ایک دن انہیں بیچ دیا۔ مجھے نہیں معلوم کے اس کے بعد ان کا کیا ہوا۔

  آج جب میں ان کے بارے میں سوچتا ہوں تو اندر سے کانپ اٹھتا ہوں ۔ انہیں سوچ کر میں آج بھی زارو قطار رونے لگتا ہوں۔ میں سوچتا ہوں کہ وہ جانور تھے، جو اپنے مالک کو خوب پہچانتے تھے ۔وہ اپنے مالک کے ہاتھوں سے ہی کھانا پسند کرتے تھے۔ وہ دوسروں کے ہاتھوں سے کھا نا نہیں چاہتے تھے۔ وہ اپنے مالک کے غم میں روتے رہتے تھے ۔ انہوں نے اپنے مالک کے لیے کھانا پینا سب چھوڑ دیاتھا۔

 اب ذرا انسان کی حالت پر غور کیجئے ۔انسان کا مالک اس کے لیے آسمان سے پانی برسا تا ہے تا کہ وہ اسے پئے ۔وہ اس کے لیے زمین سے کھانا نکالتا ہے تاکہ وہ اسے کھائے ۔ وہ ماں کے پیٹ میں اس کی پر روش کرتا ہے اور صحیح سلامت باہر نکالتا ہے ۔اس نے اس کے لیے زمین کو بچھا دیا ہے تا کہ وہ اس پر سکون سے چل پھر سکے ۔اس نے آسمان بنا یا اور اس پر سورج کو رکھ دیا تاکہ انسان اس کی روشنی میں اپنا رزق تلاش کر سکے۔ اس نے انسانوں کے لیے نیند اتا را تا کہ وہ صبح کی تھکاوٹ سے آرام پا سکے۔اس نے اس کے لیے بیویاں پیدا کیں تاکہ وہ اپنی نسل کی افزائش کر سکے۔ اس نے اسے ماں، باپ اور اولاد دئے تاکہ وہ ان کے ساتھ غم اور خوشی کو بانٹ سکے۔ لیکن انسان کو اپنے مالک کی یاد نہیں آتی۔ وہ اپنے مالک کے لیے کبھی آنسو نہیں بہاتا۔وہ اپنے مالک کے لیے کبھی کھانا پینا نہیں چھوڑتا ۔ اپنے مالک کے لیے کبھی اس کے دل میں محبت کا سیلاب موجزن نہیں ہوتا۔ وہ اپنے مالک سے بے تعلق بنا رہتا ہے۔ بلکہ بعض اوقات وہ اپنے مالک کے ساتھ بغاوت کرتا ہے۔

افسوس ہے انسان پر کہ وہ اپنے مالک کو اتنا بھی نہیں پہچان سکا جتنا کہ ایک جانوراپنے مالک کو پہچانتا ہے۔انسان اپنے مالک کے ساتھ اتنی وفاداری کا بھی مظاہرہ نہیں کرسکا جتنا کہ ایک جانور اپنے مالک کے ساتھ کرتا ہے۔افسوس ہے انسان پر کہ وہ اخلاقیات اور وفاداری میں جانوروں سے بھی نیچے گرگیا۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*