الوصایا المھمة الماثورة عن حکیم الامة

 تحریر: ڈاکٹر ولید العلی امام وخطیب المسجدالکبیر و استاذ جامعة الکویت

ترجمہ : مولاناعبد الخالق مدنی (کویت)

ایمان کی بلند ترین چوٹی اللہ کے حکم پر صبر کرنا ہے:

صحابی جلیل حضرت ابو الدرداءرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

 ذروة الایمان الصبر للحکم، والرضا بالقدر، و الاخلاص للتوکل، والاستسلام للرب عز و جل” ایمان کی بلند ترین چوٹی اللہ کے حکم پر صبر کرنا، اس کی تقدیر پر راضی رہنا، توکل میں اخلاص اور احکام الہی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے ۔“

 جو شخص اپنے عمل میں یقین کی دولت یعنی اپنے رب کے ليے اخلاص کی نعمت سے محروم ہوا تو اسے ظاہری طورپر خشوع قلب کے اظہار سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔

چنانچہ حضرت ابو الدرداءرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

استعیذوا باللہ من خشوع القلب ، قیل وما خشوع القلب ؟ فقال ابوالدرداءرضی اللہ عنہ ”ان یری الجسد خاشعا والقلب لیس بخاشع “

  ترجمہ : ”خشوع قلب سے اللہ کی پناہ طلب کرو ، ان سے پوچھا گیا کہ خشوع قلب کسے کہتے ہیں ؟ تو حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : کہ ظاہری طورپر اعضائے بدن خشوع کا مظاہرہ کریں لیکن دل خشوع سے خالی ہو۔ “

 جو شخص اپنے عمل میں اتباع سنت سے محروم ہوتا ہے اس کی نفسانی خواہشات اسے گمراہی کی وادیوں میں دھکیل دیتی ہیں۔

چنانچہ حضرت ابوالدرداءرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

 ”انسان جب صبح کرتا ہے تواس کا عمل اور اس کی خواہشات اس کے پاس یکجا ہوتے ہیں، اگر اس کا عمل اس کی ہوائے نفس کے تابع ہوتو اس کا وہ دن برا ہوتاہے اور اگر اس کی نفسانی خواہشات اس کے عمل کے تابع ہوں تو اس کا دن اچھا دن ہوتاہے ۔ “

جو شخص بھی ہوائے نفس کی پیروی میں مبتلا ہوتاہے وہ اپنے آقا و مولا اللہ جل شانہ کے غضب کو دعوت دیتاہے۔

چنانچہ ابن ابی لیلی رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے مسلمہ بن مخلد الانصاری رضی اللہ عنہ کو لکھا :

السلام علیکم ! اما بعد ! فان العبد اذا عمل بمعصیة اللہ، بغضہ اللہ، فاذا أبغضہ اللہ بغضہ الی عبادہ ۔”جب کوئی بندہ اللہ تعالی کی نافرمانی کرتاہے تو اللہ اسے نا پسند کرتاہے، اور جسے اللہ تعالی نا پسند کرتاہے تو اپنے بندوں کے دلوں میں اس کے بارے میں بغض ڈال دیتاہے ۔“

 اللہ تعالی اور اسکے بندوں کے ما بین باہمی تعلق اور رابطہ صرف نیک اعمال میں۔ اور یہ سب سے بہتر سبب اور تعلق ہے۔

جیساکہ حضرت جبیر بن نفیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

” جب ’ قبرص ‘ فتح ہوا تو حضرت ابوالدردا ءرضی اللہ عنہ کے پاس سے قیدیوں کو گزارا گیا تو انہیں دیکھ کر حضرت ابوالدرداءنے رونا شروع کردیا تو میں نے حضرت ابوالدرداءرضی اللہ عنہ سے عرض کی کہ آپ ایک ایسے دن میں رو رہے ہیں جس میں اللہ تعالی نے اسلام اور مسلمانوں کو عزت و شان و شوکت سے نوازا ہے۔ تو حضرت ابولدرداءرضی اللہ عنہ فرمانے لگے :

” اے جبیر ! یہ قوم بھی بہت زبر دست اور شان و شوکت والی تھی، لیکن جب انہوں نے اللہ تعالی کی نافرمانی کی تو انہیں یہ دن دیکھنا پڑا جس کا آپ مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ بندے جب اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں تو اللہ تعالی کے ہاں وہ کس قدر ذلت و حقارت کا شکار ہوجاتے ہیں ! گزشتہ اور آنے والی نسلو ں کے لےے سب سے بہترین نصیحت یہی رہی ہے کہ ” خشیت الہی کو اختیار کیا جائے۔ اور اس کے حصو ل کا ذریعہ علم دین کا اکتساب کرنا اور سیکھنا ہے ۔ لہذا ہر مسلمان کو دین کا علم حاصل کرنے کے لےے حریص ہونا چاہےے کیونکہ علم دین کا طالب علمائے ربانی کے ساتھ اجر میں شریک ہوتاہے۔ چنانچہ حضرت ابوالدرداءرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ” کس قدر تعجب کی بات ہے کہ علماءدنیا سے اٹھتے جارہے ہیں، اور جہلاءعلم حاصل کرنے کی طرف توجہ نہیں دے رہے، پس علم سیکھو کیونکہ عالم دین اور طالب علم اجر وثواب میں برابر کے شریک ہیں “ ۔

علم و عمل : جسے اللہ تعالی علم دین سے نوازے اسے چاہيے کہ اپنے علم کے مطابق عمل کرے کیونکہ یہ علم نافع کی شروط میں سے ہے ۔ حضرت ابوالدرداءرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

 ” آپ متعلم بنے بغیر عالم نہیں بن سکتے اور اس وقت تک حقیقی معنوں میں طالب علم نہیں بن سکتے جب تک کہ آپ علم کے مطابق عمل نہیں کرتے۔ اور مجھے سب سے زیادہ خوف اس چیز کا ہے جب قیامت کے دن مجھے حساب کے لےے پیش کیا جائے تو مجھ سے پوچھا جائے ” تو نے جو علم حاصل کیا تھا ، اس کے مطابق عمل بھی کیا تھا؟ “ ۔

دین کے طالب علم کا احکام شریعت کے مطابق عمل نہ کرنا ، ایسے شخص کی حالت سے بھی بدتر ہے جو کہ جہالت کی بے کار رسومات میں جکڑا ہوا ہے ۔

جیسا کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :ویل للذی لا یعلم مرة وویل للذی یعلم ولا یعمل سبع مرات ۔

”جاہل کے ليے ایک مرتبہ ہلاکت ہے اور بے عمل عالم کے ليے سات مرتبہ ہلاکت ہے “

اس ليے کہ اوامر و نواہی کے فرائض سے واقف عالم دین پر ہر کسی کی نگاہ ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت ابوالدرداءرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”أخوف ما أخاف أن یقال لی یوم القیامة علمتَ ام جھلتَ؟ فان قلتُ : علمتُ، لا تبقی آیة آمرة أو زاجرة الا أخذت بفریضتھاالآمرة ھل ائتمرت ؟ والزاجرة : ھل ازدجرت ؟ فأعوذ باللہ من علم لا ینفع ونفس لا تشبع  ودعاءلا یسمع ۔

 ترجمہ : ”مجھے سب سے زیادہ خوف اس بات کا ہے کہ قیامت کے دن مجھ سے سوال کیا جائے : کیا آپ نے علم سیکھا تھا یا جاہل ہی رہے ؟ اگر میں نے کہا کہ ” میں نے علم سیکھا تھا “ تو پھر اوامر و نواہی کی تمام آیات کے بارے میں مجھ سے باز پرس ہوگی ۔ امر (حکم) کی آیات کے بارے میں سوال ہوگا کہ کیا آپ نے حکم مانا ؟ اور نہی کی آیات کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ : کیا آپ منہیات سے باز رہے ؟ پس میں اللہ تعالی کی پناہ چاہتا ہوں ایسے علم سے جو نفع مند نہ ہو ، اور ایسے نفس سے جو ( لذت دنیاسے) سیر ہونے والا نہ ہو ، اور ایسی دعاءسے جو اللہ تعالی کی بارگاہ میں شرف قبولیت نہ حاصل کر سکے ۔

علماء اور عوام کی ذمہ داریاں :

 علمائے حق کی ذمہ داری بھی بہت بڑی ہے اور ا ن کے حق میں امت مسلمہ پر عائد فریضہ بھی بہت بھاری ہے لہذا قلب سلیم والے لوگ علمائے حق سے محبت کرتے اور ان کی توقیر کرتے ہیں ، اور بیمار دلوں والے علمائے حق کے بارے میں دلوں میں نفرت اور بغض بھرے رکھتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت ابو الدرداءرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

 أطلبوا العلم، فان عجزتم فاحبوا أھلہ، فان  لم تحبوھم فلا تبغضوھم۔” علم حاصل کرو، اگر ایسا نہ کر سکو تو اہل علم سے محبت ضرور کرو اور اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو کم از کم ان سے بغض و عداوت مت رکھو “۔

 عالم کا ہر عمل اس کے علم کے مطابق ہوتا ہے :

 حتی کہ اس کی نیند اور افطار بھی اور بسا اوقات ( اس کی تھوڑی عبادت بھی ) کثرت عبادت کے غرور میں مبتلا جاہل سے سبقت لے جاتی ہے ۔

جیسا کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

 ” یا حبذا نوم الاکیاس و افطارھم کیف یغبنون سھر الحمقی و صومھم و مثقال ذرة من بر مع تقوی و دین ، أعظم وأفضل و أرجح من أمثال الجبال من عبادة المغترین “ ۔

  ترجمہ : ”اہل علم و دانش کی نیندو افطار کتنی مبارک ہے اور کس طرح وہ نادان و جاہل لوگوں کی شب زندہ داری اور نفلی روزوںپر سبقت لے جاتے ہیں ! کیونکہ تقوی اور علم دین کے ساتھ عبادت، کثرت عبادت کے غرور میں مبتلا جاہل کی عبادت سے کہیں زیادہ عمدہ، بہتر اور افضل ہے “ ۔

عمرِ دراز کی خواہش کس ليے  ؟

ہر مسلمان اپنے دل سے سوال کرے اور پھر حضرت  ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے نقطئہ نظر سے اس کا تقابل کرے تو حقیقت واضح ہوجائے گی۔ فرماتے ہیں ” لو لا ثلاث ما أحببت البقائ: ساعة ظما الھواجر، والسجود فی اللیل، و مجالسة أقوام ینتقون جید الکلام کما ینتقی أطایب الثمر“ ۔

 ترجمہ : ”اگر تین چیزیں نہ ہوتیں تو میں دنیا میں رہنا پسند نہ کرتا ” سخت گرمی میں دوپہر کی پیاس کی ایک ساعت  ( حالت روزہ میں ) اور راتوں کے سجدے اور ایسے لوگوں کی مجالس جن کی گفتگو میں حسن کلام کا یوں انتخاب ہوتاہے جیسا کہ عمدہ پھلوں کا چناﺅ “ ۔

 صحابی جلیل حضرت ابوالدرداءرضی اللہ عنہ نے دنیا میں تا دیر زندہ رہنے کی خواہش کا سبب بننے والی اپنی جن محبوب او پسندیدہ اشیاءکا تذکرہ کیا ہے ان میں سے ایک ایسے نیک اور پاکیزہ سیرت اور زیور تقوی سے آراستہ احباب کی مجلس بھی ہے جو کہ اپنی مجلس میں آپ کو غیبت اور چغلی کے گناہ میں شریک نہیں کرتے ( یعنی ان کی مجالس ایسے امور سے پاک ہوتی ہیں ) اور نہ ہی آپ کا وقت برباد کرکے آپ کو اجر و ثواب سے محروم کرتے ہیں بر خلاف ان لوگو ں کی مجالس کے جو آپ کا استقبال کسی اور رنگ میں کرتے ہیں اور آپ کے بعد آ پ پر کیچڑ اچھالتے اور عیب جوئی کی قینچی سے آپ کی عزت کو تار تار کرتے ہیں اور توہین آمیز اسلوب میں آپ کا تذکرہ کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حضرت ابوالدرداءرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

 ” أدرکت الناس ورقا لا شوک فیہ، فأصبحوا شوکا لا ورقة فیہ، ان نقدتھم نقدوک، وان ترکتھم لا یتروک۔ قیل: فکیف نصنع ؟ فقال أبوالدرداءرضی اللہ عنہ تقرضھم من عرضک لیوم فقرک “ ۔

 ترجمہ :” میں نے ایسے لوگوں کو پایا ہے جو ایسے پتوں کی طرح نرم اور ملائم تھے جن میں کوئی کانٹا نہ ہو ، اور آج لوگ کانٹوں کی طرح ہوگئے ہیں جن میں کوئی پتہ ( نرمی کا پہلو ) نہیں ہے ۔ اگر آپ ان پر تنقید کریں گے تو وہ آپ پر کیچڑ اچھالیں گے ، اور اگر آپ ان سے صرف نظر کریں گے تو وہ پھر آپ کو معاف نہیں کریں گے بلکہ آپ پر طعن و تشنیع کے تیر برسائیںگے ۔ حضرت ابوالدرداءرضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ : ہم ایسے لوگوں سے کیا سلوک کریں ؟ تو انہوں نے فرمایا : آپ انہیں اپنی عزت کے حساب پر ایسا قرض دیجئےے جس کی وصولی آپ کو اس دن ہوگی جب کہ آپ کو نیکیوں کی سخت ضرورت ہوگی ۔ یعنی وہ جس قدر آپ کی عزت و آبرو پر حملہ کریں گے اور آپ صبر کریں تو اللہ تعالی اسی قدر آپ کو قیامت کے دن ان کی نیکیاں بد لے میں لے کر دے گا ۔ “

فتنہ پر ورلوگوں سے برتاﺅ کا طریقہ :

جس شخص کو فتنہ پرور اور دوسروں کے ساتھ حقارت آمیز سلوک کرنے والے شریر لوگوں سے واسطہ پڑے تو اسے ان کی شر سے بچنے کے لےے بظاہر ان کی خاطر و مدارات کا رویہ اختیار کرنا چاہےے ، اور ان کی باتوں اور ان کی حرکات و افعال سے نفرت کو اپنے دل ہی میں رہنے دینا چاہےے۔ چنانچہ حضرت ابوالدرداءرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

 ” اِنا لنَکشُرُ فی وجوہِ ا قوام ، واِنَّ قلوبَنا لتلعنھم “ ہم بعض لوگوںسے ہنس کر ملتے ہیں لیکن ہمارے دل ان پر لعنتیں بھیج رہے ہوتے ہیں ۔

 دوسروں کی مصیبت پر خوش ہونا یا کسی سے کوئی گناہ سرزدہوجائے تو اسے عار دلانا :

 انسان کو ہمیشہ صحت و عافیت اور برائی سے بچنے کی توفیق پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہيے اور کسی مسلمان کی شماتت اور اسے مصیبت میں دیکھ کر خوشی کا اظہار نہیں کرنا چاہيے ، کیونکہ ممکن ہے کہ اللہ تعالی گرفتار بلا کو عافیت عطا کردے اور شماتت کرنے والے کو آزمائش میں مبتلا کردے ۔

 حضرت ابو قلا بہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو الدرداءرضی اللہ عنہ کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جس سے کوئی جرم سرزد ہوگیا تھا اور لوگ اس شخص کو گالی گلوچ کر رہے تھے۔ تو حضرت ابوالدرداءرضی اللہ عنہ نے ان لوگو ں سے کہا : اگر تمہارا کا یہ بھائی کنویں میں گرجائے تو تم اسے باہر نکالوگے یا نہیں ؟ لوگوں نے جواب دیا: ہاں ! کیوںنہیں ۔ ( ہم اسے ضرور نکالیںگے) تو حضرت ابوالدرداءرضی اللہ عنہ نے کہا :”پھر اسے گالی مت دو اور اللہ تعالی کا شکر ادا کرو کہ جس نے تمہیں اس گناہ سے عافیت بخشی ہے جس کا یہ مرتکب ہوا ہے“۔ لوگوں نے حضرت ابوالدرداءرضی اللہ عنہ سے پوچھا : ” کیا آپ اس سے نفرت نہیں کرتے ؟ تو انہوں نے جواب دیا :” مجھے اس کے برے عمل سے نفرت ہے ، اگر یہ اسے چھوڑدے گا تو یہ میرا بھائی ہے “  (جاری)

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*