ماہ رمضان اور تربیتِ اولاد

عبد ا لصبور ندوی 

ريسرچ اسکالر کنگ سعود يونيورسی

 ماہ مبارک کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ تربیت پر سب سے زیادہ زور دیتا ہے، ایک مسلمان اپنے نفس کی تربیت خود کرتا ہے، اپنے ماتحت بیوی بچوں کی تربیت میں لگ جاتا ہے، اپنے رب سے رجوع ہوتا ہے اور اللہ کی امانتوں کی پاسداری کا عہد کرتا ہے۔

نہایت قیمتی موقع ہے کہ لوگ اس ماہ میں اپنی اور اپنے بچوں کی تربیت پر دھیان دیں اور یاد رکھیں کہ اولاد، والدین کی گردنوں میں امانت ہیں اور اس امانت کے بارے میں باز پرس ہوگی، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اے مومنو!اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاﺅ جس کے ایندھن لوگ اور پتھر ہونگے“(التحرےم:6)

نبی ا کا ارشاد گرامی ہے:” تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اوراس سے اس کی نگہبانی کے متعلق سوال ہوگا، امام اپنی رعایا کے متعلق جوابدہ ہوگا اور آدمی اپنے گھر کے افراد (اہل وعیال) کے متعلق جوابدہ ہوگا“۔(بخاری)۔

 گھر بچوں کا پہلا مدرسہ (اسکول) ہوتا ہے، اگر گھر میں تربیت ٹھیک رہی تو سماج اور اسکول دونوں کی آنکھ کا تارابن جائے گا، اگر گھر میں اسلامی تربیت کا فقدان ہے تو اس بچے کو نہ اسکول صحیح کر سکتا ہے اور نہ سماج۔

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

”کتنے بد بخت ہیں وہ والدین جو اپنے جگر گوشوں کے ساتھ دنیا وآخرت میں کھلواڑ کرتے ہیں، ان کی جائز و ناجائز خواہش پوری کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس کی ہمت افزائی کر رہے ہیں،حالانکہ یہ اس کی توہین ہے، والدین اس کے گناہوں پر پردہ ڈال کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ شفقت کا معاملہ کررہے ہیں،حالانکہ اس پر ظلم ہورہا ہے اور اس صورت میں والدین بچوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع ضائع کردیتے ہیں، دنیا اور آخرت میں اپنا حصہ کھو بیٹھتے ہیں اور وہ اخلاقی فساد کا شکار ہو جاتے ہیں،جس کا اصل سبب والدین ہی ہیں۔“

روزہ دارو! اولاد کی پرورش کے دوران ہم سے بہت ساری غلطیاں ہوتی رہتی ہیں، جن سے پرہیز ضروری ہے: بچے کے رونے یا ضد کرنے پر جانوروں یا لوگوں کا نام لے کر ڈرانا جس سے بچے بزدل ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح بچے کو چوٹ لگنے پر ماں کا بلکنا اسے ہمیشہ کے لیے خوفزدہ کردیتا ہے۔ بچوں کی ہر جائز و ناجائز خواہش پوری کرنا ، جس سے اس کی فطرت و شرافت تباہ ہوجاتی ہے۔بچوں کی ہر چھوٹی بڑی غلطیوں پر ڈانٹ ڈپٹ کرنا، یا معمولی غلطیوں پر ان کی پٹائی سے یا ان کے ضروری اخراجات نہ دینے سے بچے باہرنکلتے ہیں اور چوری نیز بروں کی صحبت اختیار کرکے اپنی زندگی خراب کرلیتے ہیں۔ بچوں کی عصری تعلیم پر خوب خرچ کرکے دینی تعلیم سے برگشتگی اختیار کرنا، یعنی ان کے لیے دینی تعلیم کا اہتمام نہ کرنے سے وہ اخلاقی و مذہبی حیثیت سے بے وقعت ہوکر رہ جاتے ہیں۔ اولاد کے درمیان تفریق سے کام لینا یعنی کسی چیز کو دینے میں برابر نہ بانٹنا، چاہے وہ محبت و شفقت ہو چاہے ہدیہ و تحفہ، اس سے آپس میں نفرت پھیلتی ہے۔ استطاعت کے باوجود بچوں اوربچیوں کی شادی وقت پر نہ کرنا،یہ خائن ہیں جو بچوں کے اندر بدبختی کا روگ پھیلاتے ہیں۔ غیراسلامی نام رکھنا۔ بچوں پر بددعا کرنا، اللہ کے رسول ا نے فرمایا: ”بچوں پر بددعا نہ کرواس لیے کہ والدین کی دعا یا بددعا بچوں کے حق میں جلد قبول ہوجاتی ہے۔“ (مسلم)۔ بچوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنا، جس سے ان کی عزت نفس اور شجاعت متاثر ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ان غلطیوں سے محفوظ رکھے اور اسلامی طریقے پر بچوں کی تربیت کی توفیق دے۔ آمین۔

محترم قارئين! مذہب اسلام نے بچوں کی تربیت سے متعلق رہنما اصول مرتب کئے ہیں، جن پر عمل پیرا ہوکر ہم سماج کو ایک شائستہ، غیور اور مہذب نسل دے سکتے ہیں اور جس کی آج ضرورت ہے، آئیے ملاحظہ کریں کہ کن راستوں پر چل کر یہ نتیجہ حاصل کرسکتے ہیں۔

نیک بیوی کا انتخاب: بیوی، بچوں کی ماں ہوتی ہے اور ان پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہے،شادی کے لیے اخلاق مند اور دیندار خاتون کا انتخاب ہونا چاہئے۔

ابوالاسود الدولی اپنے بچوں سے مخاطب ہوتے ہیں: بیٹو! میں نے تم پر بچپن، جوانی اور پیدا ہونے سے پہلے بھی احسان کیا ہے۔ بیٹوں نے پوچھا: آپ نے ہماری پیدائش سے قبل کیا احسان کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا:میں نے تمہارے لیے ایسی ماﺅں کا انتخاب کیا جودیندار اور شریف تھیں۔“

اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ نیک اولاد کے لیے دعا کرنی چاہئے، جو آپ کے لیے ذخیرئہ آخرت بن سکے۔ جب بچے بڑے ہوجائیں تو ان کو بعض ذمہ داریاں سپرد کرنی چاہئیں، جیسے گھر کی نگہبانی، مہمانوں کی ضیافت، سودا سلف لانے کی  ذمہ داری، کمزوروں کی مدد، رفاہی اداروں کے ساتھ تعاون، یہ ساری چیزیں بچوں کے اندر خود اعتمادی لاتی ہیں اور  ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہیں۔ بچوں کے ساتھ ان کی عمر کے اعتبار سے معاملہ کرنا چاہئے، ایسا نہ ہو کہ بچو ں کے بڑا ہونے پر بھی چھوٹوں جیسا رویہ ان کے ساتھ اختیار کیا جائے، اس لیے کہ عمر کے ساتھ ان کی فکر بھی پروان چڑھتی ہے۔ بچوں کے درست مزاج کے لیے ضروری ہے کہ والدین خصوصاً باپ بچوں کے ساتھ گھر میں نشستیں کریں، سبق آموز قصے سنائیں اور ان سے محبت و انسیت کا اظہار کریں۔ باپ کو چاہئے کہ وہ بچوں کے احوال پر نظر رکھے، دور سے ان کی نگرانی کرے، ان کے ٹیلی فون (موبائل) اور جیب کی تلاشی اس انداز میں ہو کہ بچہ نہ جان سکے، تاکہ غلط عادتوں کی اصلاح ہو سکے۔ یہ منظر ہر گھر میں دیکھنے کو ملے گا کہ جب ماں بچوں پر سختی کرتی ہے تو باپ نرم پڑجاتا ہے اور جب باپ بچوں پر برستا ہے تو ماں نرم پڑ جاتی ہے، مثال کے طور پر بچہ غلطی کرے اور باپ اس کی پٹائی کردے تو وہ ہمیشہ سزا کے خوف سے باپ سے چھپتا پھرتا ہے، ایسی حالت میں ماں بچے کو آغوش میں لے کر اس کی غلطی بتاتی ہے اور آئندہ باز رہنے کی تلقین کرتی ہے، تو بچہ اپنی غلطی پر نادم ہوتا ہے اور والدین کی اطاعت کرتا ہے، یہ طریقہ تربیت کا مثالی طریقہ ہے۔ کبھی سزا کے ذریعے بھی تربیت کی جاتی ہے لیکن اصل یہ ہے کہ والدین بچوں کے معاملات میں نرمی سے کام لیں، جب ایک ہی غلطی بار بار دہرائی جائے تو اس پرسزا دی جائے، مگر تنہائی میں، لوگوں کے سامنے نہیں اور ایک حد میں پٹائی ہو، جو زخم نہ بنے، نفسیاتی سزا بھی دی جاسکتی ہے، جیسے بچوں کی تعریف نہ کرنا ، یا ان کو تحفوں سے محروم رکھنا ۔ گھر میں والدین ایک لائبریری قائم کریں جس سے بچے استفادہ کریں اور وقت کے ضیاع سے بچیں، نیز وقتاً فوقتاً بچوں کے درمیان انعامی مسابقے کرائے جائیں، جس سے ان کی تعلیمی رغبت برقرار رہے۔ والدین چاہتے ہیں کہ بچے ان کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک کریں، تو بچوں کو نیکی پر ابھاریں، ان کے ہر کام پر حوصلہ افزائی اور شکریہ ادا کرتے رہیں، بعض غلطیوں کو نظر انداز کردیا کریں، ہر لمحہ ٹوکنا اور مناسب وقت کا انتظار کئے بغیر نصیحت بسا اوقات بچوں کو باغی بنا دیتی ہے۔

 امام سفیان ثوری رحمه الله  کی ماں اپنے بیٹے سے کہتی تھیں: ”بیٹا توصرف علم حاصل کر، تیرے اخراجات کے لیے میرا چرخا چلانا کافی ہے“۔ یتیمی کی حالت میں سفیان ثوری پلے بڑھے اور وہ بھی اپنی ماں کی محنت سے، آگے چل کر آپ نے ایک عظیم امام اور محدث کی حیثیت سے شہرت پائی۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*