فتنوں میں مسلمانوں کا موقف اور اسکے شرعی اصول و ضابطے

 افادات: شیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ

ترجمہ وتلخیص: کرم اللہ بن عبدالرؤف مدنی

دانائی سے کام لیں

جب فتنے ظاہر ہونے لگیں یا حالات بدلنے لگیں تو ایسے نازک حالات میں نرمی و بردباری اور دانائی سے کام لیں اور جلد بازی نہ کریں۔ نرمی اس بنیاد پر کہ نرمی جس چیز میں ہوتی ہے اس کو عمدہ بناڈالتی ہے اور جس چیز سے نکال لی جاتی ہے اس کو عیب دار بنادیتی ہے۔ سارے کاموں میں نرمی کا خیال رکھیں، رحم دلی سے پیش آئیں، غصہ ور نہ بنیں ۔ دانائی اس لیے کہ آپ انے قبیلہ عبدالقیس کے اشج نامی آدمی سے کہا تھا”تمہارے اندر دو ایسی خصلتیں ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول پسند کرتے ہیں بردباری اور دانشمندی“ دانشمندی و دانائی عمدہ خصلت ہے ۔فتنے کے لمحات اور بدلتے حالات کے وقت بردباری قابل ستائش ہے کیونکہ بردباری کے ذریعہ ہر چیز کی اصلیت و حقیقت تک پہنچا جاسکتا ہے۔

غوروفکر کے بعد ہی حکم لگائیں

فتنہ کے ظہور اور حالات کے بدلتے وقت بغیر سوچے سمجھے آپ کسی چیز کے بارے میں حکم نہ لگائیں اس قاعدہ پر عمل کرتے ہوئے کہ ”کسی چیز پر حکم لگانا اس پر غوروفکر کرنے کے بعد ہوا کرتا ہے“ اللہ تعالی کا فرمان ہے : ولاتقف مالیس لک بہ علم(سورہ اسراء: 63) ”جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ“ یعنی ایسا معاملہ جس کو آپ نہیں جان رہے ہوں، اس کا پاس وخیال نہ ہو اور نہ ہی آپ کے پاس اس بارے میں کوئی ثبوت ہو تو اس سلسلے میں بات کرنے سے بچیں، چہ جائیکہ آپ اس میں لیڈر بنیں ۔

عدل وانصاف کوملحوظ رکھیں:

تمام کاموں میں عدل وانصاف کو لازم پکڑیں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :” اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو،گو وہ شخص قرابت دار ہی ہو۔“(سورہ انعام: 25`) اور فرمان الہی ہے:”کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل پر آمادہ نہ کردے،عدل کیا کروجو پرہیز گاری کے زیادہ قریب ہے۔“ (سورہ مائدہ: 8) اس کا معنی یہ ہے کہ آپ جس سے محبت کرتے ہیں اور جس سے محبت نہیں کرتے دونوں کو ایک میزان وکسوٹی پر رکھ کر پرکھیں اور اس کے بعد حکم لگائیں۔

جماعت کولازم پکڑیں:

 اللہ تعالی کا فرمان ہے: ”اوراللہ تعالی کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو ۔“(آل عمران : 301) اورنبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:”جماعت کو لازم پکڑو اوراختلاف سے بچو۔“ (ابوداؤد) حضرت عثمان رضى الله عنه منیٰ میں اتمام کرتے تھے جبکہ سنت یہ ہے کہ نمازی منیٰ میں ہر چار رکعت والی نماز کو دو دو رکعت پڑھے، حضرت عثمان رضى الله عنه  شرعی تاویل کی بناءپر چار رکعت ہی پڑھتے رہے ،اس کے باوجود حضرت عبداللہ بن مسعود رضى الله عنه کہا کرتے تھے نبی صلى الله عليه وسلم کی سنت یہی ہے کہ ہرچار رکعت والی نماز دورکعت ہی پڑھی جائے، ان سے پوچھا گیا کہ آپ یہ کہتے ہیں اور حضرت عثمان رضى الله عنه کے ساتھ چار رکعت پڑھتے ہیں آخرکیوں؟ تو انہوں نے فرمایا:”اختلاف بری بات ہے۔ اختلاف بری بات ہے“ (سنن ابوداود) اور ایسا ان کے شرعی قاعدہ کو سمجھنے کی وجہ سے ہوا کیونکہ جو اس کے برخلاف کرے گا اسکے اور دوسروں کے فتنہ میں پڑنے سے مامون نہیں رہا جاسکتا۔

شرعی میزان پر پرکھیں

جھنڈے جو فتنہ میں اٹھائے جاتے ہیں خواہ وہ دعاةکے ہوں یاملکوں کے‘ ضروری ہے کہ مسلمان ان کو صحیح کسوٹی پر وزن کریں ۔آپ دیکھیں کہ اس میں خالص اللہ تعالی کی عبادت وبندگی ہے یا نہیں ؟۔ رسالت محمدی کی گواہی پوری کی جاتی ہے یانہیں؟اوراس گواہی کا تقاضا ہے کہ شریعت مصطفوی کے مطابق فیصلہ کیا جائے ۔ کسوٹی پر پرکھنے کے بعد آپ پر لازم ہے کہ آپ کی محبت اس میزان کے لیے ہو جو صحیح طو ر پر اسلام کو بلندو بالا کرتا ہے ، پھرآپ ایسے لوگوں کو مخلصانہ نصیحت کریں۔ جب یہ میزان مشتبہ ہوجائے تو اس سلسلے میں مرجع علماء ہوں گے کیونکہ وہی لوگ صحیح شرعی حکم جانتے ہیں۔

فضیل بن عیاض رحمه الله اپنے وقت میں سلطان کے لیے کافی دعا کرتے تھے، ان سے کہا گیا کہ آپ ان کے لیے اپنے سے زیادہ دعا کرتے ہیں؟ فرمایا :ہاں کیونکہ اگر میں درست رہا تو میری درستگی اپنے لیے اور اپنے اردوگرد رہنے والوں کے لیے ہوگی ، رہا سلطان کی درستگی تو وہ عام لوگوں کے لیے ہوگی۔

قول وعمل میں چوکس رھیں

 فتنے کے وقت گفتاروکردارکے کچھ الگ ہی ضابطے ہوتے ہیں چنانچہ ہروہ بات جو آپ کو اچھی لگے اسے کہہ ڈالنا یا ہر وہ کام جو اچھا لگے اسے کر گزرنا مناسب نہیں، کیونکہ فتنے کی گھڑیوں میں ایسا کرنے سے متعدد مسائل کھڑے ہوتے ہیں۔

تعجب کی بات نہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضى الله عنه  نے کہا:”میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے دو بھرے برتن کے مانند حدیثیں یاد کیں (یعنی دوقسم کا علم سیکھا) جن میں سے ایک کو میں نے عام کردیا اور اگر دوسرے کوعام کرتا تو میری گردن کاٹ دی جاتی۔“(صحیح بخاری)

علماءکا کہنا ہے کہ اس سے مراد ایسی حدیثیں ہیں جو فتنے اور بنو امیہ وغیرہ سے تعلق رکھتی تھیں،شرعی احکام سے متعلق نہ تھیں اورحضرت ابوہریرہ رضى الله عنه نے یہ بات حضرت معاویہ رضى الله عنه  کے زمانے میں کہی جبکہ لوگ گھمسان کی لڑائی اورجنگ وجدال کے بعد ان کے سایہ تلے اکٹھا ہوچکے تھے، انہوں نے انہیں اس لیے چھپا لیا تاکہ لوگ جدائی کے بعد حضرت معاویہ رضى الله عنه پر جو یکجا ہوچکے تھے پھر لڑنے بھڑنے نہ لگیں۔ اسی لیے حضرت ابن مسعود رضى الله عنه فرماتے ہیں ”آپ لوگوں سے کوئی ایسی بات نہ کریں جو ان کی سمجھ سے باہر ہو اور ان کے لیے فتنہ کا سبب بن جائے“(صحیح مسلم)

فتنے کی گھڑیوں میں لوگ بات کواچھی طرح سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں،لہذا ہر وہ بات جو معلوم ہے‘ نہیں کہنی چاہیے ، زبان پر لگام لگانا ضروری ہے، کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ آپ کی بات پر کیسے اثرات مرتب ہونگے؟آپ کی رائے کیا رنگ لائے گی؟ سلف رحمہم اللہ اپنے دین کی سلامتی کے پیش نظر فتنوں کے وقت بہت سارے مسائل میں خاموش رہے تاکہ اللہ سے امن وسلامتی کے ساتھ ملیں۔ صحیح بخاری کی روایت ہے –

نبی صلى الله عليه وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : ”اگر تمہاری قوم کے لوگ کفر سے قریب نہ ہوتے(نئے مسلمان نہ ہوتے)تو کعبہ کو ڈھاکراس کو قواعد ِابراہیمی پربناڈالتا اور اس میں دو دروازے لگا دیتا۔“ نبی پاک صلى الله عليه وسلم کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کفارِقریش جو نئے نئے اسلام لائے ہیں کعبہ کو توڑکر اسکو قواعدِابراہیمی پر بنانے اور اسمیں دو دروازے لگانے (ایک سے داخل ہویاجائے اور دوسرے سے نکلا جائے)سے ایسا نہ ہو کہ لوگ غلط سمجھ لیں یا یہ سمجھ لیں کہ آپ فخر کرنا چاہتے ہیں یا آپ دینِ ابراہیمی کی بے حرمتی کرنا چاہتے ہیں یا کچھ اور خیال کربیٹھیں اس لیے آپ نے اسکو چھوڑدیا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*