سنہرے حروف

مولانا عبدالمالک مجاہد

جسے اللہ رکھے

علامہ قرطبى رحمه الله فرماتے ہیں : ”میں اندلس میں قرطبہ کے علاقے میں تھا کہ دشمن نے دیکھ لیا، وہ تعداد میں کافی تھے اور میں اکیلا۔ میں کسی طرح ان سے بھاگ نکلا اور چھپتا چھپاتا ایک طرف نکل گیا ، ادھر دشمن بھی میری تلاش میں تھا، میں ایک چٹیل میدان میں تھا کہ اچانک دو گھوڑ سوار مجھے تلاش کرتے ہوئے آگئے، چھپنے کی کوئی جگہ نہ تھی ، مجھے اور توکچھ نہ سوجھی، میں ذرا نشیبی زمین پر بیٹھ گیا، سورہ یس ٓ اور دوسری سورتیں پڑھنا شروع کیں، اچانک وہ دونوں میرے پاس سے باتیں کرتے ہوئے گذر گئے، پھر تھوڑی دیر کے بعد دوبارہ ان کا گزرمیرے سامنے سے ہوا، میں اسی جگہ بیٹھا رہا، میرے کانوں میں ان کی گفتگو کی آواز آرہی تھی ، ایک دوسرے سے کہہ رہاتھا: لگتا ہے وہ آدمی کوئی شیطان ہے، ورنہ ہمارے سامنے اس میدان میں تھا اب نظر نہیں آرہا، دراصل اللہ تعالیٰ نے ان کو وقتی طورپر اندھا کردیاتھا۔ وہ میرے سامنے سے گزرے اور واپس بھی آئے، چٹیل میدان میں تھا، کوئی آڑ نہ تھی،بس رب کو بچانا منظور تھا، اور اس نے اپنے فضل وکرم سے مجھے بچالیا۔ “ سچ ہے جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ۔

 جان دینا منظور ہے

خلیفہ معتصم باللہ جب خلق قرآن کے سلسلے میں امام احمد بن حنبل رحمه الله  کا موقف بدلنے سے عاجز آگیا تو اس نے ان پر مزید سختی شروع کردی ۔ اعلی تعذیب نصب کروایا،ظالم اور جابر جلاد مقررکیے اوربے پناہ تشدد کرایا۔جلاد کے سخت زدوکوب کی وجہ سے امام صاحب کا کندھا مبارک اکھڑ گیا ،پیٹھ مبارک سے خون کے فوارے جاری ہوگئے، خلیفہ معتصم آگے بڑھا اور گویا ہوا: یا احمد قل ھذہ الکلمة وانا افک عنک بیدی واعطیک ”احمد! صرف یہ ایک کلمہ کہہ دو کہ قرآن مخلوق ہے ،میں اپنے ہاتھوں سے تمہاری بیڑیاں کھول کر تمہیں آزاد کردوںگا اور تمہیں دنیا جہاں کی نعمتوں سے مالامال کردوں گا“ ۔ جواب میں امام احمد رحمه الله  صرف یہ فرماتے : ھاتوا آیةً أو حدیثاً ” قرآن کی کوئی آیت یا حدیث کی کوئی نص اس کی دلیل کے طور پر پیش کردو،میں فوراً اپنی رائے تبدیل کردوںگا “۔ خلیفہ معتصم نے دانت پیستے ہوئے جلاد سے کہا: یہ میری بات نہیں مان رہا ،تمہارے ہاتھ ٹوٹ جائیں ، تم نے اس پر زیادہ سختی نہیں کی، اور زیادہ قوت سے مارو، جلاد نے پوری قوت سے تازیانہ مارنا شروع کیا: امام صاحب کا گوشت پھٹ گیا ،خون کا فوارہ نکلا، خلیفہ کا ایک درباری عالم آگے بڑھا اور گویا ہوا : احمد بن حنبل ! کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتا : ولاتقتلوا أنفسکم ” اپنی جانوں کو قتل نہ کرو“ پھر کیوں خواہ مخوا ہ اپنی جان کے درپے ہواور خلیفہ کی بات نہ مان کر اپنے آپ کو ہلاک کر رہے ہو۔ امام احمد رحمه الله  نے فرمایا: أخرج وانظر أی شیء وراءالباب” باہر نکلو اور دروازے کے باہر دیکھو تمہیں کیا نظر آتا ہے“۔ اس نے محل کے صحن سے نکل کر جھانکا، دیکھا بیشمار لوگ کاغذ اور قلم پکڑے انتظار کررہے ہیں، درباری عالم نے مجمع والوں سے پوچھا : ”کس چیز کے منتظر ہو ؟“ لوگوں نے کہا: ننظرما یجیب بہ أحمد فنکتبہ ”ہم خلق قرآن کے مسئلے میں امام احمد رحمه الله  کے جواب کے منتظر ہیں تاکہ اس کو لکھ سکیں“ ۔ وہ درباری عالم واپس آیا اور امام احمد ؒ کو جب خبردی تو امام صاحب نے فرمایا: ”کیا میں ان تمام کو گمراہ کردوں ،اپنے آپ کو قتل کروالینا منظور ہے مگر ان کو گمراہ کرنا منظور نہیں ۔ “ امام احمد رحمه الله  پر اللہ کی کڑوروں رحمتیں ہوں۔

ہرمصیبت کا علاج

تین افراد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، ایک نے بارش کی قلت کی شکایت کی کہ کافی عرصہ سے بارش نازل نہیں ہوئی، فرمایا: ”کثرت سے توبہ واستغفار کرو۔“ دوسرے نے کہا: ”میرے ہاں اولادنہیں ہوتی ،میں اولاد کا خواہشمند ہوں۔“ فرمایا: ”کثرت سے استغفار کرو۔“ تیسرے شخص نے شکوی کیا: ”زمین میں قحط پڑگیا، غلہ پیدا نہیں ہوتا یا بہت کم ہوتا ہے ۔“ اس سے بھی فرمایا: ”کثرت سے توبہ واستغفار کرو۔“ آپ کے پاس جو لوگ بیٹھے تھے عرض گزار ہوئے ۔ نواسہ رسول ا!تینوں افراد مختلف شکایات لے کر آئے مگر آپ نے ایک ہی جواب دیا؟ فرمایا: ”کیاتم نے اللہ تعالی کا فرمان نہیںسنا:﴾  فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا، يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا ، وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا   (سورة نوح10،11،12) ”اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواؤاور معافی مانگو،وہ یقیناً بڑا بخشنے والا ہے ، وہ تم پر آسمان کو خوب برستا ہواچھوڑ دے گا اور تمہیں خوب مال واولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیے نہریں نکالے گا“۔

  وہ پھربھی مشتعل نہیں ہوا

احنف بن قیس رحمه الله اپنی بردباری اور حوصلے میں نہایت مشہور تھا،اس کو کبھی غصہ نہیں آیا، عربوںمیں اس کی یہ صفت مشہور ومعروف تھی۔ ایک دن اس کے کچھ دوست اکٹھے ہوئے اور ان میں شرط لگ گئی کہ اس کو لازماً غصہ دلایاجائے،انہوںنے ایک نوجوان کو تیار کیا،وہ احنف کے گھر گیا، احنف نے پوچھا: ”کیسے آئے ہو؟ “نوجوان کہنے لگا: ”میں ایک کام سے آیاہوں؟“ احنف: ”بتاؤکیاکام ہے ؟“

نوجوان: ”دراصل میں تمہاری ماںسے شادی کرناچاہتا ہوں، لہذا میں شادی کا پیغام لے کر آیاہوں۔ “

احنف نے اپنا سر اٹھایا اور نہایت اطمینان سے بولا:” تمہارا حسب ونسب نہایت معززاور بہترین ہے اور ہمیں تمہارے ساتھ سسرالی رشتہ جوڑنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے مگر بات یہ ہے کہ میری والدہ کی عمر بہت زیادہ ہوچکی ہے ۔وہ اب کم وبیش ستر سال کی ہے اور تم ایک خوبصورت نوجوان ہو،تمہیں تو ایک ایسی عورت چاہیے جو تمہاری ہم عمر ہو،محبت کرنے اور کرانے والی ہو،تمہارے بچوں کی ماں بن سکے اور تمہاری نسل بڑھاسکے۔ “پھر نوجوان سے کہا: ”جن لوگوں نے تمہیں میرے پاس بھیجا ہے ان کو بتادو کہ تم مجھے مشتعل نہیں کرسکے۔ “

 نیند اور موت

امام ابوحامدغزالی رحمه الله سے سوال ہوا :” حضرت !ہم علمائے کرام سے عذاب قبر کے بارے میں سنتے ہیں کہ میت کو اس کے گناہوں کی بدولت قبر میں عذاب ہوتا ہے ۔بعض ایسے مواقع آتے ہیں کہ قبر کو دوبارہ کھودنا پڑتا ہے تو ہمیں عذاب کی کوئی قسم یا اس کی کوئی علامت تو نظر نہیں آتی ۔ مثلاً نہ تو آگ نظر آتی ہے اور نہ ہی کوئی سانپ اور نہ ہی بچھو،اس کا سبب کیا ہے ۔“ انہوں نے تھوڑی دیر کے لیے سر جھکایا: غوروفکر کیا اور فرمایا: ”کبھی کبھارآپ نے سوئے ہوئے آدمی کو دیکھا ہوگا کہ وہ بستر پر کروٹیں بدل رہا ہے ، کبھی دیکھتا ہے کہ قاتل اس کی تلاش میں ہے ، کبھی سانپ اور بچھو کو اپنے تعاقب میں دیکھتا ہے ،کبھی دیکھتا ہے کہ آگ لگی ہوئی ہے اور وہ اس سے بھاگ رہا ہے یا جل رہا ہے اور خوف سے چیخ رہا ہے ،اس کو باقاعدہ درد ہوتا ہے ، وہ بعض اوقات چلاتا ہے ، مگر اس کے ساتھ کے لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کہ اس کے ساتھ کیا بیت رہی ہے ۔ بعض اوقات اگر ڈراؤنا خواب دیکھا تو نیند سے فوری اٹھنے کے بعد اس کی علامات بھی چہرے سے نظر آتی ہے ، چہرہ فق ہوتا ہے ، رنگ پیلا ہوتا ہے ، پسینہ آیا ہوتا ہے ،یہ نیند موت کی چھوٹی سی قسم ہے ،قبرکی نیند تو بڑی ہے ۔ قبر میں تکلیف اور عذاب اس کو ضرور ہوتا ہے جو اس کا مستحق ہوتا ہے ، خواہ ہماری آنکھیں اسے دیکھیں یا نہ دیکھیں ۔“

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*