غیبت اور اس کی تباہ کاریاں

 عبداللطیف محمد دین

سماج ومعاشرہ صاف ستھرا اور پاکیزہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ اس کے افراد نیک دل اور نیک طبیعت کے ہوں،ان کا سینہ اخلاص وللہیت سے معمور ہو،ان کی زبان جھوٹ ، چغلی،افتراءپردازی اورغیبت جیسی مذموم صفت سے پاک ہواور ان کے دل میں ایثار وقربانی اور باہمی جذبہ محبت کارفرماہو۔

آج ہمارے معاشرے میں متعدد اقسام کی بیماریاں سرایت کرگئی ہیںان بیماریوں میں سے ایک اہم بیماری غیبت ہے ۔ یہ ایسی بیماری ہے جو عوام ہی نہیں بلکہ سماج کے بااثر ذی شعور طبقہ کو بھی لاحق ہوگئی ہے اور اس با ت کا انہیں احساس تک نہیں ہوتا ہے کہ ان سے کوئی مذموم حرکت سرزد ہورہی ہے ۔

غیبت کا مطلب: غیبت کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے کے سامنے کسی کی برائیوں اور کوتاہیوں کا ذکر کیا جائے جسے وہ برا سمجھے ،جیسا کہ درج ذیل حدیث میں بیان کیا گیا ہے ۔

حضرت ابوہریره رضى الله عنه  کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  سے فرمایا:

تم جانتے ہو کہ غیبت کیاہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم  زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ا نے فرمایا: اپنے مسلمان بھائی کاذکر اسطرح کرناکہ وہ اسے ناگوار گذرے، لوگوںنے کہا: اگروہ برائی اس میں موجود ہوتو؟آپ ا نے فرمایا: ”اگراس کے اندر وہ برائی موجود ہوتو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ برائی اس کے اندر موجود نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔“(مسلم)

غیبت کی شناعت : غیبت ایک بھیانک جرم ہے کیونکہ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک آدمی کے عیوب کی تشہیر کرکے اس کی آبروریزی کی جائے حالانکہ یہ سراسر حرام ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اسے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے ۔ارشاد فرمایا: وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ  (سورة الحجرات 12)

”اورنہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے ،کیاتم میں کا کوئی اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے ،تم کو اس سے گھن آئے گی ،بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے “۔

اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ میں غیبت کو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دے کر اس فعل کی کراہیت کا خیال دلایاہے ،مردار کا گوشت کھانا بجائے خود نفرت کے قابل ہے ،اور وہ گوشت بھی کسی جانور کا نہیں بلکہ انسان کا ہو اور انسان بھی کوئی اورنہیں خوداپنا بھائی ہو ، پھر اس تشبیہ کو سوالیہ جملہ میں بیان کرکے اور زیادہ موثر بنادیاگیاہے ۔ تاکہ ہر انسان اپنے دل سے پوچھ کر خود فیصلہ کر ے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے لیے تیار ہے اور اگر کھانے کے لیے تیار نہیں ہے اوراس کی طبیعت اس چیز سے گھن کھاتی ہے تو آخر وہ یہ بات کیسے پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مومن بھائی کی غیرموجودگی میں اس کی عزت پر حملہ کرے جہاں وہ اپنی مدافعت نہیں کرسکتا ۔

غیبت کی حرمت پر متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں:

 حضرت جابر بن عبداللہ رضى الله عنه سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ تھے کہ سخت بدبو پھیلی تو آپ نے فرمایا: تم جانتے ہو یہ کیسی بدبو ہے ؟ پھر آپ صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا:

” ان لوگوں کی بدبو ہے جو مسلمانوںکی غیبت کرتے ہیں “۔ (مسنداحمد 3/351 )

دوسری حدیث کے اندر آتا ہے کہ عائشہ  نے صفیہ رضى الله عنها کی کوتاہ قامتی کا تذکرہ کیا جس پر آپ صلى الله عليه وسلم نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: لقد قلتِ کلمة لومُزجت بماءالبحر لمزجتہ (ابوداؤد) ”اے عائشہ ! تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر اس کو دریا کے پانی میں ملا دیا جائے تو دریا کا پانی متغیر ہوجائے “۔

لیکن اگر آج ہم اپنے معاشرے پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ معاشرے کے اندر غیبت جیسی مذموم خصلت اتنی عام ہوچکی ہے جس سے اہل اسلام کے اتحاد واتفاق کا جنازہ نکل گیا ہے اورایک دوسرے کی عزت وآبروپر کیچڑاچھالنا ان کا شیوہ بن چکاہے ۔

غیبت کا کفارہ : اگر کسی شخص کے سامنے غیبت کی قباحت عیاں ہوچکی ہے اور وہ اس عمل پر نادم وشرمندہ ہے تو اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس حرام فعل سے توبہ واستغفار کرتے ہوئے رک جائے ،پھر اگر وہ آدمی موجود ہو جس کی غیبت کی گئی ہے تو اس سے معافی مانگے ورنہ اس کے حق میں کثرت سے دعائے مغفرت کرے ۔

غیبت کا اخروی انجام: جولوگ دوسروںکی غیبت کرتے ہیں ان کے لیے قیامت کے دن دردناک عذاب ہوگا جیساکہ نبی اکرم انے فرمایا:

”جب میں معرا ج کو گیا تو جہنم کے مناظر میں یہ دردناک منظر بھی دیکھا کہ ایک جماعت کے ناخن تانبہ کے ہیں جن سے وہ اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے ہیں،میں نے جبریل ں سے پوچھا : یہ کون لوگ ہیں؟ حضرت جبریل ںنے فرمایا: ھولاءالذین یاکلون لحوم الناس ویقعون فی اعراضھم ”یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں  کاگوشت کھاتے تھے اور ان کی آبروریزی کرتے   تھے ۔“ (مسنداحمد)

  غیبت نیکیوں کو تلف کردیتی ہے :

 حضرت ابوہریرہ رضى الله عنه  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ایک دن صحابہ کرام رضى الله عنهم سے پوچھا : ”کیا آپ لوگ جانتے ہیں مفلس کون ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: مفلس تو وہی ہے جس کے پاس مال ومتاع نہ ہو،آپ نے فرمایا: مفلس میری امت میں وہ ہے جو قیامت کے دن صوم وصلاة ، زکاة سب عبادات لے کرآئے گا لیکن کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی کی آبروریزی کی ہوگی ، کسی کا مال کھایاہوگا، کسی کا خون بہایاہوگا ،کسی کو ماراپیٹا ہوگا ،لہذا کسی کواس کی فلاں نیکی دے دی جائے گی اور کسی کو فلاں نیکی دے دی جائے گی۔ اس طرح اس کی سب نیکیا ںدوسروںکے حقوق دینے سے پہلے ہی ختم ہوجائیں گی تب ان حقداروں کے گناہ اس پرلاد دئیے جائیں گے ،اور اس طرح وہ جہنم میں ڈال دیاجائے گا ۔“ (مسلم)

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*