عیدالفطر: احکام ومسائل

محمدانورمحمدقاسم سلفی (کویت)

 

   صدقہ فطر

عید کا چاند دیکھنے کے بعد سب سے پہلا فرض جو ایک مسلمان پر عائد ہوتا ہے وہ صدقة الفطر کا ادا کرناہے، صدقةالفطر رمضان المبارک کے روزوں سے فراغت پرديا جانے والاصدقہ ہے۔ اور اسے زکاة الفطر يا فطرہ بھی کہتے ہيں ۔اور یہ رمضان المبارک کے روزوں سے فارغ ہونے پر واجب ہوتا ہے۔

 صدقہ فطرکی غرض و غايت یہ ہے کہ اگر روزہ دار سے حالت روزہ ميں بتقاضائے بشریت کوئی نقص، یا کوتاہی ، یا لغو حرکت سرزد ہوگئی ہو تو وہ صدقہ فطر ادا کرنے سے دور ہوجائے اور انسان مکمل ثواب کا حقدار ٹہرے۔ اسی لیے نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے صدقہ فطر کی حکمت بيان کرتے ہوئے فرمايا:

”يہ روزے دار کے روزوں کو لغويات اور فحش گوئی سے پاک کرنے کےلئے ہے اور مساکین کےلئے عید کے دن کھانے کا بندوبست کرنے کا ذریعہ ہے“۔ (ابو داؤد)

 صدقہ فطر کا حکم : صدقہ فطر ہر مسلمان پر فرض ہے حضرت عمر رضى الله عنه سے روايت ہے۔

 ”رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے صيام رمضا ن سے فارغ ہونے پر ہر مسلمان پر صدقہ فطر فرض قرار ديا خواہ کوئی آزاد ہو يا غلام ‘ مرد ہو يا عورت ‘ چھوٹا ہو يا بڑا“۔(متفق علیہ)

 مذکورہ حديث پاک سے واضح ہے کہ صدقہ فطر تمام مسلمانوں پر فرض ہے خواہ انہوں نے روزے رکھے ہوں يا بيماری،بڑھاپے،يا بچپن کی وجہ سے نہ رکھے ہوں۔ حتی کہ علماء نے ذکر کیا ہے کہ جو فطرہ لینے کا مستحق ہے وہ بھی اگر ممکن ہو تودوسرے سے لے کر اسے ادا کرے ،اس کا مقصد یہ ہے کہ معاشرے کا ہر فرد اﷲ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ وخیرات دینے کا عادی ہو۔

صدقہ فطر کی جنس اور مقدار:جس علاقہ ميں جو چيز عمومی خوراک ہو اس سے ايک صاع  فی کس جس کی مقدارتقريباسوادو کلوگرام بنتی ہے صدقہ فطر ادا کرنا چا ہئے۔ سیدنا ابو سعيد خدری رضى الله عنه سے روايت ہے:

” ہم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے زمانے ميں غلہ میں کھجوريا کشمش (منقا)ياجو یا پنير سے ايک صاع صدقہ فطر دبا کرتے تھے ۔“(متفق علیہ)

فطرانہ کب ديا جائے :۔ صدقہ فطر نماز عيد سے پہلے پہلے ادا کرنا ضروری ہے تاکہ اس کی مشروعيت کا مقصد پورا ہوسکے ۔ نماز عيد کے بعد ادا کيا جانے والا فطرانہ شمار نہ ہوگا ، کيونکہ اس نے فرض کی ادائيگی ميں کوتاہی کی ہے ليکن ادا ضرور کرنا پڑے گا کيونکہ فرضيت کو پالينے کی وجہ سے انسان کے ذمے اس کااداکرناواجب اور فرض ہوجاتا ہے ۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضى الله عنهما کی روایت ميں ہے کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم  نے فرمايا :” جس نے فطرانہ نماز عيد سے پہلے ادا کرديا اس کا فطرانہ مقبول ہے اور جس نے نماز عيد کے بعد ادا کيا تو يہ عام صدقہ شمار ہوگا “۔( ابوداؤد )

اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے:

” حضرات صحابہ کرام رضوان الله أجمعين  عيد الفطر سے ايک يا دوروز قبل صدقہ فطر ادا کيا کرتے تھے“۔( بخاری )

ان احاديث مبارکہ سے واضح ہے کہ نماز عيد سے پہلے رمضان ميں کسی بھی وقت صدقہ فطر ديا جاسکتا ہے تاکہ فقراءومساکين بھی اپنی عيد کی ضروريات پوراکر سکيں ۔

عيد الفطر

 عيد عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی رجوع کرنا اور باربار پلٹ کر آنا ہے، چونکہ عيد ہر سال آتی،خوشياں لوٹاتی ہے، اس لیے اسے عيد کہا جاتا ہے ۔

اور فطر سے مراد افطارکرنا ہے چونکہ يہ عيد رمضان المبارک کے اختتام پر دن میں کھانے پینے کا پيغام لاتی ہے۔ اسی لیے اسے عيد الفطر کہا جاتا ہے۔

خوشی کا دن:عرب لوگ خوشی کے ہر اجتماع کو عيد کہتے ہےں۔ حضرت انس رضى الله عنه سے روايت ہے کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم  جب ہجرت کرکے مدينہ طيبہ ميں تشريف لائے تو آپ نے اہل مدينہ کو خوشی سے دوايام (نيروز اور مہرجان) مناتے اور ان ميں کھےلتے کودتے ديکھا تو فرمايا کہ ان دو ايام کی حقيقت کيا ہے؟ تو لوگوں نے بتايا کہ زمانہ جاہليت سے ہم ان دو دنوں ميں کھيلتے اور خوشياں مناتے ہيں۔ جس پر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمايا:” ان ايام کو ترک کردو اللہ تعالی نے آپ کو ان کے بدلے ان سے بہتر دو دن عطا کئے ہيں: عيدالاضحی کا دن اور دوسرا عيد الفطر کا دن۔“ (ابوداؤد)

يہی دو عيديں ہيں جو نبی اکرم صلى الله عليه وسلم اور صحابہ کرام رضوان الله أجمعين کے دور ميں تھيں ، انکے علاوہ باقی تمام عیدوں کا ثبوت کتاب وسنت میں نہیں ہے۔

نمازعيد کی مشروعيت: 2 ہجری کو رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے اور اسی سال پہلی نماز عيد الفطر اداکی گئی۔

   عيد الفطر کے آداب واحکام

عيدالفطر کا چاند ديکھنے کی دعا: نبی اکرم صلى الله عليه وسلم جب نيا چاند ديکھتے تو يہ دعا فرماتے:”یاالٰہی! اس چاند کو ہم پر برکت اور ایمان اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ طلوع کر اور ہم کو اس چیز کی توفیق دے جس سے تو راضی اور خوش ہوتا ہے ، اے چاند! میرا اور تیرا پروردگار اﷲ ہے۔ “(ترمذی)

تکبےرات: چاند نظرآنے کے وقت سے لے کر امام کے خطبہ عيد سے فارغ ہونے تک تکبيرات کہنايعنی بآواز بلند تکبيرات اَللّٰہُ اَکبَرُ اَللّٰہُ اَکبَرُ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ ُ اَللّٰہ ُ اَکبَرُ اللّٰہُ اَکبَرُ وَلِلّٰہِ الحَمدُ پڑھناچاہئے۔  (ابن ابی شيبہ) ليکن عورتيں اس قدر اونچی آوازسے تکبيرات کہيں کہ غير محرم ان کی آوازنہ سن سکيں۔

”حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب عيد الفطر اور عيد الاضحی کےلئے جاتے تو بآواز بلند تکبيرات کہتے حتی کہ عيد گاہ ميں پہنچ جاتے اور وہاں امام کے آنے تک بآواز بلند تکبيرات کہتے رہتے“۔(صحیح الدار قطنی)

 عيد الفطر ميں تکبےرات کا آغاز چاند دیکھنے سے ہوگا اور اختتام عيد کے آخر پر يعنی امام کے خطبہ عيد سے فارغ ہونے پر ہوگا۔

غسل کرنا: نماز عيد کے لیے غسل کرنا مستحب ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے شاگرد نافع بيان کرتے ہيں: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نمازعيد الفطر کے لیے جانے سے قبل غسل فرمايا کرتے تھے ۔

   (الموطا1/115 ومسندعبدالرزاق باسناد صحيح)

عمدہ لباس:عيد کے روز نيا يا صاف ستھرا اور عمدہ لباس پہننا سنت ہے۔حديث پاک ميں ہے :

”نبی صلى الله عليه وسلم ہر عيد کے موقع پر دھاری دارخوشنمايمنی چادر اوڑھاکرتے تھے۔ “ امام ابن القيم رحمه الله فرماتے ہيں:

 ”نبی اکرم صلى الله عليه وسلم عيدين کے موقع پر اپنا سب سے عمدہ لباس زيب تن فرماتے، آپکے پاس ايک انتہائی خوبصورت جبہ تھا جسے آپ عيدين اور جمعہ کے لیے پہنا کرتے  تھے۔“ (زادالمعاد)

خوشبولگانا: خوشبو لگانا نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی محبوب سنت ہے۔ حضرت انس رضى الله عنه  روايت کرتے ہيں:”رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ہميں عيدين کے موقع پر بہتر سے بہتراور عمدہ سے عمدہ خوشبو استعمال کرنے کا حکم ديا۔“(رواہ الحاکم)

نمازعيدسے قبل کچھ کھانا پينا: نماز عيد الفطر کے لیے جانے سے پہلے کچھ کھانا پینا سنت ہے کيونکہ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمايا: عيد کا دن کھانے پينے کا دن ہوتا ہے۔ اس دن کا روزہ رکھناجائز نہيں۔ خادم رسول حضرت انس  رضى الله عنه سے روايت ہے:

”رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نماز عيد الفطر کے لیے جانے سے قبل طاق تعداد ميں کھجوريں تناول فرمايا کرتے تھے۔يعنی تين پانچ يا سات“۔(بخاری)

عيد گاہ کی طرف جانا: کھلے ميدان ميں نماز عيد ادا کرنا افضل ہے ليکن بحالت مجبوری مسجد ميں بھی ادا کی جاسکتی ہے۔حضرت ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے روايت ہے:”رسول اللہ صلى الله عليه وسلم عيد الفطر اور عيد الاضحی کے روز باہر عيدگاہ ميں نماز ادا کيا کرتے تھے۔“(بخاری)

عورتوں کے لیے عيد گاہ ميں جانا:

عورتيں خواہ جوان ہو ں يا بوڑھی انہيں بھی عيد گاہ ميں ضرور جانا چاہئے حتی کہ حائضہ اور نفاس والی عورتوں کو بھی عيد گاہ ميں جانے کی ترغيب دلائی گئی ہے وہ نمازمیں شريک نہيں ہوں گی ليکن باقی وعظ و ارشاد اور دعا ميں شرکت کريں گی۔ ام عطيه رضى الله عنها سے روايت ہے: ” ہميں حکم ديا گيا کہ دونوں عيدوں کے موقع پرحائضہ اورپردہ نشيں عورتوں کو بھی عيدگاہ ميں لے جائيں تاکہ وہ بھی مسلمانوں کے ساتھ خوشی اور دعا ميں شريک ہوں۔ البتہ حائضہ عورتيںنماز پڑھنے کی جگہ سے الگ رہيں۔ ايک عورت نے دريافت کيا کہ يا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  اگر کسی کے پاس چادر نہ ہوتووہ کيسے عيدگاہ آئے تو آپ صلى الله عليه وسلم  نے فرمايا:کوئی دوسری عورت اپنی چادر ميں پردہ کرادے۔“(رواہ البخاری)

عيدگاہ کی طرف پيدل جانا:۔اگر ممکن ہوتونماز عيد کے لیے پيدل چل کر جانا افضل ہے۔اس سے راستے ميں تکبيرات اور لوگوں کو سلام کہنے کا زيادہ موقع ملے گا ۔ اور نقل الاقدام الی الجماعات کی فضيلت بھی حاصل ہوجائے گی ۔ ليکن اگر عيدگاہ دور ہويا کسی کے لیے چلنا دشوار ہوتو وہ سورای پر بھی جاسکتے ہيں۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روايت ہے: ” رسول اللہ صلى الله عليه وسلم عيدگاہ کی طرف پيدل جاتے اور پيدل ہی واپس تشريف لاتے تھے۔“( صحيح سنن ابن ماجہ1078)

 حضرت علی رضى الله عنه سے روايت ہے کہ عيدگاہ کی طرف پيدل چل کر جانا سنت ہے۔ ( صحيح سنن ابن ماجہ1070)

عيدگاہ سے واپسی پر راستہ تبديل کرنا: عيد گاہ سے واپسی پر راستہ تبديل کرنا سنت ہے ، اس سے زيادہ لوگوں سے ملاقات اور انہيں سلام کہنے اور ان سے ملنے کا موقع ملتا ہے : حضرت جابر رضى الله عنه  سے روايت ہے کہ ”نبی اکرم صلى الله عليه وسلم عيد کے روز راستہ تبديل کرکے عيدگاہ آتے اور جاتے تھے ۔“ ( بخاری )

نماز عيد کا وقت : طلوع آفتاب يعنی اشراق کے وقت سے نماز عيد کا وقت شروع ہوجاتا ہے ليکن نبی اکرم صلى الله عليه وسلم اشراق کے بعد عيد الاضحٰی کی نماز جلدی ادا فرماتے تھے کيونکہ لوگوں کو قربانی کرنی ہوتی تھی اور عيد الفطر کی نماز ميں کچھ تاخير فرماتے کيونکہ ايک تو اس ميں قربانی نہيں ہے اور دوسرا جن لوگوں نے ابھی صدقة الفطر ادا نہيں کيا ہو وہ ادا کرليں ۔

حضرت جندب رضى الله عنه سے روايت ہے : ” نبی اکرم صلى الله عليه وسلم ہمےں عيد الفطر کی نماز اس وقت پڑھاتے جب سورج دو نيزے بلند ہوجاتا اور عيد الاضحٰی کی نماز اس وقت جب سورج ايک نيزہ بلند ہوجاتا ۔“( نيل الاوطار :3/ 310)

اس سے معلوم ہوا کہ جب سورج تقريبا تين ميٹر بلند ہوجائے اس وقت عيد الفطر کا وقت شروع ہوجاتا ہے اور زوال تک رہتا ہے ليکن اول وقت ميں پڑھنا افضل اور سنت ہے کيونکہ ’رمح ‘کی مقدار تين ميٹر کے قريب ہے يعنی اس وقت سے شروع ہوجاتا ہے ۔

عيد گاہ ميں نوافل : نماز عيد کے لیے جاتے ہوئے راستے ميں اور پھر عيد گاہ ميں نماز شروع ہونے تک بآواز بلند تکبيرات پڑھتے رہنا چاہئے يعنی اَللّٰہُ اَکبَرُ اَللّٰہُ اَکبَرُ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ ُ اَللّٰہ ُ اَکبَرُ اللّٰہُ اَکبَرُ وَلِلّٰہِ الحَمدُ لبکن عبدگاہ مبں نماز سے قبل اور بعد مبں نفل ادا کرنا نبی اکرم صلى الله عليه وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان الله أجمعين سے ثابت نہيں ہے ، بلکہ صحابہ کرام  رضوان الله عليهم أجمعين اسے نا پسند اور مکروہ سمجھتے تھے ۔ ليکن مسجد ميں نماز عيد کے لیے جائيں تو وہاں بيٹھنے سے پہلے دو رکعت تحية المسجد ادا کرنی چاہئے اور اگر نماز شروع ہوچکی ہو اور بيٹھنے کا ارادہ نہ ہو تو ايسی صورت ميں تحية المسجد کی ضرورت نہيں ۔ حضرت ابو قتادة السلمی رضى الله عنه  سے روايت ہے کہ رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم نے فرمايا :

”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد ميں داخل ہو تو اسے بيٹھنے سے پہلے دو رکعت ادا کرنی چاہئے ۔“( بخاری )

نماز عيد کے لیے اذان اور اقامت : نماز عيد کے لیے اذان اور اقامت يا نماز کا اعلان کرنا نبی اکرم صلى الله عليه وسلم اور اسلاف امت سے ثابت نہيں ۔ حضرت جابر بن سمرة رضى الله عنه سے روايت ہے :

”ميں نے کئی مرتبہ رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ نماز عيدين ادا کی بغير اذان اور اقامت کے“۔(مسلم )

نماز عيد کا حکم : نماز عيد ہر مسلمان عاقل بالغ مرد وعورت پر واجب ہے سوائے ان عورتوں کے جو حالت ماہواری یا نفاس میں ہوں۔

نماز عيد کا طريقہ : نماز عيد دو رکعت ہے ، باقی نمازوں کی طرح اس کی نيت بھی دل ہی سے کی جائے گی ، امام صاحب تکبيرات بلند آواز سے اور قراءت جہراً کريں گے ۔

پہلی رکعت ميں دعا ئے استفتاح کے بعد سات تکبيريں يعنی معمولی وقفے کے ساتھ سات مرتبہ ” اَﷲ ُ اَکبَر“ کہہ کر کندھوں کے برابرہاتھ اٹھائیں اور پھر(سینے پر) باندھ ليں ۔ ساتويں مرتبہ اَﷲ ُ اَکبَرکہنے کے بعد ہاتھ باندھ کر تعوذ اَعُوذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیمِ پڑھبں اور پھر تسمبہ بِسمِ اﷲِ الرَّحمنِ الرَّحِیمِ اور اس کے بعد پھر سورہ فاتحہ اور سورة الاعلیٰ با سورة ق پڑھیں۔ اس کے بعد اَﷲ ُ اَکبَر کہہ کر دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر تک اٹھائبں اور پھر رکوع مبں چلے جائبں۔ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے سَمِعَ اللّہُ لِمَن حَمِدَہ کہہ کر دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھائبں اور پھر رَبَّنَاوَ لَکَ الحَمدُ حَمدًا کَثِیرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِيہِ پڑھيں اور باقی رکعت مکمل کريں ۔

سجدوں کے بعد جب دوسری رکعت کے لیے اٹھيں تو قراءت سے پہلے پانچ تکبيرات تک ہاتھ اٹھائيں اور باندھ ليں، پانچويں مرتبہ تکبير کہنے کے بعد اَعُوذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیمِ پڑھيں اور پھر بِسمِ اﷲِ الرَّحمنِ الرَّحِیمِ اور اس کے بعد پھر سورہ فاتحہ اور سورة الغاشية يا سورة القمر پڑھيں اور باقی رکعت عام نمازوں کی طرح پوری کرليں ۔ ( ترمذی ، احمد ،ابن ماجہ )

حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضى الله عنه فرماتے ہيں :

زوائد تکبيرات کے دوران اﷲ کی حمد وثنا سُبحَانَ اللّہِ ، اَلحَمدُ لِلّہِ کہنا چاہئے ۔ ( حسن ، بيہقی ) اگر مقتدی ہو تو عام نماز کی قراءت کے مطابق فاتحہ کی تلاوت کرے اور اس کے بعد خاموش ہوکر امام صاحب کی قراءت سنے ۔ باقی تمام امور اور تکبيرات ميں امام کی اقتداء اور پيروی کرے ۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*