ماہ ِرمضان کا پانا نعمت ہے

 ڈاکٹر حافظ محمداسحاق زاہد

 حضرت طلحہ بن عبیداللہصبیان کرتے ہیں کہ دو آدمی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں نے بیک وقت اسلام قبول کیا ،اس کے بعد ان میں سے ایک آدمی زیادہ عبادت کرتا تھا اوروہ اللہ کی راہ میں شہید ہوگیا ،جبکہ دوسرا آدمی ‘جوکہ پہلے آدمی کی نسبت کم عبادت گذارتھا اُس کی شہادت کے ایک سال بعد فوت ہوا ۔ حضرت طلحہ رضى الله عنه فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ یہ دوسرا آدمی شہادت پانے والے آدمی سے پہلے جنت میں داخل ہوا ہے ۔ جب صبح ہوئی تومیں نے یہ خواب لوگوں کوسنایاجس پر انہوں نے تعجب کا اظہار کیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:

ألیس قد مکث ھذا بعدہ سنةً فأدرک رمضان فصامہ، وصلیٰ کذا وکذا سجدةً فی السنة، فلما بینھما أبعد مما بین السماءوالأرض۔

”کیا یہ دوسرا ٓدمی پہلے آدمی کے بعد ایک سال تک زندہ نہیں رہا ؟ جس میں اس نے رمضان کا مہینہ پایا،اس کے روزے رکھے اور سال بھر اتنی نمازیں پڑھیں؟ تو ان دونوں کے درمیان (جنت میں) اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین وآسمان کے درمیان ہے ۔“(ابن ماجہ :3925 صحیح ابن حبان 2982 صحیح الجامع الصغیر للالبانی 1316)

تشریح : اس حدیث میں ذرا غور فرمائیں کہ دو آدمی اکٹھے مسلمان ہوئے ،ان میں سے ایک دوسرے کی نسبت کم عبادت کرتا تھا اوراس کی موت عام موت تھی لیکن کیا وجہ ہے کہ یہ جنت میں پہلے داخل ہوا ؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ پہلے آدمی کی شہادت کے بعد ایک سال تک زندہ رہا اور اس دوران اسے رمضان المبارک کا مہینہ نصیب ہوا جس میں اس نے روزے رکھے اور سال بھر نمازیں بھی پڑھتا رہا …. تو روزوںاور نمازوں کی بدولت وہ شہادت پانے والے آدمی سے پہلے جنت میں چلا گیا ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ رمضان المبارک کا پانا اور اس کے روزے رکھنا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے ۔

آپ ذرا غور کریں کہ ہمارے کتنے رشتے دار اورکتنے دوست احباب پچھلے سال رمضان المبارک میں ہمارے ساتھ تھے لیکن اس رمضان المبارک کے آنے سے پہلے ہی وہ اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے اور انہیں یہ مبارک مہینہ نصیب نہ ہوا ۔ جبکہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے زندگی اور تندرستی دی اوریہ مبارک مہینہ نصیب فرماکر ہمیں ایک بار پھر موقعہ دیا کہ ہم تمام گناہوں سے سچی توبہ کرلیں اور اپنے خالق ومالک اللہ تعالی کو راضی کرلیں …. تو کیا یہ اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت نہیں ۔

اوریہ بھی ہوسکتا ہے کہ رمضان المبارک ہماری زندگی کا آخری رمضان ہو اور آئندہ رمضان کے آنے سے پہلے ہی ہم بھی اس جہانِ فانی سے رخصت ہوجائیں ! تو ہمیں یہ موقع غنیمت تصور کرکے اس کی برکات کو سمیٹنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے ۔ (زادالخطیب سے ماخوذ)

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*