شبِ قدر کی فضیلت

 ڈاکٹرمحمدلقمان السلفی

 ”بیشک ہم نے قرآن کو لیلة القدر یعنی باعزت وخیروبرکت والی رات میں نازل کیا ہے ۔اورآپ کو کیا معلوم کہ لیلةالقدرکیا ہے ۔لیلة القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اس رات میں فرشتے اور جبریل روح الامین اپنے رب کے حکم سے ہر حکم لے کر آترتے ہیں۔ وہ رات سلامتی والی ہوتی ہے طلوع فجر تک ۔ “

تشریح :

٭اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے خبر دی ہے کہ اس نے قرآن کو ایک باعزت اور خیروبرکت والی رات میں نازل کیا ہے ۔پورا قرآن لیلة القدرمیں لوح محفوظ سے آسمانِ دنیا پر نازل ہوا،پھر وہاں سے جستہ جستہ  حسب ضرورت نبی کریم ا پر نازل ہوتا رہااور 23 سال میں اس کے نزول کی تکمیل ہوئی ۔

ان آیا ت میں قرآن کریم کی بہت بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے ،جس کی تعبیر ان الفاظ میں کی گئی ہے کہ ہم نے قرآن کی عظمت واہمیت کے پیش نظر اسے ایک نہایت ہی معظم ومکرم اور بابرکت رات میں نازل کیا ہے ۔اسی مضمون کو اللہ تعالی نے سورة الدخان آیت (3) میں یوں بیان فرمایاہے: ”بیشک ہم نے قرآن کو ایک بابرکت رات میں نازل کیا ہے ،بیشک ہم ڈرانے والے تھے“۔ اور یہ رات ماہِ رمضان میں تھی،جس کی تصریح اللہ تعالی نے سورة البقرة آیت (58) میں فرمادی ہے : ”رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا“۔

٭اللہ تعالی نے لیلة القدر کی عظمت واہمیت بیان کرنے کے لیے نبی کریم اکومخاطب کرکے کہا: آپ کو کیا معلوم کہ لیلة القدر کیاہے؟لیلةالقدر ایسے ہزار مہینوں سے بہتر ہے جن میں کوئی لیلة القدر نہ ہو ،یعنی ایک لیلة القدر تراسی سال اورچار ماہ سے بہتر ہوتی ہے ، اس لیے کہ اس میں فرشتے اور جبریل علیہ السلام اپنے رب کے حکم سے آسمان سے زمین پر اترتے ہیں درآنحالیکہ ان کے پاس آنے والے سال سے متعلق رب العالمین کے تمام فیصلے اوراحکام ہوتے ہیں جیساکہ سورةالدخان آیت (۴،۵) میں آیا ہے ”اسی رات میں ہر پُرحکمت کام کا فیصلہ کیاجاتاہے،ہمارے پاس سے حکم ہوکر،ہم ہی ہیں رسول بناکر بھیجنے والے “۔

٭لیلة القدر سراسر سلامتی اور خیر ہی خیر ہوتی ہے ،اس میں کوئی شر نہیں ہوتا ،اور یہ خیروسلامتی غروب آفتاب سے طلوع فجر تک باقی رہتی ہے ۔ بعض لوگوں نے سلامتی والی رات کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ مومنین اس رات کو شیاطین کے شر سے محفوظ رہتے ہیں، یا یہ کہ فرشتے مومنوںاورمومنات کو سلام کرتے ہیں ۔

لیلة القدر کی تعیین کے بارے میں علماءکے چالیس سے زیادہ اقوال ہیں ،سب سے قوی روایت یہ ہے کہ یہ رات ماہِ رمضان کی آخری دس راتوں میں آتی ہے ، بخاری ومسلم اوراحمد وترمذی نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ انے فرمایا: ”لیلة القدر کو رمضان کی آخری دس راتوںمیں سے طاق راتوںمیں تلاش کرو“۔اسی لیے نبی کریم ا ان دس راتوںمیں عبادت کا بڑا اہتمام کرتے تھے ،اعتکاف کرتے تھے اورعباد ت کے لیے خود بھی جگتے تھے اوراپنے گھر والوں کو بھی جگاتے تھے۔ دیگرصحیح احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ طاق راتوںمیں سے کوئی رات ہوتی ہے ۔ اُبی بن کعبص سے زربن حبیش نے شب قدر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے قسم کھاکر کہا کہ وہ ستائیسویں رات ہے ۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں ابوذر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے ،انہوں نے کہا کہ عمرؓ، حذیفہ  اوردیگربہت سے صحابہ کواس میں کوئی شبہ نہ تھا کہ وہ رمضان کی ستائیسویں رات ہے ۔

مذکورہ بالا احادیث کو مدنظر رکھتے ہوئے ،نیزمعاویہ،ابن عمر،اور ابن عباس ث سے اس بارے میں جو روایات آئی ہیں ان کے پیش نظر علمائے سلف کی ایک بڑی تعداد نے ستائیسویں رات کو ہی لیلة القدر سمجھا ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب۔

بہرحال لیلة القدر سے متعلق احادیث کا مطالعہ کرنے سے اتنی بات ضرور سمجھ میں آتی ہے کہ مسلمان کی زندگی میں اس رات کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے ،اسی لیے اسے پانے کے لیے ہرممکن کوشش کرنی چاہیے، اورنبی کریم اکی اتباع میں رمضان کی آخری دس راتوں میں عبادت کا خوب اہتمام کرنا چاہیے،اعتکاف کرنا چاہیے اوراپنے بچوںکو بھی ان راتوں میں عبادت کے لیے جگاناچاہیے۔وباللہ التوفیق (تیسیرالرحمن لبیان القرآن )

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*