آؤ سجدے میں گریں اورلوح جبیں تازہ کریں

جب یہ شمارہ آپ تک پہنچے گا ہم سب رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں داخل ہوچکے ہوںگے ،یہ عشرہ پورے رمضان کا خلاصہ ہے ،اس کے دن روزہ رکھنے کے اوراس کی راتیں عبادت کرنے کی ہیں ،اس عشرے میں ہی وہ رات آتی ہے جسے قرآن مجید نے ہزار مہینوں سے افضل قراردیاہے ،جودراصل ایک طویل زندگی پانے والے انسان کی مدت ِعمر ہے ،جس میں فرشتے جبریل امین کی معیت میں قطار اندر قطارنازل ہوتے ہیں ،جس میں پورے سال کے لیے اجل اوررزق کے فیصلے ہوتے ہیں،جوطلوع فجر تک خیروسلامتی اور برکت کی رات ہوتی ہے ۔ یہ رات امت محمدیہ پر خالق کائنات کی طرف سے ہونے والی خصوصی عنایات میں سے عظیم عنایت ہے ،جس خوش نصیب کواس رات میں شب بیداری کی توفیق مل گئی گویا اس نے تراسی برس چارماہ سے زائد کا زمانہ کامل عبادت میں گذارا۔ہمارے حبیب کی زبانی جو اس شب کے برکات سے فیضیاب ہوا وہ واقعی کامیاب ہے اورجس نے کوتاہی کی وہ سب سے بڑا محروم انسان ہے۔ اس عشرے کا پیغام رجو ع الی اللہ،توبہ وانابت ،گریہ وزاری ،نالہ نیم شبی اورآہ سحرگاہی ہے ۔ان دنوںمیں ایک مومن کے شب وروزکے معمولات بالکل بدل جانے چاہئیںکہ یہی سنت حبیب ہے ،اعتکاف کرناچاہیے ،شب بیداری کرنی چاہیے اوراپنے تمام اہل خانہ کوبیدار رکھنا چاہیے ۔

صدیقہ بنت صدیق رضى الله عنها  نے جب ہمارے آقا سے اس رات کا وظیفہ پوچھا توآپ نے فرمایاتھا: یوں پڑھا کرو: اللھم انک عفو تحب العفو فاعفعنی ”اے اللہ! تومعاف کرنے والا ہے ،معافی کو پسند کرتا ہے ،پس تومجھے معاف کردے “۔گویا ان راتوںمیں بکثرت دعا اوراستغفار کا اہتمام کرناچاہیے۔

عزیز قاری ! دنیاکا یہ دستورہے کہ جب کسی کو کوئی ضرورت پیش آتی ہے تواس کی تکمیل کے لیے ایسے لوگوںکے پاس جاتا ہے جن سے اس کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں ،لیکن کبھی تو اس کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے اور کبھی نامراد لوٹتا ہے البتہ جس ذات نے انسان کوبنایاہے ،اس پر اپنی بے پناہ نعمتیںکی ہیں اس کا دروازہ ہروقت ،ہرآن اور ہرلمحہ کھلا ہوا ہے ۔وہ کمالِ شفقت سے اپنے بندوںکوبلاتا ہے اِدھر اُدھر مت جاؤ ،دردرکی ٹھوکریں مت کھاؤ ادعونی اَستجب لکم ہم سے مانگوہم تمہیں دیں گے ،ہمیں پکاروہم تمہاری پکار سنیں گے ،وہ ذات غنی ہے ، اس کے دربارسے کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا ،اس کے خزانے میں کسی چیز کی کمی نہیں ،اگرشروع انسانیت سے قیامت تک کے انس وجن ایک کھلے میدان میں جمع ہوکر اس سے اپنی مرادیں مانگیں ،اورہرایک کواس کے سوال کے مطابق عطاکردے تو اس سے اس کے خزانے میں اتنی ہی کمی ہوگی جتنی کمی سوئی کوسمندر میں ڈال کرنکالنے سے سمندرکے پانی میں ہوتی ہے ۔دنیاوالے مانگنے سے ناخوش ہوتے ہیںلیکن اس کی شان کریمی دیکھو کہ جواس سے مانگتا ہے اس سے خوش ہوتاہے اورجو اس سے نہیں مانگتا اس سے ناخوش ۔ ایک بندہ جب تواضع وانکساری سے اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے تواسے شرم آتی ہے کہ اپنے بندے کو خالی ہاتھ کیسے لوٹائے کیونکہ وہ بے پناہ حیاوکرم والا ہے ۔

وہ سمندر کی تہہ سے پکارنے والوں کی پکار کوبھی سنتا ہے ،خلوت میں اللہ کے ڈر سے گرنے والے آنسوؤں پر بھی نظر رکھتا ہے ،مظلوم کے نہاں خانہ دل  سے نکلنے والی فریادکوبھی سنتا ہے اورشب دیجورمیں گریہ وزاری کرنے والے کی گریہ پر بھی دھیان رکھتا ہے۔ اس نے آدم عليه السلام  کی پکارسنی ہے ،    ابراہیم عليه السلام  اورزکریا عليه السلام  کوبڑھاپے میں اولاد سے نوازاہے ، نوح عليه السلام  کی دعا قبول کی ہے ،ایوب عليه السلام  کی فریادرسی کی ہے ، یونسں عليه السلام  کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی ہے، اپنے حبیب کی سنی ہے ،صدیق کی سنی ہے ،شہداءوصالحین کی سنی ہے ۔

  کہاں ہیں وہ مظلوم جن پر دنیا والوںنے ظلم کیا ہے ، کہاں ہیں وہ ضرورتمند جنہیں دنیا نے دھتکارا ہے ، کہاں ہیں وہ پریشان حال ، دل شکستہ اور بے کس جس نے ہرجگہ کی خاک چھانی ہے اللہ کا دروازہ ہروقت کھلا ہے ،اس کی باران رحمت ہمیشہ برستی ہے ،اس کے ہاں دعائیں رائیگاں نہیں ہوتیں ،وہ تو رات کے سہہ پہر میں سمائے دنیاپر اُتر کر اعلان کرتا ہے : ”ہے کوئی جو مجھے پکارے میں اس کی پکار سنوں، ہے کوئی جو مجھ سے مانگے میں اس کو دوں،ہے کوئی جو مجھ سے مغفرت طلب کرے کہ اسے معاف کردوں؟ “ مانگنے کا سب سے مناسب وقت آچکا ہے ،جس سے بھی کسی طرح کی کوتا ہی ہوئی ہے اس عشرے میںکمرہمت باندھ لے، روئے ،گڑگڑائے،آنسو بہائے کہ اگر صبح کا بھولا ہوا شام گھر لوٹ آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے 

       سرکشی نے کردئیے دھندلے نقوش بندگی آؤ سجدے میں گریں اورلوح جبیں تازہ کریں

                           صفات عالم محمدزبیرتیمی               

                safatalam12@yahoo.co.in 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*