مولانا محمد طاہر مدنی سے ایک ملاقات

محمد خالد اعظمی(کویت)

taleem95@hotmail.com

مولانامحمد طاہر مدنی سے شناسائی عرصہ دراز سے ہے، گزشتہ رمضان المبارک میں جب وہ کویت کے دعوتی اور علمی دورہ پر تشریف لائے توماہنامہ مصباح کے لیے ان سے ایک تفصیلی انٹرویو لیاگیا جس کی تفصیلات پیش خدمت ہیں:

 سوال : آپ کا ذاتی تعارف ؟

جواب : میرا پورانام محمدطاہر مدنی ہے ، میرے والد کا نام مولانا صغیر احسن اصلاحی ہے ۔میری تاریخ پیدائش 22 مارچ 1958ءہے ، میراآبائی وطن ہندوستان کے صوبہ اترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ کا ایک گاؤں رسول پور ہے ۔

سوال : آپ کاتعلیمی سفر کہاں سے شروع ہوا؟

جواب : میرے ابتدائی تعلیمی سفر کا آغاز گاؤں ہی کے ایک مکتب سے ہوا، اس کے بعد جامعةالفلاح میں درجہ ششم ثانوی سے عربی دوم تک تعلیم حاصل کی، عربی سوم سے عربی ششم تک کی تعلیم اعظم گڑھ ہی کے ایک قدیم اور مشہور ومعروف ادارہ مدرستہ الاصلاح میں ہوئی، تکمیل کی خاطر جنوبی ہند کی عظیم الشان درس گاہ جامعہ دار السلام عمرآباد گیا جہاں میرا داخلہ عربی ہشتم میں ہوگیا اورالحمدللہ اس سال جامعہ کے سارے انعامات مجھے ملے۔

جامعہ دارالسلام عمرآباد سے فراغت کے بعد ایک سال تک جامعہ دارالسلام میں ہی درس وتدریس سے منسلک رہا، اسکے بعد مزید حصول تعلیم کی غرض سے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ گیا جہاں کلیة الشریعہ سے گریجویشن کیا ۔

سوال :جامعہ اسلامیہ سے فراغت کے بعد کہاں گئے؟

جواب : جامعہ اسلامیہ سے فراغت کے بعد جامعة الفلاح اعظم گڑھ میںبحیثیت استاد تقرر ہوگیا اورمیں 1983ءسے اب تک وہیں درس وتدریس اور انتظامی امور سے منسلک ہوں۔

سوال :آپ کی موجود ذمہ داریاں کیاکیاہیں؟

جواب : جامعة الفلاح بلریاگنج اعظم گڑھ کاناظم ہوں، اسکے علاوہ راشٹریہ علماءکونسل کا جنرل سکریڑی بھی ہوں۔

سوال :راشٹریہ علماءکونسل کے کیا خاص مقاصد ہیں؟

جواب : راشٹریہ علماءکونسل کے پلیٹ فارم سے ہم مسلمانوں کو منظم کرنے کی پیہم کوشش کر رہے ہیں۔ دینی، اخلاقی، سماجی، معاشی، تعلیمی اور سیاسی پہلو سے بیداری پیدا کرنے کی جدوجہد کونسل کا بنیادی کام ہے۔

سوال :آپ جامعة الفلاح کے ناظم ہیں توکیا جامعہ کا تعارف کرانا پسند کریں گے؟

جواب : جامعة الفلاح کا مختصراً تعارف میں یہی کراسکتاہوں کہ 1962ءمیں ایک خستہ مکان میں سو ، ڈیڑھ سوبچوں اور چند اساتذہ کی درس گاہ کوجامعة الفلاح کانام دیاگیاتھا، آج بحمد للہ عمارات پختہ ہیں ، تشنگان علم کی تعداد پانچ ہزار سے زائد اور اساتذہ وکارکنان کی تعداد ڈھائی سو سے زائد ہے ۔ اب جامعہ ملک او ر بیرون ملک اپنی پہچان بناچکاہے۔ جامعہ کی اسناد کوملک وبیرون ملک کی معیاری یونیورسٹیوں نے تسلیم کیاہے۔ فارغین جامعہ مختلف میدانوں میںملک وملت کی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ یہ سب کچھ اللہ تعالی کے فضل وکرم ، کارکنان واساتذہ جامعہ کے خلوص اور ملت کے دردمندافراد کے تعاون ہی سے ممکن ہوسکاہے ۔ تعلیم وتربیت میں ترقی کی نت نئی جہتوں کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے ۔ طالبات کی اعلیٰ تعلیم، جدید وقدیم علوم کا بہترین امتزاج، وسعتِ فکر ونظر اور دعوتی جذبے کی نشوونما جامعہ کی اہم خصوصیات ہیں۔

سوال :جامعہ الفلاح کے اہم مقاصد کیا ہیں؟

جواب : ٭جامعہ کا مقصد ایسے افراد کی تیاری ہے جو :

3 قرآن وسنت کا گہرا علم اور دینی بصیرت رکھتے ہوں۔

3 جن کی نظر وقت کے اہم مسائل پرہو اور جو غیر اسلامی افکار ونظریات سے بخوبی واقف ہوں۔

 3 جواسلامی اخلاق وکردار کے حامل ہوں۔

3 جن میں احیاءدین اور اعلاءکلمة اللہ کا جذبہ ہو۔

3 جو گروہی ، جماعتی اور فقہی اختلافات سے بالاترہوکر وسعت قلب ونظر کے ساتھ معاشرے کی اصلاح وتعمیر کا فریضہ انجام دے سکیں۔

٭ایسا نصاب تعلیم زیر عمل لانا جس میں دینی وعصری علوم کابہترین امتزاج ہواور جو جامعہ کی اساس سے ہم آہنگ ہو

٭ اسلام کی خدمت کے لیے دورجدید کے تقاضوں کے مطابق فکری ،علمی اور تحقیقی مواد فراہم کرنا۔

٭ فنی اور پیشہ وارانہ تعلیم کا اس طرح نظم کرنا کہ جامعہ کا بنیادی مقصد متاثر نہ ہو۔

سوال :آپ کن کن موضوعات پرمضامین لکھتے ہیں؟

جواب : میرے مضامین زیادہ تر فقہ مقارن ، اصول فقہ ، حدیث اور اصول حدیث پر مشتمل ہوتے ہیں۔

سوال :کیا آپ کی تصانیف بھی منظر عام پر آئی ہیں؟

جواب : جی ہاں ، میری بعض تصنیفات منظر عام پر آئی ہیں مثلا ”قرآن کا مطالعہ کیوں اورکیسے؟“ ، ”مصارف زکوة“، اس کے علاوہ میری نگرانی میں مختلف کتابوں کے ترجمے ہوئے ہیں۔

سوال :دعوتی میدان میں کیاکام ہوئے ہیں؟

جواب : جماعت اسلامی ہند کے پلیٹ فارم سے  غیر مسلموں میں کام کرتارہاہوں ، اور مسلم معاشرے کی  ہمہ جہتی اصلاح کے لےے جدوجہد کرتا رہا ہوں۔

سوال :لوگ اسلامی معاشرہ کا نعرہ لگاتے ہیں، کیا میں آپ سے یہ پوچھ سکتاہوں کہ اسلامی معاشرہ کی بنیادی خصوصیات کیاہیں؟

جواب : اسلامی معاشرہ اپنی خصوصیات کی وجہ سے دوسرے معاشروں سے ممتاز ہوتاہے ، انسان طبعی طور پر سماجی احساس رکھتاہے اور سماج پر ان نظریات وعقائد کے اثرات ہوتے ہیں جن پر لوگوں کو یقین ہوتاہے۔اسلامی معاشرے کی بنیادیں ایمان باللہ ، ایمان بالآخرت ، ایمان بالرسالت اور وحدت بنی آدم ہیں ، اس کی خصوصیات حسب ذیل ہیں :

1۔ ربانیت : اس معاشرے کی بنیاد چونکہ ایمان ہے اس لیے اس پر ربانیت کی چھاپ ہوتی ہے ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وَلَکِن کُونُوا  رَبَّانِیِّینَ اللہ والے بنو، نیز فرمایا: اللہ کے رنگ میں رنگ جاؤ ، صِبغَةَ اللّہِ وَمَن  اَحسَنُ مِنَ اللّہِ صِبغَةً اس معاشرے پر للہیت کی چھاپ ہوتی ہے اور رضائے الٰہی کاحصول اس کے افراد کا مقصود ہوتاہے۔

 2۔ فکرآخرت : اسلامی معاشرے کی دوسری بنیادی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کا رخ آخرت کی طرف ہوناہے ۔ آخرت کی کامیابی کوترجیح دی جاتی ہے اور دنیا کی محبت سے اوپر اٹھنے کی کوشش ہوتی ہے۔ سماج کا رخ دنیا کے بجائے آخرت کی طرف ہوتاہے

اس گھر میں بہت کم ہے اب آمدورفت اس کی

دنیا کی طرف ہم نے دیوار اٹھالی ہے

3۔ انسانیت نوازی : اسلامی معاشرے کی تیسری اہم خصوصیت انسانیت نوازی ہے کیونکہ اس کے افراد کا یقین وحدت بنی آدم پر ہوتاہے ، وہ تمام انسانوں کوایک ماں باپ کی اولاد مانتے ہیں ، ان کے درمیان بھائی چارہ اور محبت ہوتی ہے اور مواسات کا جذبہ عام ہوتا ہے۔

4۔ امربالمعروف ونہی عن المنکر: اسلامی معاشرے کی چوتھی اہم خصوصیت بھلائی کو پھیلانااور برائی کو ختم کرنے کی کوشش کرناہے۔ یہاں لوگ خود غرضی کا شکار نہیں ہوتے بلکہ سب کا بھلا چاہتے ہیں اور اجتماعیت کا احساس قوی ہوتاہے۔

5۔ خدمتِ خلق : اسلامی معاشرے کے افرادتمام انسانوں کو اللہ تعالی کا کنبہ مانتے ہیںاور ان کی خدمت کواہم ترین عبادت تصور کرتے ہیں چنانچہ محتاجوں کی مدد ، یتیموں پر شفقت اوربندگان خداکی خدمت اس معاشرے کی ایک امتیازی خصوصیت ہے۔

سوال :اصلاح معاشرہ کی ضرورت واہمیت کیاہے۔؟

جواب : جب معاشرہ اپنی خصوصیات کھودیتاہے اور اس کے اندربگاڑ پید اہوجاہے تو اس کے اصلاح کی کوشش کرنادینی فریضہ ہے۔رسول اکرم ا کاارشاد ہے: ”من رای منکم منکراً فلیغیرہ بیدہ، فمن لم یستطع فبلسانہ، فمن لم یستطع فبقلبہ، وذلک اضغف الایمان“۔سماج کا اثر تمام گھروں پر پڑتاہے اگر سماج میں نیکیاں پروان چڑھیں گی تو سب کا بھلاہوگا، اور اگر برائیاں سر اٹھائیں گی تواس کے برے اثرات سے کوئی گھر بھی محفوظ نہیںرہ سکتا،اس لئے اہل ایمان کی ایک خصوصیت قرآن مجید میں یہ بتائی گئی ہے کہ وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں وَالمُومِنُونَ وَالمُومِنَاتُ بَعضُہُم اَولِیَاء بَعضٍ یَا مُرُونَ بِالمَعرُوفِ وَیَنہَو نَ عَنِ المُنکَرِ ان نصوص سے یہ ثابت ہوتاہے کہ معاشرے کی اصلاح کی کوشش کرنا ایک اہم دینی فریضہ ہے اور اس کے بغیر ایمان کادعوی مکمل نہیں ہوسکتا۔ سورہ اعراف میں بنی اسرائیل کی ایک بستی کا ذکرہے جس کے کچھ باشندوں نے سبت (ہفتہ) کے حکم کی خلاف ورزی کی تو ایک گروہ نے انہیں روکا ، جبکہ دوسرے لوگ خاموش رہے ، پھر اس بستی پر اللہ کا عذاب آیا تواس سے محفوظ صرف وہی لوگ رہے جنہوں نے اپنا فرض ادا کرتے ہوئے اس برائی سے روکنے کی کوشش کی۔

 سوال : آج کے ماحول میں اصلاح معاشرہ کے مؤثر طریقے کیا کیا ہوسکتے ہیں؟

جواب :سماج کے بگاڑ کودورکرنے اور اسے خیر کے راستے پر چلانے کے لئے چندامور کارگرہوتے ہیںمثلاً:

1۔ دینی تعلیم وتربیت کا نظم : بچوں کی دینی تعلیم اور قرآن وسنت سے ان کو جوڑنا ضروری ہے۔ بچپن میں جو تعلیم اورتربیت ہوتی ہے اس کے اثرات انمٹ ہوتے ہیں ۔ آج انگلش میڈیم اسکولوں میں تعلیم دلانے کا رواج ہے جہاں بچوں کی دینی تربیت کا کوئی نظم نہیں ہوتاہے اور دین کی بنیادی باتوں سے بھی وہ نابلد رہ جاتے ہیں ۔ صباحی اورشبینہ مکاتب کے ذریعہ اس کی تلافی ہونی چاہئے اور مدارس ومکاتب کے معیار کو بھی بلند کرنا چاہئے تاکہ سرپرستوں کو وہاں کشش محسوس ہو اور اپنے بچوں کو وہاں داخل کریں۔

2۔ جمعہ کے خطبات کا مؤثر استعمال : خطبات جمعہ دینی بیدار ی اورتربیت کا بہترین ذریعہ ہیں ۔ جمعہ میں آبادی کے سب لوگ اکٹھا ہوتے ہیں اگراس ذریعہ کا استعمال منصوبہ طریقہ سے ہوتو اس کے غیر معمولی اثرات مرتب ہوں گے۔

3۔ دروس وقرآن وحدیث کااہتمام : امت کی کامیابی کا راستہ قرآن وسنت سے وابستگی ہے۔ مساجد اور دیگرمقامات پر عمدہ دروس کا انتظام ہوناچاہئے بطور خاص نوجوانوں اورخواتین کی شرکت کا نظم کرناچاہئے تاکہ ان کی ذہن سازی ہو اور ان کا مزاج دینی بن سکے ۔

4۔ اسٹڈی سرکل اور دار المطالعہ : آبادی میں اچھی لائبریری قائم کرنی چاہئے جس میں عمدہ کتابوں اور تعمیری رسالوں کا اچھا ذخیرہ ہو۔ نوجوانوں میں مطالعہ کاذوق پیدا کیاجائے ، جدید ذرائع کااستعمال کرتے ہوئے ویڈیو کیسٹس اور سی ڈی کا انتظام کیاجائے۔

5۔ نوجوانوں کے کلب : نوجوانوں کی دلچسپیوں کے سامنے رکھتے ہوئے ایسے کلب ہوں جہاں ان کی تفریح کانظم بھی ہو اور ساتھ ہی دینی تربیت کا بھی اہتمام ہو، جسمانی ورزش کا نظم ہو اور اخلاقی تعمیر کااہتمام بھی۔

6۔ خواتین پر خصوصی توجہ : خاندان کو بنانے اور معاشرے کو صحیح رخ پر چلانے میں خواتین کاکردار بہت اہم ہے۔ اس لئے ان کو منظم ومتحرک کرنااور ان کے مزاج کو دینی بنانابہت ضروری ہے ۔

سوال :کیااصلاح معاشرہ کے لیے تنظیم ضروری ہے؟

جواب : اصلاح معاشرہ کی ذمہ داری ہر شخص کی ہے۔ انفرادی طور سے بھی اس کی کوشش ہونی چاہئے ۔ البتہ اس کے لئے منظم کوشش زیادہ مفیدہوتی ہے کیونکہ جماعت میں برکت ہوتی ہے۔لہذا سماج میں اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے ، جب کام منظم ہوتاہے تومختلف افراد کی صلاحیتوں کا صحیح استعمال ہوتاہے رسول ا نے فرمایا: ”ید اللّٰہ علی الجماعة“۔ جماعت کے ساتھ اللہ تعالی کی تائید ہوتی ہے ۔ اوردین میں اجتماعیت کی اہمیت غیر معمولی ہے، نماز جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے ، زکوة کے اجتماعی نظم کی تاکید ہے ، رمضان کے روزے ایک ساتھ رکھے جاتے ہیں او رحج کے موقع پر یہ اجتماعیت اپنے عروج پر پہونچ کربین الاقوامی شکل اختیار کرلیتی ہے۔اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ افراد اجتماعیت سے وابستہ ہوں اور مل کرکام کریں ۔

رہا یہ سوال کہ کس جماعت سے وابستگی اختیار کی جائے تواس سلسلے میں مناسب طریقہ یہی ہے کہ جوجماعتیں سرگرم عمل ہیں ان کا جائزہ لے کردیکھا جائے اور جس پر زیادہ اعتماد ہو اس سے وابستگی اختیار کرلی جائے اور اس بات کی بھی کوشش ہو کہ باہم تعاون واشتراک عمل کی فضا ہو اور آپس میں ٹکراؤکی کیفیت نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴾وَتَعَاوَنُوا عَلَی البرِّ وَالتَّقوَی 

سوال :اختصار میں بتائیں کہ اصلاح معاشرہ کے ليے شرط لازم کیاچیز ہے ؟

جواب :میری نظر میں اصلاح معاشرہ کے سلسلے میں سب سے مؤثر ذریعہ عملی نمونہ ہے ۔بقول شاعر:

آدمی نہیں سنتا ، آدمی کی باتوں کو

پیکر عمل بن کر، غیب کی صدا بن جا

صرف تقریر اور زور بیان سے کام نہیں بنتا ، بلکہ عملی نمونہ ہی کارگر ہوتاہے اس لیے اصلاح معاشرہ کاکام کرنے والوںکو اچھا نمونہ پیش کرناچاہئے یہی رسول ا کا طریقہ ہے جن کے بارے میں خوداللہ تعالیٰ نے شہادت دی ہے: وَاِنَّکَ لَعَلی خُلُقٍ عَظِیمٍ آج ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اصلاح معاشرہ کا کام زبانی جمع خرچ بن کر رہ گیا ہے۔ بارات کے خلاف تقریریں کرنے والے اپنے بیٹوں کی بارات دھوم سے لے جاتے ہیں اور جہیز کو سماجی ناسور بتانے والے چپکے سے اپنے گھر ساما نِ جہیز سے سجا لیتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس طرز عمل پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا ہے: ﴾یَا ا َیُّہَا الَّذِینَ آَمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفعَلُونَ٭کَبُرَ مَقتاً عِندَ اللَّہِ ا َن تَقُولُوا مَا لَا تَفعَلُونَ قول وفعل کا تضاد منافقت ہے اور منافقت کے ساتھ اصلاح معاشرہ کا کام نہیں ہوسکتا۔ کسی نے سچ کہا ہے 

 اس دورِ بے ضمیر نے جینا سکھا دیا

حالات نے ہمیں بھی منافق بنا دیا

اور

پیروی غیروں کی اور مدحت رسول اللہ کی

کیا منافق ہو گئی امت رسول اللہ کی؟

 

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*