صرف اسلام کی پیروی کیوں ؟

ڈاکٹر ذاکر عبدالکریم نائک

تمام مذاہب لوگوں کو اچھے کام کرنے کی تعلیم دیتے ہیں، پھر ایک شخص کو اسلام ہی کی پیروی کیوں کرنی چاہیے؟ کیا وہ کسی دوسرے مذہب کی پیروی نہیں کرسکتا؟

جواب : تمام مذاہب بنیاوی طور پر انسان کو صحیح راہ پر چلنے اور برائی سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ لیکن اسلام ان سب سے بڑھ کر ہے۔ یہ ہمیں صحیح راہ پر چلنے اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی سے برائی کو خارج کرنے میں عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام انسانی فطرت اور معاشرے کی پیچیدگیوں کو پیش نظر رکھتا ہے۔ اسلام خود خالق کائنات کی طرف سے رہنمائی ہے، اسی لیے اسلام کو دین فطرت، یعنی انسان کا فطری دین کہا گیا ہے۔ اسلام اور دوسرے مذاہب کا بنیادی فرق درج ذیل امور سے واضح ہوتا ہے:

اسلام اور ڈاکہ زنی کا تدارک

تمام مذاہب کی تعلیم ہے کہ ڈاکہ زنی اور چوری ایک برا فعل ہے۔ اسلام کی بھی یہی تعلیم ہے، پھر اسلام اور دوسرے مذاہب میں فرق کیا ہے؟ فرق یہ ہے کہ اسلام اسکی تلقین کرنے کے ساتھ ساتھ کہ ڈاکہ زنی اور چوری برا کام ہے، ایسا سماجی ڈھانچا بھی فراہم کرتا ہے جس میں لوگ ڈاکے نہیں ڈالیں گے۔ اس کے لیے اسلام درج ذیل انسدادی اقدامات تجویز کرتا ہے:

 زکوٰةکا نظام:

اسلام انسانی فلاح کے لیے زکوٰة کا نظام پیش کرتا ہے۔ اسلامی قانون کہتا ہے کہ ہر وہ شخص جس کی مالی بچت نصاب، یعنی85گرام سونے یا اس کی مالیت کو پہونچ جائے تو وہ ہر سال اس میں سے اڑھائی فیصد اللہ کی راہ میں تقسیم کرے۔ اگر ہر امیر شخص ایمانداری سے اس پر عمل کرے تو اس دنیا سے غربت،جو ڈاکہ زنی کی اصل محرک ہے، ختم ہو جائے گی اور کوئی شخص بھی بھوک سے نہیں مرے گا۔

 چوری کی سزا:

 اسلام چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹنے کی سزادیتا ہے۔ سورة مائدہ (آیت38)میں ہے:” چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کے ہاتھ کاٹ دو۔ یہ اللہ کی طرف سے ان دونوں کے کئے ہوئے جرم کی سزا ہے۔ اور اللہ بہت طاقتور اور بہت حکمت والا ہے۔“

اس پر غیر مسلم یہ کہہ سکتے ہیں کہ”20ویں صدی میں ہاتھ کاٹے جائیں؟ اسلام تو ایک ظالم اور وحشیانہ مذہب ہے۔“ لیکن اس کی یہ سوچ سطحی اور حقیقت سے بعید ہے۔

 عملی نفاذ: امریکہ کو دنیا میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے۔ بد قسمتی سے وہاں جرائم، چوری، ڈکیتی وغیرہ کی شرح بھی سب سے زیادہ ہے۔ فرض کریں کہ امریکہ میں اسلامی شریعت نافذ کی جاتی ہے اور ہر امیر آدمی نصاب کے مطابق، یعنی 85گرام سونے سے زائد مال پر ہر سال زکوٰة ادا کرتا ہے اور ہر چور کا ہاتھ سزا کے طور پر کاٹ دیا جاتا ہے تو کیا امریکہ میں چوری اور ڈکیتی کی شرح بڑھ جائے گی، کم ہوجائے گی یا اتنی ہی رہے گی؟ یقیناً یہ کم ہوگی۔ مزید برآں یہ سخت قانون ممکنہ چوروں کو ارتکاب جرم سے روکنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

میں اس بات سے متفق ہوں کہ اس وقت دنیا میں چوری کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اگر قطع ید کی سزا نافذ کی گئی تو لاکھوں کی تعدادمیں لوگوں کے ہاتھ کٹیں گے۔ لیکن یہ نکتہ پیش نظر رہے کہ جونہی آپ اس قانون کو نافذ کریں گے، چوری کی شرح فوری طور پر کم ہوجائے گی، تاہم اس سے پہلے اسلام کا نظامِ زکوٰةکار فرما ہو اور معاشرے میں صدقات و خیرات اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے اور غریبوں اور ناداروں کی مدد کا جذبہ فراواں ہو اور پھر سزاؤں کا نظام نافذ ہو تو چوری کرنے والا چوری کرنے سے پہلے سو بار سوچے گا کہ وہ اپنا ہاتھ کٹنے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔ عبرتناک سزا کا تصور ہی ڈاکوؤں اور چوروں کی حوصلہ شکنی کرے گا۔ بہت کم لوگ چوری کریںیا ڈاکہ ڈالیں گے، پھر چند ہی عادی مجرموں کے ہاتھ کاٹے جائیں گے اور لاکھوں لوگ چوری اور ڈکیتی کے خوف کے بغیر سکون سے رہ سکیں گے۔ اس طرح اسلامی شریعت کے عملی نفاذ سے خوشگوار نتائج بر آمد ہوں گے۔

 عورتوں کی عصمت دری کا سد باب

تمام بڑے مذاہب کے نزدیک عورتوں سے چھیڑ چھاڑ اور ان کی عصمت دری ایک سنگین جرم ہے۔ اسلام کی بھی یہی تعلیم ہے، پھر اسلام اور دوسرے مذاہب کی تعلیمات میں فرق کیا ہے؟ فرق اس حقیقت میں مضمر ہے کہ اسلام محض عورتوں کے احترام کی تلقین ہی نہیں کرتا اورخواتین سے چھیڑ چھاڑ اور ان کی عصمت دری جیسے سنگین جرائم سے نفرت ہی نہیں کرتا بلکہ اس امر کی بھر پور رہنمائی بھی کرتا ہے کہ معاشرے سے ایسے جرائم کا خاتمہ کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے آپ درج ذیل زریں اصول ملاحظہ کیجیے:

مردوں کے لیے حجاب: اسلام کے حجاب کا نظام اپنی مثال آپ ہے۔ قرآن مجید پہلے مردوں کو حجاب کا حکم دیتا ہے اور پھر عورتوں کو۔ مردوں کے حجاب(پردہ) کا ذکر مندرجہ ذیل آیت میں ہے:

 ”( انے نبی!)مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لیے بہت پاگیزگی کی بات ہے۔ اور اللہ ان تمام باتوں سے بخوبی واقف ہے جو وہ کرتے ہے۔“(سورة النور30)

اسلام کہتا ہے کہ ایک شخص کسی غیر محرم عورت کو دیکھے تو اسے چاہیے کہ فوراً اپنی نگاہیں نیچی کرلے۔

عورتوں کے لیے حجاب: عورتوں کے حجاب کا ذکر مندرجہ ذیل آیت میں ہے:” (اے نبی) مومن عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی نمائش نہ کریں سوائے اس کے کہ جو از خود ظاہر ہو۔ اور ان کو چاہیے کہ اپنے سینوں پر اوڑھنیاں ڈالے رکھیں ۔“(سورة النور31)

اور اگر عورتیں چاہیں تو وہ ان اعضاءکو بھی ڈھانپ سکتی ہیں، تا ہم بعض علماءاس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ چہرہ ڈھانپنا بھی لازم ہے۔(اور یہی موقف قرین صواب ہے،کیونکہ چہرہ بھی پردہ کے حکم میں داخل ہے اس کو چھپانا ضروری ہے ،اس لیے کہ چہرہ ہی مظہر حسن و جمال ہے[ادارہ])۔

حفاظتی حصار: اللہ تعالیٰ حجاب کا حکم کیوں دیتا ہے؟ اس کی وضاحت سورة احزاب کی مندرجہ ذیل آیت میں کی گئی ہے:

 ”اے نبی! اپنی بیویوں اوراپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں اوڑھ لیا کریں (جب وہ باہر نکلیں) یہ( بات ) ان کے لیے قریب تر ہے کہ وہ (حیا دار مومنات کے طور پر) پہچانی جائیں اور انہیں ایذا نہ دی جائے (کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرسکے) اور اللہ بہت بخشنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔“ (سورة الاحزاب59 )

قرآن کے مطابق حجاب کا حکم عورتوں کواس لیے دیا گیا ہے کہ وہ با حیا عورتوں کے طور پر پہچانی جا سکیں اور چھیڑ چھاڑ سے محفوظ رہیں۔

 ایک مثال سے وضاحت: فرض کریں، دو جڑواں بہنیں ہیں، دونوں خوبصورت ہیں اور ایک گلی میں جارہی ہیں۔ ان میں سے ایک اسلامی حجاب میں ہے، جبکہ دوسری منی سکرٹ میں ملبوس ہے۔ نکڑ پر کوئی بد معاش کھڑا کسی لڑکی کو چھیڑنے کا منتظر ہے۔ وہ کس سے چھیڑ چھاڑ کرے گا؟ اسلامی حجاب میں ملبوس لڑکی سے یا منی سکرٹ میں ملبوس لڑکی سے؟ ایسا لباس جو جسم کو چھپانے کے بجائے نمایاں کردے وہ بالواسطہ طور پر مخالف جنس کو چھیڑ چھاڑ اور بد کاری کی دعوت دیتا ہے، لہذا قرآن صحیح کہتا ہے کہ حجاب، یعنی پردہ عورت کو چھیڑ چھاڑ سے محفوظ رکھتا ہے۔

 عصمت دری کرنے والے کے لیے موت کی سز: اسلامی شریعت عصمت دری کرنے والے کی سزا موت قرار دیتی ہے۔ غیر مسلم خوفزدہ ہوں گے کہ اتنی بڑی سزا! بہت سے لوگ اسلام کو وحشی اور ظالمانہ مذہب قرار دیتے ہیں۔ لیکن ان کی یہ سوچ غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ میں نے یہ عام سوال سینکڑوں غیر مسلموں سے پوچھا ہے کہ فرض کیجیے خدا نخواستہ کوئی آپ کی بیوی، آپ کی ماں یا آپ کی بہن کی عصمت دری کرے اور آپ کو منصف بنایا جائے اور جرم کرنے والے کو آپ کے سامنے لایا جائے۔ آپ اس کے لیے کیا سزا تجویز کریں گے؟ سب نے کہا:”ہم اسے قتل کردیں گے۔“ اور کچھ اس حد تک گئے کہ ” ہم اس کے مرنے تک اسے تشدد سے تڑپاتے رہیں گے۔“ اب اگر کوئی اس کی بیوی یا بیٹی یا آپ کی ماں کی عصمت دری کرے تو آپ اس مجرم کو قتل کرنا چاہیں گے۔ لیکن جب کسی اور کی بیوی، بیٹی یا ماں کی عصمت دری کی جاتی ہے تو مجرم کے لیے سزائے موت کو وحشیانہ کیوں کہا جاتاہے؟: آخر یہ دوہرا معیا ر کیوں؟۔

امریکہ میں عصمت دری کے روز افزوں واقعات:امریکہ کو دنیا میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے۔ 1990ءکی ایف بی آئی کی رپورٹ کے مطابق عصمت دری (Rape)کے 1,02,555 مقدمات درج کئے گئے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ صرف 16فیصد مقدمات کا اندراج ہوا یا ان کی رپورٹ کی گئی۔ یوں 1990ءمیں پیش آمدہ عصمت دری کے واقعات کی اصل تعداد معلوم کرنے کے لیے 16/100یعنی6.25 سے ضرب دی جائے تو وہ 6,40,968 بنتی ہے۔ اور اگر اس کی مجموعی تعداد کو سال کے 365دنوں سے تقسیم کیا جائے تو روزانہ اوسط1,756نکلتی ہے۔

بعد کی ایک اور رپورٹ کے مطابق امریکہ میں اس برس عصمت دری کے اوسطاً1900واقعات روزانہ پیش آئے۔ امریکی محکمہ انصاف کے نیشنل کرائم سروے بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 1996ءمیں آبروریزی کے 3,07,000واقعات کی رپورٹ کی گئی اور یہ اصل تعداد کا صرف 13فیصدتھی۔ اس طرح عصمت دری کے واقعات کی اصل تعداد 9,90,332بنتی ہے جو دس لاکھ کے قریب ہے۔ گویا امریکہ میں اس سال ہر 32 سیکنڈ کے بعد عصمت دری کا واقعہ پیش آیا۔ ہو سکتا ہے اب امریکہ میں ایسے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کرنے والے اور دلیر ہو گئے ہوں۔ 1990ءکی ایف بی آئی کی رپورٹ کے مطابق وہاں عصمت دری کے جتنے واقعات کی رپورٹ کی گئی ان کے مجرموں میں سے صرف 10فیصد گرفتار کئے گئے جو زانیوں کی کل تعداد کا صرف1.6فیصد تھے۔ اور گرفتار شد گان میں سے بھی 50فیصد کو مقدمے کی نوبت آنے سے پہلے ہی چھوڑ دیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ صرف 0.8فیصد مجرموں کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسرے لفظوں میں اگر ایک شخص 125مرتبہ یہ جرم کرتا ہے تو اسے صرف ایک بار سزا ملنے کا امکان ہے۔ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق 50فیصد لوگ جن کو ان مقدمات کا سامنا کرنا پڑا انہیں ایک سال سے بھی کم قید کی سزا سنائی گئی۔ اگر چہ امریکی قانون کے مطابق ایسے جرم کے مرتکب افراد کی سزا سات سال قید ہے مگر پہلی دفعہ ایسا گھناو نا جرم کرنے والے کے ساتھ جج نرمی کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ ذرا تصور کریں کہ ایک شخص125دفعہ یہ جرم کرتا ہے اور اس کے مجرم ٹھہرائے جانے کا امکان ایک فیصد ہوتا ہے اور اس میں بھی نصف مرتبہ جج نرمی کا رویہ اختیار کرتے ہوئے اسے ایک سال سے بھی کم کی سزادیتا ہے۔

 اسلامی شریعت کی برکت:

فرض کریں امریکہ میں اسلامی شریعت کا نفاذ کیا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی عورت کی طرف دیکھتا ہے تو وہ اپنی نگاہ نیچی کرلیتا ہے۔ اور ہر عورت اسلامی حجاب، یعنی پردے میں رہتی ہے اور اس کاپورا جسم سوائے ہاتھوں اور چہرے کے ڈھکا ہوتا ہے۔ اس صورت حال کے باوجود اگر کوئی کسی کی عصمت دری کرتا ہے اور مجرم کو سزائے موت دی جاتی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح عصمت دری کی شرح بڑھ جائے گی، وہی رہے گی یا کم ہوجائے گی؟ یقیناًشرح کم ہوجائے گی اور یہ اسلامی شریعت کے نفاذ کا با برکت نتیجہ ہوگا۔

اسلام میں تمام مسائل کا عملی حل

اسلام بہترین طرز زندگی ہے کیونکہ اس کی تعلیمات محض نظریاتی ہی نہیں بلکہ وہ انسانیت کو درپیش مسائل کا عملی حل بھی پیش کرتی ہیں، لہذا اسلام انفرادی اور اجتماعی سطحوں پر بہتر نتائج حاصل کرتا ہے۔ اسلام بہترین طرز زندگی ہے کیونکہ یہ قابل عمل عالمگیر مذہب ہے جو کسی ایک قوم یا نسل تک محدود نہیں، اسی لیے دوسرے مذاہب کے مقابلے میں صرف اسلام ہی ایسا دین ہے جس کو اپنا کر انسان اپنی شاہراہ حیات بالکل سیدھی بنا کر اخروی زندگی میں کامیابی و کامرانی حاصل کرسکتا ہے۔ اور اخروی کامیابی ہی حقیقی کامیابی ہے۔

 

2 Comments

  1. سلام علیکم: براہ کرم چوری کی تعریف فرمائیں۔ چوری کیا ہے؟ اس کے بارے میں قرآنی( اللہ کا) موقف کیا ہے؟ شکریہ
    نعیم شکری

  2. سب سے پہلے ہم آب كے ممنون هيں كه آپ نے ہمارے ويب سائب كي زيارت كا ہميں شرف بخشا، جہان تك آپ كے سوال كا تعلق ہے تو اس كا مختصر جواب پيش خدمت ہے:
    اللہ کی چاہت ہے کہ مسلم معاشرہ امن وامان کا گہوارہ بنارہے ،جو شخص اس معاشرے میں رہائش پذیر ہو وہ اپنی جان،عزت اورمال کے تئیں بے فکر رہے اسی لیے شریعت نے جان ومال اورعزت پر زیادتی کو حرام ٹھہرایا ۔
    چوری ایک آفت ہے جومعاشرے اورافراد کو خطرناکی کے دہانے تک پہنچاتى ہے ، اور اسلام چونکہ دین فطرت ہے اس لیے اس نے دوسروں کے مال پر ہاتھ صاف کرنے کو حرام قرار دیا ۔
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب قبول اسلام پر بیعت لیتے تھے تو آپ اس میں اس بات کا بھی ذکر کرتے تھے کہ وہ قبول اسلام کے بعد چوری نہ کریں گے ۔ اسلام نے چوری کی خطرناکی بیان کی ،چوری کرنے والوں کو ملعون قرار دیا تاکہ لوگ اس بیماری سے بچیں۔
    اگرکوئی اس طرح کے توبیخی کلمات کے باوجود چوری کی جرات کرتا ہے اوراس کا معاملہ حاکم وقت کے پاس پہنچ جاتا ہے جہاں پر شرعی حدود کی تنفیذ ہوتی ہے تو ایسے وقت اسلام کا حکم یہ ہے کہ اس کا ہاتھ کاٹ لیاجائے اللہ تعالی نے فرمایا: والسارق والسارقة فاقطعوا ایدیھما ”چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کا ہاتھ کاٹ دو “۔ اوراس کی تنفیذ میں کسی کے منصب یا خاندان کی کوئی پرواہ نہ کی جائے ۔یہاں تک کہ ایک مرتبہ جب ایک شریف گھرانے كي کسی خاتون نے چوری کیا اور اس کا معاملہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم تک پہنچا ،تو لوگ اس کے تئیں سفارش کرنے آئے تب آپ نے فرمایا: اگرمیری بیٹی فاطمہ بے بھی چوری کیا ہوتا تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا ۔(بخاری مسلم)
    جب تك یہ حکم اسلامی ممالک میں نافذ رہا تو لوگ اپنے مالوں کے تئیں بالکل مامون رہے یہاں تک کہ دکاندار اور تاجر پیشہ حضرات اپنا سامان وہیں چھوڑ کر نمازوں کی ادائیگی کے لیے چلے جاتے تھے لیکن کوئی ان کے سامان سے تعرض نہیں کرتا تھا ۔ آج بھی یہ نمونہ ہمیں مدینہ میں دیکھنے کو ملتا ہے کہ کمپنیاں فجر سے پہلے ہی اشیائے خوردونوش کرانہ دکان کے سامنے رکھ کر چلى جاتى ہیں لیکن کوئی ان کی طرف جھانک کر دیکھتا بھی نہیں ہے ۔اگر برصغیر میں ایسا ہوتا تو پانچ منٹ کے لیے سامان کا وہاں رہ جانا مشکل تھا ۔ ظاہر ہے یہ حدود کی تنفیذ کا ہی نتیجہ ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*