اطلاعاتی ٹکنالوجی اور مدارس اسلامیہ

احتشام الحق

shaz_bazmi@yahoo.co.in

 عصر حاضر میں جن ٹکنالوجیوں کو فروغ حاصل ہوا ہے ان میں اطلاعاتی ومواصلاتی ٹکنالوجی کا بڑا حصہ ہے۔ اس نے زندگی کے اکثر شعبوں کو متاثر کیا ہے۔ عالمی گاؤں (گلوبل ولیج) کا تصور در اصل اسی کا رہین منت ہے۔ اس نے زندگی کے اکثر شعبوں کے دائروں کو وسیع کیا ہے تو بہت سی وسعتوں کو محدود کرکے بھی رکھ دیا ہے۔ مختصر وقت میں اطلاعات ومعلومات کا حصول آسان ترین ہوگیا ہے۔ ان تمام شعبوں میں تعلیم کا شعبہ سب سے زیادہ مستفید ہوا ہے۔ برقی آموزش E-Learningکا نیا دروازہ بھی اسی کے ذریعہ کھلا ہے جس نے طالب علم کو روایتی استاد سے بے نیاز کردیا ہے۔ وہ تمام ترتعلیمی خصوصیتیں جو ایک استاد کے ذریعہ حاصل کی جانے والی تعلیم میں ہوتی ہیں اس برقی آموزش میں مہیا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ باریک سے باریک نکات کی وضاحت کی جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے چند خرابیاں بھی تعلیمی نظام میں پیدا ہوئی ہیں لیکن اس کی افادیت ان پر غالب ہے۔

             یہ نئی ٹکنالوجی مدارس اسلامیہ کے لیے بھی نئے دروازے کھولتی ہے۔ اپنے اندر اس کی بقا، فروغ اور استحکام کی اہلیت رکھتی ہے۔ بس ضرورت ہے اس ذریعہ کو اپنانے اور اپنی ضرورت کے مطابق ڈھالنے کی۔

            مدارس کی اپنی تعلیمی روایت رہی ہے۔ ان میں مختلف فنون اور کتابوں کے ماہر اساتذہ ہوئے ہیں جن کی اپنی تدریسی خصوصیتیں اور لیاقتیں تھیں۔ ان کے بعد پھر ان خصوصیتوں کی حامل شخصیات ان مدارس ہی میں نہیں جن میں یہ حضرات تھے بلکہ دوسرے مدرسوں میں بھی پیدا نہیں ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس میں اچھے اساتذہ کا جو خلا پیدا ہوا ہے وہ پر نہیں ہورہا ہے۔ ظاہر ہے کہ تدریس کا اپنا مخصوص طریقہ اور ڈھنگ ہوتا ہے جو کتابوں میں سمیٹا نہیں جاسکتا ہے۔ اب بھی مدارس میں مختلف فنون اور کتابوں کے پڑھانے والے طاق اور منفرد اساتذہ موجود ہیں ۔ شاید ان کے بعد وہ خصوصیتیں دوسروں میں نہیں پیدا ہوں۔ اگر ہم چاہیں تو اب ان کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کرسکتے ہیں۔ اس سے ان کے استفادہ کا دائرہ وسیع ہوجا ئے گااور کسی خاص مدرسہ کے استاد کی خدمت تمام مدارس کے لیے عام ہوجائے گی۔اس طرح ہم خرچ میں علوم اور لیاقتوں کی ترسیل کرسکیں گے اور افراد کی صلاحیتوں سے زیادہ کام لیا جاسکے گا۔ اطلاعاتی ٹکنالوجی ہمیں اس کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

            بہت اچھی بات یہ ہے کہ یہ ٹکنالوجی اتنی سستی ہے جتنی اشیائے خوردونوش بھی نہیں۔ اس لیے اس میں بہت بڑے سرمائے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بس سنجیدگی سے اس کی طرف توجہ کی جائے تو بہت سہل ہے۔

             طریقہ کار:  

            عام طورپرہر بڑے چھوٹے مدرسہ میں کوئی نہ کوئی استاد اپنے فن میں نمایاں خصوصیت کا حامل ہوتا ہے۔ ان کے دروس کا آڈیو اور ویڈیو رکارڈ تیار کیا جائے۔ دروس کو مباحث کے اعتبارسے تقسیم کیا جائے ۔ ان کو سیڈیوں اور ڈی وی ڈی کے ذریعہ عام کیا جا ئے ۔ اس طرح ایک مدرسہ میں محدود خدمت کا دائرہ اتنا وسیع ہوجائے گا جہاں تک اس زبان کے جاننے والے موجود ہوں گے ۔

            تعلیمی میدان میں انٹر نیٹ نے بہت اچھا کردار ادا کیا ہے۔ عصری تعلیم کے ہر موضوع کا ہر جز ء انٹر نیٹ پر موجود ہے جہاں تک کسی بھی طالب علم کی رسائی آسان ہوگئی ہے۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ عام طور پر ایسی خدمات مفت مہیا کی گئیں ہیں۔ اس کے علاوہ برقی آموزش کا ذریعہ بھی یہی ہے۔ انٹر نیٹ پر مختلف تعلیمی اداروں کی جانب سے مختلف فنون کے برقی کورس موجود ہیں۔ موجودہ وقت میں جب تعلیم کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے نیز فاصلاتی تعلیم اور برقی تعلیم کی طرف رجحان بڑھنے لگا ہے، بہت سے لوگ اقتصادی پسماندگی کی وجہ سے روزگار سے جڑجانے کے بعد بھی اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ مدارس کو بھی اس جانب سوچنے اور اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہوسکتا ہے ایسے مواقع پیدا ہوجانے کے بعد عصری تعلیم کے فیض یافتہ بھی دینی تعلیم حاصل کرنا چاہیں تو انہیں یہ ذریعہ مہیا ہو گا۔ اس سے ظاہر ہے مہارت تو حاصل نہیں ہوگی ۔مگر کم از کم یہ دین کے بارے میں بنیادی معلومات کے ساتھ دین سے ایک وابستگی کا ذریعہ تو بنے گا۔

            اس کے علاوہ جو آڈیو ویڈیو رکارڈ کئے جائیں انہیں بھی مباحث کے اعتبار سے انٹر نیٹ پر ڈال دیا جائے تاکہ مدارس کے طلبہ کے ساتھ اسکالرس اور دوسرے وہ تمام حضرات جنہیں خاص موضوع سے متعلق معلومات حاصل کرنی ہو استفادہ کرسکیں۔

            جدید موضوعات نے مدارس یا مذہبی تعلیم کے لیے فکر واجتہاد کے نئے دروازے کھولے ہیں ۔ مدارس کو ان پر توسیعی خطبات کا انتظام کرنا چاہیے جنہیں عام کرنے میں یہ ممد ومعاون ہوگا۔

            انٹرنیٹ پر علم الفرائض کے مسائل کو اس طرح ترتیب دے کر رکھا جاسکتا ہے کہ اس میں اپنے مسائل لکھ کر اس کا حل حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس سے جہاں عام لوگ مستفید ہوں گے وہیں مدارس کے طلبہ اس فن کو سیکھنے کے لیے استفادہ کرسکتے ہیں۔

            انٹرنیٹ کا ذریعہ سرمایہ کا حاجت مند ضرور ہے جو مدارس اسلامیہ کے لیے ذرا مشکل ہے۔ لیکن اس جانب سنجیدگی سے اقدام کیا جا ئے گا تو اس کا انتظام بھی ہوہی جائے گا۔ اور بہت سے اہل خیر حضرات اس کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے کمر بستہ ہوں گے۔

 

2 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*