حضرت ابو الدرداء رضى الله عنه کی گراں مایہ پند و نصائح(2)

الوصایا المھمة الماثورة عن حکیم الا مة

  تحریر: ڈاکٹر ولید العلی (کویت)

ترجمہ : مولانا عبد الخالق مدنی (کویت)

مال کی محبت فطری چیز ہے لیکن سعادتمندی یہ ہے کہ مال کو آخرت سنوارنے کے ليے خرچ کیا جائے :

 سلف صالحین کی پند و نصائح سے استفادہ کرنے والے لوگ اس حقیقت کا بخوبی ادراک کر لیتے ہیں کہ مال کی محبت فطری امر ہے ۔ اور وہ شخص سعادت مند ہے جس کا مال اس کی اخروی کامیابی کے ليے کام آئے اور وہ شخص بے نصیب اور نا مراد ہے جس کا مال اعمال صالحہ میں رکاوٹ کا باعث بنے ۔ چنانچہ حضرت ابوالدرداءص یہ دعا کیا کرتے تھے : اللھم انی اعوذ بک من تفرقة القلب”اے اللہ ! میں دل کے منتشر ہونے سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، آپ سے دریافت کیا گیا کہ دل کے منتشر ہونے سے کیا مراد ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : ان یجعل لی فی کل واد مالاکہ میرے ہر وادی میں مال ہو یعنی دل چہار سو بکھرے ہوے مال کی فکر میں مشغول رہے گا اور اعمال صالحہ کرنے میں کو تا ہی ہوگی ۔

 

مال کی بہتات دل کی پریشانی اور آخرت میں حساب کے ليے پیشی (پریشانی) کا سبب بنتی ہے :

 مال خورد و نوش اور لباس اور سواری ہی کا نام تو ہے ۔ ( یعنی مال کے ذریعہ آسائشیں اور زیب و زینت حاصل کی جاسکتی ہے ۔ جیساکہ حضرت ابوالدرداءص فرماتے ہیں :

” مالدار لوگ بھی کھاتے اور پیتے ہیں او رہم بھی کھاتے اور پیتے ہیں، وہ بھی لباس پہنتے ہیں اور ہم بھی پہنتے ہیں ، وہ بھی سواری پر سوار ہوتے ہیں اور ہم بھی سواری کرتے ہیں ۔ ان کے پا س اس سے زائد اموال بھی ہیں جسے وہ بھی دیکھتے ہیں اور ہم بھی دیکھتے ہیں ، لیکن انہیں زائد اموال کا حساب دینا پڑے گا اور ہم اس حساب سے بری ہیں۔ “

مال جمع کرنے کی حرص اور ضروری اخراجات میں بخل کرنا :

 کیا ایسے آدمی کے لےے دولت کی فراوانی سود مند ہو سکتی ہے جو کہ مال جمع کرنے میں تو بڑا حریص ہو لیکن جب اس سے واجبی اور ضروری اخراجات کا مطالبہ کیا جائے تو وہ ہاتھ کھینچ لے اور بخیلی کا مظاہرہ کرے ۔ حضرت ابوالدرداءص فرماتے ہیں :

” اس شخص کے لےے ہلاکت و بربادی ہے جو ہمیشہ مال اکھٹا کرنے کی فکر میں لگا رہتا ہے ، اور دیوانوں کی طرح اپنا منہ اسی حرص و طمع میں کھولے رہتا ہے، لوگوں کے مال و دولت کو دیکھ کر تو اس کے منہ میں پانی آجاتا ہے ۔ اور اسے اللہ تعالی کے بے حد و حساب خزانے نظر نہیں آتے۔ اس کے بس میں ہوتو مال کی حرص و طمع میں دن رات ایک کردے ۔ اس کے لےے ہلاکت و تباہی ہے سخت ترین حساب سے اور شدید ترین عذاب سے ۔ “

کبھی موت و آخرت کو یاد کیا ؟

 کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہمارے آباءو اجداد کہاں گئے ؟ کیا ہم کبھی موت کا تصور ذہن میں لائے اور آخرت کے ليے کچھ تیاری کی ہے ؟ حضرت راشد بن سعد بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابوالدرداء رضى الله عنه کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عر ض کی کہ مجھے کوئی نصیحت فرمائیے ! تو حضرت ابوالدرداءص نے اس سے کہا :

  ” تم خوشحالی میں اللہ تعالی کو یاد رکھو ‘وہ پریشانی اور تنگدستی میںتمہارا خیال رکھے گا۔ اور جب فوت شدگان کو یاد کرو تو خود کو انہی میں شمار کرو اور جب دل میں دنیا کی کسی چیز کی رغبت یا خواہش پیدا ہو تو اس کے انجام پہ نگاہ ڈال لیا کرو “ ۔

اللہ تعالی تمہیں دیکھ رہا ہے ۔

 آخرت کی یاد دہانی کے و سائل میں سے ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ انسان خلوص نیت سے اس طرح اللہ تعالی کی عبادت کرے جیسا کہ وہ اللہ تعالی کو اپنے سامنے پاتاہے چنانچہ حضرت ابوالدرداءرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

 ” اعبد اللہ کا نک تراہ وعد نفسک فی الموتی، و ایاک دعوة المظلوم واعلم ا ن قلیلا یغنیک خیر من کثیر یلھیک، و ا ن البر   لا یبلی و ا ن الاثم لا ینسی “ ۔

  ترجمہ : ”( کامل توجہ کے ساتھ ) اللہ تعالی کی یوں عبادت کر گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو ، اور خو دکو فوت شدگان میں ہی شمار کر( آج نہیں تو کل جانے ہی والے ہو ) مظلوم کی بد دعا سے بچ، اور اس بات پر یقین رکھ کہ بقدر کفایت تھوڑا مال اس زیادہ مال سے کہیں بہتر ہے جو تم کو اللہ کی یاد سے غافل کردے ، اور نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی اور گناہ کبھی فراموش نہیں کیا جاتا “ ۔

گردش لیل و نہار عمر کو گھٹا رہی ہے :

 کیا آپ کو خبر ہے کہ دنوں کا گزرنا اور مہینوں کا ختم ہونا عمر کو کرید نے والی کدال اور قصر عمر کو منہدم کرنے والی کلہاڑی ہے ۔ چنانچہ حضرت ابوالدرداءص فرماتے ہیں :

 ” اے ابن آدم ! زمین کے سینے پر جتنا بھی گھوم پھر لو بالآخر یہی زمین قبر بننے والی ہے ۔ اے ابن آدم ! تو ایام زندگی سے عبارت ہے، جیسے کوئی دن گزرجاتا ہے‘تیرا ایک حصہ ختم ہو رہا ہے ، اے ابن آدم ! ماں کے بطن سے تیری ولادت کے وقت سے لے کر تیری عمر گھٹتی ہی جا رہی ہے “ ۔

 یہ اٹھتے ہوئے جنازے !!

 کیا دوسروں کی موت سے درس عبرت لیا اور صبح و شام جنازوں میں شرکت نے کبھی آپ کو جھنجوڑا ہے ؟

 حضرت شرحبیل بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء رضى الله عنه جب کوئی جنازہ دیکھتے تو فرماتے :

 ”تم صبح کو چلے ہم شام آئے ، تم شام کے وقت کوچ کر رہے ہو اور ہم صبح کو تمہارے پیچھے آنے ہی والے ہیں ۔ جنازوں میں شرکت بڑی پر اثر نصیحت ہے لیکن بھول بھی بہت جلد جاتی ہے ۔کفی بالموت واعظا ” موت ہی نصیحت کرنے کے لےے کافی ہے “۔ لوگ یکے بعد دیگرے جارہے ہیں، اور جو باقی ہیں انہیں بھی لمبی لمبی امیدیں نہیں باندھنی چاہئیں“۔

 موت کی یاد خوشیاں بھلا دیتی اور دل سے حسد کو مٹا دیتی ہے ۔

 جو شخص اپنے دل میں ہمیشہ موت اور انجام آخرت کی یاد تازہ رکھتا ہے وہ اپنے اعمال کی کثرت کے فریب میں مبتلا نہیں ہوتا اور نہ اس پر اِتراتاہے اور اس کے دل میں کسی کے بارے میں حسد کا شائبہ بھی باقی نہیں رہتا ۔ جیسا کہ حضرت ابوالدرداءص فرماتے ہیں :

من اکثر ذکر الموت قلّ فرحہ و قلّ حسدہ ”یعنی جو موت کو اکثر یاد کرتاہے اس کی خوشیاں کم ہو جاتی ہیں اور اسکے دل سے حسد کے جذبات ختم ہوجاتے ہیں “

 فتنوں کے دور میں جائے امان :

 سلف صالحین کی وصایا میں سے بہترین وصیت یہ بھی ہے کہ انسان دنیا کی فتنہ سامانیوں سے بچنے کے ليے زیادہ تر وقت اپنے گھر میں گزارے کیونکہ اس سے انسان کی سمع و بصر اور زبان فضولیات سے محفوظ رہتی ہے ۔ چنانچہ حضرت ابولدرداءص فرماتے ہیں :

نِعمَ صومعةُ المرئِ المسلمِ بیتہ ، یکف لسانَہ و فرجَہ و بصرَہ و ایاکم و مجالس الا سواق فانھا تلھی و تلغی یعنی مسلمان کے لےے محفوظ ترین جگہ اس کا گھر ہے ، جو اس کی زبان ، عفت و عصمت ، اور نگاہ کی حفاظت کرتا ہے ، اور جہاں تک بازار کی مجالس کا تعلق ہے تو یہ انسان کو غافل کرتی اور لغویات میں الجھاتی ہیں “ ۔

  اہل خانہ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دینے کا ذریعہ : جو شخص گھر میں زیادہ تر وقت گزارنے کو لہو و لعب کی مجالس اور فضولیات میں وقت برباد کرنے والی محافل پر ترجیح دیتا ہے‘ اس کے اس اہتمام سے اس کے اہل خانہ نماز کے احکام سے آگاہی حاصل کرتے اور اس کی  پابند ی کرتے،دعا کرتے ،ادب اور سلیقہ سیکھتے ہیں چنانچہ ام الدرداء رضى الله عنها بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابوالدرداءص کے 360 دوست تھے جن سے وہ اللہ کے ليے محبت کرتے تھے اور نماز میں ا ن کے لےے دعا کیا کرتے تھے ۔ میں نے ایک دن ان سے اس دعا کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ جب کوئی شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کے لےے اس کی عدم موجود گی میں دعا کرتاہے تو اللہ تعالی اس کے پاس دو فرشتے مقرر کردیتا ہے جو اس کی ہر دعا پر کہتے جاتے ہیں ولک بمثل” اللہ تعالی آپ کو بھی اسی کی مثل عطا کرے “ ۔ تو کیا میں فرشتوں کی دعائیں حاصل کرنے کی کوشش نہ کروں ؟ “

 خجو شخص اپنا زیادہ تر وقت اپنے گھر میں اہل و عیال کے ساتھ گزارتاہے وہ اپنے قول و عمل کے ذریعے اپنے  اہل خانہ کی تہذیب و تربیت میں مثالی کردار ادا کرتاہے :

 جیسا کہ حضرت عون عبد اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : ” میں نے ام الدرداءرضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ حضرت ابوالدرداءصکا سب سے افضل عمل کونسا تھا تو انہوں نے فرمایا : التفکر والاعتبار ” غور و تدبر کرنا اور ( وقائع و احداث سے ) عبرت اور نصیحت حاصل کرنا “ ۔

 ہر شخص اپنے اہل خانہ کے لےے قدوہ اور نمونہ ہوتا ہے :

 عالم با عمل کے اہل خانہ اس کی زندگی میں بھی اس کے معمولات سے متاثر ہوتے اور اس کی وفات کے لحظات بھی ان کے لےے درس و نصیحت سے بھر پور ہوتے ہیں ۔ چنانچہ ام الدرداءرضی للہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ :

 ” جب ابو الدرداءص کا آخری وقت آیا تو آپ فرمارہے تھے: میرے اس دن کے جیسے دن کے لےے ہے کوئی تیاری کرنے والا ؟ ….میری اس گھڑی جیسے وقت کے لےے ہے کوئی تیاری کرنے والا؟…. میری اس کیفیت جیسی حالت کے لےے ہے کوئی تیاری کرنے والا ؟…. پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی :

وَنُقَلِّبُ اَفئِدَتَہُم  وَاَبصَارَہُم  کَمَا لَم یُؤمِنُوا  بِہِ اَوَّلَ مَرَّة ﴿( الانعام :110)

 ترجمہ : ”اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پھیردیں گے جیسا کہ وہ اس پر پہلی بار ایمان نہیں لائے تھے ۔“

 ناصح امین : سب سے بہتر سر براہ وہ ہے جو اپنے رعایا کے ليے ناصح امین ہو ، ایسے خیر خواہ کی نصیحت رعایا کو کبھی نہ کبھی ضرور فائدہ پہنچاتی ہے ۔ چنانچہ ام الدرداءرضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے ابوالدرداءص سے پوچھا : اگر مجھے آپ کے بعد صدقہ کھا نے کی ضرورت پیش آئے تو کیا صدقہ لے سکتی ہوں ؟ ….تو انہوں نے جواب دیا : ” نہیں “ ۔ محنت و مزدوری کرنا اور اسی میں سے کھانا ، میں نے عرض کیا کہ اگر میں ضعف اور کمزوری کی وجہ سے محنت و مزدوری نہ کر سکوں تو کیا کروں ؟ ….تو انہوں نے فرمایا : گندم یا جو کے خوشے ( بالی ) کھیتوں سے چن کر گذرکرلینا لیکن صدقہ نہ کھا نا “۔

مثالی جوڑا ( شوہر اور بیوی ):

کیا ہی خوب ہے گھر کا وہ سربراہ جس کا طرز عمل اور سلوک اپنے گھر والوں کے ساتھ اس صحابی جلیل ص جیسا ہو ۔ ایسے نیک سیرت اور خوش کردار لوگوں کی صحبت میں وقت گزارنے کو تو ہر کسی کا جی چاہتا ہے ۔ اسی لےے تو ام الدرداءرضی اللہ عنہا دعا کیا کرتی تھیں ” اے اللہ! ابوالدرداءصنے دنیا میں مجھے پیغام نکاح بھیجا اور میرے ساتھ شادی کی ۔ اے اللہ ! میں آپ کی بارگاہ میں ابوالدرداءصکے ساتھ آخرت میں نکاح کے لےے کوخواست گزار ہوں ۔ میں تجھ سے سوال کرتی ہوں کہ جنت میں بھی ابوالدرداءص کو میرا شوہر بنادے حضرت ابوالدرداءصنے یہ دعا سن کر کہا : اگر تو ایسا چاہتی ہے کہ میں ہی جنت میں تیرا شوہر بنوں تو میرے بعد کسی اور سے نکاح نہ کرنا “ ۔

 لقمان بن عامر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابوالدرداءص فوت ہوگئے تو ام الدرداءرضی اللہ عنہا جو ایک حسن و جمال والی خاتون تھیں انہیں حضرت معاویہ صنے نکاح کا پیغام بھجوایا۔ ام الدرداءرضی اللہ عنہا نے جواب دیا : لا واللہ ! ما اتزوج زوجا فی الدنیا حتی ا تزوج ا با الدرداءان شاءاللہ فی الجنة ”ہر گز نہیں ! اللہ کی قسم میں دنیا میں کسی اور سے شادی نہیں کروںگی تا کہ ان شاءاللہ جنت میں ابوالدرداءکی بیوی بن سکوں “ ۔

  قارئین کرام ! ہمیں سلف صالحین کی ایسی گراں قدر پند و نصائح کی کس قدر شدید ضرورت ہے جو کہ ہمارے اخلاق کو سنواریں اور دین اسلام کو ہمارے دلوں میں جاگزیں کرتی رہیں ۔

 مذکورہ قیمتی وصیتیں اور پند و نصائح ایک انتہائی دانا و حکیم صحابی جلیل حضرت ابوالدرداءرضى الله عنه سے منقول ہیں جو کہ سراسر خیر و بھلائی پر مشتمل ہیں ۔ اور یہ ان شخصیات میں سے ایک مبارک شخصیت کے اقوال زریں ہیں جن کے بارے میں رسول اکرم ا نے فرمایا : خیرامتی القرن الذین یلونی ثم الذین یلونھم، ثم الذین یلونھم( مسلم من حدیث عبد اللہ بن مسعود رضى الله عنه) ”سب سے بہتر لوگ میرے ساتھی( صحابہ کرام ) ہیں پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں(تابعین) اور پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے یعنی تبع تابعین۔“

   مجلة ” الوعی الاسلامی “ العدد ( 539)

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*