انسانی زندگی پر فکر ِ آخرت کے اثرات

 مولانامحمدانورمحمدقاسم سلفی (کویت)

دنیا کی بے ثباتی

ایک مومن جن چھ باتوں پر ایمان رکھتا ہے ، ان میں سے ایک آخرت کا دن بھی ہے ، جس کے بارے میں وہ اس حقیقت پر ایمان ویقین رکھتا ہے کہ اسے اس دنیا سے ایک دن کوچ کرنا ہے ، اور اﷲ کے دربار میں پیش ہونا ہے جہاں اس کا بھر پور حساب لیا جائے گا ، اگر اس نے ذرہ برابر بھی نیک عمل کیا ہوگا تو اس کی جزا پائے گا اور اگر اس نے رتّی برابر بھی برا کام کیا ہوگا تو اس کی سزا بھگتے گا ۔

اسی وجہ سے وہ دنیا کو دار فانی اور آخرت کو دار البقاءسمجھتا ہے اور اس کو آباد کرنے کے لیے ہر قسم کی کوشش اور ہمہ قسم کے جتن کرتا ہے ، اﷲ رب العالمین نے قرآن مجید میں کئی جگہوں پر دنیا کی بے ثباتی بیان فرماکر اسے دھوکے کا سامان قرار دیا ہے ۔ فرمان باری تعالیٰ ہے :

”تم سب جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل تماشا ،زیب و زینت، آپس میںایک دوسرے پر فخر کرنا، اور مال و دولت اور اولاد میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنا ہے ،اس کی مثال اس بارش کی ہے جس سے اگنے والی فصل کسانوں کو خوش کردیتی ہے پھر وہ پک کر زرد پڑ جاتی ہے پھر چورا چورا ہو جاتی ہے“ ( حدید :20 )

دنیا کی بے ثباتی کی وجہ سے ہی رسول اکرم صلى الله عليه وسلم نے اپنی بے شمار احادیث میں امت کی توجہ آخرت کی طرف دلائی ہے، فرمان نبوی ہے :

”عقل مند آدمی وہ ہے جس نے اپنے نفس کو قابو میں رکھا اور ایسے کام کئے جس کا فائدہ اسے موت کے بعد ملے گا ۔“          ( بخاری )

آپ صلى الله عليه وسلم نے انسانی حرص کو لگام دیتے ہوئے فرمایا :

 ”انسان ہمیشہ یہ کہتا رہتا ہے کہ یہ میرا مال ہے اور یہ میرا مال ہے ، حالانکہ سوائے تین چیزوں کے کوئی اس کا مال نہیں ہے 1) جو کچھ کھا کر ختم کردیا ۔( وہ اس کا ہے ، کیونکہ اس کھانے کے مزے اس نے اس دنیا میں لیے ) 2) جو کچھ پہن کر پرانا کردیا ۔( وہ اس کا ہے ، کیونکہ اس لباس سے اس نے اس دنیا میں زیب وزینت اختیار کی) 3)اور جو کچھ (اچھا یا برا )عمل کرکے توشہ آخرت تیار کرلیا ( وہ اس کا ہے ، کیونکہ اس کی جزا یا سزا اس کو آخرت میں ملے گی ) اس کے سوا جو کچھ ہے وہ ( وارثوں کو )جانے والا ، اور لوگوں کے لیے چھوڑ کر مرنے والا ہے ۔“ ( متفق علیہ )

 

”اگر انسان کے پاس سونے کی دو وادیاں بھی ہوں پھر بھی اس کی چاہت ہوگی کہ کاش اسے تیسری بھی مل جاتی ۔ انسان کی (حرص ) کے پیٹ کو سوائے ( قبر کی ) مٹی کے اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی ۔ “( بخاری )

موت ایک اٹل حقیقت

دنیا میں صرف موت ہی ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس کو ہر انسان تسلیم کرتاہے اور جس میں اختلاف کی گنجائش ہی نہیں ہے ، کافر تو اسے اپنی زندگی کا اختتام سمجھتا ہے ،جب کہ مسلمان اسے آخرت کی زندگی میں داخل ہونے کا دروازہ ، اور رب کی بارگاہ میں حاضر ہونے اور اپنے اعمال کی جزا یا سزا پانے کا ایک ذریعہ سمجھتا ہے، فرمان باری تعالیٰ ہے: ”ہر متنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تم کو قیامت کے دن تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، تو جو شخص آتش جہنم سے دُور رکھا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے ۔“         ( آل عمران :185)

موت سے کسی کو کوئی مفر نہیں، دنیا میں کوئی ایسی پناہ گاہ نہیں جو انسان کی موت سے حفاظت کرسکے ، اہل دنیا نے ہر بیماری کے علاج کے متعلق کافی پیش رفت کی ہے ، لیکن موت کے سامنے سب بے بس ہیں :

” تم کہیں بھی رہو موت تو تمہیں آکر ہی رہے گی خواہ مضبوط سے مضبوط قلعوں میں ہی رہو۔“(النساء:78)

روئے زمین پر انسانوں میں اگر کسی کو زندہ رہنے کا حق ہوتا تو اس کے سب سے زیادہ مستحق ، حبیب رب العالمین ،  ساقی حوض کوثر ، شافع روز محشر ، رسول اکرم ا ہوتے ، لیکن آپ بھی اس دنیائے رنگ وبو سے رب کی رحمت میں چلے گئے ۔

اسی لیے رسول اکرم صلى الله عليه وسلم نے حضرت عبد اﷲ بن عمر رضى الله عنهما کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :

 ” دنیا میں اس طرح رہو جیسے تم اجنبی ہو یا مسافر ، صبح کرو تو شام کا انتظار نہ کرو ، اور شام کرو تو صبح کا انتظار نہ کرو ، اور اپنے آپ کو مُردوں میں شمار کرلو ، اور اپنی صحت کو غنیمت جان لو اپنی بیماری سے پہلے اور اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے ۔ “( بخاری )

یعنی دنیا کو وطن نہ بنانا کہ تم میں اس میں عرصہ دراز تک رہنے کی آرزو پیدا ہوجائے ،اس سے صرف اتنا ہی شغف و تعلق رکھنا جتنا کہ ایک اجنبی شخص ، جوکہ اپنے اہل وعیال کے پاس لوٹنا چاہتا ہے ،اجنبی ملک سے رکھتا ہے ، اور ہمیشہ اپنی موت وآخرت کی یاد میں رہنا ۔ بقول شاعر

فکر عقبیٰ کی کر ، آج ہی بے خبر

کل نہ کرکل کاکوئی بھروسہ نہیں

 اس لیے رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم نے حکم دیا ہے :” تم لذتوں کو پاش پاش کرنے والی چیز کو بکثرت یاد کیا کرو ، صحابہ کرام ث نے کہا : یا رسول اﷲ !وہ کونسی چیز ہے ؟ آپ انے فرمایا : وہ موت ہے ۔“ ( متفق علیہ ) نیز فرمایا :

” تم قبرستان کی بار بار زیارت کرو ، اس لیے کہ یہ عمل تمہیں موت کی یاد دلاتا ہے “(بخاری )

 اور حقیقت بھی یہی ہے کہ انسان کو عبرت حاصل کرنے کے لیے قبرستان سے بہتر اور کوئی جگہ نہیں ۔

دنیا کے متعلق مومن کا کردار

بندہ مومن دنیا سے اپنا دل نہیں لگاتا ، وہ اپنی ساری توجہ آخرت پر مرکوز رکھتا ہے ، گذر اوقات کے لیے وہ ضرور محنت مزدوری کرتا ہے ، تجارت وزراعت اور دنیا کے تمام حلال اور جائز ذرائع استعمال کرکے ایک باوقار زندگی گذارتے ہوئے بھی آخرت کو کبھی نہیں بھولتا ،رسول اکرم ا کا یہ ارشاد گرامی ہمیشہ اس کی نظروں میں رہتا ہے کہ :”اگر دنیا اﷲ تعالیٰ کی نظر میں مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو پینے کی خاطر ایک گھونٹ پانی بھی نہیں ملتا ۔“ ( ترمذی )

 دنیا سے عدم رغبتی اﷲ تعالیٰ کی محبت کے حصول کا ایک عظیم ذریعہ ہے ۔حضرت سہل بن سعد الساعدی ص کہتے ہیں : ” میں نے کہا : اے اﷲ کے رسول ا ! مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیں جسے میں اگر سر انجام دوں تو مجھ سے اﷲ بھی محبت کرے اور لوگ بھی محبت کریں ۔ آپ انے ارشاد فرمایا : دنیا سے بے رغبت ہوجاؤ تو اﷲ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا ، لوگوں کے پاس جو کچھ مال ومتاع ہے اس سے بے نیاز ہوجاؤ تو لوگ تمہیں چاہنے لگیں گے ۔“ ( صحیح ۔ابن ماجہ )

 یہی وجہ تھی کہ صحابہ کرام نے دنیا سے لو نہیں لگائی –

حضرت ابوذر رضى الله عنه  ایک عظیم صحابی ہیں ، ان کی دنیا سے بے رغبتی کا عالم یہ تھا کہ جو کچھ دن میں کماتے شام ہونے سے پہلے ہی اﷲ کی راہ میں خرچ کردیتے تھے ، عالم یہ تھا کہ رہنے کے لیے سوائے ایک جھونپڑی ، سفر کے لیے ایک اونٹنی ، اور خدمت کے لیے ایک غلام کے سوا کوئی دنیا نام کی چیز پاس نہیں تھی ، ایک دن غلام نے تنگی اور عسرت کی زندگی سے پریشان ہوکر تنگ آ کر کہا : ” حضرت ! آپ کی خیرات پاتے پاتے لوگ مالدار ہوگئے ، لیکن آپ کا عالم یہ ہے کہ رہنے کے لیے سلیقے کا مکان بھی نہیں ہے ،زندگی میںکم از کم رہنے کے لیے ایک اچھا مکان تو بنالیجئے ۔ تو اس مرد حق آگاہ نے جواب دیا : ” میں اپنے دنیا کے گھر کو اس لیے اجاڑ رہا ہوں تاکہ آخرت کا گھر آباد ہوجائے “۔       ( صفة الصفوة : لابن جوزی )

حضر ت احنف بن قیس رضى الله عنه حضرت امیر معاویہ رضى الله عنه  کی مجلس میں تھے توانہوں نے حضر ت احنف بن قیس  رضى الله عنه سے کہا آپ ذرا حضرت علی بن ابی طالب رضى الله عنه کے کچھ اوصاف بیان کریں، انہوں نے عرض کیا : امیر المومنین ! کیا آپ مجھے معاف کردیں گے ؟ حضرت امیر معاویہص نے کہا : آپ بیان کرتے جائیں۔  حضر ت احنف بن قیس رضى الله عنه نے جہاں حضرت علی بن ابی طالب رضى الله عنه کی بے شمار خصائل محمودہ کا تذکرہ فرمایا، وہیں یہ بھی بیان کیا :

 ” ایک مرتبہ میں نے انہیں دیکھا کہ وہ تہجد کی نماز ختم کرچکنے کے بعد سجدہ میں سر رکھ کر اس طرح تڑپ رہے تھے جیسے وہ شخص تڑپتا ہے جسے بچھو نے ڈنک مار دیا ہو ، اور فرمارہے تھے اے دنیا ! کیا تو مجھے اپنا فریفتہ بنانا چاہتی ہے ؟ کیا مجھے اپنی محبت میں گرفتار کرنا چاہتی ہے ؟ جب کہ میں نے تجھے تیسری طلاق بھی دے دی ہے ۔ یہ سن کر حضرت امیر معاویہ ص رونے لگے اور پھر فرمایا : اﷲ کی قسم! علی بن ابی طالب ص اس سے بھی کہیں زیادہ عظیم تھے جتنا کہ آپ نے بیان کیا “۔          ( حلیة االاولیاء)

انسانی زندگی پر فکر آخرت کے اثرات

جب انسان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اسے روزِ محشر اﷲ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے تو وہ دن کا اجالا ہو یا رات کا اندھیرا ، کسی کو دھوکہ نہیں دے گا ، جھوٹ نہیں کہے گا ، بے وفائی نہیں دکھائے گا ، اور موجودہ دنیا میں جو کچھ برائیاں ہیں ان سے اپنا دامن بچاکر رکھے گا ، فکر آخرت رکھنے والے کچھ اﷲ کے نیک بندوں کے واقعات ہدیہ قارئین ہیں جو ہمارے لیے درس آموز ہیں :

 حضرت عبد اﷲ بن دےنار کہتے ہيں :” ميں حضرت عمر رضى الله عنه کے ہمراہ مکہ کے لیے روانہ ہوا ، راستے ميں ايک چرواہا ايک پہاڑ ی کی ڈھلوان سے اترتا ہوا نظر آيا، حضرت عمر رضى الله عنه نے اسے آزمانے کے لیے کہا:”اے چرواہے ! ان بکریوںمےں سے ايک مجھے فروخت کردے ، اس نے کہا : ”ميں مالک نہےں غلام ہوں “ حضرت عمررضى الله عنه نے فرمايا :” کوئی بات نہےں، مجھے فروخت کرکے اپنے مالک سے کہہ دے کہ اس بکری کو بھےڑئے نے کھا ليا “ اس پر چرواہے نے کہا : فََأينَ اﷲُ حضرت ! تو پھر اﷲ کہاں ہے ؟ حضرت عمر رضى الله عنه روپڑے ، اور اس کے ساتھ چل کر اس کے مالک سے بات کی اور اسے خريد کر آزاد کردےا اور فرماےا :” تےرے اےک لفظ نے تجھے دنےا مےں غلامی سے نجات دلاےا ہے اور مجھے امےد ہے کہ ےہی لفظ آخرت مےں بھی تجھے دوزخ کے عذاب سے نجات دلائے گا “۔

 امام غزالی رحمہ اﷲ احیاءعلوم الدین میں لکھتے ہیں :

”امام یونس بن عبید رحمہ اﷲ کپڑوں کا کاروبار کرتے تھے ، آپ کی دوکان مےں مختلف قسم کے لباس ، چادریں اور جوڑے تھے، ان میں سے کچھ کی قیمت چار سودرہم اور کچھ کی دوسو د رہم تھی، آپ نے نماز پڑھنے کے لیے مسجد جاتے ہوئے دوکان مےں اپنے بھتیجے کو چھوڑا اور اسے تمام کی قیمتےں بھی سمجھادیں ، اس دوران ایک بدو شخص آیا ، اس نے چار سو درہم کا ایک جوڑا مانگا ، لڑکا چالاک تھا اس نے اسے دوسودرہم والا جوڑا دکھایا ،اس نے اسے پسند کرلیا اور خوشی خوشی چار سو درہم ادا کرکے چلا گیا ، راستے مےں اسے یونس بن عبید   مل گئے ، انہوں نے اس کپڑے کو پہچان لیا جو ان کی دوکان سے خریدا گےا تھا ، آپ نے اس بدو سے پوچھا : ” تم نے اسے کتنے میں خریدا “ کہا :چار سو درہم مےں ، آپ نے فرماےا :

 ”یہ دوسو درہم سے زیادہ کا نہیں ہے ، اس لیے تم اسے واپس کر آو “ اس نے کہا : ” حضرت ! یہ ہمارے ہاں پانچ سو درہم کا ملتا ہے اور مےں نے اسے اپنی خوشی سے خریدا ہے آپ نے فرماےا : ” مےرے ساتھ واپس چلو ، اس لیے کہ دین میں خیر خواہی کا مقام دنیا اور اس مےں جوکچھ ہے اس سے بہتر ہے “ پھر آپ اپنی دوکان پر آئے اور اسے دو سو درہم واپس کےا، اپنے بھتےجے کو خوب ڈانٹا پھٹکارا، اس سے جھگڑا کیا اور فرمایا : “کےا تمہیں ذرا بھی شرم نہیں آئی ؟ کےا تم میں کچھ بھی اﷲ کا خوف نہیں ؟ اصل قیمت کے برابر فائدہ کھاتے ہو اور مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی نہیں کرتے ؟“       ( تربیة الاولاد فی الاسلام )

مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی  اپنی مشہور کتاب ” انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کا اثر “ میں لکھتے ہیں :

” انگریزی عملداری کی ابتدا کا واقعہ ہے کہ ضلع مظفّر نگر کے قصبہ کاندھلہ مےں ایک جگہ پر ہندو اور مسلمانوں میں تنازعہ ہوا کہ یہ ہندووں کا معبد ہے یا مسلمانوں کی مسجد ؟ انگریز مجسٹریٹ نے فریقین کے بیانات سننے کے بعد مسلمانوں سے تخلیہ مےں پوچھا کہ کےا ہندوو ں میں کوئی ایسا شخص ہے جس کی صداقت پر آپ اعتماد کرسکتے ہیں اور جس کی شہادت پر فیصلہ کردیا جائے ؟ انہوں نے کہا : ”ہمارے علم مےں ایسا کوئی شخص نہیں ، ہندوو ں سے پوچھا تو انہوں نے کہا :” یہ بڑی آزمائش کا موقعہ ہے ، معاملہ قومی ہے ، لیکن پھر بھی ایک مسلمان بزرگ ہےں جو کبھی جھوٹ نہیں بولتے ، شاید وہ اس موقعہ پر بھی سچّی ہی بات کہیں “یہ بزرگ مفتی الہی بخش صاحب  ( تلمیذ حضرت شاہ عبد العزیز صاحب  خلیفہ حضرت سیّد احمد شہید   کے خاندان کے ایک بزرگ تھے ، مجسٹریٹ نے ان کے پاس چپراسی بھیج کر عدالت میں طلب کیا ، انہوں نے فرمایا کہ :” میں نے قسم کھائی ہے کہ فرنگی کا منہ کبھی نہ دیکھوں گا “ مجسٹریٹ نے کہا ” آپ میرا منہ نہ دیکھیں ، لیکن تشریف لے آئیں ، معاملہ اہم ہے ، اور آپ کے یہاں تشریف لائے بغیر فیصلہ نہیں ہوسکتا “ وہ بزرگ تشریف لائے اور پےٹھ پھیر کر کھڑے ہوگئے ، معاملہ ان کی خدمت مےں عرض کےا گےا اور دریافت کیا گیا کہ آپ کا اس بارے مےں کےا علم ہے ؟، ہندوو ں اور مسلمانوں کی نگاہیں ان کے چہرے پرہیں اور کان ان کے جواب پر لگے ہوئے تھے ، جس پر اس اہم معاملے کا فیصلہ ہونا ہے ۔ ان بزرگ نے فرمایا کہ :” صحیح بات تو یہ ہے کہ جگہ ہندوو ں کی ہے ، مسلمانوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔“ عدالت کا فیصلہ ہوگیا، جگہ ہندوو ں کو مل گئی ، مسلمان مقدمہ ہار گئے ، لیکن اسلام کی اخلاقی فتح ہوئی ، صداقت اور اسلامی اخلاق کے ایک مظاہرے نے چند گز زمےن کھوکر بہت سے غیر مسلم انسانوں کے ضمےر اور دل ودماغ جیت لیے ، بہت سے ہندو اسی دن ان کے ہاتھ پر مسلمان ہوگئے ۔“( کتاب مذکور : صفحہ 360)

 افسوس فکر آخرت کی يہ تابناک مثالےں کتابوںمےں ہی باقی رہ گئی ہےں، رہامسلم معا شرہ‘ تو وہ مسلمانی در کتاب ومسلمانان درگور”اسلام کتابوں مےںاور مسلمان قبروں مےں“کی زندہ مثال بن کر ساری دنیا میں زوال وذلت کی انتہا کو پہنچ چکا ہے ۔ انا ﷲ واناالیہ راجعون

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*