غیر مسلموں میں دعوت کا طریقہ کار

ترجمہ: علاءالدین عین الحق مکی (کویت)

 abusafia1996@yahoo.com

الحمد للہ رب العالمین والصلاة السلام علی سید المرسلین وعلی آلہ وصحبہ اجمعین وبعد!

اللہ سبحانہ تعالی نے نبی کریم محمد ا کو داعی ، جنت کی خوش خبری سنانے والا اور جہنم سے ڈرانے والا بنا کر دنیائے انسانیت کے لیے مبعوث فرمایا، چنانچہ آپ کی پوری پیغمبرانہ زندگی اس ذمہ داری کے احساس اور ادائیگی سے پر ہے۔ فرمان الٰہی ہے: ” اے نبی (صلى الله عليه وسلم) بے شک ہم نے آپ کو خوشخبری دینے والا اور انکار وبدعملی کے نتائج سے آگاہ کرنے والا اور اللہ کی اجازت سے اس کی طرف لوگوں کو بلانے والا اور روشن آفتاب کی حیثیت سے بھیجا ہے- (سورہ احزاب آیت نمبر45۔46)

 اس طرح رسول انے رسالت کی تبلیغ کرتے ہوئے، دینی امانت کو ادا کرتے ہوئے، امت کو نصیحت وتذکیر کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں پوری پوری جد وجہد کرتے ہوئے اپنی جا ن جان آفریں کے سپرد کردی اور اپنے رفیق اعلی سے جاملے۔ اس کے نتیجے میں پورا جزیرئہ عرب عقیدئہ توحید کا فرماں بردار وعلمبردار ہوگیا، اس کے ساتھ ہی آپ انے اپنے پیچھے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ایک ایسا پاکیزہ گروہ چھوڑا جو آپ کے طریقے پر تاحیات عمل پیرا رہے اور بالشت کے برابر بھی اس سے انحراف نہ کیا، اور انفرادی طور پر یا اجتماعی سطح پر اسلام کی روشنی کوجزیرئہ عرب سے باہر لوگوں تک پہنچانے میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی، حتی کہ خشکی اور صحراو ں کی بھی کوئی پرواہ نہ کی اور تبلیغ دین کی خاطر اپنی جان جوکھم میں ڈال دیا اور اسی ذمہ داری کی ادائیگی میں بہت سے صحابہ کرام ثنے اپنے ملک سے باہر دور دراز ممالک میں موت کی آغوش میں ابدی نیند سوگئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔بیشک انھوں نے دعوت دین کی خاطر اپنے گھروں کوخیرباد کیا اور ہرچیز کی قربانی دی، انہیں نفوس قدسیہ کے نقش قدم کی پیروی تابعین نے بھی کی چنانچہ بہیترے ممالک فتح کیے اور ساری دنیا میں پھیل گئے۔ آج بھی ان کے کارنامے اور ان کے نشانات دنیا کے گوشے گوشے میں اس کے واضح ثبوت ہیں۔

 بردران اسلام: آج جبکہ ان بزرگوں کی کوششوں کے بدلے آپ دین اسلام اور عقیدئہ توحید کی نعمت سے مالامال ہیں دنیا کی اکثر وبیشتر قومیں آپ کے پاس خود چل کر کام کے لیے آتے ہیں، آپ کی باتیں سنتے ہیں اور دنیوی مال ومتاع سے پورا پورا فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔

کیا آپ نے اس نکتہ پر غور کیا کہ پوری دنیا میں نظریاتی وتہذیبی کشمکش بہت گرم ہوگئی ہے اور ہر نظریے کے علمبردار اپنے نظریے کی تبلیغ کررہے ہیں اور اس کے لیے بھاری رقم بھی خرچ کررہے ہیں۔انھوں نے اپنے ذرائع ابلاغ کو اس پر لگادیا ہے اور معیاری بحث وتحقیق کے شعبے قائم کررکھے ہیں۔

یقینا آپ اس حقیقت سے واقف ہیں اور آپ کو بخوبی معلوم ہے کہ دین اسلام ایک عالمگیر دین ہے جو تمام انسانیت کو اپنا پیغام دینا چاہتا ہے، تمام پیغمبروں کا دین یہی اسلام ہی ہے اور تمام انسانیت کے دین کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اسے ہی پسند کر رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:”بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہی دین ہے“۔(آل عمران19) اور فرمایا :” اور جوکوئی اسلام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا دین اختیار کرلے اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا “ (آل عمران 85) اور یہ بھی فرمایا :”آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور اپنی نعمت پوری کردی اور اسلام کو دین کے طور پر پسند کرلیا“۔ (سورئہ مائدہ آیت نمبر3)

اللہ تعالی کو دین اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین مقبول نہیں ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان اس بات کا پورا یقین رکھتا ہے کہ غیر مسلم اپنے طور طریقے اور افکار وادیان کے اختلاف کے باوجود سب کے سب اسلام کی دعوت کے مخاطب ہیں جو عقیدئہ توحید کی طرف دعوت دیتا ہے، یہی وہ عقیدہ ہے جس کی دعوت تمام انبیاءو رسل نے اپنی اپنی قوم کو دی ہے اور ان سے اس بارے میں لڑائی اور جھگڑے کی نوبت بھی پیش آئی ہے۔

ایک دوسرے اعتبار سے غور کیا جائے تو اسلام ہی دین کامل ہے جو تمام سفینہ زندگی کو اپنے رنگ میں رنگنا چاہتا ہے، خواہ سماجی زندگی ہو یا معاشی اورسیاسی۔ اس طرح دین اسلام روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگوں کے لیے خواہ وہ کالے ہوں یا گورے، عربی ہوں یا عجمی ایک عالمی پیغام ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ انسان چاہے اس کا مقام ومرتبہ جو بھی ہو اور اس کا تعلیمی وسماجی رتبہ جیسا بھی ہو وہ دین اسلام سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دعوت دین کا کام امت مسلمہ کے لیے شرف اور فضیلت کی بات ہے کیونکہ انسانیت کو صراط مستقیم کی دعوت دے کر آدمی اپنا شمار اس عظیم مقصد نبوت ورسالت میں کراتا ہے جس کے لیے انبیاءو رسل کی بعثت عمل میں آئی اور اس ذمہ داری کی ادائیگی سے انسان اس بڑے مقصد اور شرط کی تکمیل کرتا ہے جس سے خیر امت کے مقام کو وابستہ کیا گیا ہے :”تم ہی وہ بہترین گروہ ہو جسے لوگوں کے لیے برپا کیا گیا ہے، بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایما ن رکھتے ہو“(آل عمران 110) اس کا لازمی نتیجہ ہے کہ امت مسلمہ کا ہر فرد خواہ مرد ہو یا عورت انفرادی طور پر ان کی ذمے داری ہے کہ دین اسلام کی دعوت کا فریضہ انجام دیں اور اس کی صفت سے متصف ہوں جس سے نبی کریم ااور صحابہ کرام ثمتصف تھے۔

 اس طویل تمہید کے بعد فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر دعوت دین کا طریقہ کیا ہے؟

پہلی بات: سب سے پہلے بنیادی بات تویہ ہے کہ آپ کوخود کوایک نمونہ اور اسوہ کے طور پر پیش کرنا ہوگا، اس سلسلے میں رسول اکرم اکی زندگی مبارک ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے، جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ا بعثت سے پہلے صادق اور امین کی حیثیت سے مشہور ومعروف تھے اور نبوت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد آپ قرآن کریم کا چلتا پھرتا اخلاقی نمونہ تھے، جیسا کہ عائشہؓنے فرمایا، اس وجہ سے آپ ا اپنے رب کریم کی تعریف کے حقدار ٹھہرے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ”اور آپ عظیم اخلاق کے منصب پر فائز ہیں“۔(سورئہ قلم1)

اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لیے سخت وعید نازل فرمایا جن کے قول اور فعل میں تضاد ہو :”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو ؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسند یدہ حرکت ہے کہ مت کہو وہ بات جو کرو نہیں“(سورہ صف 2۔3)

اور یہ بھی”تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کہتے ہو، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو۔کیا تم عقل سے بالکل کام نہیں لیتے ؟ “(سورة البقرة44)

ایک مسلمان خاص طور پر ایسا آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے فہم وشعور کی نعمت سے نوازا ہے اس کی ذمہ داری ہے کہ اپنے علم سے مستفید ہو اور دوسروں کو بھی اس سے فائدہ پہنچائے۔

اور اس میں دو رائے نہیں کہ چند اوصاف ایسے ہیں جن پر ایک مسلمان کا آراستہ ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ اپنے دوسرے بھائیوں کے لیے وہ نمونہ بن سکے اور وہ جب اسے دیکھیں تو یہ محسوس کریں کہ یہ شخص ایک چلتا پھرتا اسلام ہے۔ ان اوصاف میں سے بطور مثال ایک یہ بھی ہے کہ داعی اپنی زندگی کو دین اسلام کے احکام کا پابند بنائے اور اوامر ونواہی پر عمل کرنے کی پوری پوری کوشش کرے۔

دوسری بات: ایک انتہائی اہم بات یہ بھی ہے جس کی حیثیت داعی کے لیے بنیادی اور نازک محرک کی ہے، داعی اپنے ہر کام میں خواہ تصنیف وتالیف کا میدان ہو یا خطابت اور تقریر کا یا گفتگو، مذاکرہ اور علمی بحث ومباحثہ ہو۔ ہر کام میں پیارا اور پسندیدہ انداز اختیار کرے، اپنے پیارے اسلوب سے بڑے سے بڑا ہدف اور مقصد کو کم سے کم خرچ، لاگت اور تھوڑے وقت میں حاصل کیا جاسکتا ہے۔کیونکہ ایک آدمی جب اپنے خیالات ونظریات اور اصولی باتوں کو پرکشش انداز میں پیش کرتا ہے جس سے کہ دوسروںکے دلوں میں اسلام کے لیے جگہ بنائی جاسکے تو یقینا وہ اس سے قریب ہونگے اور نفرت کے راستے کو چھوڑیں گے۔ ایک اسلوب یہ بھی ہے کہ لوگوں کو ان کے شعور وعقل کے اعتبار سے مخاطب کیا جائے۔ چنانچہ عام لوگوں سے فلسفہ ومنطق کے انداز میں گفتگو نہ کی جائے اور نہ ہی اپنے دل پسند لوگوں سے جذباتی انداز میں جو حجت اور عقلی دلیل سے خالی ہو‘ گفتگو کی جائے۔

اور انسانی فطرت یہ ہے کہ آدمی اس سے حجت کرتا ہے جو اس کے ساتھ اچھا برتاو کرے بلکہ بسا اوقات آدمی سخت انداز کے رد عمل میں تکبر، ضد اور نفرت پر اتر آتا ہے، نرمی کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی مداہنت، ریاکاری اور نفاق سے کام لے۔ بلکہ یہ نرمی ، نصح وخیرخواہی اور بھلائی کی باتوں میں استعمال ہو جس سے کہ دلوں کے بند دروازے کھلیں اور سینے میں کشادگی پیدا ہو۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر موسیٰ وہارون علیہماالسلام سے تلقین کرتے ہوئے کہا ہے :

  ترجمہ: ”تم دونوں فرعون کے پاس جاو بے شک وہ سرکشی پر اتر آیا ہے اور اس سے نرم باتیں کرو تاکہ وہ نصیحت حاصل کرے یا اس کے دل میں ڈر پیدا ہو“ (طہ 43۔44)

 تیسری بات: مدعو کی پہچان اور اس کے نظریات وتصورات کی واقفیت حاصل کرنا : کیونکہ اس طریقہ سے اس کے دل میں گھر کرنے کے لیے راستہ ہموار ہوتا ہے۔ دراصل ایک مسلمان کا کام بیماری کی تشخیص کرنااور پھر اس کے لیے دوا وعلاج پیش کرنا ہے، اسے اس انتظار میں نہیں رہنا چاہیے کہ دوسرے لوگ اپنے علاج کے لیے اس کے پاس چل کر آئیں گے بلکہ اسے خود ہی ان کے پاس چل کر جانا چاہیے اور اس کے لیے خاص مواقع اور تقریبات جیسے شادی وغیرہ کا وقت منتخب کرنا چاہیے

چوتھی بات: ایک داعی کے لیے نہایت ضروری ہے کہ دعوتی موضوعات میں عقیدہ اسلامی کو بنیادی اہمیت دے اور کوشش کرے کہ مدعو کے قلب وذہن میں ایمان باللہ کا بیج اچھی طرح بودے، اور یہ بھی کوشش کرے کہ مدعو کے ذہن نشین کردے کہ اللہ ہی پیدا کرنے والا، روزی دینے والا، زندہ رکھنے والا اور موت سے دوچار کرنے والا ہے اور یہ بھی کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ہے اور حساب وکتاب بھی ہونے والا ہے جہاں نیکوکار اپنی نیکی کا اچھا بدلہ پائے گا اور بدکار اپنی بدی کے برے نتیجہ سے دوچار ہوگا۔ اس لیے عقیدئہ اسلامی کے بارے میں گفتگو کرنا اور اس کی روح اور لازمی بنیادی امور کو اجاگر کرتے رہنا داعی کی دعوت کی بنیاد ہے اور یہ ایسی ذمہ داری ہے کہ اس کی طرف برابر توجہ دلانا ضروری ہے ،اور کبھی بھی اس سے بے پرواہی نہیں برتنا چاہیے۔ کیونکہ دین اسلام میں اس کی حیثیت بنیادی ستون کی ہے۔ جب یہ بنیاد مضبوط ہوجائے اور مدعوحضرات پورے طور پر قبول کرلیں تو پھر داعی کے لیے مخاطب کواسلامی احکام، تقاضے اور دیگر جزئیات سے مطمئن کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

 اسی طرح اس کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے کہ ایک داعی جب مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں گفتگو کرے تو اس کی پوری وضاحت کردے کہ مسلمان آج جو مغلوبیت، پسماندگی اور آپسی اختلاف وانتشار کی زندگی جی رہے ہیں اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے اور وہ اسلام اور اسلامی تعلیمات سے دوری۔

اور اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ مدعو کو جب  عقیدئہ اسلامی کی بنیادوں کا پورا شعور ہوجائے اور وہ  کلمہ توحید لاالہ الااللہ کے شرائط سے پوری طرح واقف ہوجائے تو پھر اسے دیگر اسلامی اصول اور اس کی تعلیمات سے آگاہ کرنا نہ صرف یہ کہ آسان ہوجائے گا بلکہ یہ چیز اسے قرآن کریم کے زبانی یاد کرنے میں بھی مدد کرے گی۔

 پانچویں بات: مسلمان کو دعوتی کام میں تاکیدی طور پر صبر کا حکم دیا گیا ہے ،اسے اپنی دعوتی کوششوں کے ثمرات ونتائج دیکھنے کی لیے جلد بازی سے ہر گز کام نہ لینا چاہیے۔ اور اسی طرح اسے ناامیدی اور کسی وہم اور غلط فہمی کا بھی شکار نہیں ہونا چاہیے کہ اس کی کوششیں بار آور نہیں ہورہی ہیں اور اس دعوتی کاز میں صبر کا لازمی تقاضا ہے کہ جہاں نصیحت کرنا ضروری ہو وہاں اس میں کوتاہی نہ برتے اور ایسے موقع پر حق بات ہی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے جو بیباکانہ انداز میں کہی جائے۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ” اور اے نبی! آپ کہہ دو حق تمہارے رب کی طرف سے آیا ہے ، اب جو چاہے اسے اختیار کرے کہ ایمان لائے یا کفر کا رویہ اپنائے۔“( سورئہ کہف 29)

چھٹی بات: ایک مسلمان سے اللہ کی راہ میں قربانی مطلوب ہے۔ وقت کی قربانی، محنت اور جدوجہد کی قربانی، ذہن کو فری کرنے کی قربانی، سماجی مقام ومنصب کی قربانی، اپنے روشن مستقبل اور کیرئیر کی قربانی، ارمان وآرزو وں اور امیدوں کی قربانی۔اپنی ان تمام محبوب چیزوں کی قربانی میں سلف صالحین کو نمونہ بنانا چاہیے۔ جنہوں نے دعوت کی راہ میں قربانی کی خوشگوار مثالیں قائم کیںہیں۔ اس لیے بعد کی نسل کے لیے یہی بہتر ہے کہ اپنے آباو اجداد کے نقش قدم پر چلنے کی کوششیں کریں، مسلمانوں کو تاریخ میں اپنا نام درج کرانے کے لیے ضروری ہے کہ قربانی کی صفت اپنے اندر پیدا کریں، کیونکہ اس صفت سے خالی ہونے کا صاف مطلب ہے کہ ان کے اندر دنیا کی حقیر چیز کے لیے دل میں تڑپ پیدا ہوگئی ہے۔

 قربانی کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی اسلام کے مفاد کو اپنی ہر چیز پر ترجیح دے خواہ حالات جیسے بھی ہوں۔ کاروباراورخرید وفروخت ‘اللہ کی یاد، نماز قائم کرنے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے غافل نہیں کرسکتے۔

مسلمانوں کے دلوں میں دینی جذبے کی کوئی کمی نہیں ہے، اسی طرح دنیامیں اسلام جس تخریب کاری اور گمراہ کن پروپیگنڈہ سے دوچار ہے اس سے بھی وہ خوش نہیں ہیں، اسلام کے لیے ان کے دلوں میں تڑپ ہے مگر انہیں ایسے داعی کی ضرورت ہے جو انہیں صحیح رہنما ئی کرسکے اور صراط مستقیم کی کھول کھول کروضاحت کرسکے۔

برادر عزیز: کیا ہی خوش نصیبی کی بات ہے کہ آپ ایسے حالات میں مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے آگے آئیں، اس طرح آپ ان خطرات کو دور کرنے میں حصہ لیںگے جن سے پوری دنیا میں اسلام اور مسلمان دوچار ہیں۔

دعوت کے میدان میں چند فائدہ مند کتابیں:

۱۔ دعوت اور اوصاف داعی (شیخ ابن باز)

۲۔ دعاة کی حالات زندگی (البہی الخولی)

۳۔ دعاة کی حالات زندگی(مولاناسیدابوالاعلی مودودی)

۴۔ طریقہ دعوت (عبدالبدیع صقر)

 ۵۔ دعوت (مناع القطان)

۶۔ تاریخ دعوت وعزیمت (مولاناابوالحسن علی الندوی)

۷۔ دعوت اور دعاة کی ڈائری(حسن البنائ)

 

4 Comments

  1. السلام علیکم
    ماشاءاللہ
    شکرا جزیلا
    اللھم زد فزد

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*