محرم نہیں ہے تو ہی نواہائے راز کا

اعجازالدین عمری (کویت)

amagz@ymail.com

مچھلی،بیش بہا” ہیرا“ نگل گئی تھی اس کو شکار کرکے مچھیرابازار میں لایا اور آواز دینے لگا مچھلی ، پچاس روپیوں میں؛ مچھلی پچاس روپئے

شام ہونے آئی تو ایک گاہک آیا اور کہنے لگا ”بھائی ،پانچ روپئے گھٹاکر مچھلی کو میرے ہاتھ بیچ دو“ مچھیرے نے نفی میں جواب دیا تو وہ الٹے پیر نکل کھڑا ہوا شام ڈھلی اور کوئی دوسرا گاہک خریداری کو نہ آیا تو تو وہ اسے گھر لے آیا اور بیگم کے ہاتھوں اُسے تھماتے ہوے کہنے لگا آج اسی کا سالن تیار کرنامچھلی صاف کرتے ہوے جب مچھیرن نے ہیرا دیکھا تو کہنے لگی ” افوہ مچھلی کے پیٹ میں کوئی کنکری پڑی ہے “ اور اس نے اس کو پھینک دیا رات جب مچھیرا اپنی بیوی کے ساتھ کھانے بیٹھاتو مچھلی کا ایک لقمہ منہ میں رکھتے ہوے کہنے لگا ” نادان گاہک پانچ روپیے کم کر کے اسے مانگ رہا تھا مگرمیں ناداںتوہوں نہیں کہ اتنی لذیذ مچھلی نقصان میں دے دیتا!؟“

زندگی اپنے بطن میں انمول جواہر رکھتی ہے مگر ہر کوئی اس سے غافل ہے ! ہر نادان کو یہاں دانا ئی کا غرور ہے ، ہر بیخبر کو اپنی بیداری کا دعوی ہے۔یہاں اُجلے روشن شہروں کا منظر بھی دُھندلا د ُھندلا لگتا ہے۔ یہاں آدمی اپنی قسمت کو روتا ہے اور قسمت اسکی ہتھیلی کو چھوکر گذر جاتی ہے ۔ اس بازارِ حیات میں اسرارِ حیات سے سبھی بیگانہ ہیں،سوداگر بھی ، خریدار بھی ! رہِ حیات کے ہر موڑ پر، بشر کے سفر کے ہر نقشِ قدم میں فریبِ ہستی کی پرچھائیاں ہیں بچپن سے بڑھاپے تک ، تتلاہٹ سے فکر و نظر تک ، گھر گرہستی سے کارِ سیاست تک ، رہگذروں سے منزل تک دیدہ و دل کا ایک سا حال ہے ۔نگاہِ دل پر تالا ہے اور سر کی آنکھوں پر وہم و گماں کا سایہ ہے ۔ قرآنِ مجید کیسی روح پرور تعبیراور دل چھوتے اسلوب سے اس کو بیان کرتا ہے!!﴾اَفَلَم یَسِیرُوا فِی  الاَر ضِ فَتَکُونَ لَہُم  قُلُوب  یَعقِلُونَ بِہَا ا َو  آذَان یَسمَعُونَ بِہَا فَِانَّہَا لَا تَعمَی الاَبصَارُ وَلَکِن تَعمَی القُلُوبُ الَّتِی  فِی الصُّدُورِ ﴿ ” کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِن کے دل سمجھنے والے اور اِن کے کان سُننے والے ہوتے ؟حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں ۔“    ( الحج : 46 ، ترجمہ از سید ابو الاعلی مودودی رحمه الله )

ازل میں بشر ظلوم و جہول جو ٹہرا تو پھر کبھی خود کو بدل نہیں پایا کارگہ ر وزوشب میں زندگی اپنا رُخِ ظاہرپرجب گیسوئے خم دار پریشاں کرآتی ہے تو آدمی متاعِ دل اس پر وار کرجاتا ہے ۔باغِ رہگذر کی رنگینیوں میں نگاہیںاس طرح الجھ کر رہ جاتی ہیں کہ کارواں کے دل سے منزل کا خیال یکسر مٹ جاتا ہے ۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اس رہ گذر میں جلوہ گُل ہے تو آگے گرد کا میلہ ہے ۔رب کریم نے شاید بشر کی اسی کیفیت کی تصویر کشی کی ہے یہ کہتے ہوے کہ یَعلَمُونَ ظَاہِراً مِّنَ الحَیَاةِ الدُّنیَا وَہُم  عَنِ الآخِرَةِ ہُم غَافِلُون یعنی ” لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں ( الروم: 7 ترجمہ از سید ابو الاعلی مودودی رحمه الله ) بقول غالب

 محرم نہیں ہے تو ہی نواہائے راز کا

یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا

 یہ حیاتِ کافری ہے کہ آدمی لذّت دہن و بطن کی خاطر سانس لیتا رہے ۔ وَالَّذِینَ کَفَرُوا یَتَمَتَّعُونَ وَیَا کُلُونَ کَمَا تَا کُلُ الا َنعَامُ وَالنَّارُ مَثوًی لَّہُم ”اور کفر کرنے والے بس دنیا کی چند روزہ زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں ، جانوروں کی طرح کھا پی رہے ہیں ، اور ان کا آخری ٹھکانا جہنم ہے۔“   ( محمد: 12 ، ترجمہ از سید ابو الاعلی مودودیؒ)

زندگی کی بے قیمتی اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتی ہے کہ کوئی ا س سے ناو نوش اور طرب و عیش کے سوا کچھ نہ پائے ۔جو مچھلی کا سواد تو جانتا ہو اور اس میں چھپا راز نہ دیکھتا ہو وہ ظاہری لذّت پہ مرنے والا ہے حسنِ باطن کا ادراک اس سے کیوں کر ممکن ہے ۔ وہ بصیرت کی روشنی سے محروم ہے ۔ قرآن مجید نے اسی حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہوے بیان کیاکَلَّا بَل  تُحِبُّونَ العَاجِلَةَ وَتَذَرُونَ الآخِرَة﴿” ہر گز نہیں ، اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا)سے محبت رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو“  

بڑے خوبصورت ہوتے ہیں دنیا کے جھوٹے وعدے ۔ اس کی بد نصیبی کو کیا کہیے جو اس بازار کے رنگ و نور سے دھوکا کھاجاتا ہے اور حیات کی مٹھی میں بند بیش قیمت اصولوں سے روگردانی کرتا ہے ۔        

ہیں ابھی صدہا گہر اس ابر کی آغوش میں

 برق ابھی باقی ہے اس کے سینہ خاموش میں

 چند لڑکے ایک جگہ کھیل کود میں مگن تھے وہیں پاس میں ایک لڑکا بلک بلک کر رو رہاتھا ، کسی بزرگ کا وہاں سے گزر ہوا ، انہوں نے سوچا شاید یہ بھی کھیلنا چاہتا ہے مگر اس کے پاس کھلونے نہیں ہیںاس لیے رو رہاہے ۔ انہوں نے پوچھا ”بیٹے تم کیوں رو رہے ہو؟“ اس نے روتے روتے جواب دیا : ” چچا جان میں اس لیے رورہاہوں کہ یہ لوگ اس کام میں لگے ہوے ہیں جس کے لیے انہیں یہ زندگی نہیں بخشی گئی ہے ۔ 

بر تر از اندیشہ سود و زیاں ہے زندگی  

کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی

قلزمِ ہستی سے تو اُبھرا ہے مانندِ حباب

اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی

 

5 Comments

  1. دل كى گہرائيوں سے میں دعا كرتا هوں کہ الله آپ کو جزاء خير عطا فرمائے اور آپ کے ذريعه اسلام اور مسلمانوں کو فائده پہونچائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    ما شاء الله بہت دنوں بعد ايك مفيد تحرير کا مطالعہ اور ايك اچھے ويب سائيٹ سے تعارف کا شرف حاصل هوا ۔ ۔ ۔ ۔

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    ايك شعر آپ کے نام۔ ۔ ۔ ۔
    اس زندگى پہ موت کو ترجيح ديجيے
    جس زندگى میں عزم نہ ہو حوصلہ نہ ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*