آئيے ! اپنے ایمان کو تازگی بخشیں (2)

 سید عبد السلام عمری(کویت)

 abdussalamsyed@ymail.com

 (3) جھاڑ پھونک، تعویذ گنڈے اوراعمال حب

 رسول رحمت صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: ان الرقی و التمائم و التولة شرک (مسند احمد) ”یقینا جھاڑ پھونک ‘تعویذ گنڈے اور تولہ شرک ہے“ ۔

جھاڑ پھونک: بخار اور نظر لگنے کی صورت مےں رسول صلى الله عليه وسلم نے اسکی رخصت دی ہے۔ علامہ سیوطی  فرماتے ہيں کہ علماء نے تین شرائط کے ساتھ جھاڑ پھونک کو درست کہا ہے:ئیہ کہ وہ اللہ کے اسماءوصفات یااس کے کلام پر مشتمل ہو ءعربی زبان ميں ہوئیہ یقین ہو کہ شفا اللہ کے ہاتھ ميں ہے ،جھاڑ پھونک بذات خود کوئی اثر نہيں دکھا سکتا۔

تعویذ گنڈے: یہ کچھ پرزے ہوتے ہيں جنکو عرب اپنے بچوں کے گلے مےں اور ہاتھ پر باندھتے تھے۔ اور ےہ سمجھتے تھے کہ يہ نظربد سے اور بیماریوں سے بچاتے ہےں۔ ان چیزوں میںشفا ءاور علاج کا عقیدہ رکھتے تھے ۔ اسلام نے ان سب چیزوں کو باطل قرار دیا ۔ تعویذ لٹکانا یا اس قسم کی کسی دوسری چیز کو اپنے پاس رکھنا شرک ہے۔ آپ ا نے ارشاد فرمایا۔من علق تمیمة فقد اشرک(مسند احمد) ”جس نے تعویذ گنڈے جیسی اشیاءلٹکایا اس نے شرک کا ارتکاب کیا ۔“

تولہ:يہ الگ الگ چیزوں سے بنایا جاتا ہے۔ اور اسکے بارے ميں يہ گمان کیاجاتا ہے کہ اسکے کھلانے سے میاں بیوی کے درمیان محبت بڑھ جاتی ہے۔ یا کسی مرد یا عورت کو اپنی طرف کیا جا سکتاہے۔ حقیقت ميں اس قسم کی دواﺅں سے جسمانی کمزوری کے علاوہ کچھ نہےں ہوتا اور یہ فعل سراسر شرک ہے کیونکہ دلوں کا جوڑنے والا اور پھیرنے والا صرف اللہ تعالی ہے۔

(4) جادو اور ستاروں کا علم:

 وَلَقَدعَلِمُوا  لَمَنِ اشتَرَاہُ مَا لَہُ فِی  الآخِرَةِ مِن  خَلاَقٍ ( سورة البقرة: 102) ”اوروہ بالیقین جانتے ہیں کہ اسکے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں “ ۔ جادو بھی اس وقت تک کسی کو نفع و نقصان نہیں پہنچاسکتا جب تک اللہ کی مشیت اور اسکا اذن نہ ہو۔ اس لیے اس کے سیکھنے کا فائدہ کیا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جادو سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کو کفر قرار دیا ہے۔ حسن بصری  رحمه الله نے فرمایا : جادوگر کا کوئی دین نہیں اور یہ آیت جادو کو حرام قرار دیتی ہے اور اس طرح تمام انبیاءکرام کے نزدیک بھی یہ حرام ہے۔ ارشاد ربانی ہے

اِنَّمَا صَنَعُوا کَیدُ سَاحِرٍ وَلَا یُفلِحُ السَّاحِرُ حَیثُ ا َتَی﴿ (طہ: 69) ” انہوں نے جو کچھ بنایا ہے یہ سب جادوگروں کے کرتب ہےں۔ اور جادوگرکہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا“

 جادو کئی قسم کا ہوتا ہے‘ کبھی رسی کو سانپ بنایا جاتا ہے۔ کبھی میاں بیوی کے مابین دوری پیدا کی جاتی ہے۔ اور يہ سب اسی وقت ممکن ہے جب اللہ تعالی اپنے بندے کو آزمانا چاہے ۔ رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:

” سات ہلاک کردینے والی چیزوں سے بچو‘ صحابہ رضوان الله عليهم اجمعين نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! وہ کیا ہیں؟ آپ ا نے فرمایا : اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جادو….“ ۔ (بخاری و مسلم)

بجالہ بن عبید اللہ سے بخاری میں روایت ہے کہ عمر بن الخطاب ص نے لکھا کہ اقتلوا کل ساحر و ساحرة ” ہر ایک جادوگر اور جادوگرنی کو قتل کردیا جائے“ تو ہم نے حکم کی تعمیل میں تین جادوگروں کو قتل کیا۔ ایک اور روایت میں آپ ا کا ارشاد گرامی ہے: ” تین آدمی جنت میں داخل نہیں ہوںگے۔ شراب پینے والا، جادو کو سچ ماننے والا، رشتہ داری کو توڑنے والا“ ۔(مسند احمد)

ستاروں کا علم: امام ابن تیمیة رحمه الله نے فرمایا ۔ ستاروں کا علم یعنی آسمان کے تاروں کو دیکھ کر زمین مےں رونما ہونے والے واقعات وحوادث کا پتہ لگانا۔

بخاری ميں قتاد ة رحمه الله  کا قول ہے :” اللہ تعالی نے تین مقاصد کی خاطر ستارے بنائے ہیں، آسمان کی زینت، رہنمائی کا ذریعہ اور شیطان کو سنگسار کرنے کے لےے ، اسکے علاوہ ستاروں کے بارے میں کوئی اور تاویل کرنا چاہے تو سراسر گمراہی ہوگی۔ اور اس چیز کے پیچھے وقت کو ضائع کرنا ہوگا۔ جنہےں خود اسکا علم نہےں ہے ۔ لیکن اللہ کے احکام سے بے خبر عوام نے ان سے غیب کا علم حاصل کرنے (کہانت) کا ڈھونگ رچالیا ہے۔ مثلاً کہتے ہيں جو فلاں ستارے کے وقت نکاح کرے گا تو ےہ ہوگا ۔ فلاں ستارے کے وقت سفر کرے گاتو ایسا ہوگا ، فلاں ستارے کے وقت پیدا ہوگا تو ایسا ہوگا وغیرہ۔ یہ سب ڈھکوسلے ہےںاوراکثراوقات ان کے مفروضے غلط ثابت ہوتے ہیں۔

خطابی رحمه الله نے فرمایا : ستاروں کا علم جس سے منع کیا گیا ہے، وہ يہ ہے کہ يہ علم رکھنے کا دعوی کرنے والے کہتے ہيں کہ مستقبل میں رونما ہونے والے حوادث کا علم ان کو ستاروں کے ذریعہ پہلے ہی سے ہوجاتا ہے۔ مثلاً ہواﺅں کا چلنا ، برسات کا آنا ، قیمتوں کا بدلنا ، اور اسکے اوقات وغیرہ اور ےہ سمجھتے ہیں کہ آسمان کے ان ستاروں کا زمین میں رونما ہونے والے واقعات سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ درحقیقت علم غیب اللہ کے سوا کسی کو نہےں ۔

(5) نذر اور دعا:

ارشاد ربانی ہے:وَمَا اَنفَقتُم مِّن نَّفَقَةٍ ا َو  نَذَر تُم مِّن نَّذ رٍ فَاِنَّ اللّہَ یَعلَمُہُ ﴿( البقرة: 270) ترجمہ: تم جتنا کچھ خرچ کرو اور جو کچھ نذر مانو ‘ اسے اللہ تعالی بخوبی جانتا ہے۔“ ۔ نذر کا مطلب ہے کہ میرا فلاں کام ہو گیا یا فلاں ابتلاءسے نجات مل گئی تو میں اللہ کی راہ میں اتنا صدقہ کرونگا۔ اس نذر کو پوری کرنا ضروری ہے۔ اگر کسی نافرمانی یا ناجائز کام کی نذر مانی ہے تو اسکا پورا کرنا ضروری نہیں، نذر بھی نماز و روزہ کی طرح عبادت ہے ۔ اس ليے اللہ کے سوا کسی اور کے نام کی نذر ماننا گویا اسکی عبادت کرنا ہے جو شرک ہے۔ جیسا کہ آج کل قبروں پر ، درگاہوں پر نذرو نیاز کا ےہ سلسلہ عام ہے۔ اللہ ہم سب کو شرک سے بچائے۔

  جو نذر اللہ سے مانی جاتی ہے ۔ اسکے پورا نہ کرنے کی صورت میں اس شخص کو چاہیے کہ10 مسکینوں کو کھانا کھلائے ،یاکپڑا پہنائے یا ایک غلام آزاد کرے،اگران میں سے کسی کی استطاعت نہ ہوتو تےن دن کا روزے رکھے۔ ارشاد ربانی ہے:”َ اسکا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جواپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور جس کو مقدور نہ ہو تو تین دن کے روزے ہےں ۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے،جب کہ تم قسم کھالو اور اپنی قسموں کا خیال رکھو“ ۔ ( سورة المائدة:89)

دعا : رسول اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :الدعا ھو العبادة   ( ابو داﺅد) ”دعا ہی عبادت ہے۔“ چنانچہ کسی بھی انسان کے لیے خاص کر مسلمان کے لیے یہ زیب نہیں دیتا اور جائز بھی نہیں کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر یا اسکے ساتھ کسی کو شریک بنا کر دعا مانگے ۔ چاہے وہ نبی مرسل کیوں نہ ہو، یا ملک مقرب کیوں نہ ہو، جو ایسا کرتے ہیںاسکے تعلق سے اللہ تعالی فرماتاہے :

 ”جنہيں تم اس کے سوا پکار رہے ہو، وہ تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہيں۔ اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں۔ اور اگر (بالفرض) سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے۔ بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک کاصاف صاف انکار کرجائیں گے۔ “   (سورةالفاطر 13،14 )  (جاری)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*