حج وعمرہ کے فضائل وبرکات

شیخ ابوعدنان محمدمنیر قمر

افضل عمل : حضرت ابوہریرة رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے پوچھا گیا :” سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا:اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا،کہاگیا کہ اس کے بعد؟ تو ارشاد ہوا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، پھر پوچھا گیا کہ اس کے بعد ؟ تو آپ نے فرمایا: حج مقبول۔“(بخاری ومسلم)

گناہوں سے کلی طہارت : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: من حج فلم یرفث ولم یفسق رجع من ذنوبہ کیوم ولدتہ امہ ۔”جس نے حج کیا اور دوران حج اس سے نہ کوئی شہوانی فعل سرزد ہوا اور نہ ہی اس نے فسق وفجور (گناہ) کا ارتکاب کیا۔وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوکرلوٹا گویا آج ہی اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے ۔ “ (بخاری مسلم )

 جنت کی بشارت: حضرت ابوہریرة رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: العمرة الی العمرة کفارة لما بینھما والحج المبرور لیس لہ جزاءالا الجنة (بخاری ومسلم) ” ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک کے تمام گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کا ثواب تو جنت ہی ہے ۔ “

بوڑھوں،ضعیفوں اورعورتوں کا جہاد: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضى الله عنها سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم صلى الله عليه وسلم سے عرض کیا : نری الجھاد افضل الا عمال افلا نجاھد ‘؟ ”ہم جہاد کو افضل اعمال میں سے سمجھتے ہیں تو کیا ہم  ( عورتیں )بھی جہاد نہ کریں ۔“ اس پر نبی رحمة للعالمین ا نے ارشاد فرمایا: لکن ا فضل الجہاد حج مبرور”تمہارے لیے افضل جہاد حج مبرور ہے “۔ (بخاری)

 اللہ کے مہمان : حضرت ابوہریرة رضى الله عنه بیان فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم  صلى الله عليه وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ”تین قسم کے لوگ اللہ کے وفد (مہمان ) ہیں ۔جہاد،حج اور عمرہ کرنے والے “۔ (نسائی ، ابن خزیمہ ، ابن حبان )

فریضہ حج کی ادائیگی میں جلدی کرنا: جب کوئی اتنی رقم ، حالات اور وسائل کا مالک ہوجائے جس سے وہ حج کرسکتا ہے تو اسے حکم ہے کہ وہ فوراً اس فریضہ کی ادائیگی سے سبکدوش ہوجائے ۔ کیونکہ مسند احمد میں ارشادنبوی ہے : تعجلوا الی الحج یعنی الفریضة فان احدکم لا یدری مایعرض لہ من مرض ا وحاجة ۔ (مسنداحمد،ابن ماجہ ،الطبرانی فی المعجم الکبیر ) ”لوگو ! حج کرنے میں جلدی کرو ، اس لیے کہ تم میں سے کوئی بھی شخص یہ نہیں جانتا کہ ( آئندہ ) اسے کیا (بیماری یاحاجت ) پیش آنے والا ہے “۔

 ترک حج پر وعید : جو شخص استطاعت کے باوجود اپنے دنیاوی مشاغل میں مصروف رہے اور جان بوجھ کر فریضہ حج کی ادائیگی کو مو خر کرتا جائے حتی کہ اسی حالت میں اسے حج کئے بغیر ہی موت آجائے اس کے بارے میں بڑی سخت وعید آئی ہے ۔ سنن سعید بن منصور میں حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا ارشادہے :

 ”میں نے ارادہ کیا کہ ان شہروں کی طرف اپنے آدمی بھیجوں، وہ ہر اس آدمی کا پتہ چلائیں جس نے طاقت کے باوجود حج نہ کیا ہو تاکہ میرے آدمی ایسے لوگوں پر  غیر مسلموں سے لیا جانے والا ٹیکس (جزیہ ) نافذ کردیں ۔ اور آخر میں فرمایا: ما ھم بمسلمین، ماھم بمسلمین ”وہ مسلمان نہیں ،وہ مسلمان نہیں “۔

 

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*