آہ ! صومالیہ

پچھلے چند مہینوں سے براعظم افریقہ کا تاریخی ملک صومالیہ شدید قحط اور خشک سالی سے دوچار ہے ، جس سے ایک کروڑ افراد متاثر ہیں ، 20 لاکھ افرادغذائی مواد کی کمی اور بھوک سے تڑپ تڑپ کرمرچکے ہیں، جن میں29ہزار بچے شامل ہیں۔ عالمی امدادی اداروں کے اعداد وشمار کے مطابق صومالیہ کی یہ خشک سالی گذشتہ نصف صدی کی سب سے بڑی آفت ہے، اگربھرپورغذائی امداد کی فراہمی نہ ہوسکی تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ صورتحال کسی انسانی المیے کوجنم دے ۔
صومالیہ ہی وہ سرزمین ہے جہاں اسلام کا سایہ مدینہ منورہ سے پہلے پہنچا ، جس نے اولیں مہاجرین کواپنی آغوش میں پناہ دی تھی، حبشہ کا ساحل جو آج صومالیہ کے ساحلی شہر زیلہ کا حصہ ہے، یہی وہ مقام تھا جسے صحابہ کرام نے پناہ گاہ بنائی تھی اورصومالیہ کا حالیہ درالحکومت موگادیشو مشرقی افریقہ میں اسلام کا ایک مرکز بنا تھا، آج 99 فیصدمسلم آبادی پرمشتمل اس سرزمین کاشماردنیا کے غریب ترین ملک میں ہورہا ہے ۔ اورقحط ایسی ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ روزانہ مررہے ہیں ایسا بھی نہیں ہے کہ اس ملک میں قدرتی ذخائر کی کمی ہو ، تیل یورینیم ، گیس اور سونے کے ذخائر آج بھی اس ملک میں پائے جاتے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ آج یہ ملک ایسی خستہ حالی کا شکار ہے ، یہ ایسا نکتہ ہے جس سے پردہ اٹھائے بغیر رہا نہیں جاتا ، گوکہ عالمی برادری اس بھوک مری کو خانہ جنگی اور خشک سالی کا شاخسانہ قرار دے رہی ہے لیکن حقیقت کچھ اوربھی ہے ۔ مغرب نے جب استعماری منصوبہ کے تحت عالم اسلام میں قدم رکھا تو قدرتی ذخائر سے مالامال مشرقی افریقہ کے اس ملک کو بھی اپنے استعماری پنجے میں دبوچے بغیرنہ رہے ، اور خوان یغما سمجھتے ہوئے برطانیہ ، اٹلی اورفرانس تینوں ممالک بھوکے بھیڑیوں کے جیسے اس پرٹوٹ پڑے، صومالی سورماؤں کی مزاحمت کے بعد استعماری افواج نے ملک توچھوڑدیا تاہم ”پھوٹ ڈالو حکومت کرو “کی پالیسی اپناتے ہوئے صومالیہ کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے ہی نکلے، پھراس خطے کی ثروت کو اپنے اختیار میں رکھنے کے لیے زراعت کا ایسا نظام رائج کرایا کہ ان کی زمینیں مخصوص کیمیکلز کی بنیاد پر زراعت کی بعض چیزیں ہی کاشت کرسکتی ہیں، پھر ان کی کاشت کی ہوئی اشیاء کو سستے داموں خرید کر عالمی منڈیوں میں مہنگے داموں میںبیچنے کی ٹھیکیداری بھی لے لی، اس طرح صومالیہ سمیت افریقہ کے اکثر ممالک رفتہ رفتہ غربت کا شکارہوتے گئے۔ اقبال نے كہا تها

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی       اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو

ایک طرف مغرب کے ٹھیکیداروں کی یہ سامراجی پالیسی پورے شدومد سے کام کررہی تھی تودوسری طرف صومالیہ کی قوم مسلم آپسی خانہ جنگی میں ایسی دھت ہوگئی کہ اس کی متحدہ قوت پارہ پارہ ہوکر رہ گئی ۔ آپسی خانہ جنگی کے نتیجہ میں گذشتہ اٹھارہ سال سے اب تک پانچ لاکھ افراد مارے جا چکے ہیں ،تین لاکھ بیس ہزار لوگ ملک میں بے گھر ہوچکے ہیں اورتاہنوز خانہ جنگی کایہ سلسلہ جاری ہے ۔
 ادھرصومالیہ پر قدرت کی سخت مار بھی پڑی ہے۔ صومالی معیشت کا دارومدارچونکہ گلہ بانی اور زراعت پر تھا اور دونوں کا گہرا تعلق بارش سے ہے ، اورچارمواسم میں بارش بالکل نہیں ہوئی جس کے باعث کھیتیاں خشک ہونے لگیں، پیداوار ختم ہوگئی، حیوانات مرنے لگے، نتیجتاً اموات عام ہوگئیں، آج بھوک کی شدت سے بچے اور بوڑھے تڑپ تڑپ کر مررہے ہیں، کتنے پیاس کی شدت سے مررہے ہیں کہ پانی پچاس کیلومیٹر کا فاصلہ طے کیے بغیر دستیاب نہیں، تعلیمی ادارے اور درسگاہیں ہیں بند ہوچکی ہیں، جنوبی صومال، شمالی کینیا، اورجنوبی ایتھوپیا کے علاقے قحط سالی سے زیادہ متاثرہیں ۔ دنیا کے کونے کونے بالخصوص خلیجی ممالک سے تعاون مل رہا ہے لیکن اموات کی شرح پر قابوپانا مشکل ہے کیونکہ آبادی کے تناسب سے تعاون میں ابھی بھی بہت کمی ہے ، ایک وقت کے کھانے کی قیمت محض پندرہ فلس ہے جوآٹا تیل اورنمک پر مشتمل شوربا سے عبارت ہوتا ہے ۔
عزیزقاری ! اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں کویت کی سرزمین پر خوشحال اور فارغ البال رکھا ہے ، ہم اللہ تعالی کی عظیم نعمت میں پل رہے ہیں، اس نعمت کا تقاضا ہے کہ ہم اللہ پاک کا شکرادا کریں اور ان نعمتوں کی قدرکریں، اسراف اورفضول خرچی سے بال بال پرہیز کریں، ہمارے دسترخوان پر جتنے کھانے برباد ہورہے ہیں ان سے کتنے غرباءومساکین کی کفالت ہوسکتی تھی، کیاخبرکہ کل ہماری بھی حالت وہی ہوجائے جو ہمارے کلمہ شریک صومالی بھائیوں اور بہنوں کی ہے، ہم الکٹرونک اورپرنٹ میڈیا کے ذریعہ ان بھائیوں کی بدحالی اورفاقہ کشی کے واقعات آئے دن دیکھتے اور سنتے بھی ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمارے دل میں اسلامی اخوت کا احسا س پیدا ہوناچاہیے، وہ ہمارے ہی جسم کا ایک عضوہیں جوصدحیف معطل ہوتے جارہے ہیں، ہمیں ان کے درد کی ٹیس محسوس ہونی چاہیے ، کیاہم نے کبھی اس حدیث پر غورکیا : ” مومن کی مثال ایک دوسرے سے محبت، ہمدردی اوررحم دلی کے معاملہ میں ایک جسم کی طرح ہے جس کا کوئی ایک عضومبتلائے درد ہو تو اس کی وجہ سے پورا جسم بخاراوربے خوابی کا شکار ہوجاتا ہے “۔ (مسلم)
جی ہاں! مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے، صومال میں اگر کوئی مسلمان بھوک اور پیاس کی شدت سے مررہا ہے تو ہم بھی اس کے ذمہ دارہوںگے ، کل قیامت کے دن اللہ تعالی ہم سے فرمائے گا :” اے ابن آدم! میں بھوکا تھا تونے مجھے کھانا نہیں کھلایا،اے ابن آدم! میں پیاسا تھا تو نے مجھے پانی نہیں پلایا….“ اس لیے اپنے دینی بھائیوں کی آہوں اورسسکیوں پرکان دھریں، ان کی مصیبت کا احساس کریں، کویت کی رفاہی کمیٹیاں ان کے لیے چندہ جمع کرنے میں ہمہ تن مصروف ہیں، جتنا میسر ہوسکتا ہو صومالی بھائیوں کے لیے اپنی حلال کمائی سے ضرورنکالیں، معمولی رقم کوحقیرنہ سمجھیں، آپ کی نظرمیں معمولی ہوسکتی ہے لیکن اللہ کوکیفیت مطلوب ہے کمیت نہیں، اگرآپ ایک انسان کی جان بچالیتے ہیں توگویا آپ نے ساری انسانیت کوزندگی عطا کی۔ زمین والوں پر رحم کریںآسمان والا آپ پر رحم کرے گا۔ رحمت عالم صلى الله عليه وسلم کی یہ بشارت سنیں:
”جس مومن نے اپنے مومن بھائی کو پیاس میں پانی پلایا اللہ تعالی اسے قیامت کے دن مہربلب جام پلائے گا ، اورجس مومن نے اپنے مومن بھائی کو بھوک میں کھانا کھلایا اللہ پاک اسے بہشت کے پھل سے کھلائے گا اور جس مومن نے کسی مومن کو ننگاپن میں کپڑا پہنایا اللہ تعالی اسے جنت کے سبز جوڑے پہنائے گا “۔ (مسنداحمد)

 صفات عالم محمدزبیرتیمی          
      safatalam12@yahoo.co.in

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*