اسلام انسان کی سب سے اہم ضرورت ہے

سید احمد محمدی (کویت)
abuaneesmohammadi@gmail.com

اسلام….جس کا چرچا دنیا میں جگہ جگہ ہے۔ دنیا کے بیشتر اخبارات اور رسائل و جرائد کا اہم موضوع ہے۔ بعض رسائل و جرائد نہایت خوش اسلوبی سے اسکی نمائندگی کرتے ہیںتوبعض ا س میں کیڑے ڈھونڈنے میں لگے رہتے ہیں۔ بعض ویب کی کھڑکیاں اسکی آفاقی تعلیمات کو عوام الناس تک پہونچانے کی کوشش کر رہی ہیں تو بیشمار ویب سائٹس اور چینلز اسلامی تعلیمات کو مشتبہ بناکر اسلام کا غلط تعارف کرانے کے درپے ہیں۔
انسان جو عقل سلیم کی دولت سے مالا مال ہے، خیر وشر کی تمیز کرسکتا، حق و باطل کے فرق کو سمجھ سکتا اور اپنی ضروریات حیات سے بخوبی واقف ہے۔ کیا اس نے غور نہیں کیا کہ انسان کی سب سے بڑی ضرورت کیا ہے؟ اسکا مقصد حیات کیا ہے؟ وہ اس دنیا میں کیوں آیا ہے؟ اورموت کے بعد اسے کہا ںجانا ہے؟ …. کیا ان تمام سوالات کا جواب اسلام تو نہیں!انسان کی سب سے اہم ضرورت اسلام تو نہیں….
خالق نے ہر دور میں اشرف المخلوقات حضرت انسان کی ہدایت و رہبری کے لیے انبیاءورسل کو مبعوث فرمایاجنکی آخری کڑی محمد ا ہیں۔ اورآخری کتاب ہدایت قرآن کریم ہے ۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے:اِنَّ الدِّینَ عِندَ اللّہِ الاسلاَم (سورة آل عمران 19)”بیشک اللہ کے نزدیک صحیح مذہب اسلام ہے “۔جسکی تکمیل حجة الوداع کے موقع پر ’رضیت لکم الاسلام دینا ‘ کے ذریعہ کر دی گئی۔ یہ دین بنی نوع انسان کے لیے ایک ضابطہ¿ حیات ہے اوراس کی فلاح و بہبودی کا ضامن ہے ۔ اسمیں قیامت تک کے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ جس کے بغیر انسان کی زندگی ناقص اور نامکمل ہے۔ یہاںتک کہ وہ اپنے مقصد وجود اور اپنے رب کی حقیقی معرفت سے محروم رہتا ہے۔ مذہب اسلام کے ذریعہ اللہ نے انسان کو مخلوق کی عبادت سے نکال کر خالق کی عبادت کی طرف رہنمائی فرمائی ،وہ جبین نیاز جو ہرشجر و حجر پہ خم ہوتا تھا ، اسے اپنی ذات کا اور اپنے رب کا صحیح عرفان عطا کیا ۔ اسلام میں فطرت انسانی کے تمام حقوق کا پاس ولحاظ ہے۔ مساوات کی بڑی اہمیت ہے ، ’کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فوقیت نہیں‘جیسے اصول کی بنیاد ڈال کر مساوات کی وہ جوت جگائی کہ عرب و عجم ، فارس و روم ، کسی بھی رنگ و نسل ، زبان و مکان کا باشندہ کیوں نہ ہو، کلمہ لا الہ الا اللہ کے پلیٹ فارم پہ جمع ہو کر بھائی چارگی ، اخوت و مساوات کی وہ مثال قائم کیاکہ اس کی نظیر دنیا پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اسلام حقوق انسانی کا حقیقی پاسباں ہے۔ اس نے حقوق انسانی کے ایسے اصول عطا کیے کہ جس کا تصور اسلام سے قبل ناممکن تھا ۔اور ”فلا تقل لھما اف“ کہہ کر والدین کے احترام کو اعزاز بخشا۔ ماں کو اولاد کے حق میں جنت اور باپ کو جنت کا صدر دروازہ گردانا، المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ کا اصول پیش کر کے معاشرتی حقوق کی تعیین فرمائی، پڑوسی کے حقوق کو مستحکم کرتے ہوئے پڑوسی عورت پر نگاہ بد ڈالنا گناہ کبیرہ قرار دیا، رسول اکرم ا کا فرمان تو ےہ ہے کہ اگر تمہیں اس بات کی خبر ہو کہ تمہارے پڑوسی کا چولھا نہیں جلا ہے تواپنی ہانڈی سے اس کا حق ادا کرو۔ اسلام ہی وہ مذہب ہے جو عملی طور پر حقوق انسانی کا صحیح تصور پیش کرتا ہے ورنہ دنیا میں حقوق انسانی کے نام پر نام نہاد نعرہ بازی کی جاتی ہے۔ حقوق کی ادائیگی کے بجائے اسکی پامالی ان کامشن ہے۔ حقوق انسانی کے پاسباں کہلانے والے نام نہاد ادارے معصوم عوام کو سبز باغ دکھا کر حقوق کی تباہی مچارہے ہےں، والدین بڑھاپے کو پہنچ جائے تو انکے حقوق کی ادائیگی کے بجائے اولڈ ہاﺅس (Old House) کے نام پر انکے حقوق کی پامالی کی جاتی ہے۔ اسی طرح غریب و مفلوک الحال لوگوں کو بطور احسان سود جیسے ملعون راستے کو آراستہ کرکے غریب کو مزید غریب تر بنایا جاتا ہے۔ سود کی مختلف النوع ” کار انشورنس ، لائف انشورنس، ہاﺅس لون، چلڈرن ڈپازٹ ، ایجوکیشن ڈپازٹ وغیرہ کے نام سے ناواقف عوام کی زندگی دوبھر کی جاتی ہے۔ اور ان کی دنیا و آخرت تباہ کی جاتی ہے۔ آزادی نسواں کے نام پر ہر عورت کی حیاءکا جنازہ نکالا، بنت حوا کے احترام کو داغدار کیا اور اسے اپنے مقام سے گراکر حصول مال وزر کا زینہ بنایا، شمع خانہ کو محفل کی زینت بنائی، خیر متاع الدنیا سے ملقب پاکیزہ ذات کو خواہشات کے پجاریوں کے لیے متاع لہو ولعب بنایا ، مظلوم کے بجائے ظالم کی مدد کو رواج دیا۔ اسلام ظالم و مظلوم دونوں کی مدد کرکے مظلوم کا آنسو پونچھتا ہے۔ اسلام عدل و انصاف کا وہ مظہر ہے کہ اغیار بھی اپنے فیصلے رسول ا سے کروائے بغیر مطمئن نہیں رہتے تھے۔ اس کے عطاکردہ حقوق کا اندازہ چندسطروں میں نہیں کیا جا سکتا۔ انسان کی پیدائش سے لیکر موت تک تمام مسائل کا حل اسی میں موجود ہے۔ یہی ہدایت کی ضامن ہے اور یہی انسان کی زاد راہ اور حقیقی آخرت کی رہنمائی کر سکتاہے :﴾وَمَن یَبتَغِ غَیرَ الاسلاَمِ   دِینا فَلَن یُقبَلَ مِنہُ وَہُوَ فِی الآخِرَةِ مِنَ الخَاسِرِینَ﴿(سورة آل عمران 85) ”اور جو بھی اس دین کے علاوہ کسی بھی طریقہ سے زندگی گذارے گا اس سے مقبول نہیں ہوگا اور آخرت کی دائمی زندگی میں انتہائی خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔“

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*