امام حرم مکی فضیلة الشیخ اسامہ الخیاط

مبصرالرحمن القاسمی (کویت)
mubassir2008@yahoo.co.in

شیخ ڈاکٹر اسامہ بن عبداللہ بن عبدالغنی حرم مکی میں امام وخطیب ہیں، آپ کے والد عبداللہ بن عبدالغنی رحمہ اللہ بھی حرم مکی میں امام تھے، آپ کا نسبی تعلق قضاعہ کے قبیلہ بلی سے ہے۔ شیخ اسامہ کی پیدائش ماہ رجب کی پہلی تاریخ سال 1375 ھ کو مکہ مکرمہ کے مشہور پہاڑ جبل کعبہ کے جوار میں واقع محلہ حارةالباب میں ہوئی۔ مکہ مکرمہ ہی میں پرورش پائے اور سرزمین پاک کے مدرسوں میں ابتدائیہ، ثانویہ اور اعلی تعلیم حاصل کی، شیخ اسامہ نے اپنے والد محترم مشہور عالم دین سابق امام حرم شیخ عبداللہ بن عبدالغنی کی سرپرستی میں اپنے تعلیمی مراحل کی تکمیل کی۔
اعلی تعلیم: شیخ اسامہ نے سال 1997ھ میں ام القری یونیورسٹی مکہ مکرمہ سے شریعت اسلامیہ میں بی اے کی ڈگری حاصل کی، سال 1402ھ میں مذکورہ یونیورسٹی سے شریعت اسلامیہ میں ایم اے کیا، اور سال 1408 ہجری میں ام القری یونیورسٹی کے شریعہ فیکلٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
شیخ اسامہ کو دنیا بھر کے معروف محدثین اور مستندعلمائے کرام سے اجازت حدیث کا شرف حاصل ہے۔ آپ نے کتب صحاح ستہ،موطا اور دیگر امہات الکتب میں مستند محدث علامہ عبیداللہ مبارکپوری، محدث ِجلیل علامہ ابوالفیض علم الدین یاسین بن محمد الفادانی، شیخ الحدیث مظاہرالعلوم سہارنپور علامہ شیخ محمد حیات سنبھلی ، اسی طرح شیخ اسامہ کو علم تجوید میں علامہ شیخ محمود عبدالرحمن الیحیٰ سے اجازت حاصل ہے۔
شیخ اسامہ نے اپنے والد کے پاس حفظ قرآن کی تکمیل کی، اور بروایت حفص ان سے تجوید کی اجازت حاصل کی، اسی طرح آپ نے اپنے والد سے حدیث، فقہ اور سیرت کی متعدد کتابیں پڑھی۔
شیخ اسامہ کے شیوخ اور اساتذہ میں استاد ڈاکٹر محمد الصادق عرجون ، استاد ڈاکٹر محمد ابوشہبہ ، استاد شیخ عبدالرحمن بن حسن، استاد ڈاکٹر احمد بن محمد ، استاد مصطفی التازی، اور استاد علامہ عبداللہ البسام رحمہم اللہ شامل ہیں۔
میدان عمل میں:شیخ اسامہ سال 1399ھ میں ام القری یونیورسٹی کے شریعہ اور دراسات اسلامیہ کالج کے شعبہ اسلامی قانون میں معاون لیکچرار مقرر ہوئے۔ سال 1403ھ میں اسی کالج میں پروفیسر متعین ہوئے، سال 1409 ھ میں ام القری یونیورسٹی کے دعوت اصول دین کالج کے شعبے کتاب وسنت میں استاد مقرر ہوئے، اور پھر تین بار مسلسل دعوت اصول دین کالج کے شعبہ کتاب وسنت کے صدر بنائے گے۔
حرم مکی میں:سال 1410ھ ماہ ربیع الا ٓخر کی 29 تاریخ کو شیخ اسامہ کے نام مسجد حرام میں صحیحین ، علوم حدیث، عقیدہ واسطیہ، اور موطا امام مالک اور دیگر امہات الکتب کی تدریس کے لیے شاہی فرمان جاری ہوا،اور تاحال شیخ اس ذمہ داری کو سرانجام دے رہے ہیں۔
3 ربیع الاول 1414 ھ کو وزیر حج واوقاف شیخ عبدالوہاب بن احمد کے حکم کے مطابق شیخ اسامہ مکہ مکرمہ کی ایک مسجد میں امام وخطیب منتخب ہوئے۔
سال 1418ھ میں شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمه الله  کی ایما پر رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کی تاسیسی کونسل کے رکن بنائے گئے۔ اسی طرح شیخ اسامہ دو برس تک رابطہ عالم اسلامی کے زیرسرپرستی قرآن وسنت کے اعجازسے متعلق کمیٹی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل رہے۔
تالیفات اور تحقیقات:شیخ اسامہ الخیاط نے مختلف تحقیقی اور علمی موضوعات پر قلم اٹھایا ہے، تنقید،فقہی تجزیے اور شخصی ارتقاء پر مشتمل آپ کی دس سے زائد کتابیں منظر عام پر آئیں، مختلف ممالک سے شائع ہونے والے رسالوں میں بھی شیخ سرگرم حصہ لیتے ہیں ، نیز شیخ کی تقاریر ریڈیو سے بھی نشر ہوتی ہیں۔
دعوتی اسفار:شیخ اسامہ الخیاط نے مملکت سعودی عرب سمیت متعدد ممالک میں منعقدہ دینی اور علمی کانفرنسوں اور سیمناروں میں شرکت کی، آپ نے مصر، تونس، ترکی،مالیزیا، ہالینڈسمیت برطانیہ کے دعوتی اسفار کیے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*