محرم الحرام اور ہمارے سادہ لوح مسلمان

ڈاکٹرفیض احمد بھٹی
(فاضل مدینہ یونیورسٹی)

ابھی ہم جس ماہ مبارک سے گذر رہے ہیں، یہ محرم الحرام کا مہینہ ہے۔ اس مہینے کے فضائل و مسائل کئی وجوہات سے نمایاںہیں۔
٭ایک تو اس اعتبار سے کہ اسلامی مہینوں کی ابتدا اسی محرم الحرام سے ہوتی ہے۔
٭ دوسرے اس مہینے کی منقبت و فضیلت میں یہ پہلو بھی ہے کہ یہ اُن چار مہینوں میں سے ایک ہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرمت و عزت والا قرار دیا۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴾انّ عدّة الشھور عند اللّٰہ اثنا عشر شھراً فی کتاب اللّٰہ یوم خلق السموت والارض منھا اربعة حرم ذلک الدین القیّم فلا تظلموا فیھن انفسکم وقاتلوا المشرکین کافّة کما یقاتلونکم کافّة واعلموا ان اللّٰہ مع المتقین﴿[سورہ توبہ:۶۳]
ترجمہ: ”مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ اسی دن سے ہے، جب سے آسمان و زمین کو اس نے پیدا کیا۔ اُن میں سے چار حرمت وعزت والے ہیں، یہی صحیح دین ہے۔ تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور تمام مشرکوں سے جہاد کرو، جیسے کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔
٭تیسرے اس لحاظ سے بھی یہ مہینہ بڑی اہمیت والا ہے کہ رمضان المبارک کے روزوں کے علاوہ اگر کسی مہینے کے روزوں کو افضل قرار دیا گیا ہے، تو وہ ماہِ محرم کے اندر رکھے جانے والے روزے ہیں، جیسا کہ ارشادِ نبوی ہے: افضل الصیام بعد رمضان شھر اللّٰہ المحرم [صحیح مسلم] ”رمضان کے بعد افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں۔“
٭ چوتھے اس اعتبار سے بھی یہ مہینہ بہت مبارک ہے کہ اس میں یوم عاشورا کا روزہ رکھنا بھی مسنون ہے، جس سے گزشتہ ایک سال کے (صغیرہ) گناہوں کی معافی ہو جاتی ہے، جیسا کہ ارشادِ نبوی ہے: ﴾صیام یوم عاشوراءانی احتسب علی اللّٰہ ا¿ن یکفّر السنة التی قبلہ﴿ [صحیح مسلم] ”یوم عاشورا کا روزہ رکھنا مجھے اللہ پر امید ہے کہ پچھلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہوگا۔“
بلکہ قرآنِ مجید کی آیت مذکورہ میں جو اہم ترین نکتہ بیان کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ اس مہینے میں کسی قسم کا ظلم و ستم نہ کیا جائے۔ چونکہ لفظِ ظُلم اپنے اندر تمام قسم کے مظالم کو سموئے ہوئے ہے، لہٰذا کسی قسم کا بھی ظلم کرنااس مہینے میں ممنوع ہے۔ خواہ اُس ظلم کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ہو، جیسے شرک و الحاد کرنا یا نبی کریم ا کی ذات کے ساتھ ہو، جیسے بدعات و خرافات کرنا یا دین کے ساتھ ہو، جیسے اوامر و نواہی سے پہلو تہی کرنا یا اُس ظُلم کا تعلق انسانوں سے حتیٰ کہ اپنی جانوں سے ہی کیوں نہ ہو، جیسے حقوق العباد کی پامالی کرنا!
الغرض اس ماہِ مقدس میں کسی بھی صورت میں ظلم و ستم کرنا نصوص قرآنی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
لیکن افسوس صد افسوس!! ان تمام فضائل و مسائل کو جاننے کے باوجود ہمارے سادہ لوح مسلمان اس مہینے میں ان مذکورہ انواعِ ظلم کو مختلف انداز میں اختیار کرتے ہیں، مثلاً غیر اللہ کے نام پر نذرونیاز دینا، سبیلیں لگانا، قبروں کی زیارت کرنا اور وہاں چراغاں کرنا، شبیہیں بنا کر مددطلب کرنا، تاریخی حقائق کو مسخ کرتے ہوئے صحابہ کرام کی اہانت کرنا، شہدائے کربلا کا خلافِ سنت لمبا سوگ کرنا، حالانکہ رسول اللہا نے تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع فرمایا ہے، جیسا کہ ارشادِ نبوی ہے:
(لاتُحدّ المراةُ علٰی میّتٍ فوق ثلاثٍ الاعلٰی زوجٍ، فانھا تُحدُّ علیہ اربعة اشھرو عشراً)
[صحیح بخاری و صحیح مسلم]
”عورت کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرے، ہاں خاوند پر وہ چار ماہ دس دن (تک) سوگ کرے گی۔
اور پھر چھریوں سے خود کو لہولہان کرنا، زنجیرزنی کرنا، سینہ کوبی کرنا، نوحہ کرنا، یہ سب کچھ انتہائی قسم کے ظلم ہیں۔ جبکہ نصِّ قرآنی ﴾فلا تظلموافیھن انفسکم﴿ ”اپنے آپ پر ظلم نہ کرو۔“ اور احادیثِ رسول ا
۱۔ (لیس منامن ضرب الخدود اوشق الجیوب اودعا بدعوی الجاھلیة) [صحیح مسلم]”وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے، جو چہروں کو پیٹے یا گریبان کو پھاڑے یا جاہلیت کی سی پکار کرے۔“
۲۔(انی بری من الصالقة والحالقة والشاقّة) [صحیح بخاری]”میں اونچی آواز کرنے والی، سَر کے بال نوچنے والی اور کپڑے پھاڑنے والی سے بری ہوں۔“
۳۔(من نیح علیہ فانّہ یعذّب بما نیح علیہ یوم القیامة)[صحیح مسلم]”جس پر بین کیا جائے، قیامت کے دن اس بین کی وجہ سے اس کو عذاب ہوگا۔“
کے مطابق یہ عمل انتہائی قبیح اور مذموم ہے اور پھر اس مہینے میں سب سے خطرناک بدعت ”الغُلوّ فی حب الحسین وفی عَداوتہ“ یعنی اس مہینے میں مسلمان دو قسموں میں بٹ جاتے ہیں۔ ایک وہ، جو حضرت حسینؓ کی محبت میں حد سے بڑھ جاتے ہیں۔ دوسرے وہ جو عداوت میں حد سے بڑھ جاتے ہیں۔ اسی کا نام افراط و تفریط ہے، جو کہ شریعت اسلامیہ میں بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ آپ نے حکماً فرمایا: (لاتطرونی کما ا¿طرت النصاریٰ ابن مریم فانما ا¿نا عبد فقولوا عبد اللّٰہ ورسولہ)[صحیح بخاری]
ترجمہ:”مجھے حد سے نہ بڑھا دینا، جس طرح عیسائیوں نے ابنِ مریم، یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حد سے بڑھا دیا تھا۔ میں اُس کا بندہ ہوں۔ پس مجھے اللہ کا بندہ اور اُس کا رسول کہو۔“
جب رسول اکرم ا کی ذات کے بارے میں غلو، یعنی حدسے زیادہ بڑھنا جائز نہیں، تو پھر کسی دوسرے کے بارے میں یہ کام کیسے جائز ہو سکتا ہے؟؟؟
علاوہ ازیں بہت سے ایسے امورِ سیّئہ ہیں، جن کا اس مہینے میں ارتکاب کیا جاتا ہے۔ تفصیل کے لیے اس موضوع کی حامل بڑی کتب کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔
آخر میں دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل و کرم سے امتِ اسلامیہ کو ہر قسم کی بدعت و ضلالت سے محفوظ رکھے، کیونکہ کل بدعةٍ ضلالة وکل ضلالةٍ فی النار!!!

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*