مولانا الیاس ندوی بھٹکلی سے ایک ملاقات

 محمدخالد اعظمی (کویت )
taleem95@hotmail.com

 40 سالہ خوش اخلاق،بلندہمت اور متحرک شخصیت مولانا الیاس ندوی بھٹکلی کا میدان دعوت ہے، انداز نرالا ہے ، طریقہ نیا ہے ، اور دعوتی مقصد کے تحت بعض اہم کتابیں تیار کی ہیں ۔مولانا بھٹکل کے رہنے والے ہیں ، عا لمیت تک کی تعلیم جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں ہوئی۔ دار العلوم ندوة العلماءسے 1989ءمیں فضیلت کیا۔ ندوة سے فراغت کے بعد جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں تفسیر وحدیث کے استاد مقرر ہوئے ۔وہ دار العلوم ندوة العلماءلکھنو کے چار سالوںسے شوری کے رکن ہیں ۔ عالمی رابطہ ادب اسلامی کرناٹک ، گواوکیرالا اور کل ہند پیام انسانیت کرناٹک کے جنرل سکریٹری ، مولانا سید ابو الحسن علی ندوی اکیڈمی بھٹکل کے مؤسس اورجنرل سکریٹری ہیں۔ ذیل کے سطور میں مولانا الیاس ندوی سے ملاقات کی ہلکی سی جھلک پیش خدمت ہے ۔

سوال:سب سے پہلے آپ ہمیں بھٹکل کی بابت بتائیں جہاں سے آپ کا تعلق ہے ؟
جواب:
بھٹکل شہر پہاڑوں کے درمیان ،بحیرہ عرب کے کنارے اور ناریل کے خوبصورت باغات کے سایوں میں واقع ہے ،اس کی تاریخی اورجغرافیائی اہمیت کا اندازہ اس سے لگاسکتے ہیںکہ عہد ٹیپو میں اس کی فوجی تربیت گاہ تھی ،اور اس کے بحری بیڑے کا مرکز بھی تھا، بھٹکل ملک کے دیگر مسلمانوں کے لیے قابل رشک ہے ۔وہاںکے مسلمانوں میں دینی حمیت ، غیرت اسلامی ، امن پسندی ، مہمان نوازی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔بھٹکل کے مسلمان مسلکاً شافعی ہیں ، مزاجاً توسع پسند اورعملاً تاجر ہیں۔ صحیح تاریخی روایات کے مطابق سندھ پر محمد بن قاسم کے حملہ اورگجرات میں مبلغین اسلام کی آمد سے بھی بہت پہلے یہاں اسلام کا پیغام عہد نبوی ہی میں عرب تاجروں کے ذریعہ پہونچ گیاتھا۔
سوال:بھٹکل کے مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے کیا لائحہ عمل ہے ؟
جواب :
کل ہند مجلس مشاورت کے طرز اور اسی نہج پر ایک کمیٹی بنا ئی ہے جس کانام مجلس اصلاح وتنظیم ہے اس کے ماتحت قرب وجوار میں سوسال سے مسلمانوں کی اجتماعیت کو برقرار رکھنے کی کامیاب کوششوں کا یہ حال ہے کہ پارلیمانی اور اسمبلی الیکشنوں کے موقع پر تنظیم کا حتمی فیصلہ آخری فیصلہ ہے جسے لوگ اپنے مزاج وذوق اورسیاسی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھ کر ماننے کے لیے آج بھی پابندہیں ۔
سوال: وہاںکے مسلمانوں کی تعلیمی سرگرمیاں کیا ہیں؟
جواب:
بھٹکل کے مسلمانوںکی تعلیمی سرگرمیاں بہت ہی تشفی بخش ہیں ، انجمن حامي مسلمین کی سر پر ستی میں پرائمری سے لےکر کالج تک کی تعلیم کا بندوبست ہے۔ تعلیمی ادارو ںکا حال یہ ہے کہ وہ سب خود کفیل ہیںیہاںتک کہ انجینئرنگ کالج بھی مقامی مسلمان حکومت سے مالی مدد لیے بغیر چلارہے ہیں اوران اداروں کی خاص بات یہ ہے کہ جمعہ کو تعطیل رہتی ہے ۔ اس وقت انجمن کے تحت پانچ ہزار سے زائد طلباءتعلیم حاصل کررہے ہیں۔
سوال :دینی تعلیم کا کیا انتظام ہے ؟
جواب:
ہمار ے یہا ں کے دینی تعلیمی ادارو ں میں  دار العلوم ندوة العلماءکا نصاب شامل ہے بالخصوص جامعہ اسلامیہ بھٹکل کی نظیر ملک میں اس حیثیت سے نہیں ملتی کہ یہاںایک ہزار سے زائد طالبان علوم نبوت مکتب سے عالمیت تک کی تعلیم کا مکمل بندوبست ہے۔90فیصد مقامی طلبہ ہیں ، قیام وطعام میں وظیفوں کاوہ تصور نہیں جوعام طور پر مدارس میں پایاجاتا ہے ۔ خوشحال گھرانوں کی بھی بھر پور نمائندگی ہے ، ڈھائی سو کے قریب مقامی لڑکے عالمیت اور فضیلت کرچکے ہیں اورآج وہ دینی علوم میں اپنا مقام پیدا کررہے ہیں۔یہ ادارہ برصغیر میں مسلک شافعی کا سب سے بڑا مرکز ہے ۔
سوال:لڑکیوں کی دینی تعلیم کا کیا نظم ہے ؟
جواب :
بچیوں کی دینی تعلیم کا ایک عظیم الشان ادارہ جامعة الصالحات ہے جس میں تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کی تعداد ساڑھے پانچ سو ہے ، اور یہ تمام لڑکیاں ہائی اسکول وکالجز سے فارغ ہوکرعالمیت کا کورس کر رہی ہیں اورتمام طالبات مقامی ہیں۔
سوال: بلاسودی بینک کا کیانظم ہے ؟
جواب:
اسلام میں بلا سودی بینکنگ کا تصور پایا جاتاہے یہ مسلمانوں کے لیے بہت ہی ضروری ہے ، بھٹکل کے ویلفیئر سوسائٹی کے تحت چلنے والے اسلامی بینک میں رائج نظام کو قریب سے دیکھیں ۔
سوال:کیا خلیجی ممالک میں بھٹکلی مسلمانوں کی جماعت کا کوئی وفاق ہے ؟
جواب :
خلیجی ممالک میں قائم بھٹکلی جماعتوں کا وفاق بھٹکل مسلم خلیج کونسل ایک چلتاپھرتا نمونہ ہے جو اپنے مقاصد اور سرگرمیوں کے اعتبار سے ملک کے موجودہ حالات میں مسلمانان ہند کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ ہے، اس کی مثال دوسرو ں کے یہاں مفقود ہے۔
سوال:قلمی میدان میں آپ کی کس نے رہنمائی کی ہے ؟
جواب:
قلمی میدان ایک ایسا سنگلاخ میدان ہے جہاں ہر شخص کاچلنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں لیکن پھر بھی میںنے مولانا سید ابو الحسن علی ندوی علیہ الرحمہ کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی میں قدم رکھا ،مرحوم نے میری قدم قدم پر رہنمائی کی ہے، ان کی وفات کے بعد میر ی رہنمائی دار العلوم ندوة العلماءکے سرپرست مولاناسید رابع حسنی ندوی کر ر ہے ہیں۔
سوال :آپ کی تصنیفات کون کون سی ہیں؟
جواب:
الحمدللہمیری کئی مطبوعات ہیںاور سیکڑوں مضامین اخبارات ورسائل میں چھپے ہیں۔لیکن سب سے مشہور کتاب ” ٹیپو سلطان ۔ حیات وخدمات “چند سالوں قبل منظر عام پر آکرداد تحسین حاصل کرچکی ہے۔ یہ کتاب تقریباً ۰۰۴ صفحات پر مشتمل ہے اور ۶زبانوںمیں اس کے ترجمے ہوچکے ہیں ، عربی زبان میں بھی اس کاترجمہ ہوا اوردار القلم دمشق سے شائع ہوئی ۔ اس کتاب کو مولاناسید ابوالحسن علی ندوی علیہ الرحمہ کی رہنمائی میں تصنیف کی تھی۔ایک دوسری کتاب اسلامی عقائد کے بنیادی تعارف (توحید ، رسالت ،آخرت)کے موضوع پر لکھی ہے ، جس کاترجمہ دنیا کی ۲۱ زبانوں میں ہوچکاہے۔
سوال : دعوتی نقطہ نظر سے اسکولی بچوں کے لیے کتابیں تصنیف کی ہیں ؟
جواب:
جی ہاں !میں نے اسکولی بچوں کے لیے اسلامیات سے متعلق ایک سیریزتیار کی ہے جو یوکے جی سے لے کردسویں کلاس کے نصاب میں داخل ہے ۔ یہ کتاب بھی کافی مقبول ہوئی ہے اس کا اندازہ آپ اس سے لگاسکتے ہیں کہ انڈیا کے علاوہ پاکستان، سنگاپور، ملیشیا، تھائی لینڈاور خلیج کے بعض ممالک کے۰۰۳۱ اسکولوںمیں شامل ہے ۔
سوال ۔ آپ نے جو کتابیں تیار کی ہیں اس کی خاص بات کیاہے؟
جواب ۔
خاص بات یہ ہے کہ اگرکوئی طالب علم یا کوئی شخص میری کتابوںکی سیریز کا مطالعہ کرلے تو اس کی معلومات مدرسہ سے فارغ کسی مولوی سے کم نہیں ہوگی۔
سوال ۔آپ نے جونصاب تیارکیاہے اس میں کتنے افراد نے شرکت کی تھی؟
جواب
۔ اسکولوں اور کالجزز کی سطح پر میرے تیارکردہ اسلامک اسٹڈیز کے امتحانات میں اس سال ستاون ہزار پانچ سولڑکوں نے شرکت کی ۔اس نصاب کو جاپان میں کافی سراہاگیا، اب اس کو آن لائن شروع کرنے کا پروگرام بن گیاہے۔
مالدیپ، ملیشیا، سنگاپور وغیرہ جیسے ممالک میں میرے اس نصاب کو کافی سراہااورپسند کیا گیا۔
سوال۔ آپ کا مستقبل میں کیا کرنے کا پروگرام ہے؟
جواب۔
مستقبل میں کرنے کے بہت سارے کام ہیں لیکن سب سے اہم پروگرام بھٹکل میں مولاناسید ابوالحسن علی یونیورسٹی قائم کرنے کاہے۔اس پروجیکٹ کی ابتدائی کاروائی مکمل ہوچکی ہے۔مثلاً ؑ علی اسلامک پبلک اسکول اس وقت ملک کے مختلف علاقوں میںکل ۹ اسکول کھلے ہیں ، اور آئندہ سال تک ۰۵ اسکول کھولنے کا پروگرام ہے ۔ اس کے بعد کالج کھولنے کا پروگرام بھی ہے ، اورآخر میں یونیورسٹی کانمبرآتاہے ۔ آہستہ آہستہ یہ کام ہورہاہے ان شاءاللہ مستقبل میں آپ دیکھیں گے کہ بھٹکل کی سرزمین پرایک عظیم الشان یونیورسٹی منظرعام پرآئے گی۔ یونیورسٹی کا مقصد ہوگا عصری علوم کو اسلامی ماحول اوراسلامی حدود میں رکھتے ہوئے فروغ دینا۔
سوال۔ مختلف مسالک اورجماعتوں کے درمیان اتحادواتفاق کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟
جواب۔اس کا سب سے اچھاعلاج آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا پلیٹ فارم ہے ، کیونکہ اس میں تمام مسالک اورجماعتوں کے لوگ ہیں۔ہم ایک دوسرے پر تنقید کرنے سے پہلے اپنا محاسبہ کریں ، یہ ایسا طریقہ ہے جس سے اختلاف کو ختم نہیں تو بہت حد تک کم کیا جاسکتاہے۔
سوال ۔ بھٹکل کے مسلمانوں کی سرگرمیاں کیا ہیں ؟
جوا ب۔
بھٹکل ہندوستان کے صوبہ کرناٹک کا ایک شہر ہے ، جہاں مسلمانوں کی کثرت ہے ، زیادہ تر لوگ تجارت سے منسلک ہیں ، بھٹکل کے زیادہ ترافراد خلیجی ممالک میں تجارت سے منسلک ہیں، بلکہ لوگوں کا کہناہے کہ بھٹکل ہندوستان کا دبئی ہے۔بھٹکل کے مسلمانو ں کی اجتماعیت رگ رگ میں پیوست ہے ۔بھٹکلی مسلمانوں کی بعض اہم خصوصیات :
۔ جماعتی نظام : بھٹکل کے مسلمان کاجماعتی نظام کے تحت ایک دارالقضاءہے ، وہاں کے مسلمان اپنے مسائل کو لے کر اسی دار القضاءمیں جاتے ہیں ، اور وہاں جوبھی فیصلہ ہو اس کو بصداحترام قبول کر تے ہیں۔
۔ مجلس اصلاح وتنظیم : یہ بھی ایک سماجی واصلاحی پلیٹ فارم ہے جس سے سارے مسلمان وابستہ ہیں۔ بھٹکل کا کوئی بھی مسلمان اپنی مرضی سے نہ کسی پارٹی کو ووٹ دے سکتاہے اور نہ ہی الیکشن میں کھڑا ہوسکتاہے ۔
سوال:حصول مقصدکی خاطربیرون ممالک کا سفر کیسا رہا ؟
جوا ب۔
دعوتی نقطہ نظر سے میں نے گزشتہ گیارہ ماہ میں۳۱ ممالک کا سفرکیا ہے۔ جیسے جاپان ، سنگاپور، ملیشیا، تھائی لینڈ، فلسطین، شام ، اردن اور خلیجی ممالک ہیں۔ سب سے کامیاب سفر جاپان کا رہاہے جہاں اسلامک سنٹرکے ذمہ داروں نے میرے دعوتی پروگرام کوغیر مسلموں میں متعارف کرایا جسے لوگوں نے کافی سراہا۔
سوال۔تعارف اسلام کے لیے آپ کونسا طریقہ اختیار کرتے ہیں؟
جواب۔ تعارف اسلام پروگرام بہت ہی سادہ اور آسان ہے ، عام طور پر سیرت پرمضمون نویسی مقابلہ مقامی صوبائی اورملکی سطح پر کرواتاہوں ، اور اول ، دوئم اورسوئم آنے والے شخص کو بڑی رقم انعام میں دیتاہوں ۔ گزشتہ دنوں جو انعامی مقابلہ رکھاتھااس میں پہلے نمبر پر آنے والے کوپچاس ہزار روپئے کا انعام دیاگیا تھا۔
سوال ۔ انعامی مقابلے کا کیا طریقہ ہے؟
جواب ۔
میں نے ملکی پیمانے پر ایک مقابلہ کروایا تھا ، جس کا عنوان تھا ” اسلام امن کا پیغام “میں نے اخبارات میں اشتہار نکلوایا، انعام کی رقم پچاس ہزار تک رکھا، اعلان میں یہ بات بھی تھی کہ جولوگ کتابیں مراجع کی حیثیت سے چاہتے ہوں وہ لوگ خطوط لکھیں ادارہ کتابیں مفت ارسال کرے گا، اس طرح1350اشخاص نے خطوط لکھے ، ادارہ نے انہیں مفت کتابیں ارسال کیں ۔ انعام حاصل کرنے کی لالچ میں گہرائی سے کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ دوران مطالعہ وہ اسلام کی تعلیمات سے بخوبی واقف ہوجاتے ہیں۔
سوال: کیا سیرت پرانعامی مضمون نویسی سے کوئی مسلمان ہواہے ؟
جواب :
ہاں ، لیکن ایک مثال پیش کرتاہوں ، ایک لڑکی جو کالج کی طالبہ تھی ، انعام کی لالچ میںاس نے170 صفحات پر مشتمل مضمون لکھ کر میرے پاس بھیجا ،حسن اتفاق اس کو50 ہزار کا پہلا انعام ملا ، فون کرکے اس کو خوشخبری سنائی تواس کا جواب چونکادینے والاتھاوہ کہتی ہے کہ:پہلے میں غیر مسلم تھی لیکن انعام حاصل کرنے کے بہانے میں نے اسلام کا مطالعہ کیا ، اور اسلام سے اچھی طرح واقف ہوگئی لہذا اب میں مسلمان ہوچکی ہوں ، مجھے انعام کی رقم نہیں چاہئے بلکہ یہ انعام کسی اور کو دے دیں۔ اللہ اکبر
 اس طرح کی کئی مثالیں میرے پاس ہیں۔
سوال ۔ کیاآپ نے بیرون ممالک میںبھی انعامی مقابلات کروائیں ہیں ؟
جواب۔
15ستمبر2011ءبروز جمعرات خلیجی ملک عمان میں ”رسول اللہ ا امن کے پیغامبر“ کے عنوان پر مضمون نویسی کا مقابلہ کروایا۔ 350 سے زائد لوگوں نے مقابلہ میںحصہ لیا ۔ مضمون نویسی کایہ مقابلہ جملہ 4 زمروں پر مشتمل تھا:
۱۔16سال سے کم عمر کے مسلمانوں کے لیے
 ۲۔16سال سے زیادہ عمر کے مسلمانوں کے لیے
۳۔ 16سال سے کم عمر کے غیرمسلموں کے لیے
۴۔ 16 سال سے زیادہ عمر کے غیرمسلموں کے لیے
مسقط کی سلطان قابوس مسجد کے ہال میں تقسیم انعامات کی تقریب منعقد ہوئی ، پروگرام کے اخیر میں غیرمسلم انعام یافتگان کو بھی خطاب کرنے کاموقع دیاگیا۔جس میں ان لو گو ں نے اپنے خیالات کااظہارکرتے ہوئے بتایاکہ اس مقابلہ کے ذریعہ انہیں پیغمبر اسلام اور ان کی تعلیمات کو قریب سے سمجھنے اور پڑھنے کا موقع ملا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*