عالمی خبریں

سعود ی عرب کے ولی عہد کا انتقال  (1931ئ۔22اکتوبر2011ئ)
ریاض: 86سالہ سعودی عرب کے ولی عہد ، نائب وزیر اعظم ، وزیر دفاع وہوابازی شہزادہ سلطان بن عبد العزیز السعودکا 22اکتوبرکوامریکا میں انتقال ہوگیا، Êنا للہ وÊنا للہ Êلیہ راجعون۔سلطان بن عبدالعزیز 5جون 1931ءکو ریاض میں پیداہوئے ، قرآن کریم اور عربی علوم کی تربیت جید علماءسے حاصل کی۔ انہوں نے سلطان بن عبد العزیز السعود رفاہی فا¶نڈیشن اور شہزادہ سلطان بن عبد العزیز پرائیویٹ چیرٹی بھی قائم کی ۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سلطان مملکت کے متعدد اہم مناصب پر فائز رہے ۔22فروری 1947ءکو ریاض گورنر مقرر ہوئے ،24دسمبر1993ءکووزیرزراعت اور 5 نومبر 1955ءکووزیر مواصلات اور21اکتوبر1962ءسے آپ وزیر دفاع اور ہوابازی کے منصب پر فائز تھے۔ وہ وزارتی ذمہ داریوں کے علاوہ 13جون 1982ءسے نائب وزیر اعظم کی ذمہ داریاں بھی اداکررہے تھے ۔ سلطان یکم اگست2005ءکوولی عہد مقرر ہوئے تھے۔
شہزادہ نائف ولی عہد مقرر
ریاض ۔ سعودی عرب کے فرمان رواخادم الحرمین الشریفین ملک عبد اللہ نے 1975ءسے وزیر داخلہ رہے 78 سالہ شہزادہ نائف کو نیا ولی عہد مقرر کیاہے ۔ نائف بانی سعودی عرب کے 23 ویں فرزند ہیں ۔ سعودی عرب پر تقریباً ایک صدی سے سعود خاندان کی حکومت ہے ۔ شاہ عبد العزیز بن سعود نے1902ءمیں اپنے مخالف قبیلے کوشکست دے کر جدید سعودی ریاست کی بنیاد رکھی تھی۔ 1933ءکی دہائی میں پیداہونے والے شہزادہ نائف ان سعودی شہزادوں میں سے ہیں جنہوں نے تیل کی دریافت سے قبل والے پسماندہ سعودی عرب کو اپنی آنکھوں سے دیکھاہے۔
 اسلام پسندوں کی شاندار کامیابی
تیونستیونس کے انتخابات میں اسلام پسند پارٹی النھضة کو عظیم الشان کامیابی ملی ۔ 1956 میںفرانس سے آزادی کے بعد ملک میں پہلی بار باضابطہ انتخابات ہوئے،اکتوبر میں آئین ساز اسمبلی کی 217نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوئی تھی جن میں سے 199سیٹوں کے لیے اندرون ملک ووٹنگ ہوئی جبکہ18 سیٹوں کے لیے یوروپی اور امریکی ممالک میں مقیم تیونس شہریوں نے ووٹ ڈالے۔ ملک میں100سے زائداندراج جماعتوں میں سے81 پارٹیوں نے الیکشن میں اپنے امیدوار اتارے۔اس کے علاوہ آزاد امیدواروں کی بھی کثیر تعدادتھی 217نشستوں میں سے النہضة نے 90نشستیں حاصل کی ہیں جونئے آئین کامسودہ تیارکرے گی، ایک عبوری حکومت تشکیل دے گی اورنئے انتخابات کا پروگرام تیارکرے گی ۔
تیونس میںحرکة النھضةالاسلامیة کی باضابطہ بنیاد1981ءمیں رکھی گئی پہلے اس کا نام اسلامی رجحان تحریک تھا۔ 1988ءمیں اس کا نام تبدیل کردیا گیااورحزب النھضةالاسلامیہ رکھاگیا۔النھضة کے صدرممتازاسلامی مفکر راشد الغنوشی ہیں ، سابق صدر زین العابدین کے مطلق العنانی کے دور میںالغنوشی دو دہوں تک جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے بعد تیونس واپس ہوئے ہیں۔
ہندوستان اور صنف نازک
دہلی ۔ ہندوستان میں اعداد وشمار کے مطابق تقریباً 368ملین خواتین ہیں جس میں 80ملین مسلم خواتین ہیں 278ملین خواتین گا¶ں میں آباد ہیں% 80سے زیادہ خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں صرف 62.2%خواتین صاف اور محفوظ پانی پیتی ہیں ، 78%خواتین کھیتوں میں اور 22.5خواتین دفتروںمیں کام میں کرتی ہیں ۔ ہرسال تقریباً ایک لاکھ خواتین حمل کی پیچیدگیوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ اقوام متحدہ میں پیش ہونے والی رپورٹ کے مطابق 100مردوں میں صرف93خواتین صحت مند ہیں جبکہ یوروپی اور مغربی ممالک میں یہی تناسب 105:100ہے ۔ اس کے باوجود ہندوستانی خواتین نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین کے مسائل کو سمجھا جائے اور اس کو حل کرنے کی مناسب کوشش کی جائے ۔
ٹکنالوجی کا میدان خالی ہوا
1955ءمیں پیدا ہونے والاکمپیوٹر ساز کمپنی ایپل کا بانی (Steve jobs)15اکتوبرکی شام56سال کی عمر کی میں چل بسا، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، آئی فون سمیت338 ایجادات ان سے منسوب ہیں۔ انہوں نے یکم اپریل 1976ءمیں ایپل کمپیوٹرکی بنیاد رکھی ، کھانے میں سیب پسندتھااس لیے ایجاد کردہ کمپیوٹرکو بھی ایپل کانام دیا۔بچپن میں والدین کا انتقال ہوگیا، کسی اورنے انہیں گود لے لیا۔ زندگی کے کچھ لمحات سڑکوں پر گزارے ۔یہ پیدائشی ذہین تھے ، 2006ءمیں انہیں جگر کے سرطان کا عارضہ ہواتھا، لیکن اس کے باوجود اپنے کام میں لگے رہے اورآئی فون بیماری کی حالت میں ہی ایجاد کیا۔
امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی پہلی مسلم عرب خاتون
اوسلو۔7 اکتوبر کونوبل امن انعام برائے 2011ءتین خواتین کو انسانی حقوق کی پاسداری، ان کے حقوق کے تحفظ اورتشددکے خاتمے کے لیے جدوجہد کے اعتراف میں دیا۔ انعام یافتہ دوخواتین کا تعلق افریقی ملک لائبیریاسے ہے تو تیسری خاتون کا یمن سے ۔یمن کی خاتون توکل کرمان یمن کی انسانی حقوق کی علمبردار ہیں جو صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف جاری عوامی تحریک میں پیش پیش ہیں۔ ان تینوں خواتین میں 15لاکھ ڈالرزکی انعامی رقم برابر تقسیم کی گئی۔
یمن سے تعلق رکھنے والی 32 سالہ صحافی اور حقوق نسواں کی علمبردارکرمان تین بچوں کی ماں ہیں ، گزشتہ پانچ سالوں سے یمن میں عورتوں کے حقوق اورسیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے جدوجہد کررہی ہیں،ساتھ ہی عورتوں کی شادی کی عمر بڑھانے کے لیے بھی جدوجہد کرتی رہی ہیں اور اس کی وجہ سے وہ کئی بار جیل بھی جاچکی ہیں۔
 پوپ کی شرمندگی
اسیسی (اٹلی)۔پوپ بینیڈکٹ نے عالمی بین مذہبی میٹنگ کے صدارتی خطاب میں تسلیم کیاہے کہ عیسائیوں نے اپنی طویل تاریخ میں طاقت کا استعمال کیا۔انہوں نے دیگر مذہبی رہنما¶ں کے ساتھ مل کر اللہ کے نام پر تشدد اور دہشت گردی کی مذمت کی ہے ۔ پوپ نے دنیابھر سے تقریباً 300 عیسائی یہودی ، مسلم ، ہندو،اوردیگر مذہبی رہنما¶ں کومدعوکیاتھا۔
 85سالہ سعودی خاتون کا حفظ قرآن
ریاض ۔ سعودی عرب میں ایک پچاسی سالہ خاتون نے قرآن مجید حفظ کرنے کا پختہ ارادہ کرلیاہے، اگرچہ وہ اپنے بچپن میں کبھی اسکول نہ جاسکی تھیں، اورناخواندہ ہونے کے ساتھ پیرانہ سالی میں امراض قلب اورذیابطیس سے متاثرہیں لیکن ان کی ایمانی حرارت اور حفظ قرآن کے شوق میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور آج ان کا حال یہ ہے کہ حفظ قرآن کے کلاس میں باضابطہ شریک ہوررہی ہیں اور کوشش کررہی ہیں کہ کسی طرح سے اب وہ قرآن مقدس جیسی عظیم الشان کتاب کو عمر کے آخری مرحلہ میں حفظ کرلیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*